اداروں کو دھمکانے والی خلائی صحافتی مخلوق!


پاکستان میں جمہوریت کو کبھی آزادی سے کام کرنے اور پھر اس نظام کے ثمرات پوری طرح عوام تک پہنچانے کا موقع نہ مل سکا۔ یہ نظام ایک سال کے لئے آئے، دوسال، تین سال یا بظاہر پانچ سال کے لئے بھی، اس کی ساری صبحیں اور شامیں دشمنوں کے ساتھ گزرتی ہیں مگر’’آزادی صحافت‘‘کے بعد سے تو ایک عجیب الخلقت مخلوق رات آٹھ بجے کے بعد مختلف چینلز پر نمودار ہوتی ہے۔ اس کے چار ہاتھ، چار ٹانگیں، ماتھے پر ایک اضافی آنکھ اور پائوں ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے یہ مخلوق کمپیوٹرائزڈ ہے، اس کے سافٹ ویئر میں ہر قسم کی گالیاں، بدترین الزامات اور من گھڑت کہانیاں فیڈ کی گئی ہیں، چنانچہ یہ مخلوق رات کے بارہ بجے تک ٹی وی اسکرینوں پر نظر آتی ہے۔شنید یہ ہے کہ ان کی خوفناک شکلوں اور ان کی کردار کشی کی وجہ سے بہت سے ادارے خوفزدہ رہنے لگے ہیں۔ کئی ایک کو تو بخار بھی ہوگیا ہے اور یوں عوام میں یہ تاثر پھیلتا چلا جارہا ہے کہ اگر ان سامری بتوں کو اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی اور ادارے ان سے اسی طرح سہمے سہمے دکھائی دیتے رہے تو ان اداروں کے فیصلوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا، مگر دوسری طرف ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو عوام کی طاقت اور ان کے شعور پر بےپناہ ایمان رکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر عوام آپ کو اس وقت خاموشی سے یہ تماشا دیکھتے نظر آتے ہیں تو انہیں اس ساری گیم سے بے خبر یا لاتعلق نہ سمجھیں۔وہ ہر قسم کی صورتحال میں ہر قسم کا فیصلہ مناسب وقت پر کرنا جانتے ہیں اور ضروری نہیں وہ اپنے تحفظات یا جوابی احتجاج کے لئے انتخابات ہی کا انتظار کریں کہ اپنی پسندیدہ جماعت کو ووٹ ڈال کر اپنا غصہ نکال لیں گے۔ یاد رکھیں فی الوقت اس خاموش اکثریت کے دلوں میں غصہ جمع ہورہا ہے جو ایک خطرناک سائن ہے۔ تمام ریاستی اداروں کو چاہئے کہ وہ صورتحال کو سمجھیں اور ردعمل کے اسباب و عوامل کی ابھی سے روک تھام کریں۔
اس مخلوق کے علاوہ ایک مخلوق اور بھی ہے، ان کی آنکھیں، کان، ناک، بازو، ٹانگیں سب سلامت ہیں جیسے اپنے عمران خان ہیں یا ان کے دست راست شیخ رشید جسے وہ ماضی میں اپنا چپراسی بھی رکھنے کو تیار نہ تھے، اپنے پائوں پر چلنا ابھی تک نہیں سیکھ سکے۔ یہ ہمیشہ کسی دوسرے کے کاندھے پر بیٹھ کر اپنا سیاسی سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ جنرل پاشا کی صورت میں انہیں ایک مضبوط کاندھا میسر آگیا تھا مگر جنرل صاحب کو ان کا وزن چند پائونڈ سے بھی زیادہ محسوس نہ ہوا۔ کچھ جاوید ہاشمی نے پول کھول دیا، اس کے علاوہ بھی’’رولا‘‘ بہت پڑگیا چنانچہ انہیں کاندھوں سے اتارنا پڑگیا۔ ان کا کام ایک طویل عرصے سے دھرنے پہ دھرنا یا الزام دھرنا رہ گیا ہے۔ یہ عدالتوں کو بھی بلیک میل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بوقت ضرورت ان کی خوشامد بھی کرلیتے ہیں، اگر ان کے کشکول میں کچھ ڈال دیا جائے تو اگلی خیرات تک خاموش رہیں گے اور اگر کچھ نہ ڈالیں تو تبرّا شروع ہوجاتا ہے مگر یہ بات سب کے علم میں ہے کہ ہماری سپریم کورٹ حق و انصاف پر مبنی فیصلے کرے گی۔
ماضی میں جب کبھی جس جج نے خوفزدہ ہو کر یا ایک محدود طبقے کی خوشنودی کے لئے انصاف کے ترازو کو اونچا نیچا کیا عوام کے دل ان کے لئے نفرت سے بھر گئے اور یہ نفرت آج تک دل سے نکل ہی نہیں سکی۔اس وقت تو ویسے بھی جہاں کمپیوٹر ائزڈ مخلوق صحافی بن کر رات کے اندھیرے میں گھر سے نکلتی ہے اور حق و انصاف کا خون خرابہ کرکے اپنے محلات میں جا سوتی ہے اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں ایسے صحافتی آئی کون بھی موجود ہیں جن کی دانائی کا سامنا یہ ان پڑھ خلائی مخلوق نہیں کرسکتی، چنانچہ عوام کے لئے سچ اور جھوٹ کو الگ الگ کرکے دیکھنا آسان ہوگیا ہے۔ پاکستانی قوم کے یہ قابل فخر سپوت پاکستان کی بقا اور جمہوریت کی جنگ لڑرہے ہیں، کسی فرد نہیں پاکستان اور جمہوریت کو بچانے کے لئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ حق و باطل کے اس معرکے میں ملک کے ممتاز قانون دان، دانشور ا ور اہل قلم بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ ایک کو اپنی جان کی حفاظت کے لئے اپنے ساتھ سیکورٹی بھی رکھنا پڑتی ہے کہ سچ بولنے اور سچ لکھنے والے درجنوں صحافی اپنی جانیں اس راستے میں قربان کرچکے ہیں، میں محسوس کررہا ہوں کہ عام محفلوں میں اب بالکل ’’لے مین‘‘ بھی وہ باتیں کرنے لگے ہیں جو میں نے ان کی زبان سے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں۔ شاید اس لئے کہ عمران خان اور ان کے ہمدردوں نے خود کو اتنا ایکسپوز کردیا ہے کہ اب ان کے ذہن کو پڑھنے اور ان کے اہداف کو سمجھنے کے لئے کسی لمبی چوڑی ریاضت اور گہرے غور و خوض کی ضرورت ہی نہیں رہی، خود کو زیادہ سیانا سمجھنے کا یہی تو نقصان ہوتا ہے۔

ایک مزاح نگار نے ایک کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا’’یہ کتاب ان لوگوں کو بہت پسند آئے گی جنہیں اس طرح کی کتابیں پسند آتی ہیں‘‘۔ ایک اور جملہ کچھ اس طرح کا تھا کہ’’یہ کتاب ا یسی نہیں کہ آپ پڑھ کر شیلف میں رکھ دیں بلکہ اس قابل ہے کہ اسے اٹھا کر دیوار پر دے مارا جائے‘‘ چنانچہ الف لیلہ کی کہانیاں پڑھ کر الف لیلہ کی کہانیوں جیسے کام کوئی بھی ریاستی ادارہ نہیں کرتا اور نہ کرسکتا ہے۔ منفی ذہنوں کو منفی باتیں پسند آتی ہیں ، چنانچہ منفی لوگ بڑے شوق سے سب کچھ سنتے اور پھر اس کے مطابق لائحہ عمل تیار کرتے ہیں، چنانچہ آج کے سب پوتوں ا ور پڑپوتوں کو میرا ہمدردانہ مشورہ ہے کہ وہ اپنے دادا پردادا کی اس جائیداد کا سارا حساب کتاب ابھی سے تلاش کرکے رکھیںجو درجہ بدرجہ ان تک پہنچے گا۔ یاد رکھیں گے کرپشن کا الزام اب کوئی الزام نہیں رہا یہ تکیہ کلام بن چکا ہے۔

مجھے ایک انتہائی شریف النفس مسلم لیگی سیاستدان جن کی میں واقعی دل کی گہرائیوں سے ان کے مثبت کردار کی وجہ سے عزت کرتا ہوں ،کا وہ بیان پڑھ کر بہت ہنسی آئی جنہوں نے وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد سے بجا یا بے جا طور پر ناراض ہو کر کہا کہ اس شخص نے اربوں کی کرپشن کی ہے۔ میں فواد کو جانتا ہوں وہ اپنے نسلی پس منظر کی وجہ سے کھانے پینے کا شوقین ہے ، چنانچہ اس نے اب تک اربوں روپے کا کھانا تو ضرور کھایا ہوگا مگر کرپشن نہیں کی ہوگی میں محسوس کررہا تھا کہ میرا کالم بہت تلخ ہوگیا ہے چنانچہ میں اسے اسی لائٹ نوٹ پر ختم کررہا ہوں۔
(بشکریہ روز نامہ جنگ)

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔