بچوں سے جنسی بد سلوکی کوئی مذاق نہیں


ہم ٹی وی ایوارڈ میں احسن خان کو ڈرامہ سیریل ‘اڈاری’ میں بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا۔ جب وہ یہ ایوارڈ لینے اسٹیج پر آئے تو وہاں پہلے سے موجود تقریب کے میزبان یاسر حسین مزاح کے نام پر آداب محفل بلکہ آداب انسانیت بھی بھول گئے اور کہا: “اتنا خوبصورت مولیسٹر۔ کاش میں بھی بچہ ہوتا۔” انکا اشارہ ڈرامے میں احسن کے کردار کی جانب تھا جو کہ ایک بچی سے زیادتی اور کئی بار زیادتی کرتا ہے۔ اس گھٹیا مزاح پر ہال میں موجود افراد قہقہے مارتے ہوئے دکھائی دیئے۔ وہ افراد نہیں تھے دراصل ہمارے معاشرے کی عکاسی تھی۔ سوشل میڈیا پرتھوڑا بہت بھی احساس رکھنے والے کافی افراد نے یاسر حسین کی اس بیہودہ حس مزاح کی مذمت بھی کی اور ان سے معافی کا مطالبہ بھی کیا۔ یاسر حسین نے بعد ازاں معذرت کر بھی لی۔ لیکن اس واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ اس موضوع کو لے کر کتنے سنجیدہ ہیں۔

یہ ایک ایسی بات ہے جسے سوچتے ہوئے دل کانپے مگر کبھی اس بچے کی جگہ خود کو رکھیں اور محسوس کریں کہ وہ کس اذیت کا شکار ہے۔ زیادتی کے متاثرہ بچے جو اذیت اور کرب کے ان لمحات سے گزرتے ہیں کہ پھر زندگی کا ہر رشتہ انہیں بوجھ سمجھتا ہے حتی کہ جنم دینے والی ماں بھی معاشرے کے خوف سے دن رات بددعائیں دیتی نہیں تھکتی “وے تو اک او واری مر جانا سی”۔ بھائی بہن دور بھاگتے ہیں کہ اس کلنک کی وجہ سے انکا مستقبل ضرور متاثر ہو گا۔ تائے چاچے دیکھ کر منہ پھیرتے ہیں۔ گلی کے اوباش نوجوان اور ویلے چاچے مامے انہیں دیکھ کر استہزائیہ انداز میں مسکراتے ہیں کہ چلو پریکٹس کے لئے اب کوئی ہاتھ تو آگیا۔ اگر اسکول میں پڑھتے ہوں تو بلاوا آ جاتا ہے کہ کل سے مت آنا۔ ہمارے اسکول کا ماحول خراب ہو گا اور محلے کی عورتیں روزانہ آکر بار بار پورا واقعہ سننے کے لئے اس کے سامنے آ بیٹھتی ہیں کہ اچھا پھر؟ آگے کیا ہوا؟

یاسر حسین کو ایسا بچہ بننے کی آرزو جاگی؟ اگر وہ ایسا بچہ ہوتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ مولیسٹر کتنا ہی خوبصورت، پر کشش اور حسین کیوں نہ ہو ساری زندگی اس کا تصور بدبودار بھبکے اور کانٹے دار الجھنیں لاتا ہے۔ اگر وہ ایسا بچہ ہوتے تو ان ہاتھوں کی سخت گرفت کو اپنی کلائیوں پہ محسوس کر پاتے، کسی بھیڑیے کی جانب سے زبردستی اپنے وجود کے لئے گئے بوسے اور اپنے جسم میں بار بار گڑھتے اسکے دانتوں کو ساری زندگی محسوس کر کے ایک انجانے خوف میں گھٹتے جاتے۔ انہیں پتہ ہوتا کہ جسم سے زبردستی کپڑے اتارتا ہوا درندہ کبھی بھی خوبصورت نہیں لگتا۔ آپکے جسم کو اپنی ہوس سے روندتا ، نوچتا، آپکی چیخوں کو اپنی ہتھیلی سے دباتا، اپنے ناخنوں سے آپکی گردن چھیلتا اور اپنے بھاری وجود سے زندگی بھر کیلئیے آپکی عزت نفس کو دباتا ہوا وجود کبھی بھی پر کشش نہیں ہوتا۔ یاسر کو احسن کے جسم سے اٹھتی کسی کولون کی خوشبو نے شاید مسرور سا کر دیا ہو گا مگر اپنی مردانگی کے زعم میں اٹھتے چند لمحوں کے غبار کو بٹھانے والے کے جسم سے ہمیشہ ایک ایسی بدبو آتی ہے جو ساری زندگی آپ رگڑ رگڑ کر بھی اپنے جسم سے دور کریں تو آپ ناکام رہتے ہیں۔ بچپن میں جو اپنی کمزور کلائیوں سے ایک بھاری وجود کو اپنے اوپر سے جھٹکنے میں ناکام رہہتے ہیں وہ اپنی باقی زندگی کی ہر رات اپنے سینے پہ پڑی سل کا بوجھ ناپتے ہیں، خدا کے سامنے جھکے اپنے اس گناہ کی معافی مانگتے ہیں جو انہوں نے نہیں کیا تھا مگر سزا انہوں نے پائی اور اپنی آخری سانس تک پائی۔ یاسر کو پتہ نہیں مگر یہ مولیسٹر کتنا ہی خوبرو کیوں نہ ہو، جب وہ اپنی ناپاکی اپنے جسم سے نکال کر متاثر بچے پہ نکال دیتا ہے تو وہ ساری زندگی وہیں رہتی ہے۔ اسکے دیئے ہوئے زخم تا عمر جسم پہ تازہ رہتے ہیں۔ صرف یاسر حسین ہی نہیں ہمارا معاشرہ اس موضوع کو لے کر بے حس ہے۔ یاسر صرف سماج کی عکاسی کر رہے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  چورن پنجاب میں نہیں، بلوچستان میں بیچا جا رہا ہے

جنسی بد سلوکی کی صرف ایک شکل نہیں ہے۔ کسی بچے کو زبردستی چومنا، کاٹنا، زور سے ہاتھ پکڑنا، اسکی مرضی کے خلاف اسے گلے لگانا، کمر یا جسم کے کسی حصے پر ہاتھ پھیرنا، بچے کو نہاتے یا لباس تبدیل کرتے ہوئے دیکھنا، مذاق اڑانے کی غرض سے اسکی شلوار اتارنا، بچے سے اصرار کرنا کہ وہ گود میں بیٹھے اور ایسی کئی حرکتیں جنہیں ہمارے معاشرے میں پیار اور مذاق کا ٹیگ لگا کر ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے ایک بچے کی عزت نفس کا تماشا بنایا جاتا ہے۔ آس پاس والوں کیلئے وہ صرف ایک بڑے کا کسی بچے سے اپنے طریقے سے پیار یا مذاق ہے مگر بچہ کیا محسوس کرتا ہے یہ کوئی جاننا ضروری نہیں سمجھتا۔ وین والے انکل کا کسی مخصوص بچی کو غیر ضروری طور پر سب سے آخر میں اتارنا، قاری صاحب یا ٹیوٹر کا دروازہ بند کر کے پڑھانا اور عمر میں کافی بڑے کزن کا غیر ضروری بوسے لینا الارمنگ پوائنٹس ہیں جنہیں ماں یا گھر کے کسی ذمہ دار فرد کو نوٹ کرنا چاہیئے۔

جنسی بد سلوکی کی شکل کوئی بھی ہو، اس سے متاثرہ بچہ اپنے لا شعور میں کسی خوف کا شکار رہ کر زندگی کی منزلیں طے کرتا ہے۔ اسکے غصے، ضد، چڑچڑے مزاج کو کوسنے کے بجائے وجہ معلوم کر کے اس ڈپریشن کو بانٹ کر کم کیا جا سکتا ہے۔ ہر رات دنیا اور ذہن کے اندھیروں سے لڑتا وہ بچہ اسی عمر میں انہی کپڑوں میں اسی کمرے میں پہنچ جاتا ہے جہاں اسکے ساتھ اس طرح کا ظلم ہوا تھا۔ اور وہ اسی جگہ بیٹھ کر فریاد کرتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  پہلا مارشل لا، کرنل مجید ملک اور صحافی کے مشاہدات (پہلا حصہ)

خدا سے کہو وہ مجھے معاف کر دے

گناہ ثواب، جائز ناجائز سب کھاتے وہ ہی جانے

مجھے صرف یہ پتا ہے کہ جس دن تک مجھے

میرا ماضی ذہن کی جھریوں سے جھانکتا رہے گا

اس دن تک میرے عذاب کی مدت اور شدت کم نہیں ہو گی۔

میری آواز گھٹ جاتی ہے

میری ہمت مرتی جاتی ہے

تم ہی کرو سفارش

وہ مجھے معاف کر دے

تم ہی کرو استدعا

کہ چھوٹ جائیں وہ ساری بندشیں

کہ ٹوٹ جائیں وہ سب ہی ڈوریں

دل و دماغ نے جو اب تک تھام رکھی ہیں

کہو اس سے

کہ وہ ایک بار

معاف کر دے

ان گناہوں کے لئے

جو میرے نہیں تھے

مگر اسے کوئی جواب نہیں ملتا کیونکہ اسکی مخاطب دنیا اندھی، گونگی، بہری ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ایک حقیقی خوش زندگی دینا چاہتے ہیں تو ہمیں آنکھیں، کان، زبان اور سوچ کے قفل کھولنے ہونگے اور ہمیں انکا محافظ بننا ہو گا۔ بچوں کو دنیا میں لانا کوئی کارنامہ نہیں ہے۔ یہ کام جانور بھی کرتے ہیں۔ اپنے بچوں کی دنیا کو محفوظ بنانا اور اس دنیا کو ایک کامیاب انسان دینا ضرور ایک کارنامہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔