کچھ افلاطون اور لبرل ازم کے بارے میں ….


zeeshan hashimافلاطون کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے دو باتیں یاد رکھنا ضروری ہیں –

1- افلاطون کی تصوراتی ریاست سپارٹا سے بہت زیادہ متاثر تھی – افلاطون ایتھنز کی جمہوریت سے نفرت کرتا تھا جس نے اس سے اس کا استاد دوست سقراط چھین لیا تھا اور وہ خود بھی کچھ عرصہ آزادی اظہار رائے سے محروم جلا وطن پھرتا رہا تھا – اس نے اپنی معرکہ لآرا کتاب “ریپبلک ” اس لئے لکھی کہ کوئی متبادل نظام پیش کر سکے –

2. افلاطون اور ارسطو کے تصورات یہاں تفصیل سے بیان کرنے کا مقصد ان کا وہ اثر ہے جو اقوام مغرب پر نشاط ثانیہ اور احیا العلوم تک رہا – اگر ہم ان دونوں کو سمجھ گئے تو سولہوی صدی تک کے سیاسی سماجی اور معاشی فلسفیانہ تمدن کوبا آسانی سمجھ سکیں گے-

افلاطون پر تبصرہ کرنے سے پہلے آئیے اس کی تصوراتی ریاست کے چند نمونے دیکھتے ہیں –

-حکمران صرف فلسفی ہوں – افلاطون اپنی نظریاتی و تصوراتی ریاست میں عوام کو تین طبقات میں تقسیم کرتا ہے-

1) فلسفی حکمران : یہ ریاست کا انتظام قائم کریں گے – مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ سب کچھ یہی ہوں گے – افلاطون کے خیال میں ”سب سے بڑی فضیلت عقل و تفہیم ہے ، جو صرف فلسفیوں میں پائی جاتی ہے – یوں صرف فلسفی ہی قابل فضیلت اور حکومت کرنے کے اہل ہیں – عام افراد عموما اس فضیلت سے محروم ہوتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ان کی رہنمائی کی جائے اور انہیں سیدھا راستہ دکھایا جائے تاکہ وہ سیاسی سماجی اور معاشی امور میں بھٹک نہ جائیں “

2) محافظ : یہ بیرونی حملوں سے حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ قوانین پر عمل ہو رہا ہے کہ نہیں یعنی یہ نظریاتی محافظ بھی ہوں گے ۔

3) عوام: یہ محنت کریں گے، کاشتکاری کریں گے ، ان کی عورتیں بچے پیدا کریں گی، تجارت اور صنعت کی سرگرمیوں میں یہی ہوں گے۔ یہ ذاتی جائیداد رکھ سکیں گے ، مگر مملکت کی اوسط آمدنی سے چار گنا زیادہ جائیداد کے اہل نہیں ہوں گے۔

12755390_1285111661506323_682189147_o-لوگوں کو سادہ زندگی پسند نہیں، وہ وہ تابع ہیں، آرزو مند ہیں، رشک زدہ ہیں اور مقابلے پر تیار رہتے ہیں ۔ جو کچھ ان کے پاس ہے اس سے ان کی تسلی نہیں ہوتی – وہ اس کی طلب کرتے ہیں جو ان کے پاس نہیں – جو چیز دوسروں کے پاس ہوں اس کی تمنا زیادہ کرتے ہیں – اس سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوتی ہیں – اب سیاست پر معیشت غالب آجاتی ہے –
اگر اشرفیہ کی تعداد کم سے کم ہوتی جائے تو وہ کمزور ہو جاتی ہے یا پھر اشرفیہ بے احتیاطی سے دولت سمیٹتی رہے تب بھی وہ کمزور ہو جاتی ہے -یوں انقلاب آجاتا ہے – اب عوام کی حکومت شروع ہو جاتی ہے – مگر لوگوں کا حرص، طمع اور آرزو انہیں تسلی نہیں دیتی – وہ پھر محنت کرتے ہیں یوں معاشی طور پر پھر امیروغریب کی تفریق پیدا ہوتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے – یوں پھر انقلاب آتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے – اس لاحاصل چکر سے محفوظ رکھنے کے لئے افلاطون اپنی تصوراتی ریاست کا ماڈل پیش کرتا ہے –

– عدل اس سے عبارت ہے کہ ہر شخص اپنا کام کرے اور دوسری چیزوں میں بے جا مداخلت نہ کرے – ہر شخص اور ہر شے اپنی مقرر جگہ پر ہے اور اس کا ایک متعین وظیفہ ہے-

– صرف ریاست سے منظور شدہ نصاب پڑھایا جائے اور صرف وہی موسیقی سننے کی اجازت دی جائے جس میں ریاست مخالف رجحانات نہ ہوں –

-افلاطون اپنی ریپبلک میں تمام معاملات میں عورتوں اور مردوں کی مساوات کا حامی تھا –

-بچے ریاست کی ملکیت ہونے چاہئے اور اتنے پیدا کئے جائے جتنے ریاست کو ضرورت ہوں – جنسی اختلاط کی آزادی ہو اور تمام پیدا ہونے والے بچے ان کی ماو¿ں سے جدا کر کے مشترکہ درس گاہوں میں رکھے جائیں اور ان کی ایک ساتھ پرورش کی جائے –

-بچے کی پیدائش کا اجازت نامہ ریاست سے لینا ضروری ہو گا – مقاربت سے پہلے میاں بیوی سند طبی پیش کریں گے کہ ان کی صحت ٹھیک ٹھاک ہے – مرد کی عمر تیس سال سے زیادہ اور پینتالیس سے کم ہو – جبکہ عورت کی بیس سال سے چالیس کے درمیان – اگر مقاربت کے لئے سند نہیں لی گئی یا بچہ عجیب الخلقت ہے تو اسے پھینکوا دینا چاہیے کہ مر جائے – جو مرد پینتیس کی عمر تک شادی نہ کریں تو ان پر ٹیکس لگایا جائے تاکہ شادی کی ترغیب ہو – جو نوجوان اچھے بھی ہوں اور شجاع بھی تو ان کو انعام و اکرام کے ساتھ اجازت دی جائے کہ زیادہ بچے پیدا کریں –

-ریاست کے لئے مذہبی یقین اور ایمان پیدا کرنے کے لئے جھوٹ بولنا جائز ہے اگر وہ سمجھتی ہے کہ اس طرح لوگوں کے اخلاق بہتر ہو جائیں گے– افلاطون کے خیال میں کسی قوم کی اخلاقی ضروریات کے لئے ایک ایسی قوت کا جواز ڈھونڈا جائے جو فطرت سے ماورا ہو (باالفاظ دیگر ہمیں مذہب کی ضرورت ہے) دلچسب بات یہ بھی ہے کہ افلاطون کے خیال میں مافوق الفطرت اخلاقی جواز کی ضرورت فلسفیوں کو نہیں ہوتی مگر عام لوگ چونکہ بے وقوف اور اخلاقی طور پر کچے ہوتے ہیں اس لئے انہیں ڈرا کر رکھنے اور اخلاقی اقدار پر قائم رکھنے کے لئے اس کی ضرورت ہے –

-جس طرح ہر نظریاتی ریاست کو دشمنوں کا ہر وقت خوف لگا رہتا ہے کہ وہ اس کے خلاف سازشیں کر رہے ہوں گی ، بالکل اسی طرح افلاطون بھی یہی سمجھتا ہے کہ اس نظریاتی ریاست کے دشمن ہر وقت اس کی تاک میں ہوں گے اس لئے ہمیں زیادہ تعداد میں فوج رکھنا ہو گی –
-جنگ کے دو اسباب ہوتے ہیں.

1) کثرت آبادی
2) تجارتی مقابلہ

اس حالت میں مناسب یہی ہوگا کہ یہ معیاری مملکت ان خطوں میں ہو جو ساحل سے کافی دور ہوں – تاکہ بیرونی تجارت نہ ہوسکے-

یہ اور اس طرح کی بہت ساری پابندیاں افلاطون اپنی تصوراتی ریاست میں شہریوں پر لگاتا ہے کیونکہ اس کے بقول اس کے بغیر اس کی ریاست کا نظم یا دوسرے لفظوں میں کنٹرول قائم نہ رہ سکے گا – (ول ڈیورانٹ )

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ فلسفی کی کون سی تعریف ہے جس پر پورا اتر کر شہری اقتدار کے اہل سمجھے جائیں گے – رسل طنز کرتے ہوے کہتا ہے کہ اس نظریاتی جبر میں صرف وہی شہری فلسفی مانے جائیں گے جو افلاطون کو فلسفی مانیں گے – باقی سارے فلسفی جو افلاطون کو پسند نہیں کرتے ہوں گے ،جاہل اور عام سمجھے جائیں گے- جیسا کہ ایک نظریاتی جبر پر قائم ریاست میں ہوتا ہے – ایک مارکسسٹ ریاست میں اگر آپ مارکسسٹ معیشت کو نہیں مانتے تو آپ کو کبھی معیشت دان نہیں تسلیم کیا جائے گا اور اسی طرح ایک مذہبی ریاست میں فضیلت کی شرط بھی رائج مذہبی اسطور کو سہارا دینا ہے –

انسانوں کے تین طبقات بنائے گئے : حکمران فلسفی ، محافظین اور عام لوگ- عموماّ یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ تمام لوگ جو عام لوگوں کو بے وقوف مانتے ہیں اور جمہوریت کو بے وقوفوں کا حق انتخاب کہتے ہیں ، ان کے خیال میں عام لوگوں سے نظام ریاست نہیں چل سکتا اس کے لئے چند ذہین اور مخلص لوگوں کی حکمران جماعت ہو جو عام لوگوں کی حفاظت کرے –

افلاطون کے فلسفی حکمرانوں پر ایڈی مانطوس کا تبصرہ دلچسب ہے جسے ول ڈیورانٹ نے اس طرح نقل کیا ہے- ” فلسفی یا تو گدھے ہوتے ہیں یا بدمعاش – ان کی حکومت یا تو احمقانہ ہو گی یا پھر خود غرضی پر مبنی ہوگی یا دونوں سے مرکب- وہ فلسفہ کے عقیدت مند جو صرف تعلیمی مقاصد کے لئے جوانی میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں، پختگی عمر کے مدارج حاصل کرنے کے بعد بھی اس شغل میں مشغول رہتے ہیں- اکثر یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ عجیب و غریب قسم کی چیزیں چاہتے ہیں- اور جن لوگوں کو تم (افلاطون) بہترین قرار دیتے ہو ان کی مٹی اسی فلسفے کے ہاتھوں پلید ہوتی ہے جس کی تعریف میں تمہاری زبان خشک ہو جاتی ہے-

یہ سوال کہ افلاطون کی نظریاتی ریاست کا نتیجہ کیا ہوگا ایک عرصہ تک فلسفیوں اور دانشوروں کا پسندیدہ موضوع رہا – مسیحی کلیسا اس تصور سے متاثر تھا اور اس کے خیال میں بھی عام لوگوں کی روحانی زندگیوں کی فلاح کے لئے وہ بطور محافظ اپنا کردار ادا کر سکتا ہے ، اور یہی جواز رومی بادشاہ بھی استعمال کرتے رہے ہیں کہ وہ اور ان کے مشیر عام جاہل لوگوں سے عقلی استعداد اور بصیرت میں بہت بہتر ہیں اس لئے انہیں حق حکمرانی حاصل ہے – نشاة ثانیہ، تحریک احیا العلوم ، اور جدید سیاسی نظریات کے بعد یہ بات عموما تسلیم کر لی گئی ہے کہ ایسی کسی بھی تصوراتی ریاست کا نتیجہ آمریت ہے جس میں کسی ایک خاص طبقہ کو حق حکمرانی دیا جائے– اور بہتر نظام جس میں آزادی انصاف اور مساوات ہو وہ شہریت کی مساوات پر قائم سیاسی انتظام ہے جس میں مواقع کی مساوات کا عنصر غالب ہو – یہ تصور لبرل ازم میں مرکزی حثیت کا حامل ہے –

لبرل ازم کا یہ کہنا ہے کہ لوگ بے وقوف نہیں ہوتے – وہ اپنے ذاتی معاملات بھی بہتر حل کر سکتے ہیں اور اجتماعی معاملات میں بھی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں – چند خاص لوگوں کو چاہے ان کا تعلق کسی بھی طبقہ سے ہو ، نظام ریاست پر مطلق اختیار دینا دراصل اس خاص طبقہ کی آمریت نافذ کرنا ہے جس سے تمام انسانی آزادیاں محدود و محبوس ہو جاتی ہیں ، اور عام لوگ کی سیاسی سماجی اور معاشی وقعت غلاموں سے بھی بدتر ہو جاتی ہے – یاد رہے کہ افلاطون اکثر مارکسٹ حضرات کا آئیڈیل ہے ، مارکسی سوشلسٹ مزدور طبقہ کی آمریت کے قائل ہیں تو افلاطون فلسفیوں کی آمریت کو مثالی سیاسی نظام کہتا ہے ، اسی طرح ایک مذہبی ریاست کے شارحین مذہبی متن کی آڑ میں طبقہ علما کی آمریت کے مبلغ ہیں – شہریت کی مساوات کے یہ سب اس لئے قائل نہیں کہ ان کے خیال میں عام لوگوں کو سرمایہ دار بے وقوف بنا جاتا ہے ، افلاطون کے خیال میں عام لوگ جاہل ہوتے ہیں ، تو مذہبی ریاست کے شارحین عام آدمی کو ہر وقت گناہ پر مائل بھٹکا ہوا جانور سمجھتے ہیں جسے نکیل ڈال کر رکھنا ضروری ہے –

حوالہ جات

1. The Republic by Plato, English Translated by Benjamin Jowett, Publisher: Digireads.
2. The Story of Philosophy by Will Durant
3. A History of Western Philosophy by Bertrand Russell.
4. The greatest minds and ideas of all time by Will Durant, John R. Little.


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

5 thoughts on “کچھ افلاطون اور لبرل ازم کے بارے میں ….

  • 25-02-2016 at 9:36 am
    Permalink

    good bhai,,

  • 25-02-2016 at 5:03 pm
    Permalink

    آپ نے اب تل لبرل ریاست کے سماجی و سیاسی پہلوؤں کا سوشلزم اور مذہبی آمر ریاست سے موازنہ کیا ہے۔ اور آپ اس میں کامیاب بھی رہیں ہیں۔ یقینا جمہوری طرز حکمرانی اب تک کا بہترین طرز حکمرانی ہے جسکا آپ کامیابھی سے دفاع کر رہے ہیں۔ جہاں تک فرد کی آزادی کی بات ہے تو یہ آئن سٹئن کی تھیوری آف ریلیٹیوٹی کی طرح منحصر اور محدود ہے۔ لبرل معاشرے کا ایک فرد جو اپنے دن کے دس سے چودہ گھنٹے فروخت کر کے پیسے کماتا ہے اور اس میں سے ریاست کو بھاری ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اور لبرل ازم کی پیدا کردہ قوم پرستی کے تصور کے تحت مختلف اقوام اور سرحدوں میں بٹا ہوا ہے۔ یہ سرحد بندی اس قدر سخت ہے کہ پرندے انسانوں سے زیادہ آزاد محسوس ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ شخص شام کو شراب کی ایک بوتل پی کر، بے ہنگم گانے پر جھوم کر اپنا غم غلط کر کے ۔۔ خود کو کامل آزاد اور مختار معاشرے کا فرد خیال کرے تو یہ تو خود فریبی ہوئی۔۔ مزید یہ عرض کرنا چاہوں گی کہ سماجی و سیاسی نظام یا طرز حکمرانی کے سے پہلے سوشلزم اور لبرل ازم دو مختلف معاشی نظام ہیں۔ بطور دو مختلف معاشی نظاموں کے حوالے سے آپکی طرف سے تجزیاتی موازنہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ ایسی صورت میں کہ جب آج ہی آئی ایم ایف نے عالمی اقتصادی ابتری کا رونا رویا ہے اور افریکہ میں آج بھی بھوک سے لوگ مر رہے ہیں اور خود یورپ میں بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہےجس میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں (یہ استحصال کی نشانی ہے) مجھے دونوں نظاموں کی معاشی جزئیات کے موازنے کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ایسا موازنہ جو عام ٓآدمی کی درست رہنمائی کر سکے

    • 08-05-2016 at 8:59 pm
      Permalink

      نسیم کوثر مجھے بھی اشد ضرورت ہے۔ اس نے لبرلازم کا معاشی نقطہ نہیں بتایا۔

  • 25-02-2016 at 5:09 pm
    Permalink

    کسی بھی دنیا کی سماجیات اور سیاسیات معشیت کی دست نگر ہوتی ہیں۔۔

  • 25-02-2016 at 10:01 pm
    Permalink

    عمدہ مضمون ہے۔ یہاں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ افلاطون کی کتاب کو ریپبلک کے نام سے ترجمہ کرنا انگریزی مترجم کی بے بصیرتی کا اظہار ہے کیونکہ افلاطون کے فلسفے کا ریپبلک کے تصور سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ آپ کے مضمون سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے اردو ترجمہ ریاست کے نام سے کیا ہے جو افلاطون کی درست ترجمانی کرتا ہے۔ افلاطون صرف ماکسسٹوں کو ہی نہیں، تمام آمریت پسندوں اور فاشسٹوں کو بھی بہت مرغوب رہا ہے۔

Comments are closed.