میرے بچپن کی دنیا


وہ ایک بہت پرانا مکان تھا۔ سرخ اینٹوں کو گارے کی مدد سے جوڑ کر تین کمرے بنائے گئے تھے۔ نہ سیمنٹ کا پلاستر، نہ ٹائلیں، اڑتا ہوا روغن، دیمک لگی لکڑی کی چوکھٹ، دروازے سے محروم غسل خانہ، بڑا صحن، چھوٹا باورچی خانہ، جس کی کچی اینٹوں کی چھت کو ہر سال برسات کے بعد گارے سے لیپ کروانا پڑتا تھا۔

وہ ہماری نانی کا مکان تھا۔ ہم انھیں اماں کہتے تھے۔ میں نے 70 کی دہائی کے آخری برسوں میں اسی مکان میں ہوش سنبھالا۔ اس مکان کا نمبر بہت خاص تھا۔ مکان نمبر 14، بلاک نمبر 14۔ مجھے چودہ معصومین کے نام اسی گھر میں یاد کروائے گئے۔

میں نے ایک بار بڑے ماموں سے پوچھا، ’’کیا نانا جان نے اس نمبر کا مکان ڈھونڈ کر خریدا تھا؟‘‘ ماموں مسکرادیے۔ انھوں نے کہانی سنائی، ’’ہم امروہے سے ہجرت کرکے خانیوال آئے تھے۔ پھوپھی کے گھر میں عارضی قیام تھا۔ میرے والد سرکار کے ملازم تھے۔ متروکہ املاک کے محکمے کے افسر ان کے واقف تھے۔ والد نے ایک دن مجھے ان افسر کے پاس بھیجا۔ خانیوال کے ہندو اور سکھ اپنے مکان چھوڑ کے ہندوستان چلے گئے تھے۔ وہ ایسے گھر جھانکتے پھر رہے تھے۔ انھوں نے ایک گھر پر چھاپا مارا جس پر مقامی لوگوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ افسر صاحب نے انھیں ڈانٹ کر باہر نکالا۔ مکان خالی پڑا تھا۔ انھوں نے مجھ سے کہا، بھاگ کر گھر جاؤ اور کوئی تالا لے آؤ۔ میں تالا لے گیا اور دروازے پر لگادیا۔ وہ ہمارا مکان ہوگیا۔ نمبر بعد میں معلوم ہوا۔‘‘

بڑے ماموں کی طرح میرے بچپن کی بہت سی یادیں اس گھر سے وابستہ ہیں۔ وہ صرف ہمارا گھر نہیں تھا۔ اس میں کئی گھونسلے بھی تھے۔ چڑیا کے گھونسلے۔ چڑیا ہماری بچپن کی دوست ہے۔ زندگی کی پہلی کہانی نانی اماں نے گود میں بٹھا کے سنائی تھی۔ ایک تھی چڑیا، ایک تھا چڑا۔ چڑیا لائی دال کا دانہ۔ چڑا لایا چاول کا دانہ۔ دونوں نے مل کے ہپا پکایا۔

ہپا یا کھچڑی یعنی کھانا بنانا ان دنوں اج کی طرح آسان نہیں تھا۔ اس مکان میں سوئی گیس کا کنکشن میرے سامنے لگا۔ اس سے پہلے برادے کی انگیٹھیاں ہوتی تھیں۔ میں نے اپنی پھوپھی کو برادے کی انگیٹھی پر کھانا پکاتے دیکھا ہے۔ لکڑیاں جلاکر انگیٹھی روشن کرنا، اس پر سالن پکانا، روٹی بنانا کیسا مشکل کام تھا، آج کی شہری لڑکیاں سوچ بھی نہیں سکتیں۔

مکان میں سرکاری نلکا بھی تھا اور ہینڈ پمپ بھی۔ سرکاری نلکے میں دن میں دو باردو تین گھنٹوں کے لیے پانی آتا تھا۔ اس وقت ٹنکیاں صراحیاں بھر لی جاتی تھیں۔ غیر وقت پانی کی ضرورت ہوتی تو ہاتھ کا نلکا چلایا جاتا۔ میں خود نلکا چلاتا اور اس کے نیچے کھڑا ہوکر نہاتا۔ جلدبازی میں کئی بار سر پھوٹا۔

اب گھروں میں فریج اور ڈسپنسر ہوتے ہیں۔ ہمارا بچپن گھڑونچی اور مٹکے کا زمانہ تھا۔ میں نے اپنے بچوں کے سامنے گھڑونچی کا ذکر کیا تو وہ خوب ہنسے۔ اسے چار ٹانگوں والی میز کا ڈھانچہ سمجھیں۔ اس پر عموماَ دو گھڑے رکھے جاتے تھے۔ ان کا پانی ٹھنڈا ہوتا تھا۔ ہفتے میں ایک گھڑا نہ ٹوٹے، یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

گھڑونچی کی طرح جو شے اب شہروں میں نظر نہیں آتی، وہ ہے چھینکا۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کا محاورہ بھی چھینکے کی طرح متروک ہوتا جارہا ہے۔ یہ لکڑی، پلاسٹک یا لوہے کی پتریوں کی ٹوکری ہوتی تھی جو ڈوریوں سے کسی اونچی جگہ پر باندھی جاتی تھی۔ عام طور پر دودھ یا سالن کی دیگچی بلی سے بچانے کے لیے اس میں رکھ دی جاتی تھی۔ بچوں کا ہاتھ بھی اس تک نہیں پہنچتا تھا۔

مکان میں دسیوں چھپکلیاں تھیں اور درجنوں مینڈک۔ چھپکلیاں دیواروں پر بھاگتی پھرتی تھیں، مینڈک نالیوں میں گشت کرتے رہتے تھے۔ ہمیں ان سے ڈر نہیں لگتا تھا۔ میں نے کئی بار چھپکلی پر جوتا پھینکا اور جواب میں اس کی دم کا رقص دیکھا۔ چھپکلی خطرہ محسوس کرکے اپنی دم کو جسم سے الگ کردیتی ہے۔ حملہ آور دم کو دیکھتا رہ جاتا ہے، چھپکلی جان بچا کر بھاگ جاتی ہے۔ ہمارے گھر میں ایک وقت میں کئی لنڈوری چھپکلیاں نظر آتی تھیں۔

گھر میں بجلی تھی لیکن اس کا زیادہ کام نہیں تھا۔ چند بلب تھے جو رات کو دھندلی پیلی روشنی پھیلاتے تھے۔ اماں کے پاس دو لالٹینیں تھیں۔ وہ روز ان میں تیل ڈالتیں اور لو درست کرتیں۔ لالٹینیں زیرو کے بلب کی خدمات انجام دیتی تھیں۔ ہمارے پاس نہ فریج تھا، نہ ایئر کنڈیشنر، نہ بجلی سے چلنے والی کوئی اور مشین۔ البتہ ٹیلی وژن تھا۔ رات کو ساٹھ واٹ کے بلب پر پتنگے اور ٹی وی پر محلے کے بچے چپک جاتے۔

خانیوال میں ان دنوں ٹیلی وژن کی کوئی دکان نہیں تھی۔ عنایت ریڈیو سروس والے بابا کے دوست تھے۔ وہ پہلی بار چار ٹی وی سیٹ شہر میں لائے۔ اس سے پہلے جس کے پاس ٹیلی وژن تھا، وہ لاہور سے درآمد کردہ تھا۔ امی نے بابا سے کہا کہ وہ ٹی وی خریدنا چاہتی ہیں۔ بابا نے پیسے نہ ہونے کا بہانہ کیا ہوگا۔ امی نے اپنی سونے کی ایک انگوٹھی بابا کے حوالے کی۔ کچھ پیسے اسے بیچ کر ملے، کچھ بابا نے ڈالے، ٹی وی گھر آگیا۔

مجھے یاد ہے کہ وہ الیکٹرون کا 24 انچ کا ٹی وی سیٹ تھا۔ میں نے اس کے بعد کبھی اس کمپنی کا ٹی وی نہیں دیکھا۔ اس کے فرنٹ پر چند ایک ہی بٹن تھے۔ آن آف اور والیوم۔ مجھے یہ تین بٹن دبانے آگئے۔ امی بابا نے مجھے اپنے عہد کا آئن اسٹائن قرار دے ڈالا۔


میرے بچپن کی یادیں(2 )


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 74 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi