پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زماں کائرہ کی دو ٹوک باتیں (آخری حصہ)


(پہلا حصہ: پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یکسوئی حاصل نہیں کر سکا: قمرالزماں کائرہ

س : 2017ء میں کیا چارٹر آف ڈیموکریسی پر مفاہمت اسی طرح سے قائم ہے جیسے 2007ء اور 2008ء میں ہم دیکھ رہے تھے؟

کائرہ صاحب : چارٹر آف ڈیموکریسی سے میں انکار کبھی نہیں کرتا۔ میں کسی بھی پلیٹ فارم مناظرہ کرنے کے لیے تیار ہوں کہ پیپلز پارٹی کی گورنمنٹ نے 2008ء سے 2013ء تک جو کچھ کیا یہ شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کوئی جماعت اب کرے۔ ہم نے ٹوٹتے بکھرتے پاکستان کو اکٹھا کیا تھا۔ ڈیوولوشن آسان کام نہیں ہوتا۔ لوگ اختیار مرتکز کرتے ہیں، مسائل اکٹھے کرتے، تقسیم نہیں کرتے۔ باپ بیٹوں کو بھی اختیار نہیں دیا کرتا۔ لیکن یہ ایک الگ داستان ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے اپنے تجربات اور اپنی فکر سے اخذ کی ہوئی ایک سوچ تھی اس کو ڈاکومنٹ کیا، میاں صاحب نے اس پر دستخط کئے، باقی جماعتوں نے بھی اس پر سائن کئے۔ وہ تھا بنیادی طور پر یہی کہ ہم کسی کے خلاف سازش نہیں کریں گے۔ پہلے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ کے، نظام بھی جدھر تک جاتا تھا ہم چلے جاتے تھے، تو پیپلز پارٹی آج بھی اس بات پر کھڑی ہے۔ ہم نظام کو نہیں گرنے دیتے۔ لیکن اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں کہ آپ حکومت کو ہر وقت گرانے کی کوششیں کرتے رہیں یا حکومت جو مرضی کرتی رہے اسے پوچھیں ہی ناں۔ اب جو عدالت کا فیصلہ میاں صاحب کے خلاف آگیا اس کے بعد میاں صاحب کا رکنا ممکن نہیں ہے۔ اب اگر وہ رکتے ہیں تو پاکستان میں قانون کا تو پہلے ہی جنازہ نکلا ہوا ہے اب اس کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔ پھر تو طاقتور کو روکنے والا قانون ملک سے ختم ہو جائے گا۔ ایک موقع پیدا ہوا ہے اس معاشرے کو ٹھیک کرنے کا، بہتری کا، کیونکہ حکمران طبقے آسانی سے قابو نہیں آیا کرتے۔ ان کا ایک فرد اگر قابو آگیا ہے۔ لیکن جن کے قابو ہیں وہ بھی حکمران طبقہ ہے۔ دیکھتے ہیں بعض اوقات تاریخ بندے کو جب مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنے طبقے کا باغی بنتا ہے اپنے طبقے کے مفاد کے خلاف فیصلے کرتا ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی اپنی جگہ قائم ہے لیکن چارٹر آف ڈیموکریسی کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ میاں صاحب کے بچنے کی کوئی صورت پیپلز پارٹی پیدا کرے گی۔ 2014ء میں بھی ہم سمجھتے ہیں کہ جو ہم پہ الزام ہے کہ ہم نے چارٹر آف ڈیموکریسی کی آڑ میں میاں صاحب کو بچایا تھا، ان کی گورنمنٹ بچائی تھی۔ اگر اس وقت بھی عمران خان صاحب ہماری بات مان لیتے اور سیاسی فیصلے بہتر کرتے تو میاں صاحب کی گورنمنٹ نہ بچتی۔ لیکن ہم سمجھ رہے تھے کہ جس طرح گورنمنٹ تبدیل ہونے کے اشارے مل رہے تھے وہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں تھا اس سے پاکستان کا بڑا نقصان ہوتا۔ کل بھی پاکستان کے لیے وہ ہمارا اصول تھا وہ آج بھی ہے۔ آج ہم سمجھتے ہیں کہ ساری سیاسی جماعتیں، میڈیا، پوری ریاست اس معاملے پہ کھڑی ہو گئی ہے کہ میاں صاحب کو اب جانا ہو گا اس احتساب نظام کی صورت میں، لہٰذا اب اس طرح کے خدشات اور خطرات نہیں ہیں۔

س : کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں 1958ء سے جمہوری حکمرانی کے خلاف غیر جمہوری قوتوں کا بیانیہ کرپشن کا الزام ہے۔کیا پاکستان کا نمبر ون ایشو جو ہے وہ مالی بددیانتی ہے یا ہمار انسٹی ٹیوشنز کی ناکامی۔

کائرہ صاحب : یہ جو کرپشن ہے یہ تو بنیادی طور پہ اس نظام کا حصہ ہے۔ یہ جو سرمایہ داری نظام ہے یہ کرپشن کے بغیر تو چلتا ہی نہیں ہے۔ایک متوازی اکانومی آپ نے چلانی ہے اس کے بغیر یہ نظام نہیں چلتا۔ کچھ بڑی فارمل اکانومی ہوتی ہے لیکن اس کے اندر متوازی سطح پر بہت سارے نظام چل رہے ہوتے ہیں۔ امریکا جو اس کا بابا آدم ہے، وہاں کیا نہیں ہے۔ ایک زیرزمین پوری بلیک مارکیٹ ہے اور اس بلیک مارکیٹ اکانومی کو سہارا دینے کے لیے وہاں پر غیرقانونی معاہدوں کا بھی پورا ایک نظام موجود ہے۔ میں مثال دے کے کہہ رہا ہوں کہ جو سب سے بڑی علامت ہے وہاں یہ سب ہے تو باقی نیچے تو بہت کچھ ہو گا۔ اس لیے بہت ساری چیزوں کی طرف سے یہ نظام آنکھیں بند رکھتا ہے۔ کرپشن یقینا ایک بہت بڑا ایشو ہے اور جب کرپشن عام آدمی کی زندگی کو براہ راست متاثر کرنا شروع کر دیتی ہے کہ تھانے میں انصاف نہیں مل رہا میں پیسے دوں گا تو میرے لیے کوئی بہتری کا تصور ہو گا۔ میرے بچے کو تعلیم نہیں مل رہی، میں پیسے دوں گا تو میرا کام ہو گا۔ پٹواری مجھے کام نہیں کرنے دے رہا، یعنی روزمرہ زندگی میں جب یہاں تک یہ معاملہ آجاتا ہے تو پھر معاملہ بہت بگڑ جاتا ہے۔ یہ جو کرپشن کے الزام حکمرانوں پہ، صرف سیاست دانوں پہ نہیں یہاں تو یہ الزام ہر ادارے پہ لگتے ہیں تو جو الزام لگتے ہیں وہ سچے ہیں یا جھوٹے ان کو ایک طرف رکھ دیجئے۔ اگر یہ سچے ہیں جن میں کہ سارے سچے نہیں بھی ہوتے اور سارے جھوٹے بھی نہیں ہوتے۔ سو جو کرپشن کی جاتی ہے جو پیسے دیے جاتے ہیں وہ لینے والا بھی تو کوئی ہے اور دینے والا بھی کوئی ہے۔ تو دینے والا تو مہذب دنیا کا ہے۔ سو وہ نظام کا حصہ ہے۔ مثلاً یورپ میں عام آدمی کی زندگی جہاں پہ ہے اس کو سکول میں، ہسپتال میں، سڑک پہ جاتے ہوئے، تھانے میں، کچہری میں، وہاں پہ بالکل نظام درست ہے۔ سروس ڈلیوری اعلیٰ ہے بغیر اس طرح کی مداخلت کے۔ اس لیے عام آدمی کو اس سے غرض نہیں کہ اوپر کیا ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ یورپ میں عام آدمی ہر وقت پالیٹکس نہیں سوچتا اور نہ کرتا ہے۔ وہ اپنا کام کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جن کا کام ہے وہ کررہے ہیں۔ جب ان کے احتساب کا وقت آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ فلاں بندے نے غلطی کی ہے اور فوری طور پر وہ معاشرہ رسپانڈ کرتا ہے اور یہ یاد رکھئے قوانین اور عدالتیں حتمی فیصلے نہیں کیا کرتیں۔ بڑا دباﺅ عوام کے شعور کا ہے۔ عوامی سوچ کا ہوتا ہے۔ یہ جو خدا کا ڈر ہے نا، میری دانست میں تو اللہ کا ڈر بھی موثر نہیں۔ اگر اللہ کا ڈر ہو واقعی تو اللہ تو کائنات کا خالق و مالک ہے، ہر چیز کے متعلق وہ علیم و خبیر ہے۔ ہر چیز کی خبر رکھتا ہے۔تو وہ کام جو کمرے میں بیٹھ کے دو چار دوستوں کے ساتھ کر لیتا ہوں، گناہ کر لیتا ہوں، برائی کر لیتا ہوں، قانون توڑ لیتا ہوں، اللہ کے قانون توڑ لیتا ہوں، وہ کام میں چوک میں کھڑا ہو کے کیوں نہیں کرتا۔ اگر میں کہتا ہوں کہ وہاں نہیں کرتا کہ اللہ کا ڈر ہے تو یہاں بھی اللہ کے ڈر سے نہیں ہونا چاہیے تو ہاں اللہ کی مخلوق کا ڈر بہت موثر ہے۔ دنیا میں وہ معاشرے جو آج کے نظام کے تحت بہتری کی طرف چل رہے ہیں وہاں مخلوق خدا فوری رسپانڈ کرتی ہے میں اس تناظر میں کہہ رہا تھا کہ ان معاشروں کا کمال ہے وہ روز پالیٹکس نہیں کرتے۔ لیکن اگر انہیں نظر آئے، اگر انہیں پتہ چلے کہ جس کو ہم نے اپنی ذمہ داری دی ہوئی ہے یہ خراب ہو گیا ہے اس نے فلاں کام غلط کیا ہے، قانون کے خلاف تو وہی سوسائٹی ایک دم کھڑی ہو جاتی ہے اور کہتی ہے نکل جاﺅ تم۔ آئس لینڈ کے پرائم منسٹر کے خلاف کسی عدالت نے فیصلہ نہیں دیا۔ لوگ آگئے انہوں نے کہا کہ بس ….اس کے خلاف مقدمہ بنتا، عدالت میں جاتا، پھر وہ بڑی عدالت میں جا کے اپیل کرتا، ہو سکتا ہے کہ چھوٹ جاتا۔ اس کو بھی بینی فٹ آف ڈاﺅٹ مل جاتا۔ وہ ہمارا ملک تو نہیں کہ جہاں دو ججز نے سیدھا کہہ دیا کہ نوٹیفائی کرو پرائم منسٹر کو، تین نے کہا کہ اس کے خلاف مزید تحقیقات کرو۔ وہ پھر بیٹھا ہے۔ یہاں ایشو کیا ہے۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ نکلو، نکلو، وہ کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اس لیے کہ سوسائٹی نہیں کھڑی ہوئی۔ وہاں لوگ کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کھڑے ہیں جب تک یہ نکل نہیں جاتا ہم کھڑے ہیں، نکلنا پڑا۔ عرض یہ ہے کہ کرپشن ہمارا بڑا مسئلہ ہے لیکن اگرہم یہ سمجھتے ہوں کہ ہم کرپشن کو مکمل طور پر پہلے ختم کر لیں تو معاشرے درست ہو جائے گا ایسا بھی نہیں ہو سکتا۔ نہ ہم کرپشن کو مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں نہ اس سے معاشرہ درست ہو جاتا ہے۔ انگریز کے دور میں کہتے ہیں کرپشن کم تھی۔ 11  اگست کو قائداعظم کی تقریر میں پڑھتا ہوں تو مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ جس وقت پاکستان بن رہا ہے، مہاجرین ادھر سے ادھر جا رہے ہیں، پاکستان کی ریاست کے پاس پیسہ نہیں، اسلحہ نہیں، کشمیر میں جنگ شروع ہو گئی ہے، تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ہیں، مشکل ترین حالات ہیں، ریاست بن گئی ہے، تو فادر آف دی نیشن اسمبلی میں کھڑے ہو کے مستقبل کی ڈائریکشن بیان کر رہا ہے۔ وہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں تھا جس میں تقریر کر رہے تھے قائداعظم۔ اس تقریر میں بڑی کمال کی باتیں ہیں۔ پاکستانی لوگوں کے لیے بڑا سبق ہے اس تقریر میں جو ہم نہیں پڑھتے۔ اس میں قائداعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ جو لوگ پاکستان کے مخالف ہیں یہ بھی درست لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس ملک کے بنانے میں بڑے تنازعے ہوئے ہیں، بڑے لوگ اس کے مخالف تھے، اب اس کا فیصلہ تاریخ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ بن گیا ہے آﺅ اب اس کو چلائیں۔ ہسٹری فیصلہ دے گی کہ یہ درست تھا کہ نہیں۔ اور مجھے توقع ہے کہ ہسٹری ہمارے حق میں فیصلہ دے گی۔ یہ نہیں کہا کہ ہمیں درست ہیں۔ نہیں، پھر بھی جج منٹ ہسٹری پہ چھوڑی ہے۔ لیکن جو کام انہوں نے کہا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کو چیلنجز کیا ہیں۔ چار چیلنجز بیان کئے ہیں۔ جس میں مہاجرین کا مسئلہ نہیں۔ بحالی نہیں ہے۔ جس میں معیشت نہیں ہے۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا سب سے پہلا مسئلہ آئین بنانا ہے۔ اس اسمبلی کی ڈیوٹی آئین بنانا ہے اور قانون بنا کے جو سب سے بڑا چیلنج اس اسمبلی کے سامنے ہو گا وہ کرپشن ہے اور وہ کرپشن، وہ کہتے ہیں میں نہیں کہتا کہ دنیا میں کرپشن نہیں ہے لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارا حال بہت ہی خراب ہے۔ یہ ہم اس دور کی بات کر رہے ہیں جب کہتے ہیں کہ پاکستان بڑا کمال کا تھا۔ ہندوستان میں تو انگریز کا راج تھا، عورت زیور سے لدی نکلتی تھی تو جنگل میں سے گزر جاتی تھی اور اس کو کوئی ہاتھ نہیں تھا لگاتا۔ یہ اس دور کی بات ہے۔ دنیا میں بہت سارے معاشروں نے ترقی کی ہے۔ سنگاپور نے ترقی کی ہے۔ کوریا نے ترقی کی ہے۔ تائیوان نے ترقی کی ہے۔بنگلہ دیش نے ترقی کی ہے۔ ہندوستان نے ترقی کی ہے۔ چین نے ترقی کی ہے۔ جہاں کرپشن کی سزا موت ہے اور وہ سزائیں دیتے ہیں۔ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ہر سال مارے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود وہاں کرپشن ہے لیکن وہ نظام چل رہا ہے۔ پاکستانی سوسائٹی کو رسپانڈ کرنا پڑے گا۔ قوانین کے خوف سے لوگ کم درست ہوتے ہیں۔ سوسائٹل پریشر سے لوگ زیادہ درست ہوتے ہیں۔ ہمیں اس سوسائٹی کو بھی ایجوکیٹ کرنا ہے اور اداروں کو بھی اپنا کام کرنا ہے۔ اگر بحران کی بات کی جائے، سیاسی نظام کی بات کی جائے یا طاقتور طبقے کی بات کی جائے تو وہ اپنے خلاف کیوں کرے گا۔ یہ کبھی کبھی وقت آتا ہے عدالتوں کے پاس کیونکہ ان کے اوپر اس طرح کے پریشرز نہیں ہوتے۔ سیاست دان نے تو کل پھر جا کے ووٹ مانگنے ہیں۔ جج صاحبان نے تو 65 سال کی عمر میں ریٹائر ہو جانا ہے۔ انہیں مصلحتوں سے اوپر اٹھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سیاست دانوں کے اندر بھی کچھ لوگ ہیں۔ آئے ہیں کچھ لوگ ایسے جنہوں نے بڑے کمال کے کام کئے ہیں۔ سیلف سے اوپر اٹھنے کی انہوں نے کوششیں کیں، مارے گئے۔ تاریخ میں گم ہو گئے۔

اسی بارے میں: ۔  پاناما کیس میں حکومتی نمائندے منظم مہم چلا رہے ہیں: سپریم کورٹ

عدنان کاکڑ: 1988ء سے بتایا جا رہا ہے کہ کرپشن کا سمبل ایک ہی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے اور اس کے سربراہ ہیں۔ پاناما کے پیپرز لیک ہوتے ہیں۔ اس دن ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آف شور ان لیگل کمپنیز پیپلز پارٹی کی نہیں ہیں۔ اس میں نکلتی ہیں تو شریف فیملی کے متعلق کچھ نکلتی ہیں، نکلتی ہیں تو عمران خان کے نیازی سروسز میں نکل آتی ہیں۔ اس پر آپ کیا کمنٹ کریں گے۔ ہمیں تو یہی بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی سب سے کرپٹ پارٹی ہے۔

کائرہ صاحب : یہ بڑا ٹیڑھا سا سوال آپ نے مجھ سے کر دیا۔ پاکستان پنجابی ڈومینیٹڈ ملک ہے اور رائٹ ونگ کا ڈومینیٹڈ ملک ہے۔ دو فیکٹرز اس ملک کے اندر بڑے طاقتو ر ہیں۔ پاکستان کوئی پنجاب والوں نے نہیں بنایا تھا، نہ سندھ والوں نے بنایا تھا اور نہ ہی کے پی کے اور بلوچستان والوں نے بنایا تھا۔ پاکستان بنانے والے اور مسلم لیگ بنانے والے بنگالی تھے اور وہ جو بارڈر کے اس طرف مسلمان رہ گئے وہ تھے۔ ان علاقوں میں تحریکیں چلی تھیں، وہاں لڑائیاں ہوئی تھیں۔ لیکن جب پاکستان بن گیا تو ہم نے بنگالیوں کو کہا کہ یہ تو غدار ہیں۔ یہ تو اپنے حقوق مانگتے ہیں۔ وہ جو پاکستان کے نعرے لگاتے تھے آج بھی وہاں چالیس پچاس لاکھ لوگ کیمپوں میں پڑے ہیں جو پاکستانی ہونے کے جرم میں ہیں۔ منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔ ہمارا کیا رول تھا۔ 1946ء تک کیا تھا پنجاب میں سوائے چند اجلاسوں کے۔ لوئر لیول پہ قائداعظم کو سپورٹ حاصل تھی لیکن عام آدمی کی آواز تھی نہ کسی کا ووٹ تھا۔ جو اشرافیہ تھی اس وقت تو وہ ساری قائداعظم اور مسلم لیگ کے خلاف تھی۔ پاکستان کے وجود کے خلاف تھی۔ یونینسٹ تھے، کانگرسی تھے یا جو مذہبی جماعتیں تھیں وہ بالکل خلاف تھیں۔ پنجاب نے پاکستان بننے کے بعد کیا کیا نہیں کیا۔ یہاں کی بیورو کریسی آئی، وہاں سے جو بیورو کریسی آئی، انہوں نے آپس میں مل کے کمال یہ کیا کہ ہم نے کبھی پیرٹی کا قانون بنایا، کبھی ون یونٹ بنایا، یہ ساری کوششیں کیا تھیں۔ یہ بنگال کو اس کے حق سے محروم رکھنا تھا، اپنی طاقت کا اظہاریہ رکھنا تھا۔ اپنا ہاتھ اوپر رکھنا تھا۔ نتیجتاً جو پاکستان بنانے والے تھے وہ ہم سے آزاد ہو گئے۔ وہ الگ نہیں ہوئے۔ ہم کہتے ہیں الگ کئے گئے۔ سازشیں ہوئیں۔ وہ کہتے ہیں ہم نے آزادی حاصل کی۔ تاریخ کا بڑا تلخ سفر ہے یہ۔ سبق ہے یہ۔ ہم نے سیکھا کچھ نہیں۔

آج بھی یہی عمل ہے۔ میں ایک پنجابی ہوں اور شاید کسی بھی بڑے پنجابی سے بڑا پنجابی ہوں۔ میں اس وقت بھی پنجابی تھا جب پاکستان نہیں بنا تھا اور میں اس وقت بھی پنجابی تھا جب اس خطے میں اسلام بھی نہیں آیا تھا۔ میری نسلیں یہیں تھیں۔ میں کوئی مکے سے ہجرت کر کے نہیں آیا لیکن یہ بات درست ہے کہ ہمارے ہاں میڈیا، عدلیہ ہو، آرمی ہو، ہمارا سرمایہ دار ہو، ہمارے بیورو کریٹس ہوں، بڑی آبادی ہے، باقی صوبوں سے ایڈوانس ہے، نسبتاً بہتر اس کا انفراسٹرکچر ہے۔ ہم پنجابی پرائم منسٹر کو واقعی کچھ نہیں کہتے۔ وہ پنجابی پرائم منسٹر مسلم لیگ کا ہونا چاہیے، پیپلز پارٹی کا نہیں۔ میاں نواز شریف کے دور میں سپریم کورٹ پہ حملہ ہواتو جنہوں نے حملہ کیا وہ خود سے تو نہیں تھے حملہ کرنے والے۔ کیوں کیا۔ میاں صاحب کو بلا لیا تھا عدالت نے۔ حملہ سامنے ہے۔ ججوں کو تو کرسیاں چھوڑ کے بھاگنا پڑا تھا۔ جانیں بچانا پڑی تھیں بشمول چیف جسٹس آف پاکستان۔ کیا ہوا۔ کسی نے پوچھا۔ بی بی شہید اور آصف زرداری صاحب کو سزا دی گئی ملک قیوم اور اس کے ساتھی جج کی عدالت سے۔ کیسٹیں پکڑی گئیں۔ سیف الرحمن کی ججوں سے گفتگو اور میاں شہباز شریف صاحب کی ججوں سے گفتگو اور تین ججوں کو مستعفی ہونا پڑا۔ ملک قیوم صاحب کو اور ان کے ساتھی جج کو جو ہائیکورٹ کے جج صاحبان تھے اور ایک جج صاحب جو ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے وہ سپریم کورٹ میں چلے گئے تھے ان کو وہاں سے استعفیٰ دینا پڑا کیونکہ سپریم کورٹ نے کہا کہ اب ہمارے پاس کوئی رستہ نہیں ہے یا تو ہم آپ کے خلاف ریفرنس بھیجتے ہیں یا آپ استعفیٰ دے دیں۔ وہ استعفیٰ دے گئے۔ یہ بھی ایک بڑی متنازع بات ہے کہ ججوں کی بات آئے یا جرنیلوں کی بات آئے تو آپ ان کو مستعفی ہونے کے لیے کہہ دیں کہ استعفیٰ دو اور جاﺅ تمہاری کرپشن ختم اور اگر دوسرے کسی کی ہو تو اس کی قبر کا بھی آپ احتساب کریں۔ کیا کسی نے پوچھا کہ بھائی کیس تو چلیئے واپس ہو گیا، جج صاحبان ریزائن کر گئے تو جنہوں نے یہ سارا کچھ کرایا تھا وہ کیا۔ کیا سیف الرحمن کو کسی نے پوچھا۔ کیا شہباز شریف کو کسی نے پوچھا۔ کیا میاں نواز شریف کو کسی نے پوچھا کہ بھائی یہ کیا کیا۔ بدقسمتی سے یہ ہمارا ایک ایسا پہلو ہے جس پر ہمیں بطور پنجابی بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور پہ اگر ہم نے فیڈریشن کو درست کیا، اگر ہم نے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے حقوق صوبوں کو دیے، اگر ہم نے وسائل صوبوں کے حوالے کیے تو ہمیں کہا گیا کہ کیا احمقانہ کام کر رہے ہو، ان کے اندر تو صلاحیت نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔ کیوں مرکز کو کمزور کر رہے ہوحالانکہ ہم سمجھتے ہیں کہ تنوع میں طاقت ہوتی ہے۔ اپنے طور پہ مرکزیت جو ہے وہ ہمارے جیسے ملکوں میں نہیں چل سکتی۔ہم ایک قوم نہیں ہیں۔یعنی بڑا کمال ہی ہوتا ناں کہ ہم 41 ملکوں کو اکٹھا کر کے ایک الائنس بنتا ہے اس کو ہم کہتے ہیں کثیر القومی اتحاد۔ اور پاکستان کے اندر ہم کہتے ہیں کہ ایک قوم ہیں۔ یہاں کیوں پنجابی ہونا جرم ہے۔ یہاں کیوں سندھی ہونا جرم ہے۔ چھوٹی قومیتوں کے حقوق ان کو ملنے چاہئیں۔ ہم نے دیے تو ہمیں سزا ملی۔ مجھے یاد ہے میں انفارمیشن منسٹر تھا اور میں میڈیا کے ساتھ جب بیٹھتا تھا تو میرے دوست مجھے یہ کہتے تھے، اور سچی بات ہے آگ لگ جاتی تھی مجھے، میں حیران ہوتا تھا کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے دانشور جو ہمارے ہیں، اینکرز یا رائٹرز، جب میں ان سے کہتا تھا کہ ہم نے پاکستان کے آئین کو درست کیا، ہم نے ڈیولوشن آف پاور کیا، ہم نے اس ملک کے نظام کو درست کیا، ہم نے بکھرتے ہوئے پاکستان کو سنبھالا ہے تو وہ کہتے ہاں ہاں یہ بات تو درست ہے کائرہ صاحب لیکن اس سے لوگوں کا پیٹ تو نہیں بھرتا ناں۔ جو نظام درست ہو گا تو نظام ڈلیور کرے گا ناں۔ حکمران وقت نے ہر مہینے میرے گھر میں اعزازیہ تو نہیں بھیجنا نا پاکستانی کے طور پہ، نظام درست کرنا ہے اس نے۔ یہ ایک المیہ ہے اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس میں انٹیلی جنسیا کا بہت بڑا رول ہے۔ اس کے خلاف مزاحمت میں بھی پنجابی انٹیلی جنسیا نے بڑا کمال کام کیا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ پنجابی انٹیلی جنسیا پنجاب کی بالادستی کے خلاف ہے۔ پنجاب کے لکھنے والے، دانشور، شاعر، انہوں نے بڑا کام کیا ہے۔ یہاں کے سٹوڈنٹس نے بڑا کام کیا ہے۔ یہاں کے پولیٹیکل ورکرز نے اس تحریک کو بڑے زور سے چلایا ہے لیکن اس پہ اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

وجاہت مسعود: آپ کی جماعت نے ہمارے ملک کو آئین دیا۔ اب چونکہ اتفاق سے آپ کی گفتگو میں اشارہ آگیا ہے 1947ء کی قائداعظم کی تقریر کا، آپ نے جو آئین دیا تھا 1973ء میں اس میں تو 49 والی قرارداد بھی دیباچے کے طور پر تھی، ایک فوجی آدمی نے انڈیمنٹی بل میں اس کو نافذالعمل حصہ بنایا۔ سمجھ تو آتی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کرتے ہوئے کیا مجبوریاں تھیں لیکن دونوں ترمیموں میں یہ تو ہوا ناں آٹھویں ترمیم میں بھی اور سترہویں ترمیم میں بھی کہ آمریت نے آئین کو مرکزیت پسند اور صدارتی نظام بنانے کی کوشش کی اور جو جمہوریتیں آئیں انہوں نے رو رو کے کوشش کی کہ پارلیمانی نظام دوربارہ آئے لیکن یہ جو بیچ میں ایک ہمارے ملک کے تشخص والی بات آ گئی، ہمارے ہاں حاکمیت اعلیٰ کا مسئلہ ہے، مساوی شہریت کا مسئلہ ہے۔ اس پہ آپ ایک سیاست دان کے طور پہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما کے طور پہ کیسے دیکھتے ہیں۔ اس کا روڈ میپ کیا بنے گا۔ can we live it this?

اسی بارے میں: ۔  ملالہ انتہا پسندی، تعلیم اور وطن واپسی کے بارے میں بتاتی ہیں -3

کائرہ صاحب : پہلا جواب،  we can not live with it۔ دوسرا بھٹو صاحب کا بھی ایک کمپرومائز تھا۔ اس آئین پہ اتفاق رائے کرانا، اگر اتفاق رائے کے ساتھ آئین نہ بنتا توآج ہم شاید اس حالت میں نہ بیٹھے ہوتے۔ یہ ایک ایسا کمپرومائز تھا جو مجبوری کے تحت کیا گیا۔ پہلے ہی ملک ٹوٹا ہوا تھا اور اس کے بعد بنگلہ دیش کے الگ ہو جانے کے بعد وہ حقوق کی لڑائی پہ ٹوٹا تھا، ہم انڈیا کو الزام دیں اور فلاں کو دیں وہ اپنی جگہ ہیں وہ الزام سے بری نہیں ہوتے لیکن وہ رائٹس کی موومنٹ پہ، فیڈریشن کے خلاف اپنی لڑائی، جنگ کی صورت میں الگ ہوئے تھے۔ یہاں پہ بھی اس وقت نیشنلسٹ موومنٹ بڑی تگڑی تھی۔ ان موومنٹس کو بلوچستان میں، خیبرپختونخوا میں، سندھ کے اندر بڑی زبردست حمایت حاصل تھی۔ ان تحریکوں کی جو لیڈر شپ تھی ان کے متنوع خیالات تھے۔ ان کو ایک پیج پہ لانے کے لیے کئی جگہوں پہ کمپرومائز ہوا۔ اسی لیے انہوں نے کہا تھا کسی کی مدت دس سال رکھ دی کہ دس سال بعد ری ویو کریں گے، کسی کی مدت پندرہ سال رکھی دی گئی۔ یہ ٹائمنگ رکھ دی گئی۔ اس کے بعد ہمارے دور میں آکے پھر اٹھارہویں ترمیم ہوئی۔ اٹھارہویں ترمیم میں نہ صرف یہ کہ جو آپ نے اشارہ کیا قرارداد مقاصد کا نہ صرف یہ ہے بلکہ 62، 63 کے متعلق ہمارے بہت سارے تحفظات ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی اور ڈیوولوشن ہونے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل کا ہے، اسلامی نظریاتی عدالت کا ہے، اس کے علاوہ یہ تو خیر چھوٹے فیکٹرز ہیں، میری نظر میں یہ چھوٹے فیکٹرز ہیں۔ اور بڑے فیکٹرز ہیں جو کرنے والے ہیں۔ اسی طرح ہمارے عدلیہ کے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح سے عدلیہ سے ججز آتے ہیں یہ ہمارے لیے بہت بڑا سوال ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کرتے ہوئے ہمارے سامنے یہی سوال تھا کہ اگر آپ 2008ء کا پاکستان دیکھیں تو دہشت گردی آپ کے دروازے تک پہنچی ہوئی تھی اور اسلام آباد پر قبضہ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں کہ ساٹھ کلومیٹر دور مارگلہ کی پہاڑیوں میں آگئے ہیں، ہماری فوج  پر حملے ہو رہے تھے۔ حالات بہت گمبھیر تھے۔ پاکستان دنیا میں ملزم کے طور پہ نہیں، مجرم کے طور پہ کھڑا تھا۔ اکیلا کھڑا تھا۔ کوئی مسلمان ملک بھی ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ آج ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں کہ ہم دفاع کرنے جائیں گے، وہ بھی ہمارے ساتھ نہیں تھے۔ اس صورت میں اٹھارہویں ترمیم کر لینا اور اتفاق رائے سے کرنا، کثرت رائے نہیں، اتفاق رائے کرنا اس لیے ضروری تھا کہ کوئی ایک جماعت بھی اگر اس کے خلاف آواز اٹھاتی تو آپ کو یاد ہے اٹھارہویں ترمیم کو تو سپریم کورٹ میں چیلنج کرا لیا گیا تھا۔ میں کرا لیے گئے کا لفظ استعمال کر رہا ہوں۔ اور انہوں نے انیسویں ترمیم ہم سے کروائی تھی افتخار چوہدری نے اس وقت پارلیمنٹ کی گردن پہ انگلی رکھ کے کرائی تھی۔ یہ بحث تھی کہ اگر ہم ججز کی اپوائٹمنٹ پہ، انیسویں ترمیم میں ان کا حکم نہیں مانتے اور اپنی پارلیمانی کمیٹی کا اختیار ختم نہیں کرتے تو اٹھارہویں ترمیم سٹرائیک ڈاﺅن ہو جائے گی۔ میرا موقف بہت مختلف اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے۔ لیکن اسfear  فیکٹر میں وہ فیصلہ کرایا تو میں آپ کے سوال کو sum up یوں کروں گا کہ اس پہ بھی بہت سارے کمپرومائزز ہوئے۔ ابھی بہت کچھ کرنے والا ہے۔ لیکن جہاں پہ میں عدلیہ سے بہت زیادہ شاکی ہوں وہاں میں ان کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں کہ یہ وہ منزل، یہ وہ ان ٹچ ایبل ایشو، ان ٹچ ایبل معاشرتی حالات کی وجہ سے، قرارداد مقاصد کے خلاف بات کرنا یوں بنا دیا گیا تھا جیسے اللہ اور رسول کے خلاف بات کرنا ہے۔اس کو عدلیہ نے ٹچ کیا انہوں نے ہمارے لیے کہا کہ نہیں یہ ٹچ ایبل ہے۔ جس کا کریڈٹ بنتا ہے، اس کو ضرور دینا چاہیے۔

س : کیا یہ تاثر درست ہے کہ دائیں بازو کے لوگ جب آئینی مباحث کی بات آتی ہے تو اپنا پاﺅنڈ آف فلیش لے لیتے ہیں کبھی قرارداد مقاصد کو پری ایمبل بنا کے اور دوسری آئینی ترمیم میں اور اس کو لے کے جیب میں ڈال کے کہتے ہیں کہ یہ تو ہو گیا طے، اب اگلا مطالبہ مانو۔ اور ہماری جمہوری قوتیں 73ء میں بھی کمپرومائز کرتی ہیں، 2010ء میں بھی کرتی ہیں اٹھارہویں ترمیم پہ، اس کے ساتھ مل جاتا ہے اشتعال پذیر ہجوم، ان کے ساتھ مل جاتے ہیں ریاست کے ادارے، تو جو اس ملک کا جمہوری ذہن ہے جو اس ملک کو سول لائز کرنا چاہتا ہے اس کو ریاست، ملا اور یہ ہمارا ناخواندہ ہجوم، یہ سب کے سب پڑ جاتے ہیں۔

کائرہ صاحب : لیڈر شپ روز پیدا نہیں ہوتی۔ تاریخ میں کبھی کبھی آتے ہیں لوگ۔ اور پھر یہ لوگ پیدا ہوتے ہی اس قامت کے نہیں ہوتے۔ وقت کچھ لوگوں کو ریفارم کرتا ہے، ری فائن کرتا ہے اور وہ پھر لیڈر بنتے ہیں۔ جو قومیں بار بار اپنے لیڈر کھو جاتی ہیں ان کے حالات بڑے خراب ہوتے ہیں۔ ہم بڑے نقصان کر چکے ہیں۔ ہم ایک مستحکم سوسائٹی کے اصولوں پر پورے نہیں اترتے، ان بہت ساری غلطیوں کے باوجود ہم اب آدھی صورت میں قائم ہیں۔ سارا پاکستان نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور یہ رہنے کے لیے بنا تھا تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ بھائی رہنے کے لیے تو سارا پاکستان بنا تھا، یہ تو پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے۔ اسلام کے نام پہ رہنا تھا تو پھ ررہ جاتا۔ ہم تاریخ کو جلد ہی بھول جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ماضی میں چالیس سال کی جو پالیٹکس ہوئی ہے اس میں سیاسی جماعتیں کمزور ہوئی ہیں، سیاسی کلچر کمزور ہوا ہے، سیاسی جماعتوں کی جو قیادت ہوتی ہے ناں، وہاں بھی مناپلیز بن جاتی ہیں۔ ان مناپلیز کے خلاف بھی لڑنا پڑتا ہے۔ اس دور کے تقاضوں نے، اس دور کے اسلوب نے ہمارے ہاں سیاسی کلچر کو کمزور کیا۔ لہٰذا سیاسی جماعتیں جب بھی ڈائیلاگ کرنے بیٹھتی ہیں تو مذہبی جماعتیں کیونکہ اللہ اور اللہ کے رسول کا نام تو صرف اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ایشوز کے لیے نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے خلاف نظام مصطفی کی موومنٹ اس ملک کے مذہبی طبقات نے چلائی ناں۔ مقصد کیا تھا۔ ضیاالحق آگیا تو پھر کیا ہوا۔ کدھر گئے یہ ملا؟ کدھر گیا اسلامی نظام؟ آج بھی جب یہ کھڑے ہو کے اپنے لوگوں کو ایکسپلائٹ کرنا چاہتے ہیں تو یہ باتیں اور طرح کرتے ہیں، ان کی عملی سیاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ جب سے ہماری مذہبی جماعتوں نے یہ دیکھا ہے کہ اب ریاستی ادارے ضرورت کے تحت ان سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ اب ریاست میں ان کی ضرورت اس طرح نہیں رہی تو وہ اپنی بقا کے لیے اپنی شکل بدل رہے ہیں۔ سیاسی مذہبی جماعتوں نے اپنے رنگ بدلنے شروع کئے ہیں، اب خدمت خلق کا کام شروع کیا ہے اور اس میں ایک پڑھا لکھا فیس لے کے آئے ہیں۔ یہ ایک لڑائی ضرور ہے۔ ہمارے ملک میں بہرحال مذہب سے بہت لگاﺅ ہے۔ یہ نیچرل ہے۔ اس سے انکار نہیں ہے۔ میرا اور آپ کا بھی ہے۔ لیکن ہم ذرا ایکسپلائٹ کم ہوتے ہیں۔ بہت سارے لوگ زیادہ ایکسپلائٹ ہو جاتے ہیں۔ اس سے خوفزدہ ہوتے ہیں سیاست دان حکمران بھی۔ مذہبی طبقات کچھ ایشوز کے اوپر اختلاف کے باوجود اتفاق کر لیتے ہیں۔ سیاست دان ایسا نہیں کرتے اور ویسے بھی کمزور ہیں۔ جب ہم ان کے ساتھ بارگینگ میں بیٹھتے ہیں، ان کی پوزیشن ہم سے مضبوط ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کے ہاتھ میں ایک جھنڈا ہوتا ہے، دل میں نہیں ہوتا۔

عدنان کاکڑ : 1973ء کے دستور میں بہت واضح ایک شق ڈالی گئی ہے، پارلیمنٹ کا آئین میں ترمیم کا حق عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتا۔ واحد کاز ہے کیونکہ بنانے والوں کے ذہن میں یہ چیز موجود تھی۔

کائرہ صاحب : یہ جو شق ڈالی گئی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم میں آگئی ہے۔

عدنان کاکڑ: نہیں، شق 239 1973ء میں بھی موجود تھی۔

کائرہ صاحب : پارلیمنٹ کا حق نہیں روکا گیا۔ میرا خیال ہے شاید یہ معاملہ اٹھارہویں ترمیم میں، میں واضح نہیں ہوں۔ ذرا اس کو دیکھ لیجئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عدالت نے کئی دفعہ جسٹس منیر سے لے کے اب تک جو جنرل مشرف والی گورنمنٹ تھی اس کو بھی جواز دے دیا تھا، وہ اختیار دے دیا گیا آئین مین ترمیم کرنے کا جو عدالت کے پاس بھی نہیں تھا۔ آپ کو یاد ہے جنرل افتخار چوہدری صاحب کے دور میں ایک یہ مباحثہ ملک میں شروع ہو گیا تھا، کچھ دانشوروں نے یہ بحث شروع کر دی تھی کہ پارلیمنٹ سپریم ہے کہ سپریم کورٹ سپریم ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے بھی کوئی باقاعدہ آبرزویشن تو نہیں دی تھی لیکن کچھ کمنٹس ضرور ہوئے تھے کہ شاید ہم سپریم ہیں۔ ہم ہر چیز کو ری ویو کر سکتے ہیں۔ تو اس پہ ہمارا موقف بڑا واضح تھا کہ ریاست کے وارث لوگ ہوتے ہیں۔ لوگوں کی نمائندہ سپریم کورٹ نہیں۔ لوگ اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا اختیارپارلیمان کو دیتے ہیں۔ پارلیمان چاہے تو اس سپریم کورٹ کو ختم کر کے پانچ سپریم کورٹیں بنا دے۔ یہ اس کا اختیار ہے۔

س: ایک آخری سوال، کیا عمراں خان کے ساتھ مل کر حزب اختلاف کا اتحاد بن سکے گا؟

جواب: عمران خان بادشاہ آدمی ہیں۔ وہ ایسا ہونے نہیں دیں گے۔

(عدنان خان کاکڑ – وجاہت مسعود)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔