سیاست اور قانون کے دہرے امتحان میں الجھی سپریم کورٹ (1)


 پاناما کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے والے تین رکنی بنچ نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے مالی معاملات کی تحقیقات کرنے کے لئے 6 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کمیٹی کے اخراجات کے لئے 2 کروڑ روپے فوری طور پر فراہم کرے۔ وزارت داخلہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کمیٹی کے تحفظ کا انتظام کرے۔ کمیٹی کو ملک کے ضابطہ فوجداری، نیب ایکٹ اور ایف آئی اے ایکٹ کے تحت تحقیقات کا حق حاصل ہوگا۔ حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام ادارے اس کمیٹی کے ساتھ تعاون کرنے کے پابند ہوں گے جبکہ کمیٹی ہر دو ہفتے بعد سپریم کورٹ کو اپنی پیش رفت سے آگاہ کرے گی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اس کمیٹی کو 2 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے سپریم کورٹ کو پیش کرنا ہوں گی جن کی روشنی میں سپریم کورٹ پاناما کیس کے بارے میں حتمی فیصلہ صادر کرے گی۔ تاہم سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو جاری ہونے والے فیصلہ میں ایک ہفتہ کے اندر کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اس کا قیام پندرھویں دن ممکن ہو سکا ہے۔ اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا کمیٹی کی درخواست پر عدالت عظمیٰ اسے اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے لئے مزید وقت بھی عطا کرے گی یا نہیں۔

ایک جے آئی ٹی کے ذریعے ملک کے وزیراعظم کے خلاف تحقیقات کروانے کا فیصلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے عجیب و غریب ہے۔ اس کی قانونی اصابت پر تو ماہرین قانون ہی روشنی ڈال سکتے ہیں لیکن اس فیصلہ سے سپریم کورٹ نے ملک کے چیف ایگزیکٹو کو اپنے ماتحت اداروں کے سامنے جوابدہ کرنے کی ایک نادر مثال قائم کی ہے۔ یہ فیصلہ اگر یہ اصول متعین کرتا کہ بدعنوانی کے الزامات کی صورت میں ہر عہدیدار خواہ وہ ملک کا وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو متعلقہ محکموں کے سامنے جوابدہ ہوگا تو یہ اصولی فیصلہ ہوتا جو ایک خاص فرد تک محدود نہ ہوتا۔ زیر نظر فیصلہ میں قباحت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے کوئی قانونی یا انتظامی اصول وضع کرنے کی بجائے صرف نواز شریف کے خلاف شکایات کا جائزہ لینے اور حقائق جانچنے کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی ہے جو وزیراعظم اور ان کے بیٹوں سے تفتیش کر سکے گی اور سپریم کورٹ کو جوابدہ ہوگی۔ حیرت انگیز طور پر سپریم کورٹ کے فیصلہ میں نیب سمیت تمام سرکاری اداروں پر بداعتمادی کا اظہار کیا گیا تھا۔ لیکن تحقیقات کے لئے انہی اداروں سے افسروں کا انتخاب کرکے جے آئی ٹی بنائی گئی ہے۔ بینچ میں شامل ججوں نے کوئی عدالتی کمیشن بنانے اور اس طرح خود تحقیقات کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا ہے لیکن یہ ضرور سمجھ لیا ہے کہ جب عدالتی بینچ تحقیقاتی کمیٹی کے کام کی نگرانی کرے گا تو وہ موثر طریقے سے دیانتدارانہ تحقیقات کر سکے گی۔ سپریم کورٹ کا یہ گمان درست بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ اندازہ غلط ثابت ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اس صورت میں عدالت عظمیٰ انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کے فیصلہ پر پشیمان بھی ہو سکتی ہے لیکن اس وقت ملک کے ریاستی انتظام اور اداروں کو نقصان پہنچ چکا ہوگا اور اس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں: ۔  خواجہ سراﺅں کا نیا پاکستان

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے اور اس کی نگرانی کرنے کے جس کام کا بیڑا اٹھایا ہے وہ ملک کی منتخب حکومت اور انتظامی ڈھانچے پر مکمل طور پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اس کے علاوہ عدالت کے ججوں نے وہ کام کرنے کا قصد کیا ہے جو ان کا شعبہ نہیں ہے۔ ایک جج قانون داں ہوتا ہے اور وہ قانون کی روشنی میں سامنے آنے والے حقائق کو چھان پھٹک کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون بے گناہ ہے اور کون قصوروار۔ تاہم اب عدالت کے جج گو کہ براہ راست تحقیقات میں ملوث نہیں ہوں گے لیکن وہ جے آئی ٹی کے کام، مالی معاملات، اس کے ارکان کی حفاظت اور دیگر اداروں کی طرف سے تعاون کے امور کی خود نگرانی کریں گے۔ ججوں کی صلاحیتوں اور نیتوں پر شبہ کئے بغیر یہ کہنا مشکل نہیں کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ پس منظر، اور تجربے کے اعتبار سے اس کام کے اہل نہیں ہیں۔ اس لئے اس میں غلطی کا امکان بہت زیادہ ہے۔ یوں بھی جب ملک کا ایک ایسا اہم ترین ادارہ جس سے سب انصاف کی امید کرتے ہیں، انصاف کی جستجو میں خود ہی پولیس اور مجسٹریٹ کا کام سرانجام دینے کی کوشش کرے گا تو اسے درست فیصلہ قرار دینا مشکل ہے۔

اس سے پہلے ملک میں فوج کی طرف سے سول حکومتوں کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے آئین معطل کرنے اور فوجی حکومت قائم کرنے کے تجربات کئے جا چکے ہیں۔ بدقسمتی سے سپریم کورٹ حکومت کے خلاف جے آئی ٹی بنا کر اور اس کی انتظامی ذمہ داری قبول کرکے جو کارنامہ سرانجام دینا چاہتی ہے، وہ ماضی میں فوج کی طرف سے سول و سیاسی انتظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کرنے کے رویہ سے مماثل ہے۔ سب جانتے ہیں کہ فوج نے ملک میں چار بار امور مملکت چلانے کی کوشش کی اور ہر بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مارشل لاء لگانے اور آئین معطل کرنے کے فوجی فیصلے بہرصورت غلط اور ناقابل قبول تھے۔ قوم ان سے ہونے والے نقصانات کا خمیازہ اب تک بھگت رہی ہے۔ اب سپریم کورٹ یہی سوچ آئینی توضیحات کو وسیع کرتے ہوئے اپنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اپنے دائرہ کار سے باہر نکل کر جو ادارہ بھی قوم کی بھلائی کا بیڑا اٹھانے کا عزم کرے گا، اس سے خیر کی امید کرنا مشکل ہو گی۔ اس وقت ملک کے سیاسی ماحول اور حکومت پر سیاسی اور عسکری دباؤ کی وجہ سے سپریم کورٹ کو بھی وزیراعظم کے خلاف من مانی کرنے کا موقع ملا ہوا ہے لیکن اسے درست طریقہ کار تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں: ۔  ایم اے راحت کے ساتھ کچھ یادیں

(جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 683 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali