بے صبری زبان جلا دیتی ہے


لگتا ہے محمد مرسی کو ان کی لاعلمی لے ڈوبی۔ کچھ وقت نکال کے اگر وہ صرف پچھلے ساٹھ برس کی تاریخ کی ورق گردانی کرلیتے تو شاید یہ نوشتہِ دیوار بھی پڑھ لیتے کہ صرف ووٹ لے کر منتخب ہونے سے کچھ نہیں ہوتا، آدمی کو آنکھیں بھی کھلی رکھنی چاہیں۔ تاکہ گرم گرم نوالہ زبان نہ جلا دے اور آنکھیں تب ہی کھلی رہ سکتی ہیں جب آنکھوں کے سامنے وہ بھی ہو جو نظر نہیں آرہا۔

ووٹ تو ڈاکٹر مرسی کی طرح ایران کے ڈاکٹر محمد مصدق نے بھی اچھے خاصے لیے تھے۔ ایرانی مجلس نے انھیں بارہ کے مقابلے میں اناسی ووٹوں سے وزیرِ اعظم بنایا تھا۔ لیکن جب انھوں نے زرعی اصلاحات کا کام شروع کیا اور سوشل سیکٹر کے لیے زیادہ رقوم مختص کیں تو شاہی اسٹیبلشمنٹ اور امرا کی آنکھوں کی گول گول پتلیاں گھومنا شروع ہوگئیں۔ پھر ایک دن ڈاکٹر مصدق نے جب اینگلو ایرانین آئل کمپنی کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کردیا تو سب ہی ان کے دن گننے لگے۔ ایم آئی سکس اور سی آئی اے ان اقدامات کے پیچھے سوشلسٹ روح کا خون سونگھتے ہی متحرک ہوگئی۔ بادشاہ اور اس کی فوج کو خاموشی سے اعتماد میں لیا گیا۔ تہران کے معروف غنڈوں رشیدیان برادران اور شعبان جعفری کو مجمع اکھٹا کرنے کے لیے رقم فراہم کی گئی۔ وہ مضافات سے ٹرالیاں بھر بھر کے تہران دیکھنے کے شوقینوں کو لائے اور مصدق کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے۔ سرکاری املاک کو آگ لگنے لگی۔ لوگ مرنے لگے۔ شاہ نے اسکرپٹ کے مطابق عارضی طور پر ملک چھوڑ دیا۔ اس کے بعد فوج نے پارلیمنٹ اور ایوانِ وزیرِ اعظم کو گھیر لیا۔ مصدق اور ان کی کابینہ گرفتار ہوگئی۔ امریکی نامزکردہ جنرل فضل اللہ زاہدی قائمقام وزیرِ اعظم بن گئے۔ بادشاہ اسکرپٹ کے مطابق سوئٹزر لینڈ سے واپس آگیا۔ سابق وزیرِ خارجہ سمیت کئی وزرا کو سزائے موت دے دی گئی۔ مصدق کو بھی ایک فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی۔ پھر یہ سزا تین برس قید میں بدل دی گئی کیونکہ ایران پر شاہ کا کنٹرول مکمل ہوگیا تھا۔ انیس سو سڑسٹھ میں محمد مصدق اپنے گھر میں خاموشی سے انتقال کرگئے۔ مرتے دم تک انھیں گمان رہا کہ ان کی قانونی، منتخب اور جمہوری حکومت کو غاصبانہ طور پر ختم کیا گیا ہے۔

انیس سو ستر میں سلواڈور آلندے چلی کے پہلے مارکسسٹ صدر منتخب ہوئے۔ محمد مرسی کی طرح انھوں نے بھی سہ فریقی صدارتی انتخاب معمولی اکثریت سے جیتا تھا۔ انھوں نے آتے ہی نیشنلائزیشن کا پروگرام شروع کردیا اور تانبے کی کانکنی اور مواصلاتی نظام بچھانے والی امریکی کمپنیوں کی سبسڈریز تک کو قومی ملکیت میں لے لیا۔ مزدور کی کم ازکم تنخواہ مقرر کرنے سمیت سوشل سیکٹر میں متعدد دورس اقدامات شروع کرکے بالادست طبقے کی نمایندہ سیاسی قوتوں کے کان کھڑے کردیے۔ چنانچہ واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں کہ یہ کون اجنبی ہے جو امریکا کے حلقہِ اثر میں شامل لاطینی امریکا میں ہمارے لیے دردِ سر بننے جارہا ہے۔ ابھی تین برس پہلے ہی تو ہم نے چی گویرا کو ٹھکانے لگایا ہے۔ ہم سے تو کاسترو ہی نہیں سنبھالا جارہا اور اب یہ نیا کاسترو بیلٹ بکس کے ذریعے آگیا ہے۔

چنانچہ چلی میں اچانک ٹرانسپورٹرز کی لمبی لمبی ہڑتالیں شروع ہوگئیں۔ پھر ایک دن اچانک یہ خبر ملی کہ آلندے نے رینے شنائیڈر نامی جس جنرل کو بری فوج کا سربراہ بنایا تھا، انھیں کسی نامعلوم شخص نے گولی مار دی چنانچہ اگلے سینئر جنرل آگستوپنوشے ’’ اتفاقاً ’’نئے چیف آف اسٹاف بن گئے۔ وائٹ ہاؤس، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور سی آئی اے کے ریڈار پر چلی چلی ہوگیا۔ پھر اچانک عدلیہ میں پنوشے کے اصلاحاتی پروگرام رکوانے کے لیے رٹ پٹیشنز دائر ہونے لگیں۔ بالادست دائیں بازو کی جماعتوں کی اکثریت پر مشتمل ایوانِ بالا سینیٹ نے قانون سازی میں روڑے اٹکانے شروع کردیے۔ اچانک تانبے کی کانوں میں مزدوروں نے کام بند کردیا۔ اور جب ہانکا مکمل ہوگیا تو رچرڈ نکسن جن کے بقول وہ آلندے کی شکل سے بیزار تھے انھوں نے اپنے سیکیورٹی ایڈوائزر ہنری کیسنجر سے کچھ کہا۔ ہنری کیسنجر نے سی آئی اے کے سربراہ رچرڈ ہیلمز کے کان میں کچھ کہا۔ رچرڈ ہیلمز نے چلی کے دارلحکومت سان تیاگو میں امریکی سفارتخانے میں تعینات ماتحتوں کو کچھ پیغامات بھیجے۔ ان ماتحتوں نے چلی کی فوج کے بالائی جنرلوں سے کچھ کھسر پسر کی اور گیارہ ستمبر انیس سو تہتر کو جمہوری دروازے سے آئینی طور پر برسرِاقتدار آنے والے صدر آلندے کا نائن الیون ہوگیا۔ انھوں نے فوج کے ہاتھوں گرفتاری کی ذلت اٹھانے کے بجائے خود کو گولی مار لی۔ اور اگلے سترہ برس کے لیے چلی کے کیلنڈر پر ایک بھاری جوتا رکھ دیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو بھی پاپولر ووٹ لے کر اقتدار میں آئے تھے۔ انھوں نے بھی اپنا قد ناپے بغیر پھرتیاں دکھانی شروع کردیں۔ میں تیسری دنیا کو متحد کروں گا۔ میں عالمِ اسلام کا لیڈر بنوں گا۔ میں ایٹمی قوت بنوں گا۔ میں غیر جانبدار تحریک میں جاؤں گا۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ جب ارادے ایسے ہوں تو آدمی احتیاط سے کہاں کام لیتا ہے۔ چنانچہ تیار ماحول میں انھوں نے ستتر کے انتخابات کا پھندہ آئینی مدت مکمل ہونے سے ایک برس پہلے ہی خوشی خوشی اپنے گلے میں ڈال لیا۔ پیشہ ور وفا داروں نے الیکشن میں کچھ زیادہ ہی وفاداری دکھا دی۔ اور پھر پہیہ جام ہوگیا۔ بقول بھٹو ڈالر اتنا آیا کہ بھاؤ نیچے آگیا۔ جو کام انھیں فوراً کر لینا چاہیے تھا وہ کام انھیں دو ماہ بعد یاد آیا یعنی پی این اے سے مذاکرات کرنے کا۔ فوج کو انھوں نے دو شہروں میں مارشل لا لگا کے پہلے ہی ریاستی معاملات میں گھسیٹ لیا تھا۔ لہذا اگلا مرحلہ فوج نے خود ہی آسان کرلیا۔ پی این اے سے سمجھوتے پر رسمی دستخط سے پہلے ہی جنرلوں نے قلم دوات اور کاغذ اٹھا کے میز الٹ دی۔ اور پھر جنرل ضیا الحق نے نہایت دلجمعی سے بھٹو سمیت ریگن کے افغان جہاد کو منطقی انجام تک پہنچایا۔

البتہ ترکوں نے کچھ سبق سیکھ لیا۔ جب ترک فوج نے نجم الدین اربکان کی اسلامی جھکاؤ والی حکومت کو نوے کے عشرے میں عدلیہ کی مدد سے ویلفئیر پارٹی کو کالعدم قرار دلوا کر چلتا کردیا۔ تو یہ سیکھا گیا کہ ایک ایسی اسٹیبلشمنٹ جس کی جڑیں بہت گہری ہوں، اس سے پنگا لینے کے لیے ضروری ہے کہ خود کو آئینی و جمہوری و سیاسی و اقتصادی طور پر اتنا مستحکم کرلیا جائے کہ کوئی بھی طالع آزما آگے بڑھنے سے پہلے دس بار سوچے۔ چنانچہ اربکان کے وارثوں کو ایک کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا الیکشن بھاری اکثریت سے جیتنے کے بعد یہ موقع ملا کہ وہ گہری اسٹیبلشمنٹ پر ہاتھ ڈال سکیں اور پھر انھوں نے بھر پور ہاتھ ڈال دیا۔ اگر موجودہ ترک جمہوری قیادت دس برس قبل پہلا انتخاب جیتنے کے فوراً بعد ہی اسٹیبلشمنٹ پر کچا ہاتھ ڈال دیتی تو اس کا حشر بھی محمد مصدق، آلندے، بھٹو یا محمد مرسی جیسا ہوتا۔

محمد مرسی کو پانچ برس کیوں نہیں ملے، کامیاب یا ناکام ہونے کے لیے؟ حماس اور اسرائیل کے مابین ثالثی کرا کے امریکی تعریف و توصیف کا سرٹیفکیٹ بھی ان کے کام کیوں نا آسکا؟ سعودی عرب اور دیگر قدامت پسند خلیجی ریاستیں مبارک کو کیوں پسند کرتی تھیں اور مرسی کو کیوں ناپسند کرتی رہیں۔ لبرل لابی، سخت گیر سلفی مذہبی اپوزیشن، جامعہ الازہر کی اسٹیبلشمنٹ اور قبطی عیسائی مذہبی رہنما اچانک اس فوج کی طرف ایک ہی سال بعد کیسے دیکھنے لگے جس کی پسِ پردہ حکمرانی سے ابھی ایک سال پہلے ہی تو وہ ساٹھ برس بعد جان چھڑانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انھیں ساڑھے تین ہزار سالہ تاریخ میں پہلا منتخب حکمراں ایک سال بھی کیوں ہضم نا ہو پایا؟ اس پر بحث کے لیے اب وقت ہی وقت ہے۔

مجھے تو ایک معمولی سی بات تنگ کررہی ہے۔ امریکی سفارتخانے سے قاہرہ میں مقیم امریکی باشندوں اور کمپنیوں کے لیے یہ ایڈوائس جون کے وسط میں کیوں جاری ہوگئی تھی کہ جنھیں کوئی بہت ہی ضروری کام نہیں وہ تیس جون تک مصر سے چلے جائیں۔ جون کے وسط میں تو مرسی حکومت کو بظاہر کوئی بڑا خطرہ نہیں تھا۔ صرف اس کے خلاف دستخطی مہم چل رہی تھی۔ تو کیا آنے والی آفات کی بو سونگھنے والے پرندے اور جانور بھی اب امریکیوں کو پیشگی بتانے لگے ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔