منیر نیازی سے ایک ملاقات


میں‘زاہد ڈار اور سعید احمد ’سنگِ میل‘ کے دفتر میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ اصغر ندیم سید مسکراتے ہوئے داخل ہوئے اور جلد ہی فضاﺅں میں لطیفوں اور قہقہوں کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔

’خالد سہیل! تم اتنی دور کنیڈا سے لاہور آئے ہو۔ ہم تمہاری کیا خواہش پوری کر سکتے ہیں؟‘ اصغر ندیم سید نے پوچھا۔

’میری ایک دیرینہ خواہش ہے کہ میں منیر نیازی سے ملوں۔ یہ ایک کرامت ہوگی کیونکہ کنیڈا میں ایک دفعہ کسی نے مشہور کیا تھا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔سب ادیب فاتحہ پڑھنے بھی جمع ہو گئے تھے۔ پھر کسی نے تعزیت کے لئے لاہور فون کیا تو منیر نیازی نے فون اٹھایا اور پتہ چلا کہ وہ افواہ منیر نیازی کے کسی دشمن نے پھیلائی تھی۔‘

’یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ابھی فون کرتے ہیں۔ منیر نیازی کا نمبر کس کے پاس ہے؟‘

زاہد ڈار نے فون نمبر دیا تو اصغر نے منیر نیازی کو وہیں سے فون کیا۔ ہم صرف ایک طرف کی گفتگو سن سکتے تھے

’سلامالیکم! سر جی! میں اصغر ندیم بول رہا ہوں۔۔۔پورے شہر میں آپ کی باتیں ہو رہی ہیں۔میرے ڈرامے کا نام ’اک اور دریا کا سامنا تھا‘ بہت پسند کیا گیا

) مجھے منیر نیازی کا مشہور شعر یاد تھا

  اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا(

آپ کا کیا حال ہے؟ یہاں کنیڈا سے آپ کے ایک مداح خالد سہیل آئے ہوئے ہیں۔ آپ سے باتیں کرنا چاہتے ہیں‘

اور اصغر نے فون مجھے پکڑا دیا۔

’منیر نیازی صاحب۔ میں خالد سہیل ہوں۔ آپ سے ملنے کی خواہش ہے‘۔

’آ جاﺅ پھر‘

’میرے ساتھ زاہد ڈار اور سعید احمد بھی ہیں‘

’انہیں بھی لے آﺅ‘

’ہم تھوڑی دیر میں حاضر ہوں گے‘

’تھوڑی دیر میں کیوں۔ ابھی آ جاﺅ‘

چنانچہ ہم نے اصغر سے منیر نیازی کا پتہ لیا اور سعید احمد کی گاڑی میں بیٹھ کر ٹاﺅن شپ کی طرف چل دیے۔اصغر نے ایسا پتہ دیا تھا کہ ہم کھو گئے ۔ آخر ہم نے ایک مقامی شخص کو پکڑ‘اسے پتہ دکھایا اوراپنا رہبر بنایا۔کہنے لگا ’ میں سکوٹر پر ہوں۔ آپ میرے پیچھے چلیں‘۔ یہ کہتے ہی وہ وہ وے لینone way lane  پر غلط رخ پر چل پڑا اور ہم بھی مجبوراً  اس کے پیچھے چل پڑے۔ حسنِ اتفاق سے وہ ہمین غلط راستے سے لے جا کر صحیح منزل پر پہنچا آیا۔ سڑک کے کنارے ایک بے ترتیب سا سفید رنگ کا گھر تھا۔ نہ نام کی تختی نہ بیلBell ۔ ہم ہچکچاتے ہوئے داخل ہوئے۔ سیڑھیاں چڑھے۔ ایک گھنٹی نظر آئی۔ بجائی۔ کوئی جواب نہ آیا۔ پھر بجائی۔ ایک محترمہ گھر کی بغل سے نکلیں اور پوچھنے لگیں ’آپ کس سے ملنا چاہتے ہیں؟‘

’منیر نیازی سے‘

’آپ کے نام؟‘

’زاہد ڈار‘ خالد سہیل اور سعیداحمد‘

اتنے میں دوسری طرف سے ایک شخص نے کھڑکی نما دروازے سے سر نکالا اور کہا ’ آ جاﺅ۔ بھئی۔ اندر آ جاﺅ‘ اور ہم تینوں سیڑھیاں اتر کر‘ دروازے سے گزر کر‘ زیرِ زمین بیسمنٹ نما کمرے میں داخل ہو گئے۔

’آﺅ زاہد ڈار‘ منیر نیازی نے زاہد کو گلے سے لگا لیا۔

’میں سعید احمد ہوں‘ سعید نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا

’اور میں خالد سہیل کنیڈا سے آیا ہوں‘ منیر نیازی نے بڑی محبت سے مجھے بھی گلے لگا لیا اور میں نے زندگی میں پہلے دفعہ اردو اور پنجابی شاعری کے لونگ لیجنڈLIVING LEGEND کو اتنے قریب سے دیکھا۔ ان کی آنکھیں سوجی ہوئی‘ بال بکھرے ہوئے‘ کپڑے میلے اور ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ باطن کے زلزلوں کے اثرات ظاہر تک آ گئے تھے۔ ان کا کمرہ بیک وقت ان کا لونگ رومLiving Room  بیڈ رومBedroom  اور فیملی رومFamily Room  لگ رہا تھا۔ سارا کمرہ بے ترتیب تھا‘ بستر ‘لحاف اور چادر بے ترتیب‘ میز پر کیسٹ بے ترتیب‘ فرش پر خالی بوتلیں

اسی بارے میں: ۔  صادق خان نے انتخاب کیسے جیتا؟

اور گلاس بے ترتیب اور چاروں طرف پھیلی بادام اور پستے کی پلیٹیں بے ترتیب۔۔لیکن اس بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب اور اپنائیت کا سماں تھا۔ مجھے اپنا شعر یاد آ گیا

                 ہمارے گھر کی ہر اک چیز بے گھروں کی طرح

                شریر بچوں کی بے ربط خواہشوں کی طرح

’ویسے تو میرے گھر میں ایک سجا سجایا کمرہ بھی ہے‘ منیر نیازی نے کہا ’ جہاں میں بیوروکریٹس Beurocrats کو لے جاتا ہوں لیکن دوستوں کے لئے یہی کمرہ مناسب ہے‘

منیر نیازی نے اپنی الماری سے دو سکاچ کی بوتلیں نکالیں ’چلو ایک پیگ لگاﺅ‘۔ ہم نے منیر نیازی کا ساتھ دیا لیکن زاہد ڈار نے پستے بادام پر اکتفا کیا۔

’ ام الخبائث نہیں چھوو گے زاہد ڈار‘ چلو تمہاری مرضی۔ تمہاری بھابی تمہیں چائے پلا دے گی‘

اس کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ منیر نیازی بے ربط لیکن دلچسپ باتیں کرتے رہے۔ وہ گفتگو ڈائلاگ سے زیادہ مونولوگ تھی۔ بلکہ فری ایساسئیشن free association تھی وہ بولتے رہے اور ہم سنتے رہے۔ گھر آ کر جو یاد آیا لکھ لیا۔ منیر نیازی کہہ رہے تھے ’میں اس شہر کا سب سے بڑا شاعر ہوں۔۔۔اس کے بعد زاہد ڈار ہے۔۔۔ ویسے اس شہر میں بہت سے بےہودہ شاعر بھی بستے ہیں۔ خالد سہیل تم نے اچھا کیا ملنے آ گئے۔ تم اچھے شاعروں کی شناخت رکھتے ہو۔۔۔میں بھی کنیڈا گیا تھا۔۔۔مجھے پسند آیا۔۔۔یہ دیکھو میں نے ’جہاں نما‘ رسالے میں اپنے سفر کا ذکر کیا تھا۔۔۔اشفاق سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔۔۔اچھا آدمی ہے۔۔۔میں لندن بھی گیا تھا۔۔۔وہاں بھی کچھ دوست بنے تھے۔۔۔ان میں سے ایک دوست مر بھی گیا ہے۔۔۔ہم جس سے محبت کرتے ہیں۔۔۔جو ہمارے حق میں ہوتا ہے۔ ۔۔نجانے کیوں مر جاتا ہے۔۔۔میری پہلی بیوی بھی مر گئی۔۔۔دوسری بیوی رامپور کی پٹھان ہے۔۔۔چلو اچھا ہوا چائے آ گئی۔۔۔زاہد ڈار تم ام الخبائث نہیں پیتے تم چائے پی لو۔۔۔زاہد ڈار تم ایک اچھے شاعر ہر۔۔۔جی چاہتا ہے تمہارے لئے ایک کنال زمین کا انتظام کروں۔۔۔اس میں تمہارے لئے چار مرلے کا مکان بنواﺅں۔۔۔باقی گلاب ہی گلاب ہوں۔۔۔میرا کیا ہے شاعر ہوں۔۔۔ہواﺅں میں بیج بوتا رہتا ہوں۔۔۔نجانے کہاں پھول اگ آئیں۔۔۔آﺅ تمہیں اپنے گھر کے پھول دکھاﺅں۔۔۔میرا ایک باغ بھی ہے۔۔۔اس میں لیموں کے پودے بھی ہیں۔۔۔سبزیاں بھی ہیں۔۔۔میں اپنے باغ میں بیٹھ کر شعر لکھتا رہتا ہوں۔۔۔میں نے ایک نظم بھی لکھی ہے۔۔۔اس کا عنوان ہے ’وہ دعا جو میں بھول گیا‘۔۔۔خالد سہیل یہ دیکھو میری کالی ڈائری۔۔۔اس میں اکیس نظموں کے عنوان ہیں۔۔۔ایسی نظموں کے عنوان جو میں نے ابھی نہیں لکھیں۔۔۔پچھلے دنوں ایک صاحب آئے تھے۔۔۔کہنے لگے آپ کی پنجانی نظموں کا انگریزی ترجمہ کیا ہے۔۔۔خالد سہیل تم کنیڈا سے آئے ہو۔۔۔تم انگریزی نظمیں بہتر سمجھتے ہو۔۔۔ کتاب کا نام ہے THE COLOURS OF SILENCE ۔۔۔ ’جہاں نما‘ میں کالم لکھنے شروع کیے ہیں۔۔۔ایک کالم کے ہزار روپے دے دیتے ہیں۔۔۔لاکھ روپے کے مکان کی قسط نکل جاتی ہے۔۔۔ چیک آتا ہے تو چار دن کے لئے شانتی ہو جاتی ہے۔۔۔خالد سہیل یہ دیکھو ’ماہِ نو‘ کا تازہ شمارہ۔۔۔کشور ناہید نے میری غزل شائع کی ہے۔۔۔شعر ہے

مجھ میں ہی کچھ کمی تھی کہ بہتر میں ان سے تھا

                میں شہر میں کسی کے برابر نہیں رہا

یہ کشور ناہید بڑے دھڑلے والی عورت ہے۔۔۔کئی مردوں سے زیادہ دلیر۔۔۔اور زور دار۔۔۔ میں اپنی بیوی کو اس سے پردہ کرواتا ہوں۔

(فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ منیر نیازی فون اٹھاتے ہیں)

اسی بارے میں: ۔  گو نواز گو، کراچی کے طلبہ اور خواجہ سعد رفیق

۔۔۔اچھا میرے ساتھ شام منانا چاہتے ہو۔۔۔ آنا ہے آ جاﺅ۔۔۔ تمہیں کنیڈا سے آئے ہوئے شاعر سے ملوائیں۔۔۔ خالد سہیل تم بیٹھو۔۔۔ ابھی سٹوڈنٹس آئیں گے۔۔۔ ان سے تم بھی بات کرنا۔۔۔ زاہدڈار تم چائے پیو اور سعید احمدکچھ اور پیو یار۔۔۔ ام لخبائث پیو۔۔۔ اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ میں زیادہ تر اسی کمرے میں آرام کرتا ہوں۔۔۔ شعر بھی یہیں لکھتا ہوں۔۔۔ میں نے نوکرانی کو منع کر رکھا ہے۔۔۔ بارہ بجے سے پہلے نہ آئے۔۔۔ کبھی سر میں درد ہو تو مالش کروا لیتا ہوں۔۔۔ میری بیوی اعتراض کرتی ہے۔۔۔ میں کہتا ہوں وہ نمازی پرہیز گار عورت ہے۔۔۔ زاہد ڈار تمہارے لئے چار مرلے کا مکان باقی گلاب ہی گلاب۔۔۔ خالد سہیل میرا پبلشر میری کلیات کا تازہ ایڈیشن چھاپ رہا ہے۔۔۔ مجھے بیس ہزار روپے دے گیا تھا۔۔۔ چلو گھر کا خرچ نکل آتا ہے۔۔۔ چار دن کی شانتی ہو جاتی ہے۔۔۔ (لڑکے دروازے پر نظر آتے ہیں) آﺅ اندر آ جاﺅ۔۔۔ تم میرے ساتھ شام منانا چاہتے ہو۔۔۔ اچھی بات ہے۔۔۔ میرے ساتھ اور شاعروں کو مت بلانا۔۔۔ بس میں ہی کافی ہوں۔۔۔ موڈ ہوا تو آ جاﺅں گا۔۔۔ تم مجھے لینے آ جانا۔۔۔ اور یہ تمہارا دوست ہے۔۔۔ یوں لگتا ہے اسے پنگھوڑے میں بیٹھے بیٹھے ہی مونچھیں اگ آئی ہیں۔۔۔ اچھا بیٹا اب تم جاﺅ۔۔۔ اس شام مجھے لینے آ جانا۔۔۔ جس جس کو بلانا اسے بتا دینا میرا موڈ ہوا تو آ جاﺅں گا۔ خالد سہیل تمہیں ایک فلسطینی شاعر کی نظم کا ترجمہ سناتا ہوں۔۔۔ شاعر کا نام بھول گیا ہے۔۔۔ کہتا ہے

                میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

                اپنے ہتھیاروں کے ساتھ

                میرے دشمن میرے ہتھیار مجھ سے چھین لیں گے

                میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

                اپنے ہاتھوں کے ساتھ

                وہ میرے ہاتھ کاٹ دیں گے

                میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

                اپنے بازوﺅں کے ساتھ

                وہ میرے بازو کاٹ دیں گے

                میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

                اپنے جسم کا ساتھ

                وہ مجھے قتل کر دیں گے

                میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

                اپنی روح کے ساتھ

زاہد ڈار میں رونے لگ گیا ہوں۔۔۔ میں آگے نہیں پڑھ سکتا۔۔۔ ویسے رونا بھی اچھا ہوتا ہے۔ ۔۔خالد سہیل اچھا کیا۔۔۔ تم اپنی کتاب ’تلاش‘ اور کیسٹ ’تازہ ہوا کا جھونکا‘ لائے ہو۔۔۔ میں کل اسے پڑھوں گا اور سنوں گا۔۔۔ موڈ بن گیا تو مضمون لکھ دوں گا۔۔۔ اخبار والے ہزار روپے بھیج دیں گے۔۔۔ گھر کی ایک اور قسط ادا ہو جائے گی۔۔۔ چار دن کے لئے شانتی ہو جائے گی۔۔۔ تم لوگوں نے اچھا کیا آ گئے۔۔۔ ( ہم نے اجازت چاہی) ۔۔۔ زاہد ڈار تمہاری ایک تصویر اور اتار لوں۔۔۔ یہ

 آخری تصویر ہے۔۔۔ سعید احمد تم یہ فلم دھلوا دینا۔۔۔ اچھا تو تم لوگ جا رہے ہو۔۔۔ یہ لو میرے گھر کے گلاب۔۔۔ انہیں ساتھ لے جاﺅ۔۔۔ ان میں بہت خوشبو ہے۔۔۔ اچھا خدا حافظ۔۔۔ وقت ملے تو پھر آ نا۔۔۔ کچھ اور باتیں کریں گے۔۔۔

                ہم باہر گئے تو وہ اندر چلے گئے۔میں نے ان کی مختصر نظم یاد کرنے کی کوشش کی جس کا عنوان نظم سے لمبا تھا۔

                                عنوان۔۔۔ وقت سے آگے نکل جانے والا آدمی

                                                نظم۔۔۔  تنہا رہ جاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔