پانامہ فیصلے کے ادبی پہلو


تین دو یا پھر دو تین کے حوالے سے تو اس تاریخی فیصلے کا جائزہ وہ لوگ لے رہے ہیں جنہیں منفی ایک یا پھر مثبت ایک کے جواب سے مطلب تھا، جو ہمارا مسئلہ نہیں۔ تاریخی ہونے کے سلسلے میں ہم وزیرِ خزانہ کی اِس بات سے متفق ہیں کہ ہر فیصلہ تاریخی ہوتا ہے بلکہ اِس میں یہ ا ضافہ کیئے دیتے ہیں کہ اتنی ساری تاریخیں پڑنے کے بعد پھر ایک نئی تاریخ ملنے سے تو یہ ذیادہ ہی تاریخی ہو چکا ہے۔ اِن دِنوں لاہور میں تاریخی مقامات بمقابلہ اورنج ٹرین کے سلسہ میں ایک اور فیصلہ بھی محفوظ ہے جو کسی نہ کسی تاریخ کو سنایا جائے گا اور یوں تاریخی ہی کہلائے گا۔ تاریخ کو پسِ منظر میں رکھتے ہوئے ہم حامد میر صاحب کے قلم کی کمان سے نکلے ہوئے اُس تیر کی سمت کا تعین کر رہے ہیں جس میں فیصلے کے ادبی رُخ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حامد میر صاحب کا اعتراض بجا ہے کہ فاضل جج صاحبان نے فیصلے میں ہالی وڈ کی فلم اور انگریزی ناول کا حوالہ دیا۔ گاڈ فادر کا حوالہ انگریزی ادب کے قارئین اور فلم ناظرین کے لئے تو دلچسپی اور تجسس سے پھر پور تھا مگر عوام کی اکثریت کا اس سے کیا تعلق۔ اُن کا کہنا ہے کہ فیصلوں میں روسی اور اطالوی ادبیوں کا حوالہ دینا ہمارے اپنے اصحاب قلم کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ دوستو وسکی اور بالزاک کا ادبی مرتبہ اپنی جگہ لیکن ہمارے منصفیں کو چاہیے کہ وہ فیصلے کرتے ہوئے عبداللہ حسین اور بانو قدسیہ کے کرِداروں کا حوالہ دیا کریں، مجرموں کے لئے انتظار حسین کی بستی سے کوئی کرِدار ڈھونڈیں اور ساتھ ہی اُنہوں نے خوش خبری سنائی کہ محترمہ بشریٰ رحمن چادر، چاردیواری اور چاندنی کے برعکس پاکستانی سیاست کی خواتین کے بارے میں کسی ناول کی تصنیف میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  کیلبری فونٹ کا استعمال ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا

ایک سابق فاضل جج کے فیصلے کے مطابق تو عدالت عظمٰی کو یہ فیصلہ تحریر کرنے کے لئے قومی زبان یعنی اردو کا انتخاب کرنے کا استحقاق بھی حاصل تھا مگر ہوسکتا ہے کہ پھر جرم و سزا کے لئے اردو ادب کے حوالے تلاش کرنا ایک جاں جو کھوں کا کام ہوتا۔ عبداللہ حسین کے بیشتر کرِداروں کو کسی بھی فیصلے کے لئے منتخب کرنے سے پہلے اُن کو سنسر شپ کے ایسے کڑے پیمانے سے گزرنا پڑے گا کہ فیصلے ہی مشکل ہوجائے گا۔ اداس نسلیں اور نادار لوگ کے بیشتر کرِدار ہمارے قارئین کو پسند نہیں آئیں گے اور اُن کی زبان ہضم کرنا تو زیادہ ہی مشکل کام ہے۔
راجہ گدِھ کے کرِداروں کو اگر کسی عدالتی فیصلے میں جگہ دے دی گئی تو شاید فیصلے کے ساتھ صرف بالغوں کے لئے بھی لکھنا پڑجائے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ بانو آپا نے اپنے کرِداروں کے ذریعے جو زبان لکھی ہے، وہ اپنی مشرقی طبعیت کے باعث اُس پہ کبھی گفتگو نہ کر پاتیں۔

راجہ گدِھ کے مرکزی کرِدار قیوم کا حوالہ تو اپنی حرکتوں کے حوالے سے قابلِ دست اندازی پولیس ہے اور گورنمنٹ کالج کے لئے بھی کوئی اچھی شہرت نہیں چھوڑتا۔

رہ گئے انتظار حسین تو وہ بیچارے اِس قدر منکسرالمزاج اور شریفُ النفس آدمی تھے کہ اپنے پسندیدہ ماضی بعید ازقسم کوفہ و بغداد کسے طلسم ہوشربا سے باہرہی نہیں نکلے۔ “۔ ۔ بستی ”میں کہیں کہیں بغاوت اور انقلاب کا ذکر ملتا ہے مگر وہ بھی شریفانہ قسم کا۔ ہم حامد میر کے انتخاب کی داد نہ دینے پہ مجبور ہیں کہ اُنہوں نے بھلے مانس ادبیوں کا حوالہ دے ڈالا۔ اگر وہ ابنِ صفی، عمران سیریز، سسپنس ڈائجسٹ، یا پھر سب رنگ کا حوالہ دیتے تو شاید کچھ بات بن جاتی۔ گاڈ فادر کا مناسب متبادل۔ “داستان ایمان فروشوں“ کی ․جیسا کوئی نام ہوسکتا تھا یا پھر احمد یار خان کی کہانیوں کا کوئی کرِدار۔ محمد خان ڈاکو بھی ایک افسانوی کرِدار بن سکتا تھا مگر ہمارے دیسی کرِدار بہرحال ابھی تک ادب اور اہلِ قلم کا حوالہ نہیں بن پائے۔ اردو اوراپنی علاقائی زبانوں سے ہماری محبت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری زبان ہونے کے باعث انگریزی ہمارے مہذب اور با شعور ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ہم انگریزی بولتے ہوئے شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور الفاظ کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ اگر شام کو نشر ہونے والے تمام ٹاک شوز کو انگریزی میں نشر کرنے کا پابند کردیا جائے تو آپ کو شرکاء کے لہجے میں نرمی اورجذبات میں توازن نظر آئے گا۔ شرکاء کبھی بھی باہم دست و گریبان نہیں ہوں گے اور نہ ہی گالم گلوچ سننے کو ملے گی۔ اگرچہ۔ ’صادق اور امین‘ جیسے مقدس الفاظ کا حوالہ دے کر ہم کئی رہنماؤں پہ نکتہ چینی کرتے ہیں مگر جو اِس تنقید سے بچ نکلتے ہیں، اگر اُنہیں صادق اور امین بھی سمجھ لیا جائے تو یہ کتنی بڑی خوش فہمی ہوگی۔

اسی بارے میں: ۔  احتساب کیسے کیا جائے؟

اگر اِس تاریخی فیصلے کو سلیس اردو میں لکھا جائے تو اِس کا مستند ترجمہ وہی ہوگا جو حزبِ مخالف اور حزبِ اقتدار پچھلے کئی ماہ سے ایک دوسرے کے لئے کہتے آرہے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ بشریٰ رحمن کی نئی تنصیف آنے تک گاڈ فادر ہی پہ گزارا کریں اور انگریزی کا فائدہ اُٹھاتے رہیں جو ہمارے فاضل جج صاحبان کو اہلِ اقتدار و اختیار پہ علامتی تنقید کا حوصلہ دیتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امجد ممتاز خواجہ کی دیگر تحریریں
امجد ممتاز خواجہ کی دیگر تحریریں