پاکستان کو اشتعال میں جلتی لاشوں کا شمشان گھاٹ نہ بناؤ


 آج جو حب میں ہوا وہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں کسی وقت وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ علاقے کے مولویوں کے بہکارے میں آئے ہوئے مشتعل ہجوم نے ایک تھانے پر دھاوا بول دیا کیونکہ پولیس ان کا یہ مطالبہ ماننے سے قاصر تھی کہ توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ایک 35 سالہ ہندو تاجر کو ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ خود اسے اس کے کئے کی سزا دے سکیں۔ یعنی اسے ہلاک کرکے اپنے غصے اور انتقام کی آگ بجھا سکیں۔ پولیس کی طرف سے بات چیت کے ذریعے ہجوم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی۔ خبروں کے مطابق سپرنٹنڈنٹ پولیس ضیا مندوخیل نے لوگوں کو بتایا کہ ملزم کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے، وہ حوالات میں نہیں ہے۔ لوگوں کی تسلی کروانے کےلئے بعض مشتعل لوگوں کو حوالات دکھائی گئی جہاں ان کا مطلوبہ شخص موجود نہیں تھا۔ لیکن اس پر بھی ان کی تسلی نہیں ہوئی اور تھانے پر دھاوا بول دیا گیا۔ پولیس کی طرف سے ہجوم کو منتشر کرنے کےلئے آنسو گیس پھینکی گئی۔ اس طرح باقاعدہ ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔ ہجوم میں مسلح لوگ بھی موجود تھے جن کی فائرنگ سے پولیس ، ضلعی انتظامیہ اور ایدھی سینٹر کے کئی لوگوں کے علاوہ ایک 13 سال کا بچہ بھی زخمی ہوا۔ یہ بچہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر انتقال کر گیا۔ خون آشام ہجوم نے اپنی جہالت اور انتقام کی ہوس میں ایک معصوم کی جان لے لی۔ لیکن کیا اس طرح یہ دیوانگی کم ہو جائے گی۔

یوں تو اس خبر میں کوئی نیا پہلو نہیں ہے۔ یہ کہانی کئی برسوں سے ملک کے ہر علاقے میں بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے نوجوان طالب علم مشعال خان پر توہین مذہب کا الزام لگاتے ہوئے تشدد کرکے بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ اس پر بھی فیس بک پر توہین آمیز مواد لگانے کا الزام تھا جس کا کوئی ثبوت کسی کے پاس نہیں تھا۔ بعد میں پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشعال پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا تھا۔ دراصل یونیورسٹی کی انتظامیہ مشعال خان کی طرف سے بدعنوانی کے الزامات اور ان پر کھل کر بات کرنے کے رویہ سے پریشان تھی۔ اسی لئے اسے ایک ایسے الزام میں ٹھکانے لگانے کا بندوبست کیا گیا تھا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ مشعال خان راستے سے بھی ہٹ جائے اور کسی کو اسے قتل کرنے کے الزام میں سزا بھی نہ ہو۔ اس مقصد کے لئے توہین مذہب کے جھوٹے الزام سے بہتر نسخہ کیا ہو سکتا تھا۔ اسی لئے مشعال پر حملہ کرنے اور اسے ہلاک کرنے والے انسان نما درندوں نے اس سانحہ کے بعد یہ عہد کیا تھا کہ وہ کبھی اس شخص کا نام نہیں لیں گے جس نے مشعال پر گولی چلائی تھی۔ لیکن مشعال کا قتل ایک گولی سے نہیں ہوا تھا۔ اس میں وہ درجنوں لوگ شامل تھے جو اس موقع پر تشدد میں شریک تھے۔ وہ سینکڑوں طالب علم بھی اس کا حصہ تھے جنہوں نے خاموشی سے یہ واقعہ دیکھا اور خاموش تماشائی بنے رہے۔ وہ تصویریں اور ویڈیو بناتے رہے لیکن کسی میں یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ ایک نہتے شخص کو اس طرح بربریت کے ساتھ ہلاک کرنا غلط ہے۔ کیونکہ یہ پیغام عام کر دیا گیا ہے کہ توہین مذہب کا الزام لگنے کے بعد جو شخص بھی رحم کرنے یا لاقانونیت سے باز رہنے کی بات کرے گا، وہ خود بھی اسی سزا کا مستحق ہو گا یعنی اسے بھی مرنا ہوگا۔

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کا اسلام آباد کی شاہراہ پر اپنے ہی ایک محافظ ممتاز قادری کے ہاتھوں قتل اس رویہ اور مزاج کی زندہ مثال ہے۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں۔ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد انہیں بدستور ایک ایسا مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، جس کےلئے کلمہ خیر کہنا اور اس کی نماز جنازہ ادا کرنا گناہ کبیرہ میں شمار ہونے لگا۔ اس کے برعکس سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کا قانون کے رکھوالوں نے کچہری میں پھول کی پتیوں سے استقبال کیا اور اس سے معانقہ کرنے یا اسے ہاتھ لگا کر ’’رحمتیں‘‘ سمیٹنے کا سبب سمجھا گیا۔ اڈیالہ جیل میں اس کی قید کے دنوں میں دیگر قیدی اور عملہ اسے ایک کامل بزرگ کا درجہ دیتے رہے۔ سپریم کورٹ میں قادری کے وکیلوں نے اس بنیاد پر اسے بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سلمان تاثیر اپنے بیانات میں توہین مذہب کے مرتکب ہوئے تھے۔ جب عدالت کے استفسار پر کوئی ایسا بیان سامنے نہ لایا جا سکا جس میں یہ ثابت ہو سکتا کہ سلمان تاثیر نے مذہب یا رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف کوئی بات کی تھی تو عدالت عظمیٰ کے ججوں کے پاس ممتاز قادری کو سزائے موت کے سوا چارہ نہیں تھا۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستان اور بدلتے ہوئے عالمی حالات

اب اس قاتل کی قبر کو درگاہ بنا دیا گیا ہے جہاں مرادیں پوری ہوتی ہیں اور اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ کیا یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ممتاز قادری درحقیقت سلمان تاثیر کا قاتل نہیں تھا۔ اس کی ذمہ داری ان سب لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو فرد واحد کی لاقانونیت کو حکم الٰہی قرار دینے کی جسارت کرتے ہیں۔ وہ سارے علما و مشائخ جو ممتاز قادری کے چہلم پر اسلام آباد میں جمع ہوئے اور تین دن تک وزیراعظم ، آرمی چیف اور ملک کے چیف جسٹس کے خلاف مغلظات بکتے رہے، اس قتل کے معاون ہیں۔ اور جو حکومت ایسے لوگوں کی گرفت کرنے کی بجائے ان کے ساتھ مذاکرات کرنے کو ترجیح دے اور یہ اعلان کرے کہ جہالت، لاقانونیت ، اشتعال اور دہشت کا پیغام عام کرنے والوں کے سب مطالبات مان لئے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو مردان ہو یا حب، ان لوگوں کی کیسے گرفت کر سکتی ہے جو اسی روایت کو زندہ کرنے کے لئے انسانوں کے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں۔ یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ حب کا سپرنٹنڈنٹ پولیس مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کےلئے اس کی منت سماجت نہیں کرے گا۔ لوگوں کو خالی حوالات دکھا کر یہ بتانے کی کوشش نہیں کرے گا کہ ملزم تو اس کے پاس نہیں ہے۔

تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ اگر توہین مذہب کا کوئی ملزم پولیس اسٹیشن میں قید ہو اور ہجوم اسے حوالے کرنے اور ہلاک کرنے کا مطالبہ کرے تو پولیس کو اس کی بات مان لینی چاہئے کیونکہ مذہب و عقیدت کے نام پر اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت کو ایک جائز اور قابل قدر روایت بنا دیا گیا ہے۔ یہ تو ویسی ہی دلیل ہے جو مشعال خان کے قتل پر یہ کہتے ہوئے، افسوس ظاہر کرتے ہوئے دی جاتی ہے کہ اس پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔ گویا اگر اس سے ایسی غلطی سرزد ہوئی ہوتی تو اس کا قتل اور اس پر روا رکھا جانے والا ظلم جائز تھا۔ کوئی مانے یا نہ مانے اس رویہ کو مسلمہ اصول کی حیثیت سے منوا لیا گیا ہے اور محلوں و دیہات کے مولوی اسے نافذ کرنے کےلئے ہر وقت اشتعال پھیلانے، ہراساں کرنے اور دھمکانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اگر یہ سچ نہ ہوتا تو مشعال خان کے بے رحمانہ قتل کے بعد افسوس کا اظہار کرنے کےلئے وزیراعظم اور دیگر لیڈروں کو دو روز تک انتظار نہ کرنا پڑتا۔ جب یہ تسلی کر لی گئی کہ مشعال پر توہین کا الزام غلط تھا تو ملک کے سب قائدین کی انسان دوستی بیدار ہوگئی اور قانون کی بالا دستی کے اعلان قومی اسمبلی سے لے کر وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس تک میں ہونے لگے۔ اگر ملک کی سیاسی قیادت اس قدر خوف اور بے اصولی کا مظاہرہ کرے گی تو اس ملک میں قانون کا احترام تو ایک بے معنی اصطلاح ہی بنے گا۔ اس ملک کے پولیس افسر مشتعل ہجوم کی منت سماجت ہی کریں گے اور بے گناہ، مذہب کے ایسے ہی بے حیا پہرے داروں کے انتقام کا نشانہ بنیں گے۔

اسی بارے میں: ۔  طورخم بارڈر کھل گیا: تنازعہ  برقرار

آج کے سانحہ میں ایک 13 سال کا معصوم ناحق اپنی جان سے گیا۔ سوال ہے اس کا خون کس کے ہاتھوں پر تلاش کیا جائے۔ یہ وہ وقت آ گیا ہے کہ اب خون کے دھبے چھپانے کےلئے دستانے پہننے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ شہر کے سب لوگوں کے ہاتھ اس خون میں لال ہیں۔ یہ اس وزیراعظم کے ہاتھوں پر بھی تلاش کیا جا سکتا ہے جو ظلم کی مذمت کرنے سے پہلے یہ تسلی کرنا چاہتا ہے کہ مقتول پر الزام ثابت نہیں تھا۔ یہ منتخب ایوان کے ان سب ارکان کے ہاتھوں پر بھی دیکھا جا سکتا ہے جو قرارداد مذمت تو منظور کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والوں کو قرار واقعی سزا دینے کےلئے قانون بنانا چاہئے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اگر قانون ساز قانون بنانے کی بجائے قرارداد منظور کریں گے تو قانون سازی کون کرے گا۔ یہ اس ملّا کے ہاتھ پر بھی بدرجہ اتم موجود ہے جو توہین مذہب کے قوانین میں اصلاح کے نام پر بدکتا ہے اور زمین آسمان ایک کر دینے کے دعوے کرتا ہے۔ لیکن ہر جماعت اس کی سیاسی اعانت حاصل کرنے کےلئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ اور یہ ان سب مدّرسوں اور دین کے مبلغوں کے ہاتھوں پر بھی موجود ہے جو ظلم کو ظلم نہیں، خدمت دین قرار دیتے ہیں یا سمجھتے ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ اسی ملک کا قصہ ہے جس کی فوج دہشت گردوں کے خلاف جنگ کر رہی ہے اور اسے جیتنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ قوم دہشت کے خلاف جنگ کیسے جیت سکتی ہے جب یہ دہشت گردوں کو آستینوں میں پالنے کا کارنامہ سرانجام دیتی ہو۔

ہفتہ عشرہ قبل مردان کے پاکستان چوک پر ملک کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے لیڈروں نے جمع ہو کر مشال خان پر لعنت بھیجی اور اس کے قاتلوں کو دین کے محافظ قرار دینے کا حوصلہ کیا۔ جو حکومت ان قانون شکنوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کی سکت نہ رکھتی ہو، وہ آج حب میں قتل کئے گئے نوخیز بچے کی موت کا انتقام کیسے لے گی۔ پاناما کیس میں الجھا وزیر اعظم اور باقی سیاستدان اور ڈان لیکس کے معاملہ پر برانگیختہ فوج تو اپنے اپنے پیمانے لئے حب الوطنی ، غداری اور ملک دشمنی کی جانچ کر رہے ہیں۔ اس ملک کا ملّا مقدس کتاب ہاتھ میں لئے دین کے نام پر جھوٹ عام کر رہا ہے۔ ایسے میں حب کے مقتول کے ورثا خون بہا کےلئے انتظار کریں۔ ہو سکتا ہے اس وقت تک اس ملک کے سب جوانوں کے ماں باپ خوں بہا لینے والوں کی قطار میں کھڑے نظر آئیں۔ اور یہاں زندہ انسانوں کی آوازوں کی بجائے قبروں کا سناٹا سنائی دے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 683 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali