سوشل میڈیا اور صحافت کو زنجیر پہنانے کی روایت


 ایک زمانے سے فیس بک کے ماحول پر خیال و فکر کے اظہار میں عجب خوف اور انتشار کی بے زار کن یک سانیت طاری ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے زندگی کی سوچ سمٹ کر چند موضوعات کی بے مقصد اور لاحاصل تکرار میں قید ہوگئی ہے۔ پیچھے نظر ڈالتا ہوں تو اس محفل میں گوناگوں موضوعات کی فراوانی تھی اور دل چسپی کے افق لا محدود تھے۔

دراصل دستور زبان بندی بندی اور ذریعہ اظہار پر ریاست کے کنٹرول کی تاریخ نصف صدی یا اس سے بھی زائد پر محیط ہے۔ ریاستی جبر کی کہانی کا اولیں باب تو 11 اگست 1947ء ہی کو لکھا جا چکا تھا، جب بابائے قوم قائد اعظم، بانی پاکستان اور پہلے گورنر جنرل کی اسمبلی میں تقریر کی اشاعت روک دی گئی تھی، لیکن طاقت سے ابلاغ کے ذرایع پر قبضہ کا باب استبداد 1958ء کے مارشل لا کے بعد لکھا گیا، جب اپریل 1959ء میں لاہور کے ”پروگریسو پیپرز لمیٹڈ“ پر قبضہ کیا گیا، جس کا ایک انگریزی اخبار ”پاکستان ٹایمز“ اور اردو اخبار ”امروز“ اور ہفت روزہ ”لیل و نہار“ سرکاری تحویل میں لے لیے گئے۔ اس کے چیف ایڈیٹر فیض احمد فیض تھے ان کے ساتھ ظہیر بابر اور دیگر ترقی پسند اہل قلم گرفتار ہوئے اور ان کی جگہ شاہ کے وظیفہ خوار مصاحب بٹھا دیے گئے۔ اس ادارے کی مطبوعات اپنی حق گوئی و بے باکی اور ادبی معیار کے باعث، عوام و خواص میں اتنی مقبول تھیں کہ سرکار کے شعبۂ نشرو اشاعت کی لن ترانیاں بے اثر تھیں۔

لیل و نہار کے شمارے اب بھی کچھ قدر شناس منہ مانگی قیمت دے کر اپنی لایبریری میں محفوظ کرتے ہیں۔ وہ شاید تین رُپے کا شمارہ تھا جو میں نے بھی سال بھر پہلے لاہور سے دو دو سو میں حاصل کیے تھے۔

اس کے بعد ہر حکومت کے لیے سنسرشپ کے قوانین پر عمل کرانا فقط ضابطے کی مار ہو گیا۔ اخبارات کے مالی مفادات کو نیوز پرنٹ کنٹرول اور سرکاری اشتہارات کی بندش سے یوں قابو کیا گیا کہ اختلاف ممکن ہی نہ رہا۔ پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس کی گرفت نے مصنف، مدیر، پرنٹر اور پبلشرز سب پر قدغن عائد کردی۔ اخبار و رسائل بھی ایک انڈسٹری بن گئے، جو کاروباری مفادات کو اتنی ہی اہمیت دیتے تھے جتنے جوتے یا سیمنٹ بنانے والے؛ اور یہ از حد اطمینان بخش صورت حالات تھی جس میں ہر سول یا ملٹری حکومت کو تحفظ حاصل تھا۔ الیکٹرانک میڈیا میں پہلے ریڈیو تھا جس پر سب ملازم سرکار تھے؛ جب ٹی وی آیا تب بھی فرق نہ پڑا۔ ایوب خان کی دس سالہ ترقی کا جشن ہو یا مرد مومن مرد حق کا دور خلافت یا بھٹو کا اسلامی سوشلزم، عوام کے کان وہی قصیدہ خوانی سننے کے مجاز تھے جوایوان شاہی سے منظوری کی سند یافتہ ہوں۔

ایک فرق تب پڑا جب ٹیلی ویژن بین الاقوامی ہوا۔ پہلے ڈش انٹینا اور پھر کیبل کے ذریعے انفارمیشن کے بند دروازے کھلے اور عوام نے جانا کہ ۔۔۔ زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو۔ اس پریشانی کا حل بھی کیبل پر چینلز کی پابندی میں تلاش کر لیا گیا۔ خبر صرف انگریزی دان بی بی سی یا سی این این سے سن سکتے تھے،عوام کی توجہ فلموں گانوں اسٹیج شوز اور فیشن کی جلوا آرائی کی طرف کر دی گئی۔ نیوز چینل کی آواز کو ”پیمرا“ جیسے اداروں سے روکا گیا، ورنہ خرید لیا گیا۔ سکہ رائج الوقت کی طاقت اس سے بھی زیادہ موثر ثابت ہوئی۔رائے عامہ کو سرکار کا ہم نوا رکھنا کوئی مسئلہ نہ رہا، کیوں کہ اس عمل کے ساتھ عوم کو ذہنی انتشار، بے خبری، حقائق سے دوری اورایک مسخ شدہ تاریخ کے اندھیرے میں بھی دھکیل دیا گیا تھا۔

اس وقت سوشل میڈیا تمام پابندیوں کی دیواریں گرا کے پھر حقائق کی روشنی کا خطرناک ذریعہ بن کر سامنے آگیا۔ صدیوں کے پر بریدہ اظہار کے پنچھی کو حد افق تک بلا روک ٹوک پرواز کی طاقت مل گئی۔ جس نے جو چاہا کَہ دیا اور وہ سب سن بھی لیا، جو سماعت کے لیے ممنوع تھا۔ یو ٹیوب پر پابندی اس پنچھی کے پر کترنے کی پہلی کوشش تھی۔ پنجابی کی ایک کہاوت کا ترجمہ یوں ہوگا کہ ”پیاسے کے ہاتھ کٹورا آیا تو پانی پی پی کے مرگیا۔“ سوشل میڈیا کی آزادی اظہار وہی کٹورا ثابت ہوئی۔ کچھ لوگ ہر حد کو پار کر گئے، یہ بھی بھول گئے کہ ”میری آزادی کی حد وہاں تک ہے جہاں سے دوسرے کی آزادی شروع ہوتی ہے۔“ پورا سچ کون سنے گا اور کون فیصلہ کرے گا کہ سچ کیا ہے؟ خصوصا نظریات و عقائد کا معاملہ، سیاسی اور تاریخی نظریات بھی اتنے ہی ذاتی تھے جتنے عقائد؛ مصلحت اور مصالحت کے سارے تقاضے نظر انداز کر دینے والوں نے فیس بک پر بھی انتہا پسندی کے رجحان کو جنم دیا۔

اب میں دیکھتا ہوں کہ ایک طرف سیاسی محاذ آرائی، لسانی اور صوبائی عصبیت اور عقائد کی جنگ نے فیس بک کی فضا کو مسموم کر دیا ہے، تو دوسری طرف ادب و فن اور شعر و سخن کی ناقدری کو کس درجہ ارزاں کر دیا ہے۔

جون ایلیا کے ایک جملے نے دریا کو کوزے میں بند کردیا کہ ”جن کو پڑھنا چاہیے، وہ لکھ رہے ہیں۔“ انھی اَن پڑھوں کی وجہ سے فیس بک ”خطرناک“ بنی اور شاید اس عاقبت نا اندیش ہجوم میں سرکار والا تبار نے اپنے تخریب کار بھی شامل کر دیے۔ جیسے پر امن مظاہرے میں شر پسند عناصر کو مخالف شامل نہ کریں تو خود ”قانون نافذ کرنے والے ادارے“ شامل کر دیتے ہیں۔ فیس بک پر پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو اس کی دہشت نے میرے جیسوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کسی بہانے میں گرفت میں نہ آجاوں کہ ”ایں ہم بچہ شتر است۔“ یہ کہانی یوں ہے کہ لومڑی بدحواس بھاگی جارہی تھی۔ بندر نے پوچھا کی خیر تو ہے خالہ؟ خالہ نے کہا کہ بچے جنگل میں اونٹوں کو پکڑا جارہا ہے۔ بندر ہنسنے لگا کہ اس سے تمھیں کیا؟ لومڑی نے کہا کہ بچے! کسی نے میرے لیے کَہ دیا کہ یہ بھی اونٹ کا بچہ ہے تو میں کیا کروں گی؟

پکڑ آسان ہوگئی ہے۔ یہ خوف اوروں کو بھی تھا کہ ان سے منسوب کرکے کوئی ”خطرناک“ پوسٹ نہ لگا دی جائے۔ ”ٹویٹس“ کے مسئلے کی سنگینی کو اب سامنے لایا گیا ہے اور آثار ہیں کہ ایک بار پھر کالا قانون سب کے لیے دستور زباں بندی بن کے نازل ہونے والا ہے۔

کیا ان حالات میں خاموش تماشائی بنے رہنا دانش مندی نہ ہوگا؟ میں آنے والے کل کی اب کیا فکر کروں، اپنے گزرے کل کی کہانی کیوں نہ کہوں! یہ نظم دیکھیے کہ اسی بے کیفی کے ذہنی رد عمل کی عکاس ہے۔

گل کرو شمعیں …

لفظ خالی ہیں معانی سے پریشاں ہیں خیال
ایک زنجیرِ شکستہ ہیں دماغوں میں سوال
آخرِش خواہشِ پروازسے محروم ہوئی
فکر جو منتظر حرفِ اجازت ہی رہی
ہم سفر اپنے رہے صرف امیدوں کے سراب
سوگئے جاگتی آنکھوں میں نئی صبح کے خواب
خواب شرمندۂ تعبیر بھی ہو سکتے تھے
ہم سیہ بخت سہی، سرخ رُو ہو سکتے تھے
خطِ تقدیر بدل دینے کا نسخہ کیا ہے
حشرتک زندگی کرنے کا طریقہ کیا ہے
کوئی یہ بات بھی سمجھے گا تو سمجھائے گا
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا۔
(احمد اقبال)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 10 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal