پامالیوں کے درمیان


اسے اتنا تو یاد رہا کہ زندگی کہیں نہ کہیں سے شروع ہوئی تھی لیکن وقت گزرتا رہا اور وہ ایک ایسے مقام پر آپہنچی جہاں کسی آغاز یا اختتام کا خیال ہی بے معنی تھا۔ آزاد مہدی نے ایک ادھیڑ، کم رو اور آفت زدہ عورت کی کہانی بیان کی ہے جو جسم فروشی کر کے گزر بسر کر رہی ہے۔ اس کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں۔

وہ ایک ایسے کمرے میں مقیم ہے جو نیم تاریک ہے اور طرح طرح کے آڑ کباڑ سے بھرا پڑا ہے۔ خود عورت کی گزری ہوئی زندگی، یادیں اور حال میں طاری کس مپرسی بھی کباڑ سے مشابہ ہے۔ اس ڈیوڑھی میں دو کمرے اور ہیں۔ ایک کمرے میں ایک بوڑھا بٹیر باز اور ایک مصور رہتے ہیں۔ دوسرا کمرا تصویروں کے فریم بنانے والے کاریگروں کا ٹھکانا ہے۔ یہ ڈیوڑھی اور کمرے ایک اجڑی پجڑی سٹیج ہیں جس پر باری باری کردار نمودار ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کی آمدورفت، ان کی گفتگو، تکرار، جھگڑے اور ناخوشی سب لاحاصلی کا گرداب ہیں جس میں وہ ڈوبنے ابھرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔

اس عورت پر بہت بوجھ ہے۔ اسے گمان ہوتا ہے کہ نیا دن اس کے لیے شاید تھوڑا سا مختلف اور بہتر ثابت ہو۔ وہ ایک ماشکی اور درزی کی مقروض ہے اور سمجھتی ہے کہ ان کے تقاضوں کی مزید تاب نہ لا سکے گی۔ امید اور ناامیدی کے درمیان ایک چھوٹی سی جگہ میں وہ مقید ہے۔ وہ تصور کرتی ہے کہ باہر مردوں کا ایک جم غفیر اس کا منتظر ہے۔ اسے خود کو کسی طرح بنانا سنوارنا ہوگا تاکہ گاہکوں کو پرچا سکے۔ رات بہت سی خامیوں پر پردہ ڈال سکتی ہے۔ ”وہ رات کو اپنے لیے ایک گھونسلا خیال کرتی، دن کو سنگ دل اور بے رحم روشنی کا نام دیتی کیوں کہ اس کی زندگی کے خلاف جتنے بھی فیصلے ہوے تھے وہ دن کی روشنی میں ہوے تھے۔۔۔ اس کا بے سہارا اور تنہا ہونا رات کی تاریکی میں چھپ جاتا تھا۔“ وہ اکثر سوچا کرتی کہ ” میں دنیا کے ایسے کونے میں رہتی جہاں چھ مہینے تک سورج نہیں نکلتا اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے۔“ چھ ماہ کی مسلسل راحت!

اسی بارے میں: ۔  ستر سال پہلے ایک دن!

مشکل یہ ہے کہ اس کے پاس جو پرانا میک اپ کا سامان ہے وہ کار آمد نہیں رہا۔ خود کو جاذب نظر بنانے کے لیے کچھ بھی میسر نہیں۔ اسے اچانک اوپر کی منزل میں رہنے والی دوشیزاﺅں کا خیال آتا ہے جن کے حسن کو وہ رشک سے دیکھتی تھی اور ان جیسی بننے کی آرزومند تھی۔ پیشے کے لحاظ سے ان میں اور اس میں کوئی فرق نہ تھا۔ جو فاصلہ اصل میں حائل تھا وہ بہت بڑا تھا۔ دنیا میں سارا کھیل ہی یہ ہے کہ کون اوپر ہے اور کون نیچے۔ اس نے سوچا ان کے پاس عمدہ ملبوسات ہوں گے اور میک اپ کا بڑھیا سامان بھی سامنے ہوگا۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ ان خوب صورت عورتوں سے میک اپ کے لوازمات طلب کرنے کا حق رکھتی ہے۔ اس کے باطن کی آواز نے اسے ایسی کوشش سے باز رکھنا چاہا۔ اس نے ایک نہ سنی۔

وہ سیڑھیاں چڑھ کرگویا عالم بالا میں جا پہنچی۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے کوئی فانی اور قابل رحم ہستی اساطیری کوہ اولمپوس پر بسنے والی سدا جوان دیویوں کے دربار میں قدم رکھنے کی جرات کرے۔ اوپر رہنے والی حسینائیں اسے دیکھ کر ہنستی ہیں، مذاق اڑاتی ہیں اور اس کے کپڑے اتار دیتی ہیں۔ جو تھوڑی بہت پردہ پوشی تھی وہ بھی باقی نہیں رہتی۔ آخر وہ اسے میک اپ کا سامان دے کر رخصت کرتی ہیں اور وہ برہنگی اورمخمور بد حواسی کے عالم میں اپنے کمرے کو لوٹتی ہے۔ دیوتاﺅں اور دیویوں کے دیے ہوے تحفے ایک طرح کی کھلواڑ ہوتے ہیں اور فانی عورتوں اور مردوں کو راس نہیں آتے اور اس عورت کو بھی راس نہ آ سکے جس نے اپنی بساط سے باہر کام کرنا چاہا تھا۔

آزاد مہدی کا مشاہدہ تیز ہے اور انھوں نے اپنی مرکزی کردار کی ہئیت کذائی اور اس کے گردوپیش کا جو نقشہ کھینچا ہے اس کے موثر ہونے میں کلام نہیں۔ ناول کی کمزوری یہ ہے کہ اس کے نصف آخر کو غیر ضروری طول دیا گیا ہے۔ کردار بالعموم جس لب و لہجے میں گفتگو کرتے ہیں وہ ان کا اپنا نہیں، مصنف کا معلوم ہوتا ہے۔ اس کے دفاع میں شاید یہ کہا جا سکے کہ ناول حقیقت پسندانہ نہیں، حقیقت کو جا بہ جا چھوتا رہتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  بندوقوں کے سائے میں بینظیر کا غریب ووٹر

طرفگی یہ کہ ناول کا سب سے عمدہ حصہ وہ چند صفحات ہیں جن میں بالائی منزل پر رہنے والی نوشی اپنے بوڑھے عاشق کے ساتھ گزاری ہوئی رات کا احوال سناتی ہے۔ بے اعتنائی، تمسخر، جھنجھلاہٹ اور الم ناکی کا یہ امتزاج بجائے خود ایک مکمل افسانہ ہے۔

ناول کی نثر بھی ناہموار ہے۔ کہیں کہیں بہت اچھی ہے لیکن بالعموم خوش کُن نہیں۔ بعض دفعہ حیرت ہوتی ہے کہ جو فکشن نگار ایک خواب ناک منظر کو اتنی عمدگی سے بیان کر سکتا ہے وہ اس معیار کو ناول میں اول تا آخر برقرار کیوں نہ رکھ سکا۔ ص 97 اور 98کی اس عبارت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے جو اس طرح شروع ہوتی ہے: ”وہ ابدی راحت سے بے نیاز، ایک خواب آور جگمگاتے راستے پر جدا ہونے والی عورت کے پیچھے چل رہی تھی، شاید اسے پھر سے خود کو وابستہ کرنے کی کوشش میں۔۔۔! وہ اس راستے پر چلتے ہوے برہنہ نہیں تھی بلکہ ایک چھوٹی سے لڑکی بن گئی تھی جس نے پھول دار فراک پہنا ہوا تھا اور پان ¿و میں جوتے نہیں تھی۔ اس عورت اور لڑکی کے درمیان تقریباً تیرہ قدموں کا فاصلہ تھا۔ یہ فاصلہ گھٹتا تھا نہ بڑھتا تھا۔ یہ عورت اتنی حسین تھی کہ اس جیسی خوب صورتی اس نے دنیا میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔“

یہ ناول بہتر بھی ہو سکتا تھا لیکن موجودہ صورت میں بھی حال میں لکھے جانے والے بہت سے اردو ناولوں سے زیاد ہ اثر دار ہے۔

ایک دن کی زندگی از آزاد مہدی

ناشر: سانجھ پبلی کیشنز، لاہور

ص176؛ 350 روپیے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔