قومی منصوبے سے قوم بے خبر کیوں


mujahid aliاس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ چین کے تعاون اور سرمائے سے تعمیر ہونے والی پاک چین اقتصادی راہداری کے ذریعے ملک کی اقتصادی صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود ملک کے سیاستدان اس بات پر دست و گریبان ہیں کہ اس سرمایہ کاری میں سے کس کو کتنا حصہ ملے گا اور کون سا خاندان اپنی کمپنیوں کے ذریعے زیادہ دولت سمیٹ سکے گا۔ یا کون سی سیاسی پارٹی نئے پینترے اور نعرے کے ساتھ اس شکست کا بدلہ لے سکے گی جس کا سامنا اسے 2013 ءکے انتخابات میں ہوا تھا۔ اس مرحلے پر وفاقی حکومت سے جس تدبر اور فراخدلی کی توقع کی جا رہی تھی، وہ بھی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ اس کی بجائے اعتراض کرنے والوں کو الزامات کے ذریعے خاموش کروانے کا طرز عمل اختیار کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے اسلام آباد میں چین کے سفارتخانے نے یہ وضاحت کی ہے کہ اس سرمایہ کاری کے ذریعے جو منصوبے تکمیل پائیں گے، وہ پاکستان کے عوام کے مفاد میں ہوں گے اور ہر صوبہ اس سے فائدہ اٹھا سکے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ ملک کے سیاستدان اس بارے میں اتفاق رائے پیدا کریں۔
ایک اٹل حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج نے اس عظیم الشان منصوبہ کی تکمیل کے لئے سکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے اور چینی ورکرز کی حفاظت کے لئے خصوصی فوجی ڈویژن قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جنرل راحیل شریف ایک سے زیادہ مرتبہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اس منصوبے کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔ اس طرح پاک فوج نے ایک لحاظ سے چین اور سرمایہ لگانے والوں کو یہ ضمانت فراہم کی ہے کہ ملک کے مختلف صوبوں میں پائی جانے والی بے چینی اس منصوبہ کی تکمیل پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ تاہم یہ ضمانت اسی وقت قابل عمل ہو سکتی ہے اگر ملک کے سیاستدان ہوش کے ناخن لیں اور ملک کی تاریخ میں میسر آنے والے ایک اہم اقتصادی منصوبے کو فروعی اختلافات یا ذاتی انا کی وجہ سے نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔ یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ اس حوالے سے مختلف الخیال سیاسی پارٹیوں کے درمیان اسی صورت میں تعاون اور ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے اگر وفاقی حکومت اس سرمایہ کاری اور اس سے متعلق معاملات کو پراسرار بنانے اور صیغہ راز میں رکھنے کا سلسلہ بند کرے۔ اس وقت پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے سب سے بھاری ذمہ داری وزیراعظم نواز شریف پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن وہ بدستور خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور اپنی پارٹی اور حکومت کے ارکان کو اس بات کی اجازت دے رہے ہیں کہ وہ اس منصوبہ کی حمایت کرتے ہوئے ناقدین کی نیت پر شبہ کا اظہار کریں۔ یہ طریقہ کار گھٹیا سیاسی ہتھکنڈہ ہے اور اس سے صرف بدمزگی ، اختلاف اور بداعتمادی میں اضافہ ہو گا۔
حکومت نے گزشتہ ہفتہ کے دوران قومی اسمبلی میں اس موضوع پر بحث کا ہر موقع ضائع کیا۔ یوں لگتا ہے کہ نواز شریف اگرچہ پارلیمانی نظام کے تحت منتخب ہو کر وزیراعظم بنے ہیں لیکن وہ واضح اکثریت ہونے کے باوجود ایوان میں مخالف آوازوں کی گونج برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ قومی اہمیت کے حامل اس منصوبہ پر بات کرنے ، اختلافی نقطہ نظر سننے اور اصل صورتحال سامنے لانے کے لئے قومی اسمبلی سے بہتر کوئی پلیٹ فارم نہیں۔ جب اکثریتی پارٹی اپوزیشن کو یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی تو لامحالہ اخباری بیانات ، ٹیلی ویڑن مباحث اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے غصہ اور جھنجلاہٹ کا اظہار سامنے آئے گا۔ ایسے موقع پر جائز اعتراضات کے ساتھ سیاسی فائدہ اٹھانے والے عناصر بھی معاملہ کو زیادہ پیچیدہ اور گنجلک کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اختیارات فرد واحد کے ہاتھ میں مجتمع کرنے کے خواہاں نواز شریف کو یہ آسان سی بات سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ وہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے باوجود پارلیمانی جمہوریت روایت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس لئے مخالفین کا یہ الزام درست دکھائی دینے لگتا ہے کہ انہوں نے ماضی کی ناکامیوں اور جلا وطنی سے کچھ نہیں سیکھا۔
پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے نواز شریف کا مطلق العنان رویہ اور حقائق اور معاملات کو اپنے چند رفقا تک محدود رکھنے کے طرز عمل نے اس وقت قومی سیاست میں ارتعاش پیدا کیا ہوا ہے۔ اس رویہ کی ایک وجہ تو نواز شریف کا شاہانہ مزاج ہے جس کی وجہ سے وہ سارے فیصلے خود کرنے اور ’ مناسب ‘ وقت سے پہلے کچھ بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن اس کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے خاندان اور قریبی عزیزوں کی کمپنیاں اس منصوبے کی تکمیل میں حصہ دار بنی ہوئی ہیں۔ یہ کاروباری معاملات جائز اور درست بھی ہو سکتے ہیں لیکن شفافیت سے گریز کر کے وزیراعظم اور ان کی حکومت اس بارے میں شبہات کو تقویت دے رہے ہیں۔ یہ رویہ ملک کی ترقی کے ایک اہم منصوبہ کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ نواز شریف کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ سب سیاسی گروہوں اور صوبائی لیڈروں کو ساتھ ملا کر چلیں اور اقتصادی ترقی کے اس عظیم منصوبہ کی تکمیل کو یقینی بنا سکیں تو تاریخ میں ہمیشہ انہیں سنہرے الفاظ سے یاد کیا جائے گا۔ بڑے لیڈر اس قسم کا تاریخی مقام حاصل کرنے کے لئے ساری زندگی تگ و دو کرتے ہیں اور موقع ملنے پر کبھی اسے ضائع نہیں کرتے۔ لیکن نواز شریف کے طرز عمل سے ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ حالات و واقعات انہیں تاریخ ساز لیڈر بننے کا سنہرا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگر اس مرحلہ پر انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے لیڈر یا پنجاب کا ناخدا یا شریف خاندان کا سربراہ ہونے کے طور پر ہی فیصلے کئے تو وہ جست لگانے میں ناکام رہیں گے جو انہیں تاریخ کے اوراق میں محفوظ کر سکتی ہے۔ یہ قدم اٹھانے کا حوصلہ اور فیصلہ تو انہیں خود ہی کرنا ہے۔
اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے دو اہم مشکلات درپیش ہیں۔ ایک چین کے یہ خدشات کہ گلگت بلتستان کے راستے تعمیر ہونے والی شاہراہ اور پائپ لائن ایسے متنازع علاقے سے گزرے گی جن پر بھارت کا بھی دعویٰ ہے۔ حکومت کو اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے سیاسی اتفاق رائے اور ضروری آئینی ترمیم لانے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس مسئلہ کے ساتھ ہی ملک کے تین اقلیتی صوبوں کی اپوزیشن کی ساری جماعتیں یہ الزام عائد کر رہی ہیں کہ مئی میں حکومت نے اس راہداری کی تعمیر کے لئے جس روٹ کی تفصیل بتائی تھی اور سب پارٹیوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں جس پر اتفاق بھی کیا تھا …. اب حکومت اسے تبدیل کر رہی ہے۔ اسے مغربی اور مشرقی روٹ کا نام دیا جا رہا ہے۔ مغربی روٹ کے تحت شاہراہیں اور دیگر مواصلاتی نظام بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے ہو کر گزرے گا اور اس کے ساتھ منسلک صنعتیں بھی ان علاقوں میں قائم ہوں گی۔ لیکن اب یہ بات کہی جا رہی ہے کہ وفاقی حکومت اس کی بجائے مشرقی روٹ کو ترجیح دے رہی ہے جس میں زیادہ تر سرمایہ کاری صرف پنجاب کے حصہ میں آئے گی۔
وفاقی حکومت کی طرف سے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ان شبہات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبہ سے سب صوبوں کو فائدہ ہو گا۔ لیکن پہلے مرحلے میں صرف سڑکیں ہی تعمیر ہو سکتی ہیں۔ منصوبہ میں شامل دیگر ترقیاتی منصوبے صرف اسی صورت میں شروع کئے جا سکتے ہیں جب اس منصوبہ کے تحت پاکستان 2018ءتک بجلی کی مناسب پیداوار کے قابل ہو جائے گا۔ اپوزیشن متفقہ طور پر اس وضاحت کو مسترد کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کو فائدہ پہنچانے کے لئے جان بوجھ کر مشرقی روٹ اختیار کر رہی ہے۔
یوں تو پاک چین اقتصادی راہداری ایک پیچیدہ اور مشکل منصوبہ ہے اور عام آدمی اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنے اور رائے قائم کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ لیکن جب وفاقی حکومت رازداری سے کام لیتے ہوئے غیر واضح جواب دیتی ہے تو ناراضی اور اختلاف میں اضافہ لازم ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ چین، جو کہ ان منصوبوں کے لئے سرمایہ اور فنی مہارت فراہم کر رہا ہے، کی اپنی بھی رائے ہو گی۔ وہ بھی کم لاگت سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر ے گا۔ اس تناظر میں بھی یہ بات اہم ہو جاتی ہے کہ چین کی طرف سے سامنے آنے والے تقاضوں اور منصوبے کی آو¿ٹ لائن کو قومی اسمبلی کے ذریعے سب کے سامنے لایا جائے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
یہ کہنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ شدید تحفظات کے باوجود ابھی تک اپوزیشن کی طرف سے ذمہ داری اور سمجھداری سے کام لیا جا رہا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (ایم) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اتوار کو اسلام آباد میں اے پی سی کا اہتمام کیا تھا۔ اس میں ایک سات رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو وزیراعظم سے مل کر اقتصادی راہداری کے بارے میں اپنے اعتراضات پیش کرے گی۔ اصولی طور پر تو وزیراعظم کو وقت ضائع کرنے کی بجائے خود اتوار کو منعقد ہونے والی اے پی سی میں شرکت کر کے اختلافات ختم کرنے چاہئیں تھے۔ تاہم اب بھی میاں نواز شریف کو اپوزیشن کی قائم کردہ اس کمیٹی سے فوری طور پر مل کر معاملات طے کر لینے چاہئیں۔
وفاقی حکومت نے اگر اس اہم معاملہ میں اب بھی روایتی سست روی اور غفلت کا مظاہرہ کیا تو اقتصادی راہداری کے حوالے سے سامنے آنے والے اختلافات سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں بعض پارٹیاں عوامی رابطہ مہم یا احتجاج کا راستہ بھی اختیار کر سکتی ہیں۔ ان امکانات کو مسترد کرنے کی بجائے حکومت کو فوری فیصلہ کرنے ، اعتماد بحال کرنے اور غلط فہمیاں ختم کرنے کے لئے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ منصوبہ کسی ایک فرد ، گروہ ، خاندان یا صوبہ کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی چین سے ملنے والا قرضہ کسی ذاتی خوبی یا تعلق کی وجہ سے حاصل ہو رہا ہے۔ یہ سارے معاملات پاکستانی عوام کے نام پر کئے جا رہے ہیں ، اس لئے ان کے نمائندوں کے ذریعے ساری تفصیلات و حقائق بھی سامنے لانا ضروری ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali