صحافی اور صحافت


(سید احسن وارثی)

دنیا بھرمیں صحافیوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کیونکہ عوام صحافی کی تحقیق سے سچ جاننا چاہتی ہے عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ صحافی عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور دُھوکے بازی سے عام شہریوں کو آگاہ کرنے اور عوامی مسائل اُجاگر کرنے میں اپنا کرِدار ادا کرتا ہے۔
عام شہری صحافیوں کے ْقلم سے لکھی ہوئی اور زبان سے نکلی ہوئی بات کو کافی حدتک اہمیت دیتا ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں صحافیوں کی جانب سے غلط بیانی کو بالکل برداشت نہیں کیا جاتا ہے۔
جس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جیسے 2004 میں سی بی ایس نے ایک مشہور نیوز اینکر ڈان راتھرکو غلط خبر نشر کرنے پر معطل کردیا تھا اس کے علاوہ 2015 فروری میں امریکی نیوز چینل این بی سی کے مشہور نیوز اینکر جرنلسٹ برائن ولیم کی ہے جوکہ وائٹ ہاوس میں این بی سی کے نیوز کورسپونڈینٹ بھی رہ چکے ہیں اور امریکہ میں صحافت کی دنیا کی ایک جانی پہچانی ہستی ہیں، برائن ولیم کو براہ راست غلط رپورٹنگ کرنے پر اسی چینل کے صدر کی جانب سے 6 ماہ کے لیے معطل کیا گیا تھا جو ریکارڈ کا حصہ ہے۔

جناب یہ امریکہ کی مثال تھی جس کے ہم قدم سے قدم ملا کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں اُنکی طرز ِ تعلیمات حاصل کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں۔
ہمارے اکثریت صحافی حضرات بہت سے کورسز کے لیے دیگر ممالک کا رخ بھی کرتے ہیں مگر وہاں کی طرز ِصحافت نہیں کرتے۔
جب ہم صحافتی اخلاقیات وزمہ داری کی بات کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں صحافتی اخلاقیات و ذمہ داری کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔

دنیا کے دوسرے تمام ممالک کی طرح پاکستان میں بھی صحافت کی آزادی اور احساسِ ذمہ داری کو قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ سے ہی صحافتی اخلاقیات پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے صحافتی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے ایک مقام پر فرمایا کہ “صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ قومی خدمت کا موثر وسیلہ سمجھا جاے، یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جسے عالم انسانیت کی فلاح و بہبود اور معاشرے میں عدل و انصاف کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔

امریکہ کے ایک مشہور صحافی جوزف پلٹزر صحافتی اقدار کو ایک مقام پر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ” اصلاحات اور خوشحالی کے لیے ہمیشہ جنگ کیجیے، بدعنوانی اور خاص کر نا انصافی کو کبھی برداشت نہ کیجیے، تمام فرقوں کے جذبات کا ہمیشہ خیال رکھیں کبھی کسی ایک جماعت یا پارٹی کے موقف کی حمایت قطعی نہ کیجیے، عوام کا حق غضب کرنے والے اونچے طبقات کی سختی سے مخالفت کیجیے، غریبوں کے ساتھ ہمدردی کیجیے، ہمیشہ عوامی بہبود کے لیے خود کو وقف کردیجیے حق کا ساتھ دیجیے، غلط پر تنقید کرتے ہوئے کبھی مت ڈریں خواہ وہ کسی بھی طرف سے کیوں نہ ہو۔

پاکستان کی بات کی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ریٹنگ کی دوڑ اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں ہم صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں جس سے نہ صرف بہت سی برائیاں جنم لے رہی ہیں بلکہ نوجوان صحافیوں کو بھی صحافی اور صحافت کے اصل مقاصد سے دور کررہی ہیں۔

ملک کی چالیس سے پچاس فیصد برُائیوں کو ختم کرنے اور عام شہریوں میں ّ شَعُور بیدار کرنے میں صحافتی شعبہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ صحافی پارٹی بننے یا پھر کسی کے مخالف بننے، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے، یا پھر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ دکھا کر عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے اپنی تحقیق سے عوام تک سچ پہنچائیں جو آپ کی ذمہ داری ہے ورنہ موجودہ دور میں خاصا اہمیت کے حامل پیشہ صحافت سے خود کو علیحدہ کرلیں۔

صحافت کو دنیا بھر میں بہت اہمیت حاصل ہے اسی لیے ضروری ہے کہ اس شعبے سے وابستہ افراد اپنے پیشہ ورانہ امور پوری دیانتداری سے انجام دیں۔
کسی بھی واقع کی خبر یا بیان کی خبر دینے میں پوری انصاف پسندی سے کام لیا جاے، ہر قسم کی رنگ آمیزی، تبصرے، اور جانبداری سے پرہیز کرنا چاہیے۔
ایسی خبر نشر نہ کی جائے جس کی صداقت کے بارے میں مکمل اطمینان نہ ہو کیونکہ کوئی غلط خبر سامعین کو گمراہ کرنے کے اِعلاوہ قومی مقاصد کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

صحافتی اصولوں میں سے ان چند مندرجہ ذیل باتوں کو ہی اپنا لیا جائے تو ہمارے ملک کی صحافت کا معیار بہت بہتر ہوسکتا ہے۔

صحافی کو غیر جانبدار اور تعصب سے پاک ہونا چاہیے۔
صحافی اپنے فرض کو انجام دیتے ہوئے منصفانہ اور جائز ہونا چاہیے۔
صحافی کی صحافت حقائق پر مبنی ہو۔
صحافت ذمہ دارانہ اور اپنے مقاصد سے مخلص ہونی چاہیے۔
صحافت شائستہ، آبرُو مندانہ اور مہذب ہونی چاہیے۔
صحافی کو ہر امور پر آزاد ہونا چاہیے۔
ایک صحافی کی صحافتی و اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ بنا کسی تحقیق یا ثبوت کے کسی فرد یا شخصیت کے خلاف کوئی بات آگے نہ بڑھاے۔
عوام کے مسائل کو اجاگر کرے اور ان کے حل کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاے۔
معاشرتی برائیوں سے تمام عوام کو آگاہ کرے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے اپنا عملی کردار ادا کرے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “صحافی اور صحافت

Comments are closed.