ہومیو پیتھک ڈرامے کیسے بنائیں؟


بادلوں سے ہو کر واپس آنے والی تھاں پر بندہ کیسے آتا ہے، آج معلوم ہوا۔ ایک پروگرام تھا جس میں طالب علموں کے سامنے فلم سے متعلق بنیادی باتوں پر گفتگو ہونا تھی۔ بامقصد اور سنجیدہ مذاکرہ تھا، پاکستانی فلموں پر بات کی گئی، ان کے نقائص زیر بحث آئے، ہالی وڈ اور بالی وڈ کی باتیں ہوئیں، ادب سے فلم والوں نے کیا کچھ لیا، کتنا لیا اسے کس طریقے سے پیش کیا، یہ سب بتایا گیا۔ اصغر ندیم سید سے علم ہوا کہ اڈیپٹیشن باقاعدہ الگ سے مضمون ہے، یعنی کسی ناول کو لے کر فلم بنا دینا کھیل نہیں ہے، پورا ایک آرٹ ہے، ایویں ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں ہے۔ علی اکبر ناطق نے داستانوں کی تان اٹھائی اور تھیٹر سے ہوتے ہوئے فلم پر آئے، پھر یہ بات چھڑی کہ افسانے تو اتنے بے شمار موجود ہیں اور حد و حساب سے ماورا ہیں لیکن پڑھے کون، نئے بچوں میں کتنے ہوں گے جنہوں نے دنیا بھر کے ادب سے استفادہ کیا ہو یا کم از کم انہیں شوق ہو۔ اور اگر نہیں کیا، کچھ بھی نہیں پڑھا تو بغیر کہانی پڑھے وہ کس معیار کا سکرپٹ لائیں گے۔ عمران پیرزادہ نے مغربی سینیما کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ فلم میکنگ میں باریک تفصیلوں کی اہمیت کیا ہوتی ہے، اس کی مثال کیا ہے اور وہ کیوں ضروری ہیں، ان چیزوں پر بات کی۔

قاضی علی مہمانوں سے سوالات کرتے جاتے تھے اور یونیورسٹی آف لاہور کے سب سٹوڈنٹس دم سادھے، فریش چہرے لیے صبر و تحمل سے بیٹھے مہمانوں کی گفتگو سنتے تھے۔ پروگرام کے بعد یاروں کا مورال بہت ہائے تھا، امید تھی کہ اب وہ دن دور نہیں جب کم از کم ہماری فلمیں ایرانیوں کی طرح لو بجٹ ہی سہی لیکن ایک دم آرٹسٹک بنیں گی، پڑوسی ملکوں میں دکھائی جائیں گی، فلمی صنعت ترقی کرے گی، انہیں بچوں میں سے کوئی ہو گا جو کل آسکر تھامے گا، کیا پتہ اپنا ارصام ہی ہو جس کی فلم دیکھنے سے محرومی قسمت میں لکھی تھی۔ اور کچھ نہیں تو شارٹ فلموں کو بہتر طریقے سے میڈیا میں پیش کیا جائے گا، بچوں کا ٹیلنٹ سامنے آئے گا، یہی سب ہوتا رہے گا تو کچھ لڑکے لڑکیاں ڈراموں کی طرف بھی جائیں گے اور ہمارے ڈرامے شاید دوبارہ پی ٹی وی کے یادگار دنوں جیسے بن جائیں۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! گھر آتے ہی ارمانوں پر وہ پانی پھرا کہ خدا کی سنوار!

پیمرا کی جانب سے ایشو کیے گئے نوٹس کے بعد ڈرامہ بنے گا کیسے، بس یہ سوال باقی ہے۔ اگر اس پر عمل درآمد واقعی میں ہو جاتا ہے تو پھر مالکان آئے روز جرمانے بھگتیں گے یا سالم چینل کی بلی چڑھائی جائے گی۔ ایک دور تھا کہ جب بیڈروم سین میں بھی خاتون پوری طرح سے مسجع و مقفع لہجے میں اپنے شوہر سے گفتگو کر رہی ہوتی تھیں اور اسے قبول عام کا درجہ حاصل تھا۔ بہتر ہے، وقت کا تقاضا تھا، حاکم کا فرمان تھا اور ان کے خیال میں برحق تھا تو ٹھیک ہے، کون اعتراض کرتا اور ملک سے باہر جا کے شاعری کرتا رہتا، لیکن اب کیا مسئلہ ہے جو ریورس گئیر لگایا گیا ہے؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ ہماری فلم ترقی کرے، ہمارا ڈرامہ دنیا میں دوبارہ دیکھا جائے لیکن دوسری طرف ہم تین صفحات پر مشتمل ایسا جامع پابندی پیکج لاتے ہیں کہ بعد جس کے، مراة العروس بھی ڈراماٹائز کرنا ایک آزمائش سے کم نہیں ہو گا۔ بھئی میاں بیوی تو اپنے کمرے میں ہی باتیں کریں گے نا، تو وہ اس میں بھی ہے اور ادارہ کہتا ہے کہ ڈرامے کے دوران بیڈروم سین سرے سے دکھانا ہی منع ہے۔ ویسے اس خرابے میں یہ تعمیر مضمر ہو سکتی ہے کہ آؤٹ ڈور لوکیشن زیادہ استعمال کی جائے گی، زوجہ سے بات کرنی ہو گی تو بجائے کونے پکڑنے کے دونوں ساحل سمندر پر جائیں گے یا لانگ ڈرائیو ہوا کرے گی اور سکون سے گھر بیٹھے مردوں کو باہر گھومنے کی اشقل دی جائے گی۔

ایک اور شق بہت اہم ہے، “کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جو جھوٹا ہو یا کسی شک و شبہ کے بغیر ایسا سمجھنے کی معقول وجہ ہو۔” اب سوال یہ ہے کہ ڈرامے خود نوشتوں پر بنیں گے یا لکھنے والا ساتھ حلف اٹھائے گا کہ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں یہ فکشن نہیں ہے۔ اور اگر ڈرامہ فکشن نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ یہ جو ڈسکلیمر دیتے ہیں، “اس ڈرامے کے تمام کردار و واقعات فرضی ہیں” تو بس اب اسی پر سیدھے سبھاؤ چینل بند ہو جایا کریں گے کہ آپ میں اتنی جرات کیسے ہوئی جو فرضی کہانی کو ڈرامہ بنا کر پیش کر دیا۔ کانٹینٹ سے متعلق یہ بہت زیادہ مجرد حکم ہے یا شاید اپنے دماغ کا فتور ہے، بہرحال دیکھیے اس دریا کے پار کیسے اترنا ہو۔

ایک جگہ یہ کہا گیا کہ ڈراموں کے لیے ملبوسات ایسے پہنے جائیں جو ہماری روایات کے عین مطابق ہوں۔ سو بسم اللہ، اس سے اچھی تو کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی لیکن کامل یقین ہے کہ اس کے بعد شلوار قمیص اور دوپٹے کے علاوہ خواتین کے لیے کچھ نہیں رہ جائے گا۔ ساڑھی باندھ نہیں سکتیں، لہنگا، غرارہ، شرارہ اب پرانے ہو گئے، جینز اور ٹی شرٹ بھلے یونیورسٹیوں کالجوں گھروں میں پہن لیں، شاپنگ مال جاتے ہوئے پہن لیں مگر ڈرامہ بنے گا تو لان کے سوٹوں کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا۔ لان کا ایک مناسب ڈیزائنر سوٹ پانچ ہزار سے شروع ہوتا ہے اور پندرہ بیس ہزار تک جاتا ہے تو کیا ایسے میں وہ کلاز ڈسٹرب نہیں ہو گی جس میں کہا گیا ہے کہ لوگوں میں احساس محرومی پیدا نہ ہو؟ اسی طرح مرد بھی غالباً کرتے پائجامے یا شلوار قمیص میں ہی روایات کو پامال کرنے سے محفوظ رہ سکیں گے۔ پینٹ شرٹ تو بہرحال ہماری روایت نہیں ہے اور سکنی شارٹ فلائے جینز والوں کی تو مت ہی ماری جائے گی۔ گویا وہ کام جو دو ہزار کی پتلون قمیص میں ہوتا تھا اب پانچ چھ ہزار کی برانڈڈ شلوار قمیص پہن کر ہو گا اور روایات یا سادگی پروموٹ ہوں گے۔

مارننگ شوز کے بارے میں جو نوٹیفیکیشن آیا اس میں غیر اخلاقی مواد پر گرفت کی گئی ہے۔ جو بات روایات کے خلاف ہے، اقدار اجازت نہیں دیتیں اسے عموماً نازیبا مانا جاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات جو چیز ایک شخص کے نزدیک قابل اعتراض ہو عین ممکن ہے دوسرا اسے سکون سے دیکھ لے، تیسرا شاید اس میں تھوڑی بہت مین میخ نکالے اور چوتھے کے نزدیک ہو سکتا ہے وہ کوئی مسئلہ ہی نہ ہو جیسا کچھ عرصے پہلے ایک اشتہار پر ہندی کی چندی ہوئی تھی۔ تو اب ان چاروں کے درمیان یہ کون طے کرے گا کہ آیا فلاں شو میں کوئی ایک منظر یا ڈائیلاگ فحش تھا یا نہیں تھا اور اس کا پیمانہ کیا ہو گا؟

رمضان شریف کی ٹرانسمیشن کے بارے میں جو کچھ کہا گیا اس سے مکمل اتفاق ہے۔ اس رحمتوں والے مہینے کے دوران ٹی وی پر جو ہنگامہ برپا کیا جاتا ہے اس سے نمٹنے کے لیے یہ بہتر ہے۔ عقیدے اور مذہب کا احترام دنیا کا ہر قانون سکھاتا ہے اور یہی عین بھلائی ہے۔ رمضان شریف کے پروگراموں کو چھوڑ کر جو کچھ باقی آرڈر آیا ہے وہ خود اس قدر گنجلک اور پیچیدہ ہے کہ اپنے آپ میں کئی شقیں متصادم ہیں۔ ایک شکنجہ ہے جو تمام ٹی وی چینلز کے گرد کسا نظر آتا ہے اور کوئی بھی کبھی بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ایسا شش جہت قانون ہے کہ کسی بھی ڈائیلاگ پر، کسی بھی لباس پر، کسی بھی منظر پر، کسی بھی لوکیشن پر، کسی بھی معنی خیز توقف پر اور یہاں تک کہ صرف بیک گراؤنڈ میوزک پر بھی گرفت کی جا سکتی ہے۔

تو وہ جو سارے خواب دھڑام کر کے زمین پہ گرے اور چکنا چور ہو گئے اس کے پیچھے بنیادی مسئلہ یہی تھا کہ ایسے ہو گا تو کون آئے گا۔ نئے آنے والے بچے جب اتنی ساری پابندیاں دیکھیں گے تو دور سے ہی سلام کر کے سائیڈ پر ہو جائیں گے اور جو پرانے ہیں ان کی تو روزی روٹی ہے، وہ جیسے تیسے گزارہ کریں گے اور منتیں وغیرہ مان کر پریمئیر کرایا کریں گے۔

ویسے اب ایک نیا مضمون شامل نصاب ہونا چاہئیے، ہومیو پیتھک فلمیں اور ڈرامے کیسے بنائے جائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 297 posts and counting.See all posts by husnain