گلگت بلتستان کی سیاحت کے لئے این او سی کی پابندی


چھوٹے بھائی کی طبعیت ناساز ہونے کی اطلاع ملتے ہی راتوں رات اسلام آباد پہنچنا پڑا۔ راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں سفری تھکن دورکرنے کی غرض سے کچھ دیر سکون کی نیند کا ارادہ کیا مگر نیند قریب آنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ سوچا کہ نیٹکو کی کھٹارا بس میں شاہراہ قراقرم پر جھٹکے کھا کھا کے طویل مسافت طے کر کے منزل مقصود تک پہنچنے کے باوجود آنکھ نہ لگنے میں آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے۔

اسی کشمکش میں دیکھا تو موبائل فون کب کا تھری جی سروس سے منسلک ہوچکا تھا اور فیس بک، ٹویٹر اوروٹس ایپ پر برقی پیغامات اور نوٹیفیکشنز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا۔ پھر خیال آیا کہ ایس سی او کی برائے نام انٹرنیٹ سروس کے ستائے ہوئے مجھ جیسے ایک انجان گلگتی کے لئے تھری جی انٹرنیٹ سروس تو یقیناً کسی معجزے سے کم نہیں۔ ایسے میں انٹرنیٹ کی دنیا سے کہاں فرصت کہ بندہ سکون کی نیند سو جائے۔

نیند کو ایک طرف رکھ کر موبائل کے ساتھ چھیڑخانی میں لگا رہا۔ دیکھا تو فیس بک پر وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے گلگت بلتستان کی سیاحت سے متعلق ایک نوٹیفیکشن گردش میں ہے۔ جس کے مطابق گلگت بلتستان جانے والے غیرملکی سیاحوں کو وفاقی وزارت داخلہ سے پیشگی این اوسی لازمی قراردیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وزارت داخلہ کا یہ حکم نامہ جنگل میں آگ کی طرح پھیلتا جا رہا تھا ۔ گلگت بلتستان کے باسیوں کے علاوہ سوشل میڈیا کے ملکی وغیرملکی صارفین کی ایک بڑی تعداد اس حکم نامے کو مذمتی الفاظ میں شیئر کر رہے تھے۔

کچھ ہی دیرمیں یہ نوٹیفیکشن قومی و بین الاقومی میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے پر طرح طرح کے تبصرے اور تجزئیے بھی شروع ہوئے۔ لیکن تمام کاوشیں بے سود ثابت ہوئیں حتیٰ کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان سے ٹیلی فونک گفتگو اور تحریری خط بھی۔ وہ اس لئے بے سود کہ اس نوٹیفیکیشن کے ردعمل میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے آسمان سر پر اٹھانے اور صوبائی حکومت کے جوابی خط کے باوجود وفاقی وزارت داخلہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اورتمام ترکوششوں کے باوجود وزارت داخلہ کی جانب سے تادم تحریر کوئی لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔

تاہم حکومتی حلقوں کا گمان یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چوہدری نثار کو اپنے ماتحت ادارے کی جانب سے جاری حکم نامے پر نظرثانی کی فرصت نہ ملی ہو۔ لیکن یہ گمان ’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘ کے مصداق صرف صوبائی حکومت کے لئے ایک امید تو ہو سکتی ہے مگرعام تاثر یہ ہے کہ وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ دلچسپی چاہے سیاسی فیصلوں کے حوالے سے ہو یا آئینی حیثیت کے تعین کے سلسلے میں، مالی وسائل کی فراہمی کا معاملہ ہو یا انتظامی اختیارات کی منتقلی کا، یا پھرسیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے اقدامات کی بات ہو۔

اسی بارے میں: ۔  میاں صاحب! عوام کو آپ کی صفائیوں کی ضرورت نہیں

ہاں اگر وفاق کو گلگت بلتستان کے معاملات میں کوئی دلچسپی ہے تو وہ صرف اور صرف اپنے سیاسی مقاصد اور مفادات کا حصول ہے۔ جب مفاد کی بات آ جاتی ہے تو نہ صرف برسراقتدار بلکہ تمام قومی سیاسی جماعتیں جی بی کے عوام کودرپیش مسائل اوربنیادی حقوق کی فراہمی کا رونا روتی ہیں۔ پھر مقصدیت کی تکمیل کے بعدخطے کی طرف کوئی پلٹ کردیکھنے کا گوارہ نہیں کرتا کہ یہاں پر انسان بستے ہیں یا کوئی اور مخلوق۔

دو برس قبل کی بات ہے ، یہی مئی کا مہینہ تھا اور آگئے جون میں گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کے عام انتخابات کا شیڈول مقررتھا۔ اسی اثنا میں انتخابی مہم کے سلسلے میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف گلگت تشریف لاتے ہیں اور ایک پرُہجوم عوامی اجتماع سے خطاب میں گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے سلسلے میں اقدامات کے بلندوبانگ دعوؤں کے ساتھ ساتھ خطے کی آئینی حیثیت کے تعین کے لئے اپنے مشیر برائے خارجی امور سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا بھی اعلان فرماتے ہیں۔ لیکن وہ دن آج کا دن، دوسال کا عرصہ گزر گیا، انتخابات کے نتیجے میں صوبائی سطح پر ان کی جماعت اقتدار میں آ گئی مگرگلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کے حوالے سے وہ اعلان تاحال اعلان کی حد تک رہ گیا ۔

رہی بات سیاحت کی ترقی سے متعلق دعووں کی۔ یہ دعوے تو وفاق میں برسراقتدار آنے والی ہرجماعت کا وطیرہ رہے ہیں۔ مگر مقامی حکمرانوں کی نااہلی کے باعث ان دعو وں کی صحیح تشہیر نہیں ہو پا رہی تھی ۔ اب کے بار وزیراعظم میاں نواز شریف کو گلگت بلتستان میں ایک ایسے وزیراعلیٰ سے واسطہ پڑگیا جو اپنے قائدین کے ہراعلان کوعوام تک پہنچانے میں کمال مہارت رکھتے ہیں۔ چاہے اس پر عمل درآمد ہو نہ ہواس سے انہیں کوئی واسطہ نہیں۔ سیاحتی ترقی کے اس خواب کو بھی انہوں نے خطے میں مثالی امن سے تعبیرکرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت سے کام نہیں لیا۔ بلکہ اس بات پر وہ ہمیشہ ناز کرتے رہے کہ ان جماعت اقتدارمیں آتے ہی یہ خطہ امن وامان کے حوالے سے ایشیا کے پیس انڈکس میں شمار ہوا ۔

اس بنیاد پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ گزشتہ برس گلگت بلتستان میں چھ لاکھ سے زائد سیاح آئے۔ لیکن کبھی یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ ان سیاحوں کی آمد سے علاقے کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوئے اور عوام کی معیارزندگی پر اس کا کیا اثر پڑا۔

سوال یہ ہے کہ اگر گلگت بلتستان عالمی سطح پر ایک پرامن خطہ قراردیا گیا اور ایک سیزن میں چھ لاکھ کی تعدادمیں سیاح اس علاقے کا رخ کرلیتے ہیں تو پھر اچانک غیرملکی سیاحوں کے لئے این اوسی لینے کی شرط رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ وہ بھی عین اس وقت جب خطے میں سیاحت کا سیزن اپنے عروج پر ہو اور سیاحوں کی ایک کثیر تعداد پہلے سے ہی اس علاقے میں موجود ہوں۔ جبکہ بہت ساروں نے سیاحت کی غرض سے ویزے حاصل کرکے اس حسین وجمیل علاقے کی سیرکی ٹھان لی ہو۔

اسی بارے میں: ۔  تعلیم اور صنفی مسائل

ٹھیک ہے گلگت بلتستان میں سیاحت کی غرض سے آنے والے غیرملکیوں کے لئے کچھ قواعد و ضوابط ضرور متعین ہونے چاہیے۔ لیکن جب اس مقصد کے لئے ویزے جاری کئے جاتے ہوں تو پھر ایک اضافی این اوسی لینے کا کیا جواز بنتا ہے؟

گلگت بلتستان اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت اور سی پیک کا گیٹ وے ہونے کی بدولت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے، مگر مجھے یاد نہیں پڑتا کہ یہاں کوئی کلبھوشن یادیو یا ریمنڈ ڈیوس کی شکل میں کوئی سیاح داخل ہوا ہو۔ مجھے یہاں پر کسی ایسی جگہ کا بھی نہیں معلوم جہاں کوئی سیاح ایبٹ آباد کے عالیشان بنگلے میں اسامہ بن لادین کی طرح ایک عرصے تک پناہ لئے بیٹھا ہو۔ نہ کسی ایسی این جی او کے بارے میں علم ہے جو اس خطے میں نامناسب کردار ادا کر رہی ہو۔

مجھے آج تک گلگت بلتستان کے کسی سکول، مدرسہ، مسجد، پارک، سرکاری عمارت یا چوک چوراہے پرخودکش حملوں اور بم دھماکوں کے بارے میں بھی کوئی ثبوت مل سکا ہے نہ ہی کسی علاقے میں ڈرون حملوں کی کوئی خبر ہے۔ البتہ اس بات کا ضرورعلم ہے کہ یہاں پرسیاحت کی غرض سے آنے والے سیاحوں کی پل پل کی سرگرمی پر حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی خاص نظر ہے۔

مجھے حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان میں آنے والے سیاحوں کی سیکورٹی کے لئے خصوصی انتظامات کے بارے میں بھی اگاہی حاصل ہے۔ لیکن اس کے باوجود مختلف حیلے بہانوں سے ایک ایسے خطے کی سیاحتی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں سمجھ سے بالاترہیں جس کی معیشت کا دارومدارہی سیاحت پر ہو۔

یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیاحت کے حوالے سے یہ پابندیاں ان علاقوں کے لئے کیوں نہیں جہاں غیرملکی کھلاڑیوں کو سرمیدان موت کی نیند سلا دیا جاتا ہو؟ یا جہاں سے غیرملکی جاسوس راتوں رات ملک بدر کئے جاتے ہوں؟ اگرایسے علاقوں میں آنے والے سیاحوں کے لئے کوئی قواعد و ضوابط نہیں توپھر گلگت بلتستان کے لئے ان قواعد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

چلومان لیا کہ وفاقی وزارت داخلہ نے وسیع ترملکی مفادکی خاطر یہ اقدام اٹھایا تو پھر نوٹیفیکشن میں ان وجوہات کا بھی ذکر موجود ہونا چاہیے جن کی بنا پر جی بی میں غیرملکیوں کے داخلے کے لئے این اوسی لازمی قرار دیا گیا۔

کیا اس نوٹیفیکشن کا اجراء گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کی مرضی ومنشاء سے کیا گیا؟ اگر نہیں تو مریم نواز کی طرح وزیراعلیٰ گلگت بلتستان بھی وفاق کو یہ کہنے میں حق بجانب کیوں نہیں کہ آپ ہمارے لئے آسانیاں پیدا نہیں کرسکتے تو کم ازکم مسائل پیداکرنے سے تو اجتناب کریں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔