مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی ،جنرل وید پرکاش اور پاکستان


برہان وانی کی شہادت کے بعد سے مقبوضہ کشمیرمیں جاری تحریک آزادی نے ایک نیا موڑ لیا ہے ۔ ویسے تو گزشتہ ستر برس سے کشمیر کا بچہ بچہ بھارتی غلامی سے آزادی کا خواہاں ہے لیکن حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی میں جو ایک نئی تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ سکولوں او رکالجوں کی نوجوان طالبات بھی بھارتی جبرو استبداد کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہیں جس کی وجہ سے تحریک آزادی میں نہ صرف جو ش او رولولے کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرف سے تحریک آزادی کی ملکیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی فو ج کے سابق آرمی چیف جنرل وید پرکاش بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ بھارتی حکومت کو مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی کو ششیں کرنا ہوں گی کیونکہ بھارت فوجی طاقت کے بل بوتے پر مقبوضہ کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ یہی نہیں بلکہ بھار ت کے سابق آرمی چیف جنرل وید پرکاش نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت کو ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہئیں جو مشکلات کا شکار ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ مشکلات کاسب سے زیادہ شکار تو مقبوضہ کشمیر کے عوام ہی ہیں اور یہی پاکستان اور کشمیری عوام کابھی موقف ہے کہ کشمیریوں کی شراکت کے بغیر مسئلہ کشمیر کا دیرپا اور پرامن حل ممکن نہیں ہے ۔ لیکن ریاستی سطح پر بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی ۔

لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اور سوموار کے دن بھارت کی طرف سے پاکستان پر ایک اور بے بنیاد الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی بلکہ مارے جانے والے بھارتی سپاہیوں کی لاشوں کی بے حرمتی کی ۔بھارتی میڈیا نے اس بے بنیاد الزام کو لے کر بہت طوفان مچایا اور یہ کوئی نئی بات نہیں ، بھارتی میڈیا عوامی جذبات کو منفی سمت میں ابھارنے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو کشیدہ رکھنے میں ہمیشہ سے پیش پیش رہا ہے جبکہ پاکستانی میڈیا میں ہمیشہ بھار ت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور کو پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیاہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ باوجود بہت سی غلطیوں اور کوتاہیوں کے پاکستانی میڈیا کی غالب اکثریت نے اس حوالے سے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہر ہ کیا ہے ۔ پاکستان کی طرف سے بھارتی فوج کے سپاہیوں کی لاشوں کی بے حرمتی کے جھوٹے اور بے بنیاد الزام کی فوری تردید کی گئی ہے تاریخی حوالوں سے جس کی صداقت پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی عوام اور عالمی برادری بھی یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہمیشہ بھارت کی طرف سے کی گئی ہے ، یہی وجہ ہے کہ بھارت نے آج تک اقوام متحدہ کے مبصرین یا انسانی حقوق کے کسی ادارے کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہی کے لئے علاقے میں جانے کی اجازت دینے سے واضح انکار کیا ہے حالانکہ پاکستان کی طرف سے آزاد جموں کشمیر میں ایسی کوئی پابندی کبھی بھی عائد نہیں کی گئی ۔

اسی بارے میں: ۔  کتوں کا کھاتہ۔۔۔۔ آسان زندگی کا مجرب نسخہ

صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا وہ بیان بھی ہے جو انہوں نے بھارت کی سرزمین پر دیا ہے ۔ترکی پاکستان کا ایک اہم دوست ہے اور خاص طور پر وزیراعظم میاں نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مزید فروغ ملا ہے ۔ دوسری طرف ترکی کے بھارت کے ساتھ بھی وسیع تعلقات ہیں اور اس حیثیت میں تر کی کے صدر کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیش کش نہ صرف اس بات کی غماز ہے کہ وہ پاکستانی مشکلات کو حل کرنے کے لئے تعاون پر تیار ہیں بلکہ وہ خطے میں امن کے لئے سنجیدہ اقدامات کے بھی خواہاں ہیں ۔ رجب طیب اردوان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیش کش کوبین الاقوامی برادری میں پاکستان کی ایک اہم سفارتی کامیابی کہا جاسکتا ہے کیونکہ یہ ایک معمول کا بیان نہیں تھا بلکہ دنیا کے ایک اہم ملک کے سربراہ کی طرف سے ثالثی کی پیش کش اس لئے غیر معمولی ہے کیونکہ عام طور پر جب کوئی سربراہ حکومت یا سربراہ ریاست کسی دوسری ریاست کا دورہ کرتا ہے تو وہ اس ریاست کی پالیسی کے خلاف کسی بھی قسم کے بیان یا عمل سے گریز کرتا ہے ۔ زمینی حقائق کے مطابق ترکی کے صدر کے اس بیان کو بھی بھارتی میڈیا میں کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس حوالے سے بھارتی میڈیا نے آداب میزبانی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صدر رجب طیب اردوان کی ایک پریس کانفرنس کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو ترکی میں کردوں کی بغاوت کے ساتھ تشبیہ دے کر ان سے سوالات کئے ، جس پررجب طیب اردوان نے بھارتی میڈیا کو باور کرایا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی اور کرد بغاوت میں کسی قسم کا موازنہ زمینی حقائق کو جھٹلانے اور خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے ۔

دوسری طرف پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے میں ہونے والے اقدامات کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پاکستانی عسکری اداروں نے بھی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے آغاز سے ہی بھار ت جس بے چینی کا شکار ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھار ت کی طرف سے صرف اس ایک منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے بھارتی خفیہ اداروں کو خطیر فنڈز مہیا کئے گئے ہیں ۔لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ پاکستان اس صورتحال کے لئے پہلے سے تیار تھااور اقتصادری راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے بھارتی سازشوں کا اس قدر بھرپور جواب دیا گیاہے کہ اب بھارت دفاعی پوزیشن میں جانے پر مجبور ہو گیا ہے ۔ قومی مفادات کے پیش نظر میں اس حوالے سے مزید کچھ احاطہ تحریر میں نہیں لاسکتا لیکن یہ ضرور بتا سکتا ہوں کی پاکستانی عسکری اداروں کی ان کوششوں کو سیاسی قیادت کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہے اور کم از کم اس سطح پر کسی قسم کا کوئی اختلاف موجود نہیں ۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں ایک طبقہ سجن جندال سے ملاقات کو بنیاد بنا کر وزیراعظم میاں نواز شریف کی حب الوطنی پر سوالات اٹھارہا ہے اور حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی موقف نہیں دیا گیا بلکہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے صرف اتنی وضاحت کی ہے کہ یہ دو دوستوں کی ذاتی ملاقات تھی ۔ میری ذاتی رائے میں ان حالات میںیہ ملاقات نہ ہی ہوتی تو بہتر تھا ،بظاہر تو بہت مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں کہ سجن جندال دونوں ملکوں میں تعلقات کی بہتری کے لئے کوئی کردار ادا کر سکیں ۔اس ملاقات کی حقیقت کچھ بھی ہو لیکن میر اخیال ہے کہ میاں نواز شریف کی حب الوطنی پر شک کرنا مناسب نہ ہوگا۔ ان کی پالیسیوں سے اختلاف ہو سکتا ہے اورایک بشر کی حیثیت سے ان سے غلطی کا امکان بھی موجود ہے لیکن بہر حال ان کی حب الوطنی پر شک کرنا قومی وحدت کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔

اسی بارے میں: ۔  گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ نہیں ہے

پاکستانی عسکری اداروں کی طرف سے عصمت اللہ معاویہ ،عزیر بلوچ ، کلبھوشن یادیواور احسان اللہ احسان کی گرفتاری اور ان سے حاصل کی گئی معلومات بھی یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی کو لاحق خطرات کو جارحانہ انداز میں ختم کر رہا ہے اوربھارت سمیت پاکستان دشمن عناصر دفاعی پوزیشن میں جانے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں ۔ بلاشبہ اس راستے میں پاکستانی عسکری اداروں نے لازوال قربانیاں بھی دی ہیں جن کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہوگی ۔ لیکن پاکستانی عوام کے باشعور طبقات کی یہ شدید خواہش ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت باہمی اختلافات کو مل بیٹھ کر حل کرے اور ٹویٹس کے چکر میں الجھنے کی بجائے متحد ہوکر پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی منزل سے ہم کنار کرے ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔