کشمیر میں مظاہروں کی شدت اور تشدد میں اضافہ، انتخابات دوبارہ ملتوی


سری نگر میں انڈین حکومت کے الیکشن کیمشن نے پیر کی شب دس صفحات پر مشتمل ایک حکم نامے میں بتایا کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

پیر کو ہی جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں حزب المجاہدین نے مقامی بینک کی ایک کیش وین پر حملہ کیا جس میں پانچ پولیس اہلکار اور دو بینک محافظ ہلاک ہوگئے۔ مارے گئے پولیس اہلکاروں سے ہتھیار بھی چھین لیا گیا۔ اسی روز جنوبی ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے قریب کرشنا گھاٹی سیکٹر میں بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی افواج نے انڈین فوجی تنصیبات کو راکٹوں اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا جس میں دو فوجی مارے گئے۔ اتوار کو سری نگر کے خانیار علاقے میں فورسز پر بم حملہ ہوا جس میں ایک عمررسیدہ شخص مارا گیا۔ اس دوران سکولوں اور کالجوں کے طلبا نے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ حکومت نے حساس تعلیمی اداروں میں غیرمعینہ مدت تک چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ وادی میں سیکورٹی اور سیاسی حالات پر غور کرنے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے گورنر این این ووہرا کو دلی طلب کرلیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انڈین حکومت کشمیر میں گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز پر غور کررہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔