قہر سے بچنے کا منتر


mujahid ali

پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کو قومی دفاع کے لئے ضروری قرار دیتے ہوئے ان کی تیاری اور انہیں دستیاب رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت ہی کی وجہ سے یہ خطہ جنگ سے محفوظ ہے۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم نواز شریف نے کی جو این سی اے کے چیئرمین بھی ہیں اور اس میں اعلیٰ فوجی اور سول قیادت نے شرکت کی۔ یہ اجلاس اس ماہ کے آخر میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے امریکہ میں ہونے والی سربراہی کانفرنس کے حوالے سے منعقد ہوا تھا۔ پاکستانی قیادت نے جوہری مواد کی حفاظت کے ترمیم شدہ کنونشن کی توثیق کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے پرانی پالیسی پر قائم رہنے کا اعلان کوئی خبر نہیں ہے لیکن اس فیصلہ کو اگر اس دوران سامنے آنے والی دیگر خبروں کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو ملک کے سیاسی اور پالیسی سازی کے منظر نامہ کی معنی خیز تصویر سامنے آتی ہے۔ ان میں سے ایک خبر سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل ہیڈن کی نئی کتاب میں سامنے آنے والے انکشافات ہیں۔ ان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی حکام 2008 میں ممبئی حملوں میں ملوث لوگوں کے بارے میں جانتے تھے۔ اور ایک معصوم سا بیان سابق صدر آصف علی زرداری کا سامنے آیا ہے جو جنرل راحیل شریف کی طرف سے ریٹائر ہونے کے بیان کو قبل از وقت قرار دے رہے ہیں۔

یہ بظاہر مختلف دکھائی دینے والی خبریں دراصل پاکستان کے تاریخی پس منظر میں ایک ایسی تصویر سامنے لاتی ہیں، جس کو سمجھے بغیر ملک کے باشندے ان مسائل سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتے جو ان کی راہ کھوٹی کرنے اور ملک و قوم کی مشکلات میں ہر آنے والے دن کے ساتھ اضافہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اس بات کی توقع تو شاید کوئی بھی نہیں کر سکتا کہ حکومت یا فوج ملک کی جوہری پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی کوشش کریں گے۔ قومی سطح پر ہمارا بدستور یہ موقف ہے کہ اصل خطرہ کنونشنل یعنی روایتی ہتھیاروں سے لاحق ہے اور بھارت کی فوجی قوت علاقے میں عدم توازن کا سبب بن رہی ہے۔ بھارت 2015 کے دوران ہتھیار خریدنے والا دوسرا بڑا خریدار تھا اور اس نے تین ارب ڈالر سے زیادہ کے جدید ترین ہتھیار خریدے ہیں۔ بھارت کے حجم اور وسائل کے اعتبار سے وہ اپنی فوجی قوت میں اضافہ کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن پاکستان نے روایتی دشمنی کا رشتہ پختہ رکھتے ہوئے اس دوڑ میں شامل رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ پاکستان ہتھیاروں کے حصول کے لئے بھارت جتنے وسائل فراہم کرنے سے قاصر ہے پھر بھی 2015 کے دوران 800 ملین ڈالر اس مد میں صرف کئے گئے ہیں۔
یہ امید کرتے ہوئے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اب کبھی جنگ کی نوبت نہیں آئے گی، یہ خطیر سرمایہ کاری بے مقصد ہے۔ چند برس بعد یہ سارا اسلحہ ناکارہ اور پرانا ہو جائے گا اور اس کی تجدید کے لئے مزید وسائل صرف کئے جائیں گے۔ اس صورتحال میں اس شیطانی کھیل کا حصہ بنے رہنے کی بجائے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے۔ تب ہی وسائل کو عوام کی غربت دور کرنے اور ان کی ترقی کے لئے منصوبے تیار کرنے پر صرف کرنے کو ترجیح دی جا سکے گی۔ اگرچہ اس مزاج کی آبیاری جنوبی ایشیا میں وسیع تر بنیادوں پر ضروری ہے لیکن پاکستان جیسا ملک اس حوالے سے پہل کر کے اچھی مثال قائم کر سکتا ہے۔
ملک کا جوہری پروگرام شروع کرتے ہوئے اور بھارت کے مقابلہ میں تمام تر دباﺅ اور امکانات کے باوجود ایٹمی دھماکے کرنے کے لئے بھی یہ دلیل دی گئی تھی کہ پاکستان کے پاس اگر جوہری صلاحیت ہو گی تو بھارت کو دشمنی نکالنے کے لئے پاکستان پر حملہ کرنے کا حوصلہ نہیں ہو گا۔ اس صلاحیت کی وجہ سے پاکستان محفوظ ہو جائے گا۔ اس کے ہوتے ہوئے ہمیں روایتی ہتھیاروں پر زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہو گی۔ آج قومی کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں بھی اس دلیل کو دہرایا گیا ہے۔ اسی لئے بھارت کی اسلحہ کی خریداری کی ہوس پر نکتہ چینی بھی کی گئی ہے۔ لیکن پاکستان بدستور روایتی عسکری صلاحیت میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اگر ایٹمی ہتھیار جنگ روکنے کا موثر سبب ہیں تو روایتی ہتھیاروں کی خریداری پر قوم و ملک کے وسائل کیوں جھونکے جا رہے ہیں۔ اور اگر خطے کی صورتحال کی وجہ سے روایتی ہتھیاروں کا حصول ضروری ہے تو جوہری ہتھیاروں پر کثیر سرمایہ کاری اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ کرنے کا کیا جواز ہے۔ لیکن ملک کی قیادت قومی مفاد کا غلاف اوڑھا کر اس قسم کے مباحث شروع کرنے اور ملک کی مسلمہ حکمت عملی کی اچھائیوں اور برائیوں پر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ گزشتہ تین چار دہائیوں کے دوران پاکستان کو جن مسائل کا سامنا رہا ہے، ان کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اہم قومی معاملات کو عام مباحث میں شجر ممنوعہ بنا دیا گیا ہے۔ اس لئے ملک کے جمہور دوست سیاستدان ہوں یا قومی مفادات کا محاظ بیباک اور نڈر میڈیا ہو، پان مصالحہ میں ملاوٹ کے موضوع پر تو طول طویل گفتگو کر سکتے ہیں لیکن ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت ، صحت ، مستقبل یا فوج کے حجم ، بجٹ اور اس کے قومی معیشت پر اثرات کے حوالے سے کلام کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکتے۔ انہیں یہ بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ نہ ہی کوئی یہ حق حاصل کرنے کے لئے زبان کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جب پاک فوج یا امریکی انٹیلی جنس کے ریٹائر ہونے والے افسر اپنی خود نوشت کہانیوں میں جھوٹے سچے قصے مزے لے کر بیان کرتے ہیں تو انہیں دلچسپی سے سنا جاتا ہے، ان کی بنیاد پر افواہ سازی بھی ہوتی ہے اور قومی ادارے انہیں چلا ہؤا کارتوس سمجھ کر ان کی باتوں پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔ ایسا ہی ایک ”چلا ہؤا کارتوس“ امریکی سی آئی اے کے 2009 تک سربراہ رہنے والے مائیکل ہیڈن کی کتاب PLAYING TO THE EDGE ہے۔ اس کتاب میں دیگر باتوں کے علاوہ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ احمد شجاع پاشا نے واشنگٹن میں ایک ملاقات کے دوران اعتراف کیا تھا کہ فوج کے بعض ریٹائرڈ افسروں نے ان لوگوں کی تربیت کی تھی جنہوں نے لشکر طیبہ کی مدد سے ممبئی حملوں میں حصہ لیا تھا۔ ان حملوں میں 164 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان نے امریکہ اور بھارت کے دباﺅ کے باوجود ان حملوں میں ملوث پاکستانی عناصر کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کیا تھا۔ پاکستانی حکومت کسی حد تک اب تک اس پالیسی پر کاربند ہے۔ پٹھان کوٹ حملہ کے حوالے سے ہونے والی کھینچا تانی اسی بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔
مائیکل ہیڈن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستانی قیادت باہمی ملاقاتوں میں یہ واضح کرتی رہی ہے کہ پاک فوج بھارت سے لڑنے کے لئے تیار کی گئی ہے۔ یہ دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لیکن ہیڈن اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے حوالے سے نہ صرف یہ کہ کارروائی کرنے سے گریز کیا بلکہ ہمیشہ دوغلے پن کا مظاہرہ کیا۔ اسی لئے القاعدہ ، طالبان ، لشکر طیبہ ، یا حقانی نیٹ ورک نے خود کو پاکستان میں محفوظ محسوس کیا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب شروع کر کے جنرل راحیل شریف نے اس صورتحال کو کسی حد تک تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ان کی یہ کوششیں پوری طرح کامیاب ہوئی ہیں۔ مملکت پاکستان ابھی تک مختلف دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے واضح اور بلا امتیاز حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی لئے امریکہ ، بھارت یا افغانستان اپنے اپنے طور پر پاکستان سے ناراض رہتے ہیں۔ پاکستان نے پہلی افغان جنگ کے بعد افغانستان کو ”محفوظ پچھواڑا“ سمجھنے کی جو حکمت عملی اختیار کی تھی، اسے اب تک تبدیل نہیں کیا جا سکا ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ اور افغانستان کے بارے میں اسلام آباد کی پالیسی کا ایک دوسرے سے گہرا تال میل ہے۔ گو کہ مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والے نئے اور طاقتور دہشت گرد گروہوں کی وجہ سے حالات کسی قدر تبدیل بھی ہوئے ہیں لیکن جنوبی ایشیا میں دہشت گردی اور انتہا پسند گروہوں کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ پاکستان، افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔
یہ پالیسی واضح ہونے کے باوجود غیر بیان شدہ ہے۔ اس کے بارے میں تفصیلات کا کسی کو علم نہیں ہے۔ نہ ہی یہ جانا جا سکتا ہے کہ ایسے اہم معاملوں پر کون فیصلے صادر کرتا ہے۔ اس غیر یقینی میں ملک کے سب سے طاقتور اور بااثر ادارے اور اس کے سربراہ کی طرف خیال جانا فطری امر ہے۔ فوج کسی بھی ملک کے قوت اور وقار کا سبب ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی فوج کو ہر دلعزیز جانا جاتا ہے۔ اس کی مقبولیت کی شرح بدلتی رہتی ہے لیکن عام طور سے عوام فوج کے لئے نیک خواہشات کا اظہار ہی کرتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عسکری معاملات پر عام مباحث کو شجر ممنوعہ قرار دیا جانا ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ملک میں فوج کے مقابلے میں کسی دوسرے ادارے کو پنپنے اور اہمیت حاصل کرنے کا موقع نہیں مل سکا ہے۔ ایسا ادارہ جو فوجی ادارے کے مقابلے میں توازن قائم کرنے کا سبب بن سکتا ہے، پارلیمنٹ ہو سکتی ہے۔ لیکن ملک کی سیاسی پارٹیوں اور گروہی اور برادری و قبائلی بنیادوں پر انتخاب جیت کر آنے والوں کی اکثریت نے کبھی پارلیمنٹ کو ایک طاقتور ادارہ بننے نہیں دیا۔
سیاسی لیڈر جمہوریت کے نعرے لگانے کے باوجود ذاتی مفاد کے حصول کے لئے سیاست کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصول یا قومی مفاد غیر اہم موضوعات ہیں۔ اسی لئے نہ ان کی تنقید قابل اعتبار ہوتی ہے اور نہ جب وہ کسی کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں تو اس کا بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ تازہ ترین مثال سابق صدر آصف علی زرداری کا بیان ہے۔ کل دبئی سے جاری ایک بیان میں انہوں نے قرار دیا ہے کہ فوج عوام کے دلوں میں بستی ہے۔ اس لئے جنرل راحیل شریف نے نومبر میں ریٹائر ہونے کا فیصلہ قبل از وقت کر دیا ہے۔ اس طرح عوام میں مایوسی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ وہی آصف زرداری ہیں جنہوں نے جون میں آرمی چیف کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے تین برس بعد چلے جانا ہے ہم نے یہاں رہنا ہے۔ اس لئے ہمیں چھیڑنے اور تنگ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ورنہ ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ یہ جی دار قومی سیاستدان اس ”جراتمندانہ“ بیان کے ایک ہفتہ بعد ہی دبئی روانہ ہو گئے۔ تب سے ہی پیپلز پارٹی ملک بھر میں عام طور سے اور سندھ میں خاص طور سے ایک ” نادیدہ قہر“ کا سامنا کر رہی ہے۔ سابق صدر اور ملک میں گھاگ سیاستدان کی شہرت رکھنے والے پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمین کا تازہ بیان شاید اسی قہر سے بچنے کا کوئی منتر ہو گا۔

Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali