قائداعظم کی خراب ایمبولینس سے تھر کے بچوں کی ناکارہ ایمبولینس تک


اس تحریر کے ساتھ منسلک تصویر سندھ کے اس تھر کی ہے جس سے اربوں روپے کا کالا سونا یعنی کوئلہ نکلتا ہے ۔

یہ کوئی پرانی بات نہیں، اسی 29 اپریل 2017 کی بات ہے۔

اس تصویر کے پیچھے کی کہانی دکھ سے سینہ چیر دینے کے لئے کافی ہے مگر جس کے پاس انسانیت اور ضمیر نام کی چیز ہو۔

تھر کے علاقے مٹھی سے دو انتہائی سیریس بچوں کو ڈاکٹروں نے حیدرآباد ریفر کیا۔ تھر کے بیمار بچے کہاں کوئی ریفر کرکے ایمبولینس مہیا کرتا ہے، یہ تو بھلا ہو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس احمد علی شیخ کا جو آج کل تھر میں بڑی تعداد میں مرنے والے بچوں کا از خود نوٹیس لے کر کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

ریفر کیے گئے دو بچوں کی ایمبولینس 50 کلو میٹر چلنے کے بعد خراب ہوگئی۔ تھر کی شدید گرمی کا اندازہ صرف وہ ہی لگا سکتا ہے جو ان علاقوں میں رہا ہو۔ دوزخ کی آگ کی طرح گرم لو اٹھتی ہے ریت سے۔ اس گرمی میں ایک گھنٹے تک کھڑی اس کھٹارہ ایمبولینس میں ہی ایک بچہ تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگیا۔

تصویر میں جو نظر آ رہا ہے، یہ ہی اصل حقیقت ہے کہ دوسرا بچہ شدید گرمی میں، ایمبولینس کی کھلی ہوئی کھڑکیوں میں سے تیز گرم ہوا کی زد میں آخری سانسیں لے رہا ہے۔ دل دہلا دینےوالا اور انتہائی اذیتناک منظرہے۔

سب ٹھیک ہے کا دعوٰی کرنے والی پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کواس تصویر میں یہ نظر نہیں آئے گا کہ کس طرح ایک مجبور باپ ایمبولینس کے راستے میں ہی خراب ہونے کے باعث جاں بحق ہونے والے بچے کو گود میں لئے ہوئے بیٹھا ہے۔ دوسرے بچے پر ماں باپ پانی چھڑک کر اس کی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کی انتہائی مجبور اور لاچار مائوں کی چیخیں ریت کے گرم ٹیلے سے ٹکرا کر دم توڑ رہی تھیں۔

مٹھی سے تعلق رکھنے والے میرے دوست عبد الغنی بجیرکے مطابق مٹھی اسپتال کے ڈاکٹر بیمار بچوں کو حیدرآباد ریفر کرکے اپنی جان چھڑاتے ہیں کیون کہ مٹھی اسپتال میں غذائی قلت کے باعث داخل ہونے والے بچوں کی اموات کا سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا مگر ایمبولینسز ناکارہ ہونے کے باعث آئے دن ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  کیا مصطفی زیدی کو اخلاقی بے راہروی نے مار ڈالا؟

۔ گذشتہ روز ایمبولینس کی خرابی کے دوران راستے میں ہی دم توڑنے والا ڈھائی سالہ بچہ گائوں ڈابھڑی کا بھرت میگھواڑ تھا۔ اسی طرح ایک اور بچے مینھل ہالیپوٹو کو ریفر کیا گیا تھا جو راستے میں ایمبولینس ناکارہ ہونے کے باعث ایک گھنٹے تک شدید گرمی اور تیز گرم ہوا کی زد میں ماں کی گود میں تڑپتا رہا۔

ہم یہ ہی تو رونا روتے ہیں کہ اربوں روپے کا بجٹ ہونے کے باوجود غریبوں کے بچے خراب ایمبولینسز میں دم توڑتے ہیں اور حکمران سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ صحت کے شعبے کے اربوں روپے کہاں گئے؟

اس خراب ایمبولینس کو دیکھ کر مجھے اس ملک کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی وہ خراب ایمبولینس بھی یاد آگئی جس کے بارے میں آج تک یہ کہا جاتا ہے کہ جان بوجھ کر ان کی طرف خراب ایمبولینس بھیجی گئی تھی تاکہ وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

قائد اعظم کے معالج کرنل الہی بخش کی کتاب۔ قائد اعظم کے آخری ایام۔ پر پاکستان میں 1959 سے 1976 تک پابندی عائد تھی۔ ڈاکٹر کرنل الہی بخش لکہتے ہیں،

ہمارے جہاز نے ماڑی پور ایئرپورٹ پر 4 بج کر 15 منٹ پر لینڈ کیا۔ باہر ایک ایمبولینس کے ساتھ گورنر جنرل کے ملٹری سیکریٹری کرنل ناول کھڑے تہے مگر وہاں کوئی نرس نہیں تھی۔

ہم نے وقت ضائع کیے بغیر قائد اعظم کو جہاز سے ایمبولینس میں منتقل کیا۔ مس جناح ( فاطمہ) اور کوئٹہ سے آئی ہوئی نرس ایمبولینس میں سوار ہوئیں اور میں، ڈاکٹر مسٹری اور ملٹری سیکریٹری گورنر جنرل کی کیڈلیک میں سوار ہوئے۔ سامان اور ملازم ایک ٹرک میں ہمارے پیچھے تھے۔ گورنر جنرل ہاؤس ایئرپورٹ سے نو دس میل کے فاصلے پر تھا۔

چار میل ہی چلے تھے کہ ایمبولینس رک گئی، میں نیچے اترا پتہ چلا کہ انجن میں خرابی ہے۔ ڈرائیور بیس منٹ تک کوشش کرتا رہا مگر انجن اسٹارٹ نہیں ہوا۔

مس جناح نے ملٹری سیکریٹری کو دوسری ایمبولینس لانے کو بھیجا، ڈاکٹر مسٹری ان کے ساتھ گئے۔

اسی بارے میں: ۔  ارتقاء کی سائنس اور ذیابیطس

باوجود اس کے کہ مس فاطمہ جناح اور ملازم پنکھا چلا رہے تھے قائد اعظم کو مسلسل پسینہ چھوٹ رہا تھا۔ ہم نے ان کو کار میں منتقل کرنے کا سوچا مگر اسٹریچر کار میں سمانے سے بڑا تھا۔ جبکہ قائد اعظم کی حالت ایسی نہ تہی کہ وہ خود اٹھ کر کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ سکتے۔ ان کے کپڑے پسینے سے مکمل بھیگ چکے تھے۔

میں نے ان کا معائنہ کیا اور ڈر گیا کیوں کہ ان کی نبض کمزور پڑ رہی تہی۔ میں دوڑ کر ٹرک سے چائے کا تھرماس لے آیا اور مس جناح نے ان کو گرم چائے دی جو انہوں نے پی لی۔ انہوں نے پورے دن میں اس چائے اور چند گھونٹ فروٹ جوس کے علاوہ کچھ بہی نہیں لیا تہا۔ مگر ان کا چائے پینا اچھی علامت تھی۔ سوائے ایمبولینس کی خرابی کے باقی سب کچھ مریض کے حق میں اچھا جا رہا تھا۔

کیا ستم ہوتا اگرہوئی سفر کو برداشت کرنے والا مریض اگر روڈ سائیڈ پر جان دے دیتا۔ میں نے ان کی نبض دوبارہ دیکھی۔ وہ بحال ہو گئی تھی۔ چائے نے ان پر اچھا اثر کیا تھا۔

میں حسرت سے شہر سے آنے والے رستے کو دیکھتا رہا مگر وہاں ایمبولینس کے کوئی آثار نہیں تھے۔ بہت سے بس اور ٹرک آجا رہے تہے مگر ان کا استعمال مریض کے لئے غیر محفوظ ہوتا۔ میں نے اپنے آپ کو دکھی اور مجبور محسوس کیا۔

آخرکار ایک درد انگیز لمبے انتظار کے بعد ایمبولینس نظر آئی۔ ہم نے جلدی سے قائد اعظم کو اس ایمبولینس میں منتقل کیا اور منزل کی طرف چل پڑے۔ ہم 4 بج کر 10 منٹ پر اپنی منزل کو پہنچے، پورے دو گھنٹے بعد۔

جہان پر اس ملک کے بانی کی ایمبولینس ایسی ہو۔ وہاں تھر کے بچوں کو ناکارہ ایمبولینس ملنا کوئی حیرت کی بات نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔