ووٹر اب روایتی سیاستدانوں سے بیزار ہیں


لگتا ہے کہ دنیا بھر کے ووٹر اب سیاستدانوں سے اکتا چکے ہیں۔ ان کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ان کے روایتی جمہوری لیڈر ان کی نہ تو درست ترجمانی کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے محسوسات کو سمجھنے کے اہل ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں ایک طرف تو دائیں بازو کی انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والی پارٹیوں کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف غیر روایتی چہرے سیاست میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے امریکہ کے صدارتی انتخابات آئے۔ منجھے ہوئے سیاستدان انتخابات میں موجود تھے۔ برنی سینڈرز ایک امن پسند لبرل شخص جانے جاتے تھے۔ ہلیری کلنٹن کو صدر بل کلنٹن کے دور میں بھی ’مرد اول‘ سمجھا جاتا تھا اور بعد میں صدر اوباما کی وزیر خارجہ کے طور پر بھی ان کی کارکردگی کی تحسین کی جاتی تھی۔ ممتاز سیاسی خاندان بش کے جیب بش بھی صدارتی دوڑ میں شامل تھے۔ درجن بھر تجربہ کار سیاستدان اس صدارتی دوڑ میں شامل تھے۔

لیکن ووٹر نے چنا کسے؟ ایک بزنس مین ڈانلڈ ٹرمپ کو جسے صدارتی دوڑ میں مبصرین ایک مسخرے سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہ تھے۔ ٹرمپ کا اقلیتوں کے خلاف بہت برا ٹریک رہا ہے۔ وہ اپنی عمارات میں سیاہ فام افراد کو رہائش نہیں رکھنے دیتے تھے۔ خواتین کو وہ کھلونا سمجھتے تھے اور مقابلہ حسن کرانے والی کمپنی کے مالک تھے۔ ایسے ہی بے شمار معاملات پر وہ متنازع ریکارڈ کے حامل تھے۔ مگر وہ ایک بڑی لیڈ سے صدر منتخب ہو گئے۔

ادھر فرانس میں دیکھ لیں کہ کیا چل رہا ہے۔ ایک جانب میرین لاپین ہیں۔ جدی پشتی سیاستدان۔ نیشنل فرنٹ پارٹی کی 1986 سے ممبر ہیں۔ یورپی یونین کی یک جہتی کی مخالف ہیں۔ یورو ختم کر کے فرانک کو واپس کرنسی بنانا چاہتی ہیں۔ ترکی اور یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالف ہیں۔ آئی ایم ایف کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ یورپی شینگین معاہدے سے نکل کر اپنی سرحدوں کی خود نگران بننا چاہتی ہیں۔

امیگریشن کی مخالف ہیں۔ مسلمان دہشت گردوں سے سختی سے نمٹنا چاہتی ہیں۔ فرانسیسی سوسائٹی کی ڈی اسلامائزیشن کرنا چاہتی ہیں، یعنی معاشرے سے مسلم اثرات کا خاتمہ کرنے کی خواہاں ہیں۔

ووٹر میں مقبولیت بڑھانے کی خاطر انہوں نے نیشنل فرنٹ کی کچھ پرانی پالیسیوں سے رجوع کیا ہے۔ ہم جنس پرست افراد کی شادی کی حمایت کرنے لگی ہیں، غیر مشروط اسقاط حمل کی مخالفت ترک کر دی ہے، سزائے موت دینے پر انہیں اصرار نہیں رہا ہے۔

ان کا مقابلہ کرنے جو سیاستدان کھڑے ہوئے تھے سب نے دھول چاٹی ہے۔ ہاں ایک شخص سامنے آیا ہے جو ان پر برتری رکھتا ہے۔ یہ 39 سالہ شخص ایمانویل میکرون ہے۔ سرکاری ملازم رہا ہے۔ پھر انویسٹمنٹ بینکر بن گیا۔ 2009 میں سوشلسٹ پارٹی کا ممبر بنا۔ 2014 میں مینول والس کی حکومت میں صنعت اور معیشت کے وزیر کا عہدہ سنبھالا جس سے 2016 میں استعفی دے دیا۔ نومبر 2016 میں صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔

میکرون روایت شکن رہا ہے۔ 15 برس کی عمر میں اپنی 39 سالہ استانی بریجت تروگنو کے عشق میں گرفتار ہوا۔ 2007 میں ان دونوں نے باقاعدہ شادی کر لی۔ اب میکرون اور بریجت کے ساتھ بریجت کی سابقہ شادی سے ہونے والے تین بچے بھی رہتے ہیں۔ اب میکرون 39 برس کے ہیں اور بریجت کی عمر 64 برس ہے۔

میکرون خود کو لبرل سوچ کا علمبردار کہتے ہیں۔ وہ فرانس کے الجیریا پر قبضے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہیں۔ یورپی یونین کے حامی ہیں۔ میکرون کی امیگریشن پالیسی کھلی ڈلی ہے اور وہ اس باب میں جرمن لیڈر اینگلا میرکل کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں اور امیگرنٹس کے ساتھ برداشت کے رویے کے داعی ہیں۔ ان کی رائے میں یہ امیگرنٹس فرانس کی معیشت میں تنزلی نہیں بلکہ بہتری لائیں گے۔ یورپ میں مسلمانوں سے خوف کے اس دور میں بھی میکرون سیکولرازم کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہر شخص کو عزت کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

23 اپریل کو فرانس کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کسی ایک امیدوار کو فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہوئی تھی۔ میکرون کو تقریباً 24 فیصد اور میرین لاپین کو تقریباً 22 فیصد ووٹ ملے تھے۔ الیکشن کا اگلا مرحلہ 7 مئی کو ہے اور سروے کے مطابق میکرون کو تقریباً 60 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے اور میرین لاپین کو 40 فیصد کی۔ میکرون کی جیت یقینی دکھائی دیتی ہے۔

خیر یہ تو امریکہ یورپ کی باتیں ہیں جہاں ووٹرز نے روایتی سیاستدانوں سے پیچھا چھڑا کر عام افراد کو لیڈر چنا۔ پاکستان میں ہی دیکھ لیں۔ عمران خان کی مقبولیت کسی شک و شبے سے بالاتر ہے۔ اور ان کے ماضی، ان کی پالیسیوں اور ان کے بیانات کو دیکھ کر کون انہیں سیاستدان کہہ سکتا ہے؟ وہ خود اپنی تقریروں میں اپنے سیاسی ریکارڈ کو پیش نہیں کرتے بلکہ ورلڈ کپ کی جیت اور شوکت خانم کے قیام کو اپنا بڑا کارنامہ بتاتے ہیں۔

امریکہ سے پاکستان تک کے ووٹر روایتی سیاستدانوں سے دور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ سیاستدانوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے اور ووٹروں سے جڑنے کی ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 666 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar