ضرورتِ رشتہ: لیفٹسٹ دولہا درکار ہے


امیتابھ بھٹاسالی
بی بی سی نیوز، کولکتہ

ضرورت رشتہ کے آپ نے بہت سارے اشتہارات دیکھے ہوں گے جن میں مناسب دولھے اور دلھن کے لیے شکل و صورت، قد و قامت، صوم و صلوٰۃ کی پابندی، مسلک، تعلیم اور ذات وغیرہ کی باتیں تو عام طور پر ملتی ہیں۔

ہندوستان کے بعض اشتہارات میں کھانے پینے کی عادات کے بارے میں بھی معلومات دی جاتی ہے۔

لیکن ایک خاص سیاسی نظریات والا اشتہار تو نایاب ہی ہے۔ ایک سماجی علوم کے ماہر کے مطابق: ’یہ اتنا نایاب ہے کہ اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا۔ ‘

انڈیا کے معروف شہر کولکتہ کے ایک خاندان کو 26 سال کی اپنی ایم اے پاس لڑکی کے لیے ایک ایسا دولہا چاہیے جو بائیں بازو کے خیالات کا حامی یعنی لیفٹسٹ یا کمیونسٹ ہو۔

دیپتانج داس گپتا نے اپنی بہن کی شادی کے لیے یہ اشتہار کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی) کے اخبار گن شکتی میں شائع کرایا ہے۔

داس گپتا خود کو مارکسزم کا طالب علم کہتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ کسی پارٹی کے رکن نہیں ہیں۔

دیپاتنج داس گپتا نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمارا خیال ہے کہ بائیں بازو نظریات کے حاملین تنگ نظر نہیں ہوتے، زندگی کے ہر شعبے میں ان کی دلچسپی ہوتی ہے، وہ اعلیٰ فکر رکھتے ہیں۔ ہمارے گھر کا ماحول ایسا ہی ہے۔ ایسے میں اپنی بہن کے لیے ہم ویسا لڑکے چاہتے ہیں جو خود کو بائیں بازو کا بتانے میں فخر محسوس کرتا ہو، خاص کر ایسے دور میں جب کمیونزم کو قصۂ پارینہ سمجھا جا رہا ہے۔ ‘

دیپتانج کے مطابق، بائیں بازو کے دولھے کی تلاش کرنے کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ ان کی بہن کو سسرال میں بھی گھر جیسا ماحول ملے۔ ان کی بہن بھی ایسا ہی چاہتی ہیں۔

کولکتہ میں پریزیڈنسی یونیورسٹی میں شعبۂ سماجیات کے سابق سربراہ پروفیسر سمت کار نے اس اشتہار کو ناقابل یقین قرار دیا ہے۔

سمت کار کہتے ہیں: ’اشتہار دینے والے نے اخلاص کے ساتھ جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے اپنا سیاسی نظریہ ظاہر کیا ہے، جس میں ان کا اعتماد جھلکتا ہے۔ اگرچہ بنگالی اب خود کو بین الاقوامی کہنے لگے ہیں لیکن روایتی طور پر جو تقسیم ہے، وہ اب بھی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ مختلف سیاسی نظریات والی شادیاں کتنی تلخ بن جاتی ہیں۔ یہی صورت حال مشرقی بنگال اور مغربی بنگال کے باشندوں کے درمیان ہو نے والی شادیوں میں بھی ہوتی ہے۔ ‘

یہ اشتہار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں کمیونسٹوں کی پوزیشن بہت حد تک کمزور ہو چکی ہے۔ ایسے میں اس اشتہار سے کیا یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کمیونزم کا پوری طرف صفایا نہیں ہوا ہے؟

سی پی آئی ایم کے ایم پی ریتابرتا بینرجی کہتی ہیں: ’آپ اسے جانبدار نظریے سے نہیں دیکھ سکتے۔ کسی پارٹی کے لیے انتخابی ہار جیت تو آنی جانی چیز ہے لیکن نظریہ تو مستحکم ہے۔ کمیونزم کی جڑیں بہت گہری ہیں، یہ نظریہ ہے، عقیدہ ہے، ثقافت ہے جسے انتخابی ہار جیت سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ اشتہار بائیں بازو کے نظریات کی گہری جڑوں کی مثال ہے۔ ‘

داس گپتا خاندان اس بات سے ناراض ہیں کہ اشتہار میں دیے جانے والے وٹس ایپ نمبر پر لوگ انھیں کمیونزم مخالف تبصرے بھی بھیج رہے ہیں اور ان کی ٹرولنگ کی جا رہی ہے۔

تاہم بہت سے سنجیدہ اور بائیں بازو نظریات کے حاملین خاندانوں نے اس رشتے کے لیے ان سے رابطہ بھی کیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 486 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp