پاناما کیس؛ جے آئی ٹی کیلئے اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے پیش کردہ نام مسترد


سپریم کورٹ میں جسٹس اعجازافضل خان کی سربراہی میں خصوصی بینچ نے كیس كی سماعت كی جس دوران بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل كو روسٹرم پر بلاتے ہوئے کہا کہ جو نام بھجوائے گئے ہیں ان پر غور كیا ہے، اسٹیٹ بینك اور ایس ای سی پی سمیت تمام اداروں نے نام بھجوائے ہیں، عدالت جے آئی ٹی كے ذریعے شفاف تحقیقات چاہتی ہے، ہماری خواہش ہے كہ جے آئی ٹی افسر ہیرے كی طرح شفاف ہوں، اسٹیٹ بینك كے گورنر اور سربراہ ایس ای سی پی كو طلب كررہے ہیں اور ان كو ہدایت كی ہے كہ دونوں اداروں كے گریڈ 18 سے زائد كے افسران كی فہرست لے كر عدالت میں آئیں، ان كی طرف سے پہلے بھجوائے گئے نام مسترد كرتے ہیں۔

عدالت عظمیٰ كا كہنا تھا كہ بھیجے گئے افسران كے نام غیر جانبدار نہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریماركس دیتے ہوئے كہا كہ اداروں كے سربراہ جے آئی ٹی کے لیے ناموں كا انتخاب نہیں كرسكتے، فیصلے میں كہا تھا كہ جے آئی ٹی کے لیے ناموں كا انتخاب ہم خود كریں گے، انہوں نے فائنل كیوں كیے اور كسی كو كھیل كھیلنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے میں كسی كے ہاتھوں یرغمال نہیں بنیں گے۔ عدالت نے كیس كی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

واضح رہےکہ سپریم كورٹ نے پاناما كیس کا فیصلہ 20 اپریل كوسناتے ہوئے معاملے كی مزید تحقیقات كے لیے مشتركہ تحقیقاتی ٹیم تشكیل دینے كا حكم دیا تھا اور اس ٹیم كی تشكیل كے لیے 6 اداروں سے نام طلب كیے تھے اور قرار دیا تھا كہ عدالت ناموں كاجائزہ لے كر خود جے آئی ٹی تشكیل دے گی جو 15 روز بعد اپنی عبوری رپورٹ عدالت میں پیش كرے گی جب كہ 60 روز میں تحقیقات مكمل كركے اپنی حتمی رپورٹ سپریم كورٹ كے بینچ كے سامنے جمع كرائے گی۔

اسی بارے میں: ۔  کراچی میں آپریشن کے دوران 3 دہشت گرد ہلاک

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔