چمن میں افغان فورسز کی فائرنگ سے شہید پاکستانیوں کی تعداد 8 ہو گئی


افغان فورسز  نے چمن کے سرحدی علاقے میں پاکستانی چیک پوسٹوں پر فائرنگ کی اور گولے برسائے، افغان فورسز کی جانب سے داغے گئے گولے گلدار باغیچہ اور اڈہ کہول میں مکانات پر گرنے سے 3 پاکستانی شہری شہید جب کہ 6 بچوں اور 3 خواتین سمیت 36 افراد زخمی ہو گئے، بعد ازاں مزید 5 شہری دم توڑ گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان فورسز کی کارروائی میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کے لئے سول اسپتال چمن منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ شدید زخمیوں کو علاج کے لئے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ چمن انتظامیہ نے اسپتال میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر کے تمام عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔

افغان فورسز کی جانب سے سول آبادی میں گولہ باری سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور صبح سویرے کھلنے والے بازار بند ہیں جب کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے بھی افغان فورسز کی فائرنگ اور گولہ باری کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے پاک افغان بارڈر پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ افراد کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بارڈر پر فائرنگ اور اہلکاروں کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے، فائرنگ کے واقعات امن کی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں لہذا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کرے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی افغان بارڈر پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

دوسری جانب چمن بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ پر احتجاج کے لیے پاکستان میں تعینات افغان ناظم الامورکو دفترخارجہ طلب کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کچھ عرصے قبل بھی پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے باعث پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ چمن اور طورخم بارڈر کو ایک ماہ تک بند کئے رکھا تھا اور پھر افغان حکام کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر سرحدوں کو کھولا گیا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔