کراچی میں سیاست کو راستہ دیں


کراچی سے اب چار دہائیوں بعد کہیں جا کر الطاف حسین کا زور ٹوٹتا محسوس ہوتا ہے۔ کراچی پختونوں، سندھیوں اور بلوچوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ 88 کے بعد ہر الیکشن میں الطاف حسین نے ثابت کیا کہ کراچی کی نمائندگی بس انہی کا حق ہے۔ البتہ ان کی ہر جیت کو زور زبردستی کے الزامات دھندلا دیا کرتے تھے۔ ہم جو مرضی کہیں حق پرست ووٹوں کی جس برتری سے جیتا کرتے تھے وہ جعلی ہو بھی سکتی ہے لیکن ان کی جیت اصلی ہی ہوا کرتی تھی۔

الطاف حسین نے سیاست میں نئے رجحانات متعارف کرائے۔ اپنی تنظیمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ عام لوگوں کو اسمبلی پہنچایا، انہوں نے جسے چاہا اسے آگے لے آئے، پھر جب چاہا اسی کو گمنام کر کے رکھ دیا۔ بہت کچھ نیا کر کے بھی ایک کام پرانا ہی کیا، وہ بھی پاکستانی مزاج کے عین مطابق۔ سیاست میں جو سیکھا، میدان میں سیکھا۔ تجربے کیے، لڑائیاں کیں، ریاست سے ٹکر لی پھر مدہم پڑے اور سمجھوتے کرنا سیکھے۔

پرویز مشرف کا دور متحدہ کے عروج کا دور مانا جاتا ہے۔ الطاف حسین تب ہوشیار ترین سیاستدان کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے تب ہی سب سے زیادہ سیاسی فوائد سمیٹے اور متحدہ کو مین سٹریم سیاسی پارٹی میں ڈھالا۔

مشرف دور میں پاکستانی معیشت بہت ہموار ہو کر چھ فیصد کی شرح سے ترقی کرتی رہی۔ اس ساری معاشی ترقی کی کہانی بس اتنی سی ہے کہ ملکی معیشت کا دوسرا نام کراچی ہے۔ یہ شہر پرسکون تھا کہ کراچی کا اقتدار متحدہ کے پاس تھا، مرکز اور صوبے میں بھی پارٹی کی اہمیت تھی۔ اس میں بھی ایک سبق ہے کہ جب جمہوری اکثریت کو مطمئن رکھا جائے تو ترقی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

مشرف دور آنے تک متحدہ اپنے زیادہ تر سیاسی سبق پڑھ چکی تھی۔ اس کے قائد لڑ گھل کر دیکھ چکے تھے، اہم دو چار سیاسی فیصلے کر چکے تھے۔ یہ سیاسی فیصلے بہت سادہ سے تھے کہ ہم سیاست میں ان ایشوز پر فرزندان زمین کی حمایت کریں جو ان کے لیے حساس اور اہم ہیں۔ مثال کے طور پر کالاباغ ڈیم، جس کا کوئی تعلق متحدہ کے حلقہ اثر سے نہیں تھا۔ متحدہ کا اس پر مؤقف سندھی قوم پرستوں کے ساتھ تھا۔ ریاستی زیادتیوں کے خلاف وہ بلوچوں کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ پختون قوم پرستوں کے اہم ایشوز، صوبے کے نام کی تبدیلی وغیرہ پر انہوں نے پختون قوم پرستوں کی مسلسل حمایت کی۔

الطاف حسین کا دوسرا سیاسی فیصلہ ان کی مجبوری تھی کہ کسی سیاسی جماعت کو تب تک کراچی میں نہیں گھسنے دینا جب تک انہیں پاکستان بھر میں سیاسی سپیس نہیں ملتی۔ الطاف حسین کے پاس صرف کراچی حیدرآباد تھا، یہیں سے ہار جانے کے بعد ان کے پاس کچھ بچتا ہی کب۔ ریاستی اداروں کی مخالفت نہ کرنا ان کا تیسرا فیصلہ تھا کہ وہ سیکھ گئے تھے کہ کارکن پٹوانے کے علاوہ اس مخالفت کا کچھ حاصل وصول نہیں۔ حکمت عملی سیدھی سادی تھی کہ الیکشن جیت کر ایک اچھی ڈیل حاصل کرنی ہے اور حکومت میں شریک ہو کر اپنے حلقہ اثر کو مستحکم رکھنا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  اب وہ کہتے ہیں کہ ”راہنما نہیں، منزل چاہیے“۔۔۔

2008 کے الیکشن کے بعد آصف زرداری نے دل بڑا کیا اور متحدہ کو صوبائی حکومت میں شریک کیے رکھا حالاںکہ نمبر گیم میں انہیں ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ کراچی کا اقتدار بہرحال اتنی کشش رکھتا ہے کہ اسے حاصل کیے بغیر حکومت کا مزہ ادھورا ہی رہتا ہے۔۔ حلقہ اثر کو مطمئن رکھنے کے لیے کام کرنا پڑتے ہیں جو متحدہ کر نہیں پا رہی تھی۔ اس کشمکش میں پی پی اور متحدہ کا تصادم ہونا تھا اور ہو کر رہا۔

 دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے بعد پی پی کا اقتدار سکڑا تو متحدہ بھی مرکز، صوبے اور کراچی کی شہری حکومت سے ہی باہر ہو گئی۔ اقتدار سے باہر ہو کر متحدہ کی فرسٹریشن بڑھی۔ پرانے گناہوں کا بوجھ بھی تھا اور نئی غلطیاں بھی ہوئیں۔ جب کراچی آپریشن شروع ہوا تو نشانہ ظاہر ہے اسی پارٹی کو بننا تھا جس کا کراچی کے سب سے بڑے علاقے پر قبضہ تھا۔ متحدہ تقسیم در تقسیم ہو گئی اور متنازع تقریر کے بعد متحدہ کے قائد تحریک کراچی پر اور اپنی ہی بنائی ہوئی متحدہ پر کنٹرول کھو بیٹھے۔ ووٹ ان کے پاس کتنا برقرار رہ گیا ہے اس کا پتہ اب اگلے الیکشن میں ہی لگے گا۔

الطاف حسین اس وقت زیر عتاب ہیں، پاکستان اس وقت بہت کامیابی سے شدت پسندی کی لہر کو پلٹنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ کامیابی ریاستی اداروں نے بڑی محنت سے قربانیاں دے کر اپنے زور بازو سے حاصل کی ہے۔ شدت پسندی کے خلاف ایک دل چسپ اور خاموش جنگ الطاف حسین نے بھی کراچی کے لیے لڑی ہے۔

جب محترمہ بے نظیر بم دھماکے میں شہید ہوئیں تو سندھ میں ایک بڑا ردعمل آیا۔ اس ردعمل کا نشانہ وہ سارے کاروبار بنے جو قبائل کے ہاتھ میں ہیں۔ چائے کے ہوٹل، گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والے بڑے ٹرالے اور ٹرک جلائے گئے۔ یہ سارا نقصان قبائل کا ہوا۔ انہی قبائل میں محسود بھی تھے۔ وزیرستان سے باہر محسود سب سے زیادہ کراچی میں رہتے ہیں۔ یہ اتنے زیادہ ہیں کہ صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ جیت سکتے ہیں اور قومی اسمبلی کی سیٹ پر ان کے ووٹوں سے نمایاں فرق پڑتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  میری فکری و نظریاتی بد دیانتی کے نفسیاتی پہلو (2)۔

قبائل کے ساتھ معاملات کے لیے سرکار اجتماعی ذمہ داری کا قانون استعمال کرتی ہے۔ یہ قانون قبائل کے مزاج کا حصہ بھی بن چکا ہے۔ وہ جب اپنا نقصان ہوتا دیکھتے ہیں تو ذمہ دار کی درست نشاندہی کر کے پھر اس کے سارے خاندان اور قبیلے سے تاوان کا مطالبہ بھی کرتے آئے ہیں۔ بے نظیر کی شہادت کے بعد دو لوگوں نے فوری طور پر صورت حال کا درست اندازہ لگایا۔ ٹی ٹی پی کے بیت اللہ محسود سمجھ گئے کہ کراچی میں کارروائیوں کا مطلب یہ ہو گا کہ محسودوں کے کاروبار نشانہ بنیں گے ایسا ہوا تو وہ قبائلی پریشر کا سامنا نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے اپنا سبق سیکھا کوئی ایسی کارروائی نہیں کی گئی جس سے ردعمل اتنا شدید ہوتا کہ قبائل کو مالی نقصان ہو اور ٹی ٹی پی انڈر پریشر آئے۔ الطاف حسین نے بھی بہت ٹھیک طرح سے ٹی ٹی پی کی دکھتی رگ پہچان لی اور اس پر ہاتھ ڈال دیا۔ وہ ٹی ٹی پی کو للکارتے رہے، کسی حد تک مشتعل کرتے رہے لیکن ٹی ٹی پی نے بیت اللہ اور حکیم اللہ کے دور میں کراچی کو نشانہ بنانے سے گریز ہی کیا، جو کارروائیاں ہوئیں ان کی ذمہ داری دوسری تنظیموں نے قبول کی۔

عرصے بعد کراچی میں پہلی بڑی کارروائی جس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی وہ چوھدری اسلم پر خود کش حملہ تھا۔ یہ ملا فضل اللہ کے امیر بننے کے بعد ہوا، محسودوں نے جسے امیر تسلیم نہیں کیا تھا۔ اب ملا فضل اللہ چاہتے تھے کہ محسود کراچی میں مار کھائیں۔ خیر یہ بات تو چلتے چلتے درمیان میں آ گئی۔ بات صرف اتنی ہے کہ جرم اور دہشت گردی کی راہ روکنی چاہئے۔ سیاسی لیڈروں کا فیصلہ ان کے ووٹر پر ہی چھوڑا جائے۔ جرائم کا حساب کرنے کے لیے عدالتیں موجود ہیں۔ سیاست میں بہرحال سب کو راستہ دینا چاہئے، یہ دروازہ کھلا رہے تو آنے یا جانے والوں کو کھڑکی دیواریں توڑ کر نہیں آنا پڑتا۔ بدلتے کراچی میں دل بڑا کریں۔ سکون سے سیاست کو راستہ دیں کراچی پرسکون ہو جائے گا تو ہمارے معیشت ایک بڑا جمپ لے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 261 posts and counting.See all posts by wisi