آزاد صحافت ، جابر سلطان اور اخبار مالکان


 فضول سی بحث ہے آزادئ صحافت کی۔ اس معاشرے میں جو ممکن ہی نہیں ہم اس کے خواب دیکھتے ہیں اور اس لئے دیکھتے ہیں کہ ابھی تک ہمارے خواب دیکھنے پر پابندی نہیں۔ لیکن یہ بھی تو بے معنی سی بات ہے۔ حقیقت بہت تلخ ہے، ہم وہ بد قسمت ہیں کہ جن سے ان کے خواب بھی چھینے جا چکے ہیں۔ خواب نیند سے مشروط ہوتے ہیں خواب آور گولیوں سے نہیں۔ گالی اور گولی کے کھیل نے ہمیں خواب آور گولیوں کا اسیر کر دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنے خوابوں سے محروم ہوگئے۔ اور ان خوابوں میں آزادئ صحافت کا خواب بھی شامل ہے۔

آج کے دن ہمیں اور آپ کو بہت بلند بانگ دعوے سننے کو ملیں گے۔ آج کے دن بتایا جائے گا کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں صحافت پر بہت پابندیاں تھیں ، لیکن ہم نے مسلسل جدوجہد کے ذریعے صحافت (جس کا نیا نام اب میڈیا ہے) کو آزاد کرا لیا۔ ایسی گفتگو کرنے والے اگرچہ خود بھی اپنی حیثیت بلکہ اوقات سے آگاہ ہوتے ہیں لیکن جانے کیوں پھر بھی اس قسم کی بے سروپا گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمیں یہ زعم ہے کہ ہم نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے آمریت سے نجات حاصل کی۔ قربانیوں سے ہمیں انکار نہیں۔ بلا شبہ جمہوریت پسندوں نے بہت سی قربانیاں دیں لیکن اس کے نتیجے میں آمریت کا خاتمہ ہو گیا ، یہ بے معنی اور فضول سا دعویٰ ہے۔ آزادیاں دینے والوں نے ہمیں اپنی حکمت عملی کے تحت آزادیاں دیں ، کسی قربانی کے نتیجے میں جمہوریت کا تاج سروں پر نہیں سجایا گیا۔ تین عشروں سے زیادہ کی صحافتی مشقت کے بعد کم از کم ہمیں تو ایسی کوئی خوش فہمی نہیں کہ صحافت ہمارے سینئرز کی قربانیوں کے نتیجے میں آزاد ہوگئی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران وہ ہیروز بھی ہماری نظروں سے گر گئے جنہیں ہم قید و بندکی صعوبتوں یا کوڑوں کی وجہ سے باعثِ تکریم سمجھتے تھے۔ گزشتہ برس ایسی ہی بعض محترم ہستیوں نے جب بول کا ڈھول گلے میں ڈال کر آزادئ صحافت کا علم بلند کیا تو گویا سب کچھ ریت کے گھروندے کی طرح مسمار ہو گیا۔ نتیجہ یہی نکلا کہ جب آپ کوڑے کھا رہے تھے اس وقت کچھ اور لوگ اْن کے لئے قابلِ قبول تھے جن کے لئے اب آپ قابلِ قبول ہو گئے ہیں۔ صحافت کی آزادی اس وقت بھی آپ کی منزل نہیں تھی اور آج بھی یہ محض ایک نعرہ ہے۔ کارکن صحافی بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی آزادی ان کے مالکان کی پالیسیوں کے تابع ہوتی ہے۔ انہیں جابر حکمران نہیں جابر مالک سے پوچھ کر کلمہ حق ادا کرنا ہوتا ہے۔

حالات تو اب اس قدر ابتر ہو گئے کہ آزادئ صحافت اشتہارات سے مشروط ہو گئی ہے۔ حکومت یا حساس ادارے تو دور کی بات اخبارات اور چینلز تو اب کسی مقامی اشتہاری پارٹی کے بارے میں بھی حقائق منظر عام پر نہیں لا سکتے۔ خیر اس تلخ حقیقت کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں اور ذرا یہ سوچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس مرتبہ آزادی صحافت کا دن کس ماحول میں منایا جا رہا ہے ۔ یہ وہی دن ہے ناں جو آزادئ صحافت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کی یاد میں منایا جاتا ہے ۔ پاکستان میں آج یہ دن ایک ایسے ماحول میں منایا جا رہا ہے جب ڈان لیکس کا معاملہ شہ سرخیوں میں ہے ۔ اور یہ معاملہ ہے کیا ۔ بس اتنی سی بات ہے ناں کہ ایک اخبار نے وز یراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی خبر چھاپ دی جس پر مقتدر اداروں کو اعتراض تھا کہ یہ خبر درست نہیں ہے ۔ اخبار آج بھی اس خبر کی صحت سے انکار نہیں کرتا اور ایڈیٹر کا اصرار ہے کہ ہماری خبر درست ہے ۔ اخبار کی جانب سے اس خبر کی تردید بھی شائع نہیں کی گئی ۔

اس خبر کی تحقیقات کے لئے قائم ہونے والے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد حکومت کی جانب سے کچھ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی جسے آئی ایس پی آر کی جانب سے بیک جنبشِ ٹویٹ مسترد کر دیا گیا ۔ کمیشن کی رپورٹ کیا ہے اس کے مندرجات سے ہم اور آپ آج بھی بے خبر ہیں اور شاید بے خبر ہی رہیں۔ جیسے ہم پر آج تک اور بہت سی تحقیقاتی رپورٹوں کا بھید نہیں کھل سکا ۔ جن ذمہ داروں کے خلاف کارروائی پر اصرار کیا جا رہا ہے ان پر الزام ایک ہی ہے اور آج یومِ آزادئ صحافت کے موقع پر یہ ایک الزام ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں صحافت کس قدر آزاد ہے ۔ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید اور محکمہ اطلاعات اور وزیر اعظم ہاؤس کے افسروں پر بنیادی الزام ہی یہ ہے کہ انہوں نے اس خبر کی اشاعت رکوانے کی کوشش کیوں نہیں کی جو ملکی سلامتی یا بعض اداروں کے مفاد میں نہیں تھی۔ پاکستان میں آزادئ صحافت اور کارکنوں کے حقوق کے نام پر صحافتی تنظیموں کے عہدوں کا لطف اُٹھانے والوں میں کیا اتنی جرائت ہے کہ وہ آج کے دن اس بنیادی مسئلے پر اظہار خیال کر سکیں ۔

وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے ڈان لیکس کے حوالے سے جو احکامات جاری کئے گئے ان میں اے پی این ایس سے کہا گیا تھا کہ وہ ڈان کی خبر کے حوالے سے متعلقہ رپورٹر اور اخبار کی انتظامیہ سے رابطہ کرے اور ایسے معاملات میں ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنائے ۔ یقیناًیہ معاملہ اے پی این ایس اور دیگر صحافتی تنظیموں کو خود حل کرنا چاہئے کہ ان تنظیموں میں ایسے سینئر صحافی موجود ہیں جن کی پیشہ ورانہ اہلیت اور حب الوطنی پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ۔ حقیقت یہی کہ صحافت آج اپنے بد ترین دور سے گزر رہی ہے ۔ صحافیوں کی جانیں بھی محفوظ نہیں اور وہ بد ترین حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ آج کے دن کھوکھلے اور بے معنی نعروں کی بجائے اس بات پر غور کیا جانا چاہئے کہ ہمیں اپنی آزادی کا تحفظ کیسے کرنا ہے۔

(بشکریہ: گرد وپیش ۔ ملتان)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔