صدر ایردوان بھارت کے ساتھ سیاست کر گئے


ہمارے محبوب لیڈر اور ترکی کے صدر سیدی رجب طیب ایردوان گزشتہ دنوں بھارت گئے تو خود کو چالاک سمجھنے والے نریندر مودی کے ساتھ انہوں نے ایسی سیاست کھیلی کہ ساری بھارتی قوم ہی بچوں کی طرح بے وقوف بن گئی۔

وہاں جاتے ہی صدر ایردوان نے فرمایا کہ ’انڈیا اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا مستقل ممبر بننا چاہتا ہے۔ جرمنی اور جاپان بھی۔ ہم بھی۔ ہم نے انڈیا سے کہا وہ کہ اس اصلاح کی کوشش کی قیادت کرے۔ انڈیا نے اس ترمیم کی تجویز کو خوش آمدید کہا‘۔ ایک دوسری جگہ کہنے لگے کہ ’اقوام متحدہ کا ڈھانچہ، خاص طور پر سلامتی کونسل، کی جلد از جلد اصلاح کی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر کون یہ استدلال کر سکتا ہے کہ سلامتی کونسل ایک معقول ڈھانچہ ہے اگر انڈیا، ایک ایسا ملک جس کی سوا ارب آبادی ہے، اس کا رکن نہیں ہے؟‘

بھارتی تو وہیں ڈھیر ہو گئے کہ پاکستان کے ایک اور پکے ترین اتحادی کو انہوں نے توڑ لیا ہے اور سلامتی کونسل کی مستقل نشست ان کے قبضے میں اب رہی ہے۔ اس سے قبل نریندر مودی نہایت کامیابی سے سعودی عرب، ایران اور امارات جیسے برادر اسلامی ممالک کو اپنے جال میں پھنسا چکے تھے۔ وہ سمجھے کہ ایردوان بھی ہمارے عرب بھائیوں کی طرح ایک سادہ دل شخص ہیں۔

حقیقیت یہ ہے کہ صدر ایردوان نے بھارت کے ساتھ سیاست کھیلی ہے۔ جس وقت سلامتی کونسل میں ترمیم کا بل پیش ہو جائے گا اور مستقل ممبران کو سیٹیں دی جانے لگیں گی تو صدر ایردوان عین موقعے پر نریندر مودی کو ایک طرف دھکیل کر نواز شریف صاحب کو مستقل سیٹ پر بٹھا دیں گے  اور ہکے بکے کھڑے سلامتی کونسل کے ممبران کو  وضاحت کریں گے کہ انڈیا، یعنی برصغیر میں تمام سارک ممالک ہیں اور وہ پاکستان کو یہ سیٹ دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ انڈین سب کانٹینٹ (برصغیر) کی نمائندگی کریں۔ اس وقت نریندر مودی جی کا منہ دیکھنے والا ہو گا۔ میاں نواز شریف صاحب کو چاہیے کہ صدر ایردوان کی اس بہترین چال کو کامیاب بنانے کی خاطر خود بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انڈیا کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کی حمایت شروع کر دیں۔

اسی بارے میں: ۔  کچھ "طے شدہ امور" کے باب میں

ایسی ہی سیاست صدر ایردوان اسرائیل کے ساتھ بھی کر چکے ہیں۔ 2003 میں اے کے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے صدر ایردوان مسلسل اسرائیل سے دفاعی اور اقتصادی تعلقات بڑھا رہے ہیں۔ دو چار برس کی بات ہے، پھر اسرائیل کے دفاع کا انحصار بڑی حد تک ترکی پر ہو گا۔ دوسری طرف ترک نہایت عیاری سے اسرائیلیوں سے ان کی دفاعی حکمت عملی بھی معلوم کر رہے ہیں۔ جب اگلی عرب اسرائیل جنگ ہو گی تو اسرائیل کو اچانک یہ علم ہو گا کہ ترکی اس کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے اور عربوں کو اس کے سارے دفاعی راز بتا چکا ہے۔ اس چال سے اسرائیل کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ میاں نواز شریف صاحب کو بھی چاہیے کہ اسی طرح اسرائیل کو دھوکے میں مبتلا کریں اور اسرائیل سے صدر ایردوان ہی کی مانند قریبی دفاعی اور اقتصادی تعلقات قائم کر لیں اور وقت آنے پر اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیں۔

جہاں تک صنعت و تجارت میں کمال کی بات ہے تو اس میدان میں بھی دونوں حکمران خاندان ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ میاں صاحب اپنے ترک بھائی کو سکھا سکتے ہیں کہ لوہے کے کاروبار کو سونا کیسے بنایا جا سکتا ہے اور ایک غریب ترین مزدور کا خاندان دولت کے ڈھیر کیسے جمع کر سکتا ہے، تو ایردوان صاحب بھی بدلے میں سکھا سکتے ہیں کہ ایک غریب بحری سپاہی کا خاندان کیسے تیل میں کھیل سکتا ہے اور ارب پتی بن سکتا ہے۔ ماشا اللہ دونوں سربراہوں کے بیٹے بزنس میں کمال پیدا کر رہے ہیں اور اتنے بڑے کاروباری جینئیس ہیں کہ ایک روپیہ لگا کر ہزار روپیہ کما رہے ہیں۔ اگر یہ خاندان مل گئے تو بعید نہیں کہ ایک روپیہ لگا کر ہزار کی بجائے لاکھ کمانے لگیں۔

اسی بارے میں: ۔  لاہور دھماکہ: مانا جائے کہ نفرت جیت رہی ہے!

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 731 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar