بول چینل کا قصور کیا ہے؟


صحافت کے عالمی دن کے موقع پر بول چینل کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا۔ بہت سے لوگوں کے لئے شاید بول کی بندش میں کوئی خاص بات نہ ہو لیکن مجھے یوں لگتا ہے جیسے ایک کمپنی کو جو ملک خداداد پاکستان کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتی ہےجان بوجھ کر تباہ کیا جا رہا ہے ۔
اس میں اپنے پرائے سب مل کر بس اپنا اپنا کردار اور حصہ ڈال رہے ہیں ۔ میری رائے غلط بھی ہو سکتی ہے۔ بول کو ابھی دس دن کا وقت دیا گیا شاید اس کے بعد پھر چلنے کا موقع دیا جائے یا پھر پابندی لگا دی جائے گی ۔
بول نہ صرف میڈیا ، اخبار اور چینل پر مشتمل تھا بلکہ بول نے کچھ معاہدوں پر کام کرنا شروع کیا تھا جو شاید بہت سے لوگوں کو آسانی سے ہضم نہیں ہو سکتے تھے ۔
پہلا بڑا معاہدہ جن میں گوگل کی جگہ بول والا نے لینی تھی جس میں ہر جگہ کی تازہ تصاویر، میپ ، ویڈیو کلپس پورے پاکستان کا سب ڈیٹا رکھا جاتا۔ گوگل پاکستان معاہدہ 2018 میں ختم ہونا تھا کیونکہ پاکستان میں انٹرنیٹ سرور کی تمام چیزوں تک رسائی گوگل کی مہربانی سے ہے جوکہ ایک انڈین ٹھیکہ ہے اور یہ بہت اچھا اقدام تھاجو پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے خاصے کام آتا۔۔ دوسرامعاہدہ تعلیم کے میدان میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے اس کی سمری یو این او اور اے ایم آئی سے تصدیق ہوتے ہوئے پاکستان آئی اور سب متفق تھے جس کی مد میں سالانہ 10 ارب روپےتعلیم کے لیے پاکستان آتے اور ایک کروڑ سے زائد بچے تعلیم یافتہ بننے تھے۔ تیسرا معاہدہ ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہے ۔آئی ٹی سیکٹر میں رینڈر ہاؤس بنانے والا پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہوتا جہاں فلمیں رینڈر ہوتیں، ساتھ کارٹون، گرافکس، مایا میکس، آرکیٹیکچر اور ویب کے بے شمار پروجیکٹس تیار ہوتے جس سے سالانہ کم ازکم 10کروڑ ڈالر کی کثیر رقم کمائی جا سکتی تھی ۔چوتھا معاہدہ ان سب سے بڑھ کے تھا پاک سیٹلائٹ سسٹم کو اپڈیٹ کرنے کا جو کہ اگر کچھ دوست واقف ہوں تو آپ کی بجلی کے بل میں 35 روپے ماہانہ اس کی فیس ہر گھر ادا کرتا ہے۔جس کے لیے ہمارے دوشمن ممالک دن رات کوشش میں ہیں کہ ایک بار پاک سیٹلائٹ سے رابطہ منقطع ہو تو اپنا ایٹمی طاقت بھی بھول جائیں پھر تو، یہ بات حقیقت ہے کہ ان سب پروجیکٹس سے بول کو اربوں کا۔ فائدہ ہونا تھا۔ لیکن پاکستان کے لیے بھی بڑی تبدیلی تھی۔
اب آجائیں کہ یہ سب ایک ٹی وی چینل کھولنے والا کیسے سوچ سکتا ہے پچھلے نو برس کی سوچ یہ کسی آدمی کی نہیں تھی بلکہ دن رات کام، کرنے والے 11730 لوگوں کی ٹیم جو مختلف شعبوں سے وابستہ تھی اور مل کران پانچ پروگرامز پر دن رات کام کر رہے تھے ۔یہ بات بھی سوچنے والی ہے کہ ان 5 پروجکٹس کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ تو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب کہیں نہ کہیں آپس میں جوڑے گئے ہیں اور عجب اتفاق کہا جائے یا سازش لیکن پیسے لگانے والے بھی اپنے دائر ے سے باہر نہیں گئے۔اب سوچیں جیسے کہ گوگل کی جگہ بول والا تھے جو تصویریں، ویڈیو کلپ اور ایڈرس شامل ہونے تھے سب یہیں سے لیتے۔ دوسرا کام تعلیم کے لیے ملنے والی رقوم جس کو ایگزیٹ کے تحت لایا جانا تھا۔ اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی ڈگری جعلی ہوتی ہے یا اصلی لیکن پورا انفرااسٹرکچر ایگزیکٹین کے سپرد تھا۔ اس طرح آئی ٹی کو بھی ایگزیکٹ سے جوڑا گیا جو اس کا پرانا دھندا بتایا جاتا ہے، سیٹلائٹ سسٹم سے بول کو دو فائدے تھے ایک فری کیبل سروس لیتا ۔فریکوئنسی فری ہوتی ، پاک سیٹ پر گوگل کی جگہ بول والا تھا جو معاہدے سرور کے گوگل سے ہوتے ہیں سب انکے پاس آتے اور ساتھ مکمل پاکستان سے گزرنے والے تمام سیٹلائٹ لائن کی نگرانی ہوتی اور دنیابھر کے کئی ترقی پذیر ممالک ایسا کرتے ہیں جن میں ہندوستان بھی شامل ہے، جو انڈین چینلز ہم دن رات فری دیکھتےہیں وہ ایسے ہی تو ڈراپ کرتے ہیں اور اب تو ایکسپریس گروپ کا بھی ان سے معاہدہ طے ہوا ہے۔ اگر کچھ دوست واقفیت رکھتے ہوں تو روس کی یہ سب چیزیں اپنی ہیں ۔
بول میں 22 سو اور ایگزیکٹ میں 5 ہزار ملازم تهے..جب کہ آوٹ سورس 20 ہزار افراد دونوں اداروں سے منسلک تهے۔ بول پاکستان میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا پلان رکهتا تها جب کہ چین کے ساته سی پیک معاہدہ 43 ارب ڈالر کا ہے… بول نے 2019 تک پاکستان کے ایک کروڑ بچوں کی مفت تعلیم دینے کا پلان بهی بنایا تها یہ تعلیم او لیول سطع کی ہوتی جس کی تیاریاں مکمل تهیں۔ بول کے 4 چینلز اور آنے تهے
مدعی ہے نہ کوئی شکایت کنندہ، نہ ایسا کوئی جس نے ایگزیکٹ سے جعلی ڈگری لی ہو

نہ ہی پوری دنیا سے کوئی ایسی یونیورسٹی سامنے آئی جو دعوی کرے کہ اسکی جعلی ڈگری ایگزیکٹ بیچتی تھی ۔
بول کیو ں مشکلات کا شکار ہے؟
یہاں بڑے چینل پر کیا سے کیا نہ ہوا لیکن بند نہیں کیا گیا آخر بول ہی کیوں زیر عتاب ہے ؟؟
کہیں بول کر روکنے کی آڑ میں آئی ٹی سیکٹر کو تباہ کرنا تو نہیں ؟
پاکستان آئی ٹی سیکٹر میں خود کفیل ہو جائے یہ کس کس کو ہضم نہیں ہو سکتا آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں ۔
پھر جو سب کچھ بول کے مقاصد یا اس کے پروجیکٹ میں شامل ہے کیا وہ سب کسی اور چینل کو بھی آسانی سے ہضم ہو سکتا تھا ؟
بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں لیکن بول زیر عتاب ہے ۔ اور شاید بول اس وقت تک نہ پوری طرح کام کر سکے جس وقت تک ہمارے ملک میں باشعور لوگ بڑے عہدوں پر آئیں اور وہ اس کے مقاصد کو سمجھ کر اس کو کھل کر کام کرنے دیں ۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہم ان لوگوں کے لئے زمین تنگ کرتے ہیں جو ملک کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں ۔ شاید ابھی بہت سے سوال کا جواب ہمیں نہ مل سکے لیکن وقت آنے پر بہت کچھ کھلے گا ۔
کچھ باتیں ایسی ہیں جو شاید تاریخ کا حصہ بن جائیں گی یا پھر ان سے کبھی نہ کبھی پردہ اٹھے گا یہ آنے والے وقت بتائے گا ۔
شاید یہ حکومت اجازت نہ دے یا ایسے ہی معاملات چلنے دے یہ سب آنے والا وقت بتائے گا کہ کون کتنا مجرم ہے اور کس نے قوم کو جاہل رکھنے کے لئے کیا قیمت لی ۔
کبھی ایسا موقع ضرور آنا ہے جب سب کھل کر سامنے آئے گا لیکن شائد اس کے لئے وقت اور تاریخ فیصلہ کرے گی


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

افراز اختر کی دیگر تحریریں
افراز اختر کی دیگر تحریریں