کچھ ملالہ یوسف زئی کی کتاب کے بارے میں


aamir hashim برادرم وقار احمد ملک کی ملالہ یوسف زئی کے حوالے سے تحریر (ملالہ ڈرامہ اور پیچیدگی پسند ذہن) پڑھ کر خیال آیا کہ ملالہ کے حوالے سے اپنی بھی ایک تحریر شئیر کی جائے۔ ملالہ کی کتاب کے آنے کے چند دن بعد یہ لکھا تھا اور اس کتاب کو پڑھ کر لکھا تھا ۔  برادرم  وقار احمد ملک  کے بلاگ کو پڑھ کر یوں لگا کہ جیسے رائیٹ ونگ کے سب لوگوں نے ملالہ کی کتاب پڑھے بغیر ہی اس پر لعن طعن شروع کر دی تھی۔ ایسا نہیں تھا ۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے ہاں رویوں میں شدت آ گئی ہے، کسی بھی بحث میں فوری طور پر انتہائی پوزیشن لے لی جاتی ہے، ملالہ کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ بہت سے لوگوں نے ملالہ پر بے جا تنقید بھی کی، مگر اس کی کتاب میں بہرحال کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر نقد کیا جا سکتا ہے۔ انہی پہلوﺅں کی طرف اشارہ کرنے کی جسارت کی….

….. ……. ….

” آئی ایم ملالہ “کو پڑھتے ہوئے سب سے زیادہ احساس یہ ہوتا ہے کہ اس میں ملالہ یوسف زئی کی شخصیت کے بجائے سوات کے رہائشی ایک پشتون قوم پرست ٹیچر اور سکول کے مالک ضیاءالدین یوسف زئی کی شخصیت زیادہ نمایاں ہو کر ابھری ہے۔”آئی ایم ملالہ “کے ابتدائی ابواب ہمیں ضیاءالدین یوسف زئی نامی اس شخص کی شخصیت کے مختلف گوشوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ لڑکپن میں ضیاءالدین ایک طالب تھا،اس میں مذہبی جذبات نمایاں تھے ۔بعد میں وہ پشتون قوم پرستوں کے حلقے کے قریب ہوگیا۔ ایسا حلقہ جوسابقہ نیپ اور موجودہ اے این پی کے سے سیاسی نظریات کا حامل ہے۔ پشتون قوم پرستی، لبرل ازم اور کسی حد تک سیکولر نظریات کا حامل ۔جو مذہبی عناصر کو پسند نہیں کرتا، انہیں ملا کے نام سے پکارتا اور ان کے خلاف ایک خاص قسم کا رویہ رکھتا ہے۔۔ سوات کے ایک مخصوص حلقے کی طرح وہ بھی یہ والیان سوات کا مداح اور یہ سمجھتا ہے کہ سوات کے پاکستان کے ساتھ ادغام سے سواتیوں کو کچھ نہیں ملا۔ ایک لبرل سیکولر شخص مذہبی معاملات کو جس طرح دیکھتا اور مختلف عوامل پر جو نقطہ نظر رکھتا ہے، اسلامائزیشن، طالبانائزیشن، توہین رسالت قانون ، اور اس طرح کے بعض دیگر معاملات پر ضیاءالدین یوسف زئی کی آرا بعینہ اسی طرح کی ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ ضیا ءالدین یوسف زئی ملالہ یوسف زئی کے والد ہیں۔ ملالہ کی شخصیت پر ان کا اثر غیرمعمولی ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ملالہ نے زندگی اور پاکستانی سماج کے کم وبیش ہر معاملے میں وہی رائے اپنائی ہے، جو اس کے والد کی ہے۔ ملالہ کا ”اختلافی نوٹ“ کہیں نظر نہیں آتا۔ کم از کم اس کی کتاب پڑھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ آئی ایم ملالہ کے شریک مصنفین میں کرسٹینا لیمب کے ساتھ ضیاءالدین یوسف زئی صاحب بھی (ظاہر کئے بنا)شامل ہیں۔ یہ ایک لحاظ سے غلط اور علمی بددیانتی کے مترادف ہے۔

ملالہ یوسف زئی کی اس بائیوگرافی کو اس کی اپنی شخصیت کا عکاس ہونا چاہیے تھا۔ اس کتاب کے بعض حصوں میں اس طرز کے بڑے عمدہ ٹکڑے موجود بھی ہیں۔ جہاں جہاں ملالہ نے اپنے ایکسپریشن کو بیان کیا،وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اپنے گھر، گاﺅں ، پہاڑوں کا نقشہ کھینچنے سے لے کر اپنے والدین کی کردار نگاری، وہ چھوٹے چھوٹے معصوم واقعات جوبچوں سے سرزد ہوتے ہیں۔ جب ایک سہیلی نے اس کا کھلونا چوری کیا تو اس نے جواباً اس کے بعض کھلونے چوری کر کے اپنے باکس میں چھپا لئے، ایک دن ماں کو پتہ چل گیا۔ وہ منظر دل کو چھو لینے والا ہے، جب معصوم بچی بہتے آنسوﺅں کے ساتھ اپنی ماں کو کہتی ہے کہ ابا کو نہ بتا نا کہ انہیں تکلیف ہوگی۔ افسوس کہ اس کتاب کو غیر ضروری طور پر…. ناقابل فہم طور پر ،سنجیدہ سیاسی ، معاشرتی اور مذہبی معاملات میں الجھا دیا گیا۔ ملالہ ایک ذہین بچی ہے، ہم اسے اگر مزید رعایت دیتے ہوئے غیر معمولی ذہین بھی تصور کر لیں ،تب بھی اس کتاب کے کئی حصے ، بیسیوں صفحات اس کے بیان کردہ نہیں، اس کے مشاہدے، مطالعے اور سوچ سے تعلق نہیں رکھتے۔ اس میں کرسٹینا لیمب کا نقش بھی گہرا ہے۔ کرسٹینا اچھا لکھنے والی ہے، اس نے مغربی مصنفین کے مخصوص ڈرامائی انداز میں پہلا باب لکھا، قارئین کی دلچسپی پیدا کی اور پھر فلیش بیک میں جاتے ہوئے ملالہ کی کہانی بیان کی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ملالہ کی داستان کو خواہ مخواہ ادھر ادھر گھما پھرا دیا۔کتاب کے بہت سے ایکسپریشن ملالہ کے بجائے کرسٹینا لیمب کے قلم کی پیداوار لگتے ہیں۔زلزلے کی تباہی بیان کرتے ہوئے لکھا گیا کہ متاثرہ علاقہ امریکی ریاست کنکٹی کٹ کے برابر ہوگا۔ یہ اظہار ظاہر ہے ملالہ کا نہیں۔ تاہم انہیں چونکہ ملالہ ، ان کے والد، والد کے دوستوں اورملالہ کے مینٹور اور گرو بی بی سی کے عبدالحی کاکڑ کی منظوری حاصل ہے، جس کا اعتراف ملالہ نے آخری صفحات میں کیا، اس لئے اس کی ذمہ داری صرف کرسٹینالیمب پر نہیں عائد کی جا سکتی۔

چند ایک مقامات پر قاری کو الجھن ہونے کے ساتھ ساتھ کرب کا اظہا ر ہوتا ہے۔ ہمارے پاکستانی سماج میں عام پڑھا لکھا شخص بھی حضور ﷺ کا نام لکھتے ہوئے ﷺیا انگریزی میں PBUHکا مخفف استعمال کرتا ہے۔ اس کتاب میں کہیں ایسی زحمت نہیں کی گئی۔اسی طرح پاکستانی بچے ہوں یابڑے لاشعوری طور پر قائداعظم کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ملالہ کی کتاب میں ہر جگہ جناح کا لفظ لکھا گیاہے، میر ا خیال ہے کہ ملالہ اگر خود لکھتی تو لاشعوری طور پر قائداعظم ہی لکھتی۔ ہر چیپٹر کے شروع میںپشتو اشعار یا ٹپہ درج کیا گیا، جس کا انگریزی ترجمہ بھی ساتھ دیا گیا۔ اس میں کوئی حرج نہیں ،مگر یہ ایسے پشتون قوم پرست لکھاری کے لئے تو درست ہو گا جس کی پشتو ادب پر گہری نظر ہو،سکول کی طالبہ ملالہ کی کتاب میں ایسا کرنا غیر منطقی اور بے جوڑ ہے۔

سب سے حیران کن رویہ ہر ایسے ایشو میں ٹانگ اڑانا رہا، جس کی مغرب میں اہمیت ہو۔ سلمان رشدی مردود کی کتاب ملالہ کی پیدائش سے نو سال پہلے شائع ہوئی تھی، پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلم سماج اور خود مغرب میں بھی اس کتاب کو مسترد کیا گیا۔بد بخت رشدی نے کروڑوںاربوں مسلمانوں کا دل دکھایا۔آج کل تو ویسے بھی رشدی کی کتاب آﺅٹ آف ڈیٹ اور غیرمتعلق ہوچکی، اس پر تبصرہ کرنے ،ایسی شیطانی کتاب کو اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں جواز فراہم کرنے کی کوئی تک نہیں تھی۔ جس نے بھی یہ پیرا گراف شامل کرایا، اس نے ہم سب کے ساتھ اور خود ملالہ کے ساتھ زیادتی کی۔ یہ سلسلہ آگے بھی بڑھتا ہے۔ پاکستانی ایٹمی دھماکوں کے بارے میں ناپسندیدہ ریمارکس سے لے کرایک جگہ پر ملالہ کی زبانی یہ کہلوانا کہ آج کل کے حالات سے تو ہم متحدہ ہندوستان میں رہتے زیادہ بہتر نہ ہوتا، پھر توہین رسالت کے مقدمے میں سزا یافتہ آسیہ بی بی کیس کا تذکرہ، اسامہ بن لادن پر امریکی حملے کے حوالے سے فورسز ، ایجنسیز کے خلاف تبصروں تک ہر موضوع زیر بحث لایا گیا۔ اگر کسی موضوع کو چھوڑا گیا تو وہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے ساتھ ہونے والا کھلا ظلم اور ڈرون حملوں کے ذریعے ہونے والی ہلاکتیں ہیں۔ مغرب میں درد دل رکھنے والے ڈرون پر دستاویز فلمیں بنا رہے ہیں، ان کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ پشتون قوم پرستی پر نازاں ملالہ جو خود کو سواتی اور پشتون پہلے اور پاکستانی بعد میں قرار دیتی ہے، اس نے ڈرون سے مرنے والے پشتونوں سے اظہار ہمدردی کی زحمت ہی نہیں کی، شاید اس لئے کہ امریکی اور برطانوی حکومتوں اور وہاں کی طاقتور لابیوں کو یہ گوارا نہیں۔

اس کتاب کے بعض حصے خوبصورت ہیں، مگر مجموعی طور پر یہ مغربی قارئین کے لئے لکھی گئی۔ مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ شائد ملالہ اور اس کے خاندان نے یہ محسوس کر لیا کہ ان کے لئے اب سوات یا پاکستان میں رہناممکن نہیں،ا س لئے انہوں نے مغرب میں اپنا مستقبل بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ یہ اس لحاظ سے افسوسناک ہے کہ ملالہ کے حامی صرف لبرل اور سیکولر نہیں بلکہ اعتدال پسند پاکستانیوں کو بھی ملالہ کے روپ میں ایک اہم علامت نظر آئی تھی۔ اثر لکھنوی نے اردو کے مشہور رومانوی شاعر اسرارلحق مجاز کے بارے میں کہا تھا، ”اردو شاعری میں مجاز کے روپ میں ایک کیٹس پیدا ہواتھا، افسوس کہ ترقی پسندوں کے بھیڑیے اسے اٹھا کر لے گئے۔“ افسوس کے ساتھ یہی بات ملالہ کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ ملالہ یوسف زئی کے لئے پاکستان میں سماجی ترقی کے لئے اہم کردار ادا کرنے کی گنجائش تھی، اس کے اپنے بہی خواہوں نے وہ ختم کر دی۔


Comments

FB Login Required - comments

15 thoughts on “کچھ ملالہ یوسف زئی کی کتاب کے بارے میں

  • 25-02-2016 at 5:49 am
    Permalink

    دل چسپ

  • 25-02-2016 at 8:27 am
    Permalink

    Well rationalized

  • 25-02-2016 at 8:32 am
    Permalink

    پاکستان میں “رائٹ” کے نام لیوا لکھاریوں کی جانب سے کرسٹینا لیمب کی ملاله کے بارے میں لکھی گئی کتاب پر تبصروں میں محترم خاکوانی صاحب کا مضمون غالبا سب سے زیادہ اعتدال اور معروضیت لئے ہوۓ تھا اور اس خادم کے منہ سے اس کی اولین اشاعت کے موقع پر ہی ایک خفیف آفرین بلند ہوئی تھی. اولین اشاعت سے اب تک اس کالم میں مذکور اہم تر اعتراضات کو رفع کیا جا چکا ہے. مثلا رسول مقبول (ص) کے اسم گرامی کے ساتھ ہر مرتبہ درود چھپنے کا معاملہ. اگرچہ محترم وقار ملک کی توجیہہ تکنیکی اعتبار سے درست ہے، مگر ضیا الدین یوسفزئی صاحب نے اس کے باوجود کتاب چھپنے کے فورا بعد اسے ایک سماجی فروگزاشت مانتے ہوۓ اگلے ایڈیشن میں اس کے ازالے کا عزم کیا تھا. اسی طرح ڈرون حملوں کے حوالے سے یہ توفیق صرف اور صرف ملاله ہی کو ارزاں ہوئی کہ امریکی صدر اوباما کے منہ پر، سر عام، اس نے ڈرون حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا، ورنہ عوامی جلسوں میں زوروشورسے اس موضوع پر شعلہ فشانی فرمانے والوں کو ہم نے امریکی سفیر تک کے سامنے اس باب میں منقار زیر پر پایا.. چو بہ خلوت می رسد آں کار دیگر می کند.. اسی طرح بیت لحم کا علامتی پاسپورٹ حاصل کرکے ملاله نے ان لوگوں کے سر جھکا دیۓ ہیں جو اس پر صہیونی لابی سے ساز باز کا الزام لگاتے تھے.

    یہ اعتراض بھی خادم کو پہلی اشاعت کے موقع پر ہی عجیب لگا تھا کہ کتاب میں ان واقعات پر راے زنی کی گئی ہے جو ملاله کی پیدائش سے پہلے کے ہیں. جب کہ اور کوئی نہیں، “رائٹ” کے ہی، خادم کے میٹرک پاس کرنے کے بعد پیدا ہونے والے لکھاری جنگ آزادی، تقسیم بنگال، قیام مسلم لیگ، دو قومی نظریے وغیرہ پر نہایت شرح و بسط سے اظہار خیال فرماتے ہیں گویا وہیں موجود تھے. ظاہر ہے کہ تمام کا تمام علم اور تاثرات بصری نہیں ہوتے. اس بات پر تو راقم پہلے ہی محترم خاکوانی صاحب کی نظر خراشی کا مرتکب ہو چکا ہے کہ خود کو بہ التزام و بہ اصرار “صرف مسٹر جناح” کہلوانے والے پر القاب و عرفیات کا بوجھ لادنا محض خوش خیالی ہے، پاکستانیت کی لازمی و کافی نشانی نہیں.

    پشتو ٹپوں اور ان کے انگریزی مفہوم پر اعتراض اگر کسی اور سمت سے آیا ہوتا تو ہم اس پر لسانی تنافر یا ثقافتی بالا دستی کی کوشش کا گمان کرتے. محترم خاکوانی صاحب کے قلم سے یہ دیکھ کر … کجا ماند مسلمانی.. والا مصرع زبان پر آتے آتے رہ گیا. کیا پشتو اس ملک کی زبان نہیں ہے؟ کیا اس کے کلاسیکی ادب کو ترجمے کی راہ سے فروغ دینے سے نظریہ پاکستان کی کسی خود ساختہ تعبیر کو زک پہنچتی ہے؟ لفظ “ملا” پر اعتراض بھی پشتون کلچر سے ناواقفیت کی دلیل ہے. یہ لفظ پشتو زبان میں بغیر کسی قسم کی تحقیر کے استعمال ہوتا ہے. یہ “مولانا”، “مد ظلہ العالی”، “حضرت” قسم کے الفاظ تو اردو جیسی سر گشتہ رسوم و قیود زبان میں بھی نسبتا نئی بدعت ہیں. ویسے تو علامہ اقبال نے بھی جا بجا اس لفظ کا استعمال کیا ہے جس کی دو ایک مثالیں اگر یہاں دے دی گئیں، تو محترم خاکوانی صاحب کو تو شاید نہیں، مگر “رائٹ” کے مویدین کی باقی اکثریت کو یقینا خفت محسوس ہو گی.

    الحمد لللہ، ملاله کے پاکستان میں سماجی ترقی میں کردار اضافہ ہی ہوا ہے، بلکہ اس کردار کا دائرۂ کار پوری دنیا تک پھیل چکا ہے. ثم الحمد لللہ.

    • 25-02-2016 at 9:47 am
      Permalink

      عمدہ جواب ھے قاضی صاحب

  • 25-02-2016 at 8:52 am
    Permalink

    برسبیل تذکرہ، مجاز کے بارے میں راے قائم کرتے ہوۓ اثر لکھنوی کی نگاہ نجانے کیٹس کی روایت کے اصل عکس، اختر شیرانی کی جانب کیوں نہ گئی. اگر یہاں نواب جعفر علی خان اثر مراد ہیں، تو ان کے بارے میں یہ شعر پتا نہیں مجاز کا ہی ہے یا کسی اور کا کہ

    زمانے کی رفتار سے بے خبر ہیں
    یہ نواب جعفر علی خاں اثر ہیں

  • 25-02-2016 at 10:07 am
    Permalink

    محترم قاضی صاحب, آپ کے بیان کردہ نقاط کا جواب تو خاکوانی صاحب ہی کو زیبا ہے. میرا جو پہلا تاثر اس کالم کو پڑھ کر پہلی مرتبہ بنا تھا اس حوالے سے آپ کا اعتراض سمجھ نہیں آیا. ملالہ کی تمام تر ذہانت کے باوجود ملالہ کی عمر کو دیکھتے ہوے خاکوانی صاحب کا تبصرہ کچھ اتنا بےجا بھی نہیں. انہوں نے پشتو زبان پر نہیں بلکہ ہر باب سے پہلے سنجیدہ شعر کے التزام پر کہا ہے کہ اس سے شاید ملالہ کے بارے میں ایک خاص تاثر دینا مقصود ہے جس کی بادی انظر میں کوئی ضرورت نہیں تھی. دوسری بات بھی شاید اسی تناظرشاید میں بیان کی گءی ہے کہ اپنی عمر سے پہلے کے واقعات پر ایک مخصوص تنقید کرسٹینا لیمب اور جناب ضیاءالدین صاحب کے منہ سے کہلواءی جاتی تو زیادہ اچھا تھا نہ کہ اسےI Am Malala کے عنوان سے بیان کیا جاتا.

    • 26-02-2016 at 8:09 pm
      Permalink

      عابد صاحب آپ نے درست بات کی ہے، مکمل اتفاق ہے، یہی بات میں بھی عرض کرتا، آپ کا شکریہ کہ آپ نے یہ نکتہ بیان کیا۔ جزاک اللہ ۔

  • 25-02-2016 at 3:34 pm
    Permalink

    محترم خاکوانی صاحب کے ایک مستقل قاری کی حیثیت سے خاکسار کی بدقسمتی ہے کہ ان کا یہ کالم پہلے نظر سے نہیں گزرا تھا۔ اس کی بجائے محترم خاکوانی صاحب کا کالم ” ملالہ یوسفزئی اور اس کی کتاب“ ہی پڑھنا نصیب ہوا تھا جس کے آخری پیراگراف کے بارے میں خاکسار کی کیفیت ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم سی تھی۔گو خاکوانی صاحب نے اس کالم کے آخر میں لکھا تھا کہ کتاب پر اگلی نشست میں بات ہو گی مگر ایسا جملہ خاکوانی صاحب کے دیگر کالموں میں بارہا پڑھا لیکن شاید موضوعات کے تنوع کے باعث ان کو وقت نہیں ملتا۔اس کالم میں خاکوانی صاحب نے فرمایا تھا، ’ کہ سخاروف ایوارڈ جسے اعزازات صرف اچھی نیت یا مظلومیت پر نہیں بلکہ عمر بھر کی جدوجہد اور سرگرم رہنے پر ملا کرتے ہیں۔ملالہ کا تمام کریڈیٹ اس کی گل مکئی کی ڈائری ہے۔یہ درست ہے کہ اس نے سوات کے پرخطر ماحول میںرہ کر طالبان کے خلاف آواز بلند کی اور بچیوں کی تعلیم کی وکالت کی۔یہ جرات مندی قابل ستائش تھی ۔ یہ بھی مگرحقیقت ہے کہ ملالہ وہاں کوئی تعلیمی تحریک برپا نہیں کر رہی تھی۔وہ اپنی معمول کی تعلیم میں مگن تھی۔سچ تو یہ بھی ہے کہ اسے سکول جانے اور تعلیم حاصل کرنے پر نشانہ نہیں بنایا گیا۔اگر ایسا ہوتا تو اس کے سکول اور سوات کے دیگر سکولوں کی ہزاروں بچیوں میں سے کسی اور کو نشانہ بنایا جاتا۔ملالہ سے پہلے اور بعد میں سکول جانے والی کسی بچی پر حملہ نہیں کیا گیا۔ملالہ پر حملہ ٹارکٹ کلنگ کی کوشش تھی، وجہ صرف یہ تھی کہ اسے نقصان پہنچا کر ایک تو فورسز اور اینٹی طالبان قوتوں کے بنائے گئے ایک آئیکون، سمبل یا علامت کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے، دوسرا انہیں معلوم تھا کہ ملالہ پر حملہ اگلے روز کے اخبارات کی لیڈ ہو گی۔ انہیں اس کی ضرورت تھی تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ فورسز سوات میں امن قائم رکھنے میں ناکام رہیں اور طالبان دوبارہ قوت پکڑ چکے ہیں‘۔
    اے پی ایس پشاور اور باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد یقینناََ خاکوانی صاحب کا تاثر بدل گیا ہو گا۔ خاکسار کو البتہ صرف ایک گزارش کرنی ہے کہ اس کالم میں بھی خاکوانی صاحب نے دبے دبے الفاظ میں عبدالحئی کاکڑ کو ملالہ کے پیچھے کارفرما قرار دیا اور اس کالم میں بھی عبدالحئی کاکڑ کا نام استعمال ہوا ہے۔ عبدالحئی کاکڑ آجکل پراگ میں مشال ریڈیو کے لئے پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔خاکسار کی عبدالحئی کاکڑ سے پرانی یاد اللہ ہے۔ ابھی چند دن پیشتر جب وہ پاکستان میں سرکار کے نئے دریافت کردہ مورخ ”جمعہ خان صوفی“ کا انٹرویو کرنے آئے تھے تو خاکسار کو ان سے اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ بی بی سی میں خدمات انجام دیتے ہوئے عبدالحئی نے یہ ضرور کیا کہ بطور انچارج یا مدیر ملالہ کی موصول ہونے والی تحریر کی نوک پلک سنواری ہو گی جو کہ ہر مدیر کے بنیادی فرائض میں شامل ہے مگر یہ کہنا کہ اس کتاب میں عبدالحئی کاکڑ کی فکر شامل ہے یا وہ ملالہ کے اتالیق ہیں، زیادتی ہے۔ چونکہ خاکوانی صاحب خود میگزین پیچ کے انچارج ہیں اور ان ہی کے زیر ادارت میگزین میں ہمارے ممدوح رعایت اللہ فاروقی صاحب اور ہمارے محترم دوستوں فرنود عالم اور حسنین جمال کی تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔ فاروقی صاحب تو خیر خود استاد الاساتذہ ہیں مگر کسی موقع پر فرنود عالم یا حسنین جمال اگر محترم خاکوانی صاحب کو اپنا ”مینٹور“ یا استاد قرار دیں تو یہ کسی صورت مناسب نہیں ہو گا کہ کوئی شخص حسنین جمال یا فرنود عالم کے پیچھے خاکوانی صاحب کا ہاتھ تلاش کریں۔ ہاں داکٹر عافیہ صدیقی کا ذکر نہ کرنے تک آیا کہ ایک بار کسی پاکستانی دانشور نے سارتر سے کہا تھا کہ آپ نے کشمیر کے لئے کیا کیا ہے حالانکہ خاکسار کا خیال کہ یہ سوال ان کو مرحوم یاسر عرفات سے پوچھنا چاہیے تھا۔

  • 25-02-2016 at 4:31 pm
    Permalink

    باقی تو خیر اپنی جگہ، مگر میگزین پیج سے کیا مراد ہے حضرت۔ اخبارات کے میگزین سے مراد سنڈے میگزین ہوتا ہے جو کہیں چوبیس صفحات اور کہیں پر جیسے دنیا اور جنگ کا بتیس صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے ساتھ روزانہ کے دو رنگین ایڈیشنز جسے براڈ شیٹ میگزین کہتے ہیں، یعنی ہفتے کے چودہ ایڈیشنز۔ اس سب پر مشتمل ایک میگزین سیکشن ہے، جس کا سربراہ میگزین ایڈیٹر ہوتا ہے۔ خاکسار کے پاس اتفاق سے یہی ذمہ داری ہے۔ ویسے تو انچارج میں کوئی حرج نہیں لیکن جو غریب میگزین انچارج سے میگزین ایڈیٹر بننے تک کے سفر میں زندگی کے دس سال صرف کر چکا ہو، وہی ان بظاہر عام الفاظ کی قدر کر سکتا ہے۔ بائی دا وے ملالہ کی کتاب والا کالم اگلے روز ہی شائع ہوگیا تھا، پہلے ملالہ پر کالم شائع ہوا،جس میں کہا گیا کہ کتاب پر اگلا کالم ہوگا، اور اگلے روز ملالہ کی کتاب پر شائع ہوگیا، یہ تیس اکتوبر دو ہزارتیرہ کی بات ہے۔
    عبدالحی کاکڑ صاحب کا منفی ذکر نہیں ہوا ۔ ان کے بارے میں یہ تاثر بہت سی خبروں، انگریزی اخبارات کی رپورٹوں تک میں آیا، کہ ان کا اس کتاب کے لکھے جانے میں عمل دخل ہے اور وہ ملالہ کے والد کے دوست ہونے کے ناتے گل مکئی سے نوبیل انعام یافتہ ملالہ تک کے سفر میں مشاورت کی حد تک کم ازکم ضرور شریک رہے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے توپھر آئندہ اس حوالے سے کاکڑ صاحب کا تذکرہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہے تو بھی اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ کالم ڈھائی سال پہلے شائع ہوا۔ اس سے پہلے ایکسپریس میں بھی لکھا تھا، کاکڑ صاحب کی طرف سے کبھی ایسی کوئی وضاحت نہیں ملی یا میری نظر سے نہیں دیکھی، حتیٰ کہ حامد میر صاحب نے ملالہ کے والد سے ملاقات کے بعدا یک وضاحتی کالم لکھا تھا، اس میں بھی کاکڑ صاحب کے ھوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

    • 25-02-2016 at 11:52 pm
      Permalink

      میں اس گستاخی کے لئے معذرت خواہ ہوں۔لفظ انچارچ مدیر کے متبادل کے طور پر ہی لکھا ہے۔ اس سے اگلے جملے میں ’ان کی زیر ادارت میگزین میں‘ لیکن بہرحال گستاخی کی معذرت قبول کیجیے۔

  • 25-02-2016 at 9:54 pm
    Permalink

    لاجواب کالم، اور حیرت میں ہوں کہ اس کالم کو کچھ برس پہلے ضبطِ تحریر میں لایا گیا۔ اب دوبارہ ضبطئِ ہم سب کیا گیا۔ اور لطفِ مزید کی بات یہ بھی رہی کہ ذہنِ فطین نے اس میں کوئی تبدیلی لانا گوارا نا کی۔ واہ یہ ہوتا ہے یقین اپنے کہے کا، ہم ذہنی طور نحیف تو سال دو پہلے کے لکھے جملوں کی کاٹ چھانٹ کر کے ایسے ہی وقت کو ضائع کرتے رہتے ہیں۔ صحافتی تجربے کی ایک دہائی کا مقدس و عالی حوالہ بھی ارزاں ہوا۔ اب ہم عامیوں کو تو چپ لگ جانی چاہئے۔

    کاش آپ یہ سب کچھ نا بتاتے تو ہمارے ذہنِ نا معقول میں رس آنے والے یہ سوال و تبصرے کہیں تو کر سکتے۔ واہ کیا خوب ہوتے ہیں ایسے با صفا لوگ جو دلیل سے زیادہ تقدس و تکریمِ شخصی کو نصاب و حد مقرر کر دیتے ہیں۔ بہرحال اپنے سوال پیش کرتے ہیں کہ:

    ۱۔ اگر آپ نے کتاب کی خواندگی کر ہی ڈالی تو ذرا ارزاں کر دیجئے کہ وہ “ملعون” رشدی کتاب میں کس انداز میں مذکر ہوتا ہے؟ کیا اس کی کتاب کا جواب لکھنے کی بات ہوتی ہے کہ اس کے ردعمل میں اپنی جلوسوی دُموں پہ آگ کے گولے باندھ کے اپنے ملکِ عزیز کی ٹریفک کی بتیوں کو سنگسار کرنے اور اپنے ملک کے بینکوں اور املاک کو قربانی کے جانور بنانے کا درس ملتا ہے؟ خاکوانی صاحب آپ نے تو کتاب پڑھی ہی ہوگی بتا دیجئے گا ازاہ کرم!

    ۲۔ صاحب آپ چونکہ ایک اوسط درجے کے معاشرے میں یقینی طور پر ہر پیمانے میں اوسط سے بالا ہیں اور ہم تو زیریں اوسط درجے ہی میں کہیں خواری کاٹ رہے ہیں۔ آپ یقیناً انگریزی کتب بھی بے تحاشا پڑھتے ہونگے، تو ارشاد کر دیجیئے کہ کیا مغربی مدیروں اور مغربی ناشرین کی زیادہ تر کتابوں میں تقدس کی علامات کا استعمال ہوتا ہے جتنا میں اور آپ بدھا، یا بجرنگ بلی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔

    ۳۔ خاکوانی صاحب ہم مانے ہوئے ہیں کہ آپ مطالعے کے خوگر ہیں تو اپنی گونا گوں مصروفیات میں سے کچھ ثانیے نکال کے کیا آپ تجویز کریں گے کہ کتاب کے ٹائیٹل کے صفحے پر لکھے سب نام اور ان کے کاموں کا خفیف سا احاطہ کرنے کا کام کیسا ہوتا ہے۔ کچھ فائدہ دیتا ہے کہ بس وقت کا زیاں محض ہوتا ہے۔

    ۴۔ صاحب ایک چھوٹی سی بچی جب اپنے والد سے سنی باتوں کا خلاصہ بیان کررہی ہے تو آپ کو ضیاء صاحب کی شخصیت پہ ازخود نوٹس لینے کی فکر فوری طور کیونکر درپیش ہوگئی تھی؟ صاحب کچھ گھروں میں والدین اپنے بچوں کے ساتھ بہت کچھ بحث میں لاتے ہیں۔ جس کی باتیں باہر آ کر بچے کرتے بھی ہیں۔ اب ہم ایسے بچوں پہ فوری گرفت کریں گے مبادا کل کو اہلِ دانش کو مکرر ملال ہو جائے۔

    حضور ہم نے بھی کتاب پڑھی تھی۔ شاید وہ وقت بھی مابعد جدیدیت کا تھا۔ اپنے اپنے معانی نکالنے کا قاری پورا مکلف ہے۔ اے کاش متن بھی کچھ زندہ رہ پائیں ورنہ قاری تو بڑے بڑے لاجواب ہیں اور ہم جیسے نا تجربہ کار تو متُون میں سے کچھ بھی نہیں نکال پاتے۔ خاص ایسی چیزیں تو بالکل ہے نہیں نکال پاتے جو متن میں ہر گز نا ہوں۔

    شکریہ

  • 26-02-2016 at 8:52 pm
    Permalink

    جناب چٹھہ صاحب، معذرت خواہ ہوں کہ پرانی تحریر پڑھنے سے آپ کو کوفت پہنچی۔ واللہ اس کا ہرگز ارادہ نہیں تھا۔ یہ تحریر ہرگز حرف قطعی نہیں ہے، بلکہ اسے پوسٹ کرتے ہوئے جی چاہا کہ اس میں ترامیم کی جائیں، مگر پھر لگا کہ شائد یہ دیانت داری نہیں ہوگی۔ دراصل میں نے شروع میں وضاحتی کمنٹ لکھا ہے، مگر آپ جوش تنقید میں شائد نظر انداز کر گئے، یہ تحریر اس لئے نقل کی گئی کہ جناب وقار صاحب نے اپنے بلاگ میں یوں تاثر دیا جیسے رائیٹ کے لوگوں نے بغیر کتاب پڑھے تنقید کی۔ میری عرضداشت یہ تھی کہ ایسا نہیں تھا کہ اس ھوالے سے ہونے والی تمام تنقید بلاجواز اور عجلت میں کی گئی۔ ثبوت کے طور پر دو سال پرانی یہ تحریر پیش کی کہ اسے پڑھ لیں، یہ اس وقت لکھی گئی تھی جب کتاب مارکیٹ میں آئی۔ روزنامہ دنیا میں یہ شائع ہوئی تھی۔
    رہی اوسط درجے کے معاشرے کی بات تو وہ تو ادھر کہی یا لکھی ہی نہیں۔ وہ تو میرا ایک الگ کالم ہے، جو ہم سب پر پوسٹ ہی نہیں ہوا۔ آپ کو لگتا ہے اس کالم پر غصہ تھا۔ ایسا تھا تو بتا دیتے، بخدا اس کی معذرت پیش کر دی جاتی۔ اوسط درجے کے معاشرے کی بات کرتے ہوئے یہ ذہن میں تھا کہ جب میرے جیسے کم علم اور اوسط سے کئی درجے نیچے کے لوگ کالم نگار بن گئے ہیں تو یہ معاشرے کے مجموعی ناقص ہونے کی ایک نشانی ہی ہے۔ اوسط درجے کا معاشرہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں غیر معمولی لوگ مفقود ہی ہوگئے، آپ جیسے ہیں ناں ، مقصد یہ کہنا تھا کہ ہمارے رائیٹ ونگ کے دوست بھی یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ ہمارے ہاں بڑا ٹیلنٹ ہے، ہم لوگ یہ ہیں، وہ ہیں۔ بتانا یہ تھا کہ معاملات بگڑ چکے ہیں، لوگوں کا معیار بہتر کرنے کی ضرورت ہے، کتاب کلچر پھیلایا جائے، کتابین سستی اور ان فیشن کی جائیں، اہل علم کو عزت اور توقیر بخشی جائے ، ورنہ زوال کا عمل تیزتر ہوتا جائے گا۔
    باقی آپ کے اسلوب میں طنز کی بے پناہ کاٹ دیکھ کر مجھے حیرت بھی ہوئی، میری آپ سے کوئی ملاقات نہیں، نام تک نہیں سنا ہوا، کبھی کوئی ایسا ذاتی حوالہ یاد نہیں، جس میں آپ کو تکلیف پہنچائی ہو، پھر بھی آپ کی تنقید میں یہ ذاتی رنجش والا رنگ دیکھ کر پشیمانی بھی ہوئی اور دکھ بھی۔ اگر ہماری کسی بات نے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی تو اس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ اللہ خوش رکھے، آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین۔

  • 27-02-2016 at 12:30 am
    Permalink

    A totally biased write up. Children get inspirations from their parents and same is the case with Malala. The writer never considered that fact and has put allegation that the thoughts can’t be of Malala but her father and Cristina have added those.

  • Pingback: شرمین عبید کا آسکر اور میاں انار سلطان | Laaltain

  • 01-03-2016 at 12:26 am
    Permalink

    محترم خاکوانی صاحب،

    قبلہ بہت شکریہ آپ نے جواب دیا۔ حضور میں کوئی مشہور ہونے کا مدعی ہرگز نہیں ہوں اور نا ہی کچھ زیادہ ذاتی عکس آرائی کا شوقین ہوں۔ پر ایسے ہی کبھی کبھی اپنے آدرشوں کی خاطر اپنے تئیں کاربند رہنے اور ان پہ دراز سوالوں پہ نقد کرنے پہ شاید کچھ زیادہ اٹک جاتا ہوں۔ البتہ ایک بات کا یقین دلاتا ہوں کہ گوکہ مجھے اپنی انسانی کمزوریوں کا احساس ہونا ضروری ہے، پر بخدا میں شاید ذاتیات کے حوالوں کو نا تو یاد رکھ پاتا ہوں اور نا ہی ان کا اسیر بنتا ہوں؛ اور نا ہی کوئی ایسا حوالہ موجود ہے۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا بھی تو مجھ سے ایسا رویہ و عمل شاید سرزد نا ہوتا۔

    “جوشٍ تنقید” کی نباضی بھی گوکہ ٹھیک ہوگی، لیکن “مربیانہ” آہنگ بھی شاید اتنا خوب نا ہوتا ہو۔

    بہرحال خدا آپ کو خوش رکھے۔

Comments are closed.