آپریشن بلو سٹار اوردربار صاحب


اور جب ہم امرت کے تالاب میں معلق جو سنہری جگ مگ کرتا راج ہنس تھا اُس کے اندر داخل ہوئے تو وہاں نہ کوئی دیوی دیوتا تھے، نہ کوئی بُت تھا اورنہ کوئی تصویر۔ ایک قدیم گرنتھ صاحب کے ورق کھلے تھے اور اس پر سفید ڈاڑھیوں والے سر دار یوں مگن جھکے ہوئے تھے کہ اُن کی ڈاڑھیاں اُس مقدس کتاب کے اوراق پر ایک سفید جھاڑو کی مانند بچھتی اُسے پوتر کرتی تھیں، وہ اُسے پڑھتے ہوئے دربار صاحب کے سنہری پن میں رنگے جاتے تھے۔ اجازت ٹھہرنے کی نہ تھی، آپ گذرتے جاتے تھے۔

عشق اور عقیدت کے، ڈاڑھیوں سے جھاڑو دینے کے یہ سامان کچھ نئے نئے نہ تھے، بہت پرانے تھے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز، ایک اُموی خلیفہ، جس نے اپنی نیکی اور طہارت سے بنوامّیہ کے دامن پر جتنے دھبے تھے سب دھو دیے، وہ روضہ رسولؐ پر حاضر ہوئے تو انہوں نے نہ اُس مقدس مرقد کو کسی جھاڑو سے، نہ اپنے ہاتھوں سے بلکہ اپنی سفید ڈاڑھی سے پونچھا اور اُس پر جمی گرد کو صاف کیا۔

اپنی ڈاڑھی سے جھاڑو دینے کے یہ سامان بہت پرانے تھے۔

دوسری منزل تک جانے والی سنگ مر مر کی سیڑھیاں اگر چہ بہت تنگ تھیں لیکن دشواری نہ تھی، مُونا کا ہاتھ تھام کر ہم چڑھتے گئے۔

یہ طے نہیں ہے کہ کون کس کے سہارے سیڑھیاں طے کر رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ اُن سیڑھیوں کے اندرون میں بھی خالص سونے کی آرائشیں نصب ہیں، اور ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی زائر نے اُس سونے کو اکھاڑنے کی کوشش کی ہو۔

سونے کے سنہرے پن سے مجھے لاہور کی تاریخی سنہری مسجد کی ایک یاد آئی۔ دروازہ مقفل تھا، اُس کی سیڑھیوں تلے ’’لڈو پیٹھیاں والے‘‘فروخت کرنے والے ایک خوانچہ فروش سے میں نے پوچھا کہ مسجد ہے تو اس کا دروازہ مقفل کیوں ہے تو اُس نے کہا ’’لوگ نہ صرف لوٹے چرا لے جاتے ہیں، نلکوں کی ٹوٹیاں بلکہ محراب پر آویزاں گھڑی اور لاؤڈ سپیکر کی بیٹریاں چوری کرلیتے ہیں اس لئے دروازہ مقفل ہے۔

دوسری منزل پر بھی گرنتھ صاحب کے اوراق پر سفید ڈاڑھیاں گردش کرتی تھیں۔

تیسری اور آخری منزل سے دربار صاحب کے تالاب اور ملحقہ عمارتوں کا ایک شاندار منظر نظر کے سامنے آتا تھا۔

وہاں ایک پیویلین کے اندر دو سِکھ حضرات نہایت دلجمعی اور عقیدت کی سرشاری میں ڈوبے مرتبان نما ظروف کو لشکا رہے تھے، چمکا رہے تھے، مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کیسے ظروف اور گلدان سے ہیں جنہیں اتنے پوتّر انہماک سے وہ پالش کر رہے ہیں، لشکا اور چمکا رہے ہیں۔

بہرطور اُس آخری منزل کی چھت سے نظارہ خوب تھا۔

مُونا کے گھٹنے جواب دے گئے تھے، بھیگے ہوئے پاؤں، سردی میں ٹھٹھرتے، سنگ مرمرکے فرش پر چلتے، اُس کے گھٹنوں پر درد کی میخیں ٹھونک گئے تھے اور وہ نیچے رہ گئی تھی۔ میری واپسی کی منتظر تھی۔

روایت ہے کہ بہت قدیم زمانوں میں آج کا امرتسر ایک گھنا جنگل تھا اور اس کے درمیان ہی ایک تالاب تھا، یہ بھی روایت ہے کہ مہاتما بدھ کا یہاں سے گذر ہوا اور اُنہوں نے کہا ’’میں آج تک جتنے مقامات پر گیا ہوں، یہ مقام بُدھ بھکشوؤں کی عبادت گزاری کے لئے سب سے بہترین ہے‘‘، 1532ء میں بابا نانک نے بھی یہیں کچھ عرصہ قیام کیا۔

سکھوں کے چوتھے گورو رام داس (1574۔ 1581 )نے اس تالاب کی کھدائی کی اور اسے امرت سروور کا نام دیا۔ یہ گورو ارجن تھے جنہوں نے تالاب کے درمیان ’’ہرمندر‘‘ کی تعمیر کی اور حضرت میاں میر صاحب سے درخواست کی کہ وہ اس کی بنیاد رکھیں۔

یہ ’’ہرمندر‘‘ ایسا تھا کہ اسے ہر افغان حملہ آوروں نے برباد کیا، ابدالی نے اسے کھنڈر کردیا اور ہمارے زمانوں میں جب سنت کرنیل سنگھ بھنڈر نے اکالی تخت میں براجمان ہو کر ہندوستان سے بغاوت کرنے کا اعلان کردیا تو اندرا گاندھی نے۔ اُس کے لئے یہ ایک لال مسجد تھی۔ 1984 میں ’’آپریشن بلو سٹار‘‘ کے قہر اور غضب نے نہ صرف اکالی تخت بلکہ گولڈن ٹیمپل کے سنہرے پن کو مسمار کردیا، برباد کردیا۔ اگرچہ ازاں بعد ہندوستانی حکومت نے اسے اپنے خرچ پر دوبارہ تعمیر کردیا لیکن سکھوں نے اسے قبول نہ کیا اور اس تعمیر کوڈھا کر پوری دنیا کے سکھوں کے تعاون سے اپنے اکالی تخت اور سنہری معبد کو اپنی مرضی سے پھر سے اُسی شکل اور ہیئت میں ڈھالا جو انڈین آرمی کی یلغار سے پیشتر موجود تھی۔

اب یہ جو سِکھ حضرات ہیں یہ دراصل ایک عربی اونٹ ہیں، یہ نہ کبھی بھولتے ہیں اورنہ معاف کرتے ہیں، اگر ایک شُتر کینہ ہے تو ایک سِکھ کینہ اُس سے کہیں بڑھ کر انتقام پسند ہے۔ اندراگاندھی کو اُس کے ایک سِکھ محافظ نے دربار صاحب کی بے حرمتی کے بدلے میں کھلے عام قتل کردیا۔

اُنہوں نے جلیانوالہ باغ کے ڈائر کا تعاقب کیا، ادھم سنگھ نے لندن پہنچ کر اُسے قتل کیا، سانڈرز کو لاہور کی کچہری میں ہلاک کیا، یہاں تک کہ اندرا گاندھی کے نہرو سینے میں اپنے انتقام کی آگ جھونک دی۔

سِکھ بھولتے نہیں، انتقام لیتے ہیں۔

اور ادھم سنگھ سے جب ایک عدالت نے پوچھا کہ اپنا نام بیان کرو تو اُس نے کہا تھا ’’میں محمد رام سنگھ‘‘ ہوں۔ میں کسی ایک مذہب کا نہیں، مسلمان بھی ہوں، ہندو اور سکھ بھی ہوں۔

دربار صاحب کا طرز تعمیر ہندو اور مسلم فن تعمیر کا ایک دل کش امتزاج ہے، جیسے لاہور میں رنجیت سنگھ کی سمادھی کے گنبدوں پر ایک مسجد کا گمان ہوتا ہے۔

دربار صاحب کی یاترا کا ذائقہ تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک آپ کڑاہ پرشاد اپنی ہتھیلی پر وصول کرکے اُس مقدس حلوے کی مٹھاس اپنی زبان پر محسوس نہیں کریں۔

کڑاہ، ٹھیٹھ پنجابی میں سوجی کے حلوے کو کہتے ہیں، کم از کم ہمارے مولوی حضرات اورسردار لوگوں میں ایک ایمان مشترک ہے، یہ دونوں حلوے مانڈے کے شیدائی ہیں اور میں بنیادی طور پر گجرات کی سرزمین کی میٹھے کی روایتوں کا شیدائی، کہہ سکتا ہوں کہ دنیا بھر کے کیک، مٹھائیاں اور میٹھے ایک طرف اور خالص سوجی کا دیسی گھی میں بھونا ہوا، ایک کلو چینی اور آدھا کلو سوجھی سے تیار کردہ حلوہ اُن سب پہ بھاری۔

کہا جاتا ہے کہ ایک جاٹ کسی شادی سے لوٹا تو کہنے لگا وہاں ہم نے کڑاہ کھایا، کڑاہ تو کڑاہ تھا پر جو گلِٹ تھا، واہ بھئی واہ۔ یعنی ہم نے وہاں حلوہ کھایا، حلوہ تو حلوہ تھا پر اُس میں جو زیادہ بھونا ہوا، سخت ہو چکا گلِٹ تھا ناں، واہ بھئی واہ۔

اچھا ہر حلوہ، کڑاہ ہوتا ہے پر ہر حلوہ کڑاہ پرشاد نہیں ہوتا، وہ ہرشاد تب ہوتا ہے جب حلوے کو ایک سِکھ تلوار سے گھاؤ لگایا جاتا ہے۔

دربار صاحب میں داخل ہونے والی راہداری کے عین سامنے ’’اکالی تخت‘‘ کی عمارت تھی جہاں سکھ مذہب کے سیاسی فیصلے ہوتے ہیں، وہاں بہت بلند قامت کے پہلو بہ پہلو دو بانس، سنہری اور روپہلی چادروں میں لپٹے ہوئے آویزاں ہیں۔ دربار صاحب کی جانب جو عَلم ہے اُس کی بلندی اُس عَلم سے قدرے زیادہ ہے جو ا کالی تحت کی جانب ہے۔ یعنی مذہب، سیاست پر فوقیت رکھتا ہے۔

میرے ننگے پاؤں اب ٹھٹھرتے نہ تھے سنگ مر مر کے فرش پر تقریباً منجمد حالت میں بمشکل اٹھتے تھے اور مُونا کا حال مجھ سے بھی بُرا تھا۔

’’اِن سکھ لوگوں کے پاؤں نہیں ٹھٹھرتے۔ یہ تو مزے سے ہاتھ جوڑے، سر جھکائے گرنتھ صاحب کے گرد پھیرے لگاتے ہیں‘‘ مونا نے ٹھٹھرتے ہوئے کہا۔

’’تمہارے پاؤں میں تب کچھ تھکاوٹ آئی تھی جب تم نے حج اور عمرے کے دوران خانہ کعبہ کے گرد ایک نہیں سات پھیرے لگائے تھے‘‘۔

’’وہ تو اور بات تھی۔ ‘‘
’’تو یہ بھی کوئی اور بات ہے‘‘

دربار صاحب کا سنہری کنول امرت کے تالاب میں جگ مگ کرتے کِھلا ہوا تھا۔ اُس کا عکس تالاب کے پانیوں میں ہلکورے لیتا تیرتا کناروں تک آتا تھا جہاں زرد پگڑیوں والے مرد اور زرد اوڑھنیوں والی کچھ عورتیں اُن کناروں پراپنے ماتھے ٹیکتی تھیں اور یوں اُس سنہری مندر کے کچھ سنہری ذرے اُن کے ماتھوں میں جذب ہوتے تھے، جو ہمیں تو دکھائی نہ دیتے تھے لیکن اُن کے ہم عقیدہ لوگوں کو نظر آتے ہوں گے اور وہ جان جاتے ہوں گے کہ یہ شخص، یہ عورت، دربار صاحب میں ماتھا ٹیک کر آئے ہیں، کیسے بخت والے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔