یہ گمشدہ، وہ گمشدہ ،ہم گمشدہ



حسن مجتبیٰ نے پاکستان کے تمام گمشدہ لوگوں کے نام ایک نظم لکھی تھی،جسے انہوں نے کئی پروگراموں اور مشاعروں میں پڑھا،نظم کچھ یوں ہے کہ’ نہ جانے کتنے چہرے ہیں، نہ جانے کتنی آنکھیں ہیں، گمشدہ، وہ گمشدہ، میں گمشدہ، تو گمشدہ، یہ گمشدہ، سب گمشدہ، ہم گمشدہ….

لوگ ہیں کہ گمشدہ سب گمشدہ، وقت کو گزرنا ہے،وقت کب گزرتا ہے، پٹیاں ہیں آنکھوں پر، شور ہے جہازوں کااور سب اذانیں ہیں،نیند میں رہائی ہے، جاگ میں جدائی ہے، تیری کیسی دنیا ہے،کیسی یہ خدائی ہے، میں گمشدہ، تو گمشدہ، یہ گمشدہ، وہ گمشدہ۔ ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کوبھی کوئی ہماری خبر نہیں دیتا۔ گمشدہ، گمشدہ، گمشدہ۔

حسن نے گمشدگیوں کے راج میں بغیر قصور بتائے اٹھائے گئے لوگوں کے درد کو زبان دی، یہ درد ان اٹھائے جانے والوں کا بھی تھا لیکن ان سے زیادہ درد ان کے پیاروں کا ہے جن کو کوئی پتا نہیں کہ ان گمشدہ لوگوں کا حشر آخر کیا ہوگا۔ہم اسی دیس کے باسی ہیں جہاں لوگوں کو اٹھائے جانے کی یہ ریاستی رسم پرانی ہو چلی ہے، اب تو گمشدگی کی اس داستان کو کئی دہائیاں ہو چکی ہیں۔گمشدگیوں کا یہ درد سب کا سانجھا ہے، پھر وہ شہری بلڑھیجی سے اٹھایا جائے یا مالاکنڈ سے۔

میرے دیس میں گمشدگیوں کا قصہ آج کا نہیں، جنرل ایوب نے اس کی بنیاد رکھی، یحییٰ خان اور بنگلا دیش کے واقعات تو ایک الگ ہی کہانی ہے، لیکن مغربی پاکستان میں ذوالفقار بھٹو نے بھی اس روایت کا پالن کیا۔ ساٹھ کی دہائی میں حسن ناصر پھر اسد اللہ مینگل، اس کے بعد نظیر عباسی سے لے کر مظفر کلہوڑو تک سینکڑوں لوگ، سیاسی ورکر گم ہوئے اور ان میں سے کئی لوگوں کے جسم چیتھڑوں کی صورت میں ملے۔

یہ گمشدگیاں وطن عزیز پر مسلط چوتھے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی و غیر قانونی دور حکومت میں حد و حساب سے تجاوز کر گئیں۔ اس آمر نے تو بغیر کسی قانون کے ان گمشدگیوں کو قانونی اور جائز قرار دے دیا۔ اس دور حکومت میں کئی لوگ قومی سلامتی کے نام پر اٹھا لیے گئے اور سینکڑوں لوگ امریکا کو بیچنے کے لئے اٹھائے گئے، جس کا اعتراف سابق سربراہ مملکت پرویز مشرف نے اپنی کتاب ان دی لائن آف فائر میں خود کیا ہے۔ اس ملک کے شہری بیچ کران کی قیمت وصول کر کے ہضم کر لی جائے، وہ نہ کرپشن ہے نہ جرم ہے، اس پر بات کرنے پر بندش ہے ، حساب کتاب لینے کی کسی نے کبھی بات کی؟ بات کیا ان کو تو اپنے شہریوں کو کھاجانے والے آدم خوروں کی پکڑائی بھی منظور نہیں۔

وہ تو تھی ایک آمر کی حکومت، لیکن پیپلز پارٹی کے دور میں کیا ہوا؟ تب بھی گمشدگیوں کا یہ سلسلہ ایک دن کے لیے بھی نہیں تھما۔ یہ درست ہے کہ ان گمشدگیوں پر کمیشن بنے، کچھ بازیابیاں ہوئیں، رپورٹیں بنیں۔ لیکن آج تک اپنے وطن کے بچے اٹھا کر گم کرنے والے سلیمانی ٹوپی پہنے ہوئے طاقتور لوگ ظاہر نہیں ہوئے۔ پھر مسلم لیگ نواز کی حکومت آئی، لیکن ہم گمشدہ، وہ گمشدہ والا سلسلہ جاری و ساری رہا۔

آج کے حکمران گزشتہ حکومت میں پارلیمنٹ یا اس کے باہر ان گمشدگیوں کی نہ صرف مذمت کیا کرتے تھے بلکہ احتجاج میں شامل ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ کس طرح آج کے اصول پرست وزیر داخلہ گمشدہ لوگوں کے ورثا کے کیمپوں میں پہنچ کر ان کی دل جوئی کرتے تھے اور اس قسم کی تمام کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کیا کرتے تھے، لیکن آج کل ان کے ناک کے نیچے وہی سب کچھ ہو رہا ہے، جو ماضی سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔

پرویز مشرف، پھر پیپلز پارٹی اور اور اب بھی سلسلہ جاری ہے، سندھ اور بلوچستان کی جوان نسل کو چن چن کر اغوا کرکے ان کی لاشوں کے پرخچے اڑا دیے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں ریاست سے بغاوت کی سزا کا قانون موجود ہے، لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا جو خود ایک لاقانونیت ہے، کسی کو جرم بتائے بنا اٹھانا تو الگ چیز ہے۔ یہاں جس پربھی ریاست سے بغاوت کا شبہ ہوا اس کو چھپ کر اٹھا لیا جاتا ہے اور پھر اس کا انجام وہی لاشوں کا نہ ملنا یا مسخ چہرے، چیتھڑے بنی ہوئی لاش۔

آصف علی زرداری کے تین ساتھی گم ہیں، لیکن ریاست اور حکومت کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ وہ لوگ کس کے پاس ہیں۔ آصف علی زرداری پر کرپشن کے الزامات ہیں، وہ ناکام سیاستدان ہی سہی، مانتے ہیں انہوں نے وفاق اور سندھ میں خراب حکمرانی کے ریکارڈ توڑ دیے، لیکن وہ پاکستان اور وفاق کی سیاست کرنا چاہتے ہیں،ان کے ساتھی اٹھا کر کیا ان کو سیاست سے آوٹ کیا جا سکتا ہے؟ یا تو ان کو وفاقی سیاست سے آﺅٹ کرنے کی کوشش ہے یا ان کو سرنڈر کرنے کا چانس دیا گیا ہے۔

یہ ٹھیک بات ہے کہ پہلے ریاست کے خلاف کام کرنے والوں کو اٹھالیا جاتا تھا لیکن اب کی بار پالیسی میں شاید تبدیلی آ چکی ہے، اب جو زرداری کے تین دوست گم ہیں ان پر اس قسم کا کوئی الزام نہیں، آصف علی زرداری کی طرز سیاست اور اس کی جماعت سے سینکڑوں اختلافات لیکن گمشدگیوں والی روش سے تو ان کے لیے ہمدردیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی اسی مظلومیت کا رونا روکر انتخابات میں ہمدردیاں سمیٹنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔

قانون موجود ہونے کے باوجود اس طرح کی کارروائیوں سے قانون کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور آئین کی بالادستی توگئی تیل لینے۔ مجھے آج کے حکمرانوں کی بے بسی پر بھی ہنسی آ رہی ہے کہ دو دو گھنٹے مسلسل پریس کانفرنسز کرنے والے وزیر صاحب ایک منٹ بھی ان گمبھیر بنتے معاملات پر سچ نہیں کہتے،خود کو پارسا، سچا اور کھرا انسان سمجھنے والے اس وزیر کا نہ بولنا ہی سب سے بڑا جھوٹ ہے، اگر واقعی ہی وزیر داخلہ کو اٹھائے گئے ان لوگوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تو بہتر ہے کہ وہ کوئی اور کام دھندا سنبھالیں، یہ وزارت کسی اور کے حوالے کردیں۔

آصف علی زرداری کے ساتھیوں کی اس غیرقانونی انداز میں گمشدگیوں پر افسوس اپنی جگہ لیکن ذرا پیپلز پارٹی کو بھی اپنے ماضی پر نظر گھما کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی وفاقی جماعت ہے، ریاست کی انتظامی باگ ڈور سنبھالنے والی جماعت کے پاس ان گمشدہ سیاسی اور قومی کارکنان کا بائیو ڈیٹا ہونا چاہئے جن کو ان کی حکومت میں اغوا کر کے گم کر دیا گیا، مار دیا گیا اور ملکی سلامتی کے نام پر جن کے سینے چاک کر کے لاش پھینکے گئے تھے۔ گمشدگیوں والے واقعات کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ نواز لیگ حکومت بھی اگر آج ان معاملات پر لاتعلق ہے، خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے، اپنی کرسی کی خاطر چپ کا روزہ نہیں توڑنا چاہتی تو بقول فراز’ چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں‘ پھر وہ کیا کوئی بھی نہیں بچ پائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 32 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar