میکاولی اور ہماری سیاست


پرانے لطیفوں میں چھپی حکمت دیر سے سمجھ میںآتی ہے۔ آپ نے بھی سنا ہوگا کہ ایک شخص نجومی کے پاس گیا اور پوچھا کہ میری دائیں ہتھیلی میں خارش ہوتی ہے۔ نجومی نے کہا۔ اس کا مطلب ہے تمہیں پیسے ملیں گے۔ اس نے کہا دوسری ہتھیلی میں بھی خارش ہوتی ہے۔ تو نجومی نے کہا۔ آپ کو بہت زیادہ پیسے ملیں گے۔ بولا پیر کے تلوے میں بھی خارش ہوتی ہے۔ نجومی نے کہا آپ سفر پر جائیں گے۔ (ظاہر ہے اتنے پیسے ہوں گے تو سیر سپاٹا تو ہوگا ) پھر نجومی سے کہا میرے سر میں بھی خارش ہوتی ہے۔نجومی نے کہا۔دور ہٹ کے بیٹھو تمھیں تو خارش کی بیماری لگتی ہے۔

خارش ایک ایسی میٹھی میٹھی بیماری ہے کہ ایک بار اگر خارش زدہ جگہ کو چھیڑ دیا جائے تو پھر رکنے کی خواہش پوری نہیں ہوتی یہ خارش پھر رفتہ رفتہ پورے بدن کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ویسے تو خارش کی بیماری انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی لیکن بعض خارشیں ایسے ہوتی ہیں جس کے بار بار لگنے کی خواہش ہوتی ہے اور یہ خارش اگر اقتدار کی ہو تو پھر یہ تاحیات رہنے کی خواہش ہوتی ہے۔ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو اسی خارش نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس خارش کے لیے وہ خواب بھی دیکھتے ہیں اور اس کے لیے وہ سب کچھ کر گزرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں حتیٰ کے میکاولی کے نقش قدم پر بھی چلتے ہیں اور اس کے بدنام زمانہ افکار پر عمل بھی کرتے ہیں۔

میکا ولی ویسے تو بہت نیک نام (بدنام) ہیں لیکن انہوں نے حکمرانوں کے لیے ایک ہدایت نامہ بھی لکھ کر چھوڑ رکھا ہے جس پر ہمارے حکمران اور سیاست دان بڑے خلوص دل سے عمل کرتے ہیں۔ اس سے قبل کہ ہم بات کو آگے بڑھاہیں آئیں پہلے یہ جان لیں کہ میکا ولی تھا کون۔ میکاولی اٹلی کا ایک سیاسی مفکر گزرا ہے، وہ  1449 میں اٹلی میں پیداہوا، وہ اٹلی کے شہر فلورنس کا رہنے والا تھا جہاں ایک مدت تک میڈیسی خاندان کی بادشاہت قائم تھی لیکن 1498 میں وہاں بادشاہت کا خاتمہ کر دیا گیا اورایک عوامی جمہوریت کی بنیاد ڈالی گئی۔ میکاولی اسی دور میں فلورنس کی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ہوئے ۔کئی سفارتی خدمات انجام دینے کے بعد ان کے کیریئر کا نازک موڑ اس وقت آیا جب 1512 میں میڈیسی خاندان نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ میکاولی کو باغیوں میں شمار کیا گیا، اسے گرفتار کیا گیا لیکن پھر بے گناہی کے ثابت ہوجانے پر رہا کردیا گیا ۔

اسی دور میں رہائی کے بعد میکاولی نے دوبارہ وزارت پانے کے لیے بادشاہ کی خوشامد میں اسے مشورے دینے کے لیے یہ کتاب لکھی جس کا ہر دور میں چرچہ ہوتا ہے۔ اپنی کتاب ’دی پرنس‘ میں اس نے اپنے تجربات کی روشنی میں اٹلی کے استحکام سے متعلق بادشاہِ وقت کو متعدد مشورے دئیے ہیں اور یہی وہ مشورے ہیں جس پر ہر حکمران عمل کر رہا ہے۔ میکاولی کویورپ میں امورِ سیاست و ریاست کا ولی گردانا جاتا ہے جو اب قصہ پارینہ بن چکا ہے ، لیکن اپنی بدنامِ زمانہ کتاب ’ دی پرنس‘ کی وجہ سے وہ آج بھی زندہ ہے۔

میکاولی نے ریاستوں کو دو قسموں یعنی بادشاہت اور جمہوریہ میں تقسیم کیا تھا۔ سیاسیات پر اس کتاب کے26 ابواب ہیں اس کتاب میں اس نے سیاست اور حکومت کرنے کے اصول اور طریقے بیان کئے ہیں ۔اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ حکمرانوں کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ وہ جھوٹ ، دھوکہ دہی، اور ظلم کو اپنے اقتدار کے حصول اور اسے قائم رکھنے کے لئے اختیار کر سکتے ہیں،حکمران اپنے سیاسی مفادات اور اقتدار کو طول دینے اور اس کی حفاظت کے لئے ہر طرح کی اخلاقی قدروں کو پس پشت ڈال سکتے ہیں اورمذہب و اخلاق کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اپنی کتاب میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں ’ عوام کو یا تو چمکارلینا چاہیے یا برباد کردینا چاہیے۔ کیونکہ اگر انہیں صرف معمولی نقصان پہنچا کر چھوڑ دیا گیا تو وہ بدلہ لینے پر آمادہ ہوجائیں گے لہٰذا اگر نقصان پہنچانا ہی ہے تو کچھ ایسا پہنچانا چاہیے کہ دوبارہ ان کی طرف سے کسی مزاحمت اور بدلے کا خدشہ نہ رہے۔

میکاولی نے پنی کتاب میں بادشاہ کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ لوگوں کا بادشاہ سے ڈرنا اس سے محبت کرنے سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ، تمام ہی انسانوں کے بارے میں یہ عام اصول ہے کہ وہ ناشکرے، جھگڑالو، جھوٹے اور دھوکے باز ہوتے ہیں، خطرات سے ڈرنے والے اور فائدوں کے حریص۔ اگر آپ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں گے تو وہ آپ کے ساتھ رہیں گے، جب تک آپ کے ساتھ رہنے میں کوئی خطرہ نہ ہو۔ لیکن خطرے کا وقت آتے ہی وہ ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ محبت ایک ایسی چیز ہے جسے وہ کبھی بھی اپنے فائدے کے لیے قربان کرسکتے ہیں لیکن ڈر میں چونکہ سزا کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے اس لیے انہیں قابو میں رکھتا ہے‘۔ ایک دوسری جگہ وہ لکھتے ہیں’ بادشاہ کو بے رحم ہونا چاہیے۔ لیکن کامیابی یا ناکامی اس بات پر منحصر ہے کہ بے رحمی کا استعمال احسن طریقے سے کیا گیا ہے یا بھونڈے طریقے سے ، ایک بادشاہ کو جنگ کے علاوہ کسی چیز کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بادشاہوں نے جب جب جنگ کو چھوڑ کر تہذیب و ترقی اور زندگی کے دوسرے پہلووں کے بارے میں سوچا ہے انہوں نے اپنا مقام اور رتبہ کھودیا ہے۔ یہ سوچنا کہ ایک مسلح آدمی ایک غیر مسلح کی اتباع کرے گا غیر دانشمندی کی علامت ہے

۔بادشاہ کو میکاولی کا یہ بھی مشورہ ہے کہ وہ اخلاق و کردار کے جنجال میں نہ پھنسے۔ اچھائیاں وقت کے مطابق بدلتی رہتی ہیں میکاولی کہتا ہے کہ کوئی بھی آدمی جو ہر وقت اچھا بننے کی کوشش کرے گا وہ یقینا برباد ہو جائے گا کیونکہ اسے ان لوگوں کے بیچ رہنا ہے جو اچھے نہیں ہیں۔ اس لیے ایک بادشاہ کو کیسے اچھے نہیں رہنا ہے کا فن سیکھ لینا چاہیے۔ ایک بادشاہ کو عام برائیوں میں ملوث ہوکر بدنام ہوجانے سے گریز کرنا چاہیے لیکن اگر کسی برائی میں ملوث ہونا ہی پڑے تو اسے اس کے بارے میں زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اسے ایسی کسی بدنامی سے نہیں ڈرنا چاہیے جو ریاست کے استحکام کے لیے ضروری برائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ لگے۔ کتنے ہی ایسے بھلے قدم ہیں جو اگر اٹھالیے جائیں تو بربادی مقدر بنے اور کتنی ہی ایسی برائیاں ہیں جنہیں کر گزرنے پر تحفظ اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے۔ بادشاہ مذہب اور اخلاق کو بطور ہتھیار استعمال کرے۔ مثال کے طور پر عوام کو کسی دشمن کے خلاف اکسایا جا سکے۔ اس کام کے لیے کم از کم ایسا دکھنا ضروری ہے کہ بادشاہ خود اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہے۔ اگر بادشاہ کی خواہش ہے کہ اس کو سخی اور فیاض جانا جائے تو اس کو کوئی ایسا موقع نہیں چھوڑنا چاہیے جس کے ذریعے بادشاہ اپنی عنایات کا اشتہار کرسکیں، ان بادشاہوں نے نمایاں ترین کامیابی حاصل کی ہیں جنہوں نے اپنے وعدوں کی پاسداری پر کم دھیان دیا۔

میکاولی کا ’فرمان‘ہے کہ ایک بادشاہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ درندوں کا کردار کیسے ادا کرے۔ اسے شیر اور لومڑی کی نقل کرنی چاہیے۔ آپ کو ایک لومڑی ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کے بچھائے ہوئے جالوں سے ہوشیار رہیں اور ایک شیر تاکہ بھیڑیوں سے مقابلہ کرسکیں۔ جو لوگ ہمیشہ شیر بنے رہنا چاہتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ ایک عقلمند بادشاہ کو کبھی اپنے وعدے ایفا نہیں کرنے چاہئیں ، جب ایسا کرنا اس کے مفادات کے خلاف ہو۔ اگر تمام انسان اچھے ہوتے تو یقینا ایسا کرنا برا تھا لیکن جب تمام ہی انسان برے ہیں تو ہم پر اکیلے اخلاقیات کا بار اٹھانے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ بادشاہ کو سخت جھوٹا، مکار اور منافق ہونا چاہیے۔ عوام اس قدر سیدھے، اور اپنی فوری ضروریات کی تکمیل میں اس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ ایک دغاباز شخص کو ہزاروں ایسے افراد مل جائیں گے جو بیوقوف بننے کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہوں گے۔ بادشاہ کو کسی حال میں بھی یعنی صراحتاً غلط ثابت ہوجانے پر بھی اپنے فیصلے تبدیل نہیں کرنے چاہئیں۔

اگر میکا ولی کے افکار کا تجزیہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ میکا ولی اور اس کے مشوروں پر عمل کرنے والے حکمران اور سیاستدان آج بھی زندہ ہیں۔ جس یورپ میں بیٹھ کر اس نے کتاب لکھی تھی وہ لوگ تو اس کے افکار کو درخواعتنا نہیں سمجھتے لیکن ہم نے اسے سینے سے لگا رکھا ہے اور اس پر خارش کی طرح اعتقاد رکھتے ہیں۔ ہمارے حکمران اور سیاسی قیادت کرسی کے حصول کے لیے آج بھی چودہویں صدی کے ان اصولوں کے دیوانے ہیں اور ان پر عمل کرنے کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔اسی لیے ملک میں کرپشن کا بازار گرم ہے۔ حکمران اور ان کے چہیتے شیر مادر سمجھ کر قومی خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔ عوام کو دبا کر رکھنے کے لیے جرائم اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ امن وامان کو بہتر بنانے کی بجائے اسے ابتر بنانے میں حتی الوسعیٰ کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ یہی وہ بنیادی حقائق ہیں جن کی وجہ سے پاکستان ترقی کی بجائے روز بروز تنزلی کی طرف جارہا ہے۔

یہ حالات تب ہی درست ہوسکتے ہیں کہ ہم سب اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا محاسبہ کریں اور اپنے اعمال اور کردار کو درست کریں اور اگر ہم نے اپنے کردار پر غور کرکے اسے صراط المستقیم پر نہ ڈالا تو تباہی و بربادی ہمارامقدر ہوگی ۔ سقوط ڈھاکہ ہم سب کے سامنے زندہ مثال موجود ہے۔ابھی پانی سر تک پہنچا ضرور ہے سر سے اونچا نہیں ہوا ۔اب بھی وقت ہے اگر ہم نے ہوش کے ناخن لیے تو ہم سنبھل سکتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔