عالم پناہ، دادی اور پوٹھوہاری ڈاکیا


دادی : عالم پناہ! ، یہ کیا سن رہی ہوں میں کل سے؟

عالم پناہ  : کیا دادی جان ؟

دادی: یہ ٹویٹ کیا ہوتا ہے؟ کوئی نئی مٹھائی ہے؟

عالم پناہ: جبڑ ے سکیڑتے ہوئے، کھنکارکر ۔ یہ کس سے سنا آپ نے؟

دادی : میں کل سے سن رہی ہوں ٹی وی پہ کچھ چھوکر ے اور سوکھی سڑی کڑیاں کچھ ٹویٹ ٹویٹ کر کے بات کررہی ہیں۔

عالم پناہ: دادی کو نوٹس کرتے ہوئے۔ دادی ، نہیں یہ مٹھائی نہیں ہے۔

دادی : وہی تو۔۔۔ میں بھی سوچوں مٹھائی کےذکر کے ساتھ بھلا میرے عالم پناہ کی تصویر کیونکر ہوسکتی ہے ۔ لیکن یہ موئے تیری فوٹو کے ساتھ جب ٹویٹ کی بات کر رہے تھے تو مجھے لگا کوئی ککنگ شو چل رہا ہے۔ لیکن عالم پناہ اگر یہ سویٹ نہیں تو پھر اس کے ساتھ آپ کا ذکر کیوں؟

عالم پناہ: آئینے کے سامنے ، تھوڑا منہ پھلا کے بالائی ہونٹ کے نیچے زبان سے زرا ابھار پیدا کر کے، اپنی مونچھوں کو بغور دیکھتے ہوئے گویا ہوئے “دادی جان ۔۔ کم آن”

دادی : ہیں ؟ عالم پناہ ۔ ۔

عالم پناہ: دادی جان آج کے بعد ٹی وی نہیں دیکھنا آپ نے۔

دادی: عالم پناہ کیا معاملہ ہے آخر، یہ دو ٹکے کے چھوکر ے اور یہ مریل قسم کی لڑکیاں چیخ چیخ کرباتیں کررہی تھیں اور ساتھ آپ کی فوٹو بھی دکھا رہی تھیں۔ مجھے بھی تو بتائیے ؟

عالم پناہ: دادی پہلی بات تو یہ کہ یہ سویٹ نہیں ٹویٹ ہے، ٹویٹ ۔۔ تھوڑی خفگی کے ساتھ ۔ یہ ایک ڈاکیا ہے۔ اور پیغام لے کر جاتا ہے ۔۔ اور بس

دادی: اچھا۔۔۔ تو اس میں اتنی اہم بات کیا تھی آخر؟ جو ٹی وی والوں نے واویلا مچا دیا۔

اسی بارے میں: ۔  انجم چوہدری کون ہیں؟

عالم پناہ: کچھ خاص نہیں بس ڈاکیے نے پیغام ذرا جلد پہنچا دیا تو کچھ منچلوں نے اتنی سی بات پہ غل مچا دیا۔

دادی: ہیں۔۔؟ سوالیہ نظروں سے۔۔ یہ تو اچھی بات نہ تھی؟ ورنہ تو ڈاکیے پہ تاخیر کا الزام ہوتا ہے۔

عالم پناہ: نہیں اس کمبخت نے بہت ہی جلد پہنچا دیا۔

دادی: تو عالم پناہ۔۔۔ مسئلہ پیغام یا خبر کا ہے یا جلد پہنچانے کا؟

عالم پناہ: جلد پہہنچانے کا۔

دادی: ہم۔۔م کو لمبا کرتے ہوئے اور کچھ سوچتے ہوئے ۔۔ فیئر اینف (Fair Enough)۔ عالم پناہ! جب “پیغام یا خبر درست ہے اور اسکے جلد اور فی الفور پہنچ جانے سے مسئلہ ہو ر ہا ہے تو یہ پریشانی کی بات نہیں ہے۔ یہ بدلتی دنیا کو درپیش ایک چیلنج ہے۔” اور اس کی حیثیت ثانوی ہے۔

عالم پناہ: یس ۔۔ ٹرو ۔۔ دادی جان ۔۔ ٹو سم ایکسٹنٹ۔ ٹرو

دادی: لیکن عالم پناہ کیا ضرورت ہے پڑی ہے آپکو ان نئے ڈاکیوں کے جھمیلے میں پڑنے کی، یوں کیجئے اس نئے ڈاکئے کو رکھیے صرف عید شبرات پر مبارکبادی پیغامات بھجوانے کیلئے۔ اصل پیغام بھجوانے کا وہی پرانا طریقہ بہتر تھا ۔ اللہ بخشے آپ کے دادا اور ان کے بھی دادا۔۔ ان کے منہ پہ مسکراہٹ سجی رہتی تھی اور ان کا ڈاکیا بھی کامیاب لوٹتا تھا۔ “عالم پناہ جب آپ کے پاس پوٹھوہاری جوان موجود ہیں کیا ضرورت ہے اپنا اور رعایا کا دل کھٹا کرنے کی۔ ” آپ تو آپ ہیں کوئی آپ کی شان اور معاملہ فہمی پر سوال اٹھائے ہم سے بھی اور رعایا سے بھی برداشت نہیں ہو گا۔

عالم پناہ: اٹس اوکے۔ آئی نو واٹس دی پرابلم اینڈ ہئو ٹو ڈیل ۔۔دادی جان

دادی: سمجھتے ہوئے ۔۔ اور اثباتی انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا “عالم پناہ پر بے جا تنقید کامطلب ہے معاملے کے حقیقی پہلوؤں سے پردہ پوشی۔ قدرے توقف کے بعد پھر گویا ہویئں” آپ کوبھی بس تھوڑی احتیاط درکار ہے، آج کل جس طرح کا حمام یے اس میں آپ کو چاہیے کہ آپ ایسے پوز کریں کہ آپ کے صرف چھ ایپس ہی نظر آیئں جبکہ دوسرے الف ننگے۔ اور ہاں ایک اور بات اگر یہ میری اور آپکی باتیں اگر کسی مکالمے کی شکل میں کسی مخبر نے کہیں شائع کردیں تو اس بات پر بھی خفا نہ ہونا۔ یہ معاملات ایسے نہیں ہیں کہ عالم پناہ اس پر وقت ضائع کریں۔ عالم پناہ میری مجبوری ہے میں آپ کو یہ بھی نہیں کہ سکتی کہ کم آن گرو اپ پلیز۔ اور ہاں یہ آج کل کے مخبر بیچارے بے ضرر لوگ ہیں تمھاری طرح دردِ دل یہ بھی رکھتے ہیں، بس یہ تھوڑے منہ پھٹ ہیں، آپ کے جیسے ٹرینڈ تھوڑی ہیں۔ اگر کبھی ان پر غصہ آبھی جائے تو۔۔ جاندی کرنا۔

اسی بارے میں: ۔  جنسیت کی عینک اتارئیے صاحب

ڈراپ سین: عالم پناہ سپاٹ چہرے کے ساتھ ،دادی سے محبت بھرا سلام کہ کر کمرے سے رخصت ہوئے، باہر ڈرایئورگاڑی سٹارٹ کئے کھڑا ہے، عالم پناہ کو دیکھتے ہی سیلیوٹ کیا، گاڑی تیزرفتاری سے دالان کے پاس سے دھول اڑاتی باہر نکل گئی۔ دادی عقبی کھڑکی سے، عالم پناہ کی گاڑی کو جاتا ہوئے دیکتھی ہیں اور خودکلامی کے انداز میں کہتی ہیں یہ جوان سلامت، یہ عوام سلامت رہیں، میرا پاکستان سلامت۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عبدالرؤف

بشکریہ : روز نامہ جنگ

abdur-rauf has 11 posts and counting.See all posts by abdur-rauf