دلوں کی دھڑکنیں تیز کرتے ہوئے اسلامی رومانوی ناول


یہ ناول ان دیندار نوجوانوں کے بارے میں ہیں، جو بنگلہ دیشی معاشرے کی سخت اخلاقی حدود کے اندر محبت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ قاسم بن ابوبکر کو کہا گیا تھا کہ ان کے یہ پاکباز رومانوی ناول کوئی بھی نہیں خریدے گا۔ لیکن اس کے باوجود دھڑکتے دلوں میں پائے جانے والے جذبات اور ان کی محبت بھری کہانیوں پر مبنی یہ ناول لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہو چکے۔

قاسم ابوبکر کا کہنا ہے، ’’لڑکیوں نے مجھے خون سے خط لکھے اور ان میں سے کچھ تو مجھ سے شادی کرنے کے لیے بیتاب تھیں۔‘‘ ان کا پہلا ناول ’کِھلا گلاب‘ تین عشرے پہلے لکھا گیا تھا اور اس کی تمام فکشن پر اسلامی اقدار کا رنگ نظر آتا ہے۔

قاسم ابوبکر نے ستر کے دہائی کے اواخر میں لکھنا شروع کیا تھا، جب وہ ایک کتب فروش کے طور پر کام کرتے تھے۔ اس وقت انہوں نے دیکھا کہ زیادہ تر ناول بنگلہ دیشی اشرافیہ کے گرد گھومتے ہیں اور انہی کے طرز زندگی کو بیان کرتے ہیں۔ یہ سیکولر کہانیاں ایک دوسری ہی دنیا کی تھیں جبکہ بنگلہ دیشیوں کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ اس وقت ابوبکر کو محسوس ہوا کی مارکیٹ میں ایک خلاء موجود ہے، جسے وہ پُر کر سکتے ہیں۔

بنگلہ دیشی صحافی قدر الدین شِشر کہتے ہیں، ’’انہوں (قاسم بن ابوبکر) نے اپنے لیے ایسے قارئین تلاش کیے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ موجود ہی نہیں ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں،’’ایک دیہات میں ان کے ناول کسی بھی نوجوان محبوب کو دینے کے لیے ایک بہترین تحفہ خیال کیے جاتے ہیں۔‘‘ ان کا پہلا ناول ’کِھلا گلاب‘ ایک ایسے لڑکے اور لڑکی سے متعلق ہے، جو ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتا اور ان کے خاندان والے ان کی شادی کروانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے یہ ناول 1978ء میں لکھ لیا تھا لیکن کسی پبلشر کو اس پر نظر ڈالنے کے لیے دس سال لگے۔ ابوبکر کہتے ہیں، ’’ان کا جواب یہ ہوتا تھا کہ کسی مولوی کے ناول نہیں بکتے۔‘‘ آخر کار ابوبکر نے اپنے ناول کی اشاعت کے حقوق ایک پبلشر کو محض ایک ہزار ٹکہ تقریباﹰ تیرہ سو روپے کے عوض بیچ دیے اور ان کا ناول راتوں رات مشہور ہو گیا۔

اس کے بعد سے ابوبکر درجنوں ناول لکھ چکے ہیں، جو باپردہ خواتین، مسجد اور ایسے نوجوانوں کے گرد گھومتے ہیں، جو مذہب سے منسلک ہیں لیکن محبت کی بھی تلاش میں ہیں۔

ان کے ایک مصنف ساتھی سید مظہر پرویز کا کہنا تھا، ’’طالب علموں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد مدارس یا مذہبی بورڈنگ اسکولوں میں جا رہی ہے اور یہ ناول ان کے پسندیدہ ترین ہیں۔ یہ طبقہ خود کو ان کہانیوں سے منسلک کر سکتا ہے اور بڑی آسانی سے ان میں استعمال کی گئی زبان اور معنوں کو سمجھ سکتا ہے۔‘‘

قاسم ابوبکر نے بنگلہ دیشی لکھنے والوں کی ایک نئی نسل کو بھی متاثر کیا ہے، جو اسلامی فکشن میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ قاسم ابوبکر سے متاثر مصنف عبدالعلیم کا کہنا ہے کہ ان کی کہانیوں سے حوصلہ ملتا ہے اور اخلاقی کہانیاں اس سبق کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی ہیں کہ معاشرے کی ’تمام برائیوں کا خاتمہ اسلام‘ مہیا کرتا ہے۔

ابوبکر کے مداحوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہیں مصروف رکھا ہوا ہے۔ انہیں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں خطوط موصول ہوتے ہیں۔ کئی بیوروکریٹس کے اعترافی بیانات بھی ملتے ہیں، جن میں وہ ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایمانداری کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ ہر روز خطوط لانے والا ڈاکیا ان کے خاندان کے ایک فرد جیسا ہو گیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔