خواتین کے ساتھ بدتمیزی برداشت نہیں کی جائے گی: عمران خان


 پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قانون ساز کا کسی خاتون کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے اور اگر ایسا دوبارہ ہوا تو ایسے قانون ساز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا ہمارے مذہب اور ہماری ثقافت دونوں کے خلاف ہے۔

یہ بات عمران خان نے منگل کے روز ایک ٹوئیٹ میں کہی۔ یاد رہے کہ منگل کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے وزیر شاہ فرمان نے پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نگہت اورکزئی خلاف مبینہ طور پر نازیبا الفاظ کہے۔ نگہت اورکزئی صوبے کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی بجٹ کی تقسیم کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں پر احتجاج کر رہی تھیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے شاہ فرمان نے موقف اختیار کیا کہ نگہت اورکرزئی کو غلط معلومات فراہم کی گئیں ہیں اور وہ ان سے علیحدگی میں ملیں تاکہ وہ درست معلومات فراہم کرسکیں۔

اس واقعے کے بعد صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے شاہ فرمان کے نامناسب رد عمل پر احتجاج کیا۔ اس حوالے سے نگہت اورکزئی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کو شکایت کی۔ مقامی خبر رساں ادارے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہ نگہت اورکزئی کا کہنا تھا صوبائی اسمبلی کے اسپیکر نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے کی مکمل انکوئری کرائی جائے گی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی صوبائی اسمبلی میں کسی خاتون رکن کے ساتھ بدتمیزی کی گئی ہو۔ اسی سال جنوبی میں سندھ اسمبلی میں بھی ائی وزیر امداد پتافی نے خاتون رکن نصرت سحر عباسی سے بدکلامی کی تھی جس پر انھیں معافی مانگنا پڑی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3740 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp