پاناما کیس کا دوسرا مرحلہ


اب ہمارے سامنے پاناما فیصلے کو نافذ کرنے کے لئے تشکیل دیا جانے والا بنچ ہے ۔ اس میں بجا طور پر وہی جج حضرات شامل ہیں جنہوں نے کیس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ لکھاتھا کہ اس کے لئے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ یہ کارروائی ممکنہ طور پر ایسا رخ اختیار کرسکتی ہے کہ مستقبل بعیدمیں وزیر ِاعظم کو نااہل قرار دیدے ، یا پھر فاضل عدالت اُنہیں فوری طور پر نااہل قرار دے کر گھر بھیج سکتی ہے ۔ اس کا دارومدار جزوی طور پر اس بات پر ہے کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کیا کہتی ہیں اور جزوی طور پر اس پر کہ بنچ آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 کو کس طرح پڑھتا ہے ۔
مذکورہ آرٹیکلز پر جج حضرات کی آراپاناما کیس کے دوران سننے میں آئیں۔ بہت سے کیسز، جن میں آرٹیکلز 62 اور 63 کے تحت ارکان ِ پارلیمنٹ کو ریکارڈ پر موجود ثبوت کی بنیاد پر نااہل قرار دینے کے لئے درخواست دی گئی تھی ، کے حوالہ جات پر بحث کرتے ہوئے جسٹس اعجاز افضل خان بہت واضح انداز میں لکھتے ہیں۔۔۔’’ہمیں یہ کہنے میں کوئی تذبذب نہیں کہ ٹھوس ثبوت کی غیر موجودگی میں یہ عدالت اس قسم کے کیس(نااہلی کی بابت)کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت نہیں کرسکتی ۔ ‘‘وزیر ِاعظم کے خلاف کسی جرم کے الزام ، جو نیب آرڈیننس کے سیکشنز 9(a)(v) اور15 ،کے تحت ہوں ، کے حوالے سے جج صاحب کہتے ہیں۔۔۔’’سپریم کورٹ نیب آرڈیننس کے سیکشنز 9(a)(v) اور15 کوآئین کے آرٹیکل 63 میں ضم نہیں کرسکتی ، اس کے استعمال سے نااہل قرار نہیں دے سکتی اورنہ ہی کہہ سکتی ہے کہ فلاں رکن ِ پارلیمنٹ صادق اور امین نہیں رہا ، چنانچہ اُسے نااہل قرار دے دیا جائے ۔ اس قسم کا فیصلہ نہ صرف ناانصافی پر مبنی ہوگا بلکہ آئینی حدود اور قانونی اتھارٹی سے بھی دور ہوگا۔ اگر کسی شخص کے خلاف نیب آرڈیننس کے سیکشنز 9(a)(v) اور15 کے تحت کارروائی کی جانی ہے تو اس کے لئے ایک طریق ِ کار اور نظام طے کرنا پڑے گا۔قانون، تحقیقات کرنے والی ایجنسی ، احتساب کورٹ اور دیگر عدالتوں کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیں۔ مدعاعلیہ نمبر 1 ( وزیر ِاعظم ) کو تحقیقات کے تمام مراحل، ٹرائل اور اپیل، سے گزرنا چاہئے ۔ ہم اس طریق کار کو نظر انداز کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی نہیں کریں گے ۔ یہ آرٹیکل قانون کی حکمرانی کا روح ِ رواں ہے ۔‘‘
اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جسٹس خاں صاحب نے اس بات کو خارج ازامکان قرار دے دیا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 62 کے تحت آرٹیکل 184(3) کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی کو نااہل قرار دے سکتی ہے ۔ اس رائے کے مطابق جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ نیب کے پاس بھیجی جائے گی تاکہ کسی احتساب عدالت میں وزیر ِاعظم کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لئے مقدمہ درج کیا جاسکے ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے بھی اپنی رائے دی کہ ۔۔۔’’محض الزامات کی بنا پر کسی شخص کو نااہل قرار دینا قانونی طور پر ناممکن ہے ، اگر چہ ایسے الزامات کے تحت نیب آرڈیننس کے تحت کارروائی کی ہدایت دی جاسکتی ہے ۔ لیکن سپریم کورٹ کی طرف سے ایک شخص کو اس طرح نااہل قرار دینے کا مطلب تمام قانونی نظام کو الٹا کر رکھ دینا ہے، اور یہ چیز آئین کی روح کے منافی ہے ۔ ‘‘
جسٹس سعید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔۔۔’’آرٹیکل 62(1)(f) میں جس ’’ایمانداری ‘‘ کا ذکر ہے ، اس سے مراد اخلاقی ایمانداری( جو کہ داخلی ہے) نہیں بلکہ قانونی ایمانداری ہے جو کہ معروضی ہے ۔ عدالتیں کبھی بھی اخلاقیات کی حدود میں دخل نہیں دیتیں۔ سپریم کورٹ کی حدود کی وضاحت کرتے ہوئے فاضل جج صاحب لکھتے ہیں۔۔۔’’آرٹیکل 62(1)(f)کو سیاسی مسائل حل کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، اور نہ ہی یہ عدالت خود ایسی طاقت رکھتی ہے جو اخلاقی بنیاد پر امیدواروں کو نااہل قرار دے سکے ۔‘‘ اس طرح جسٹس سعید اس بات کو خارج از امکان سمجھتے ہیں کہ وزیر ِاعظم کو اُن کے بچوں کے افعال ( جو اگر بددیانت پائے جائیں) کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جائے ۔ تاہم وہ وزیر ِاعظم کی نااہلی کا ایک امکان پیش ِ نظر رکھتے ہیں۔ جج صاحب لکھتے ہیں۔۔۔’’عام طور پر یہ عدالت (سپریم کورٹ) متنازع الزامات کی بنیا د پرآرٹیکل 184(3) کے تحت کسی کو نااہل قرار دینے سے احتراز کرتی ہے ، تاہم یہ کوئی حتمی اصول نہیں ہے ۔ غیر معمولی حالات میں اس عدالت نے ایک سے زیادہ مرتبہ ایسا کیا ہے ۔ چنانچہ یہ عدالت مدعاعلیہ نمبر 1( وزیر ِاعظم)کو جے آئی ٹی کی رپورٹس کی بنیاد پر نا اہل قرار دینے کے معاملے کی جانچ کرے گی۔ ‘‘
جسٹس اعجاز افضل خان کی رائے میں عوامی نمائندگی رکھنے والے ایک عہدیدار کے اعلانیہ آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے کے الزام کا فیصلہ NAO کے تحت ایک احتساب عدالت ہی کرسکتی ہے ، اور ایسا باقاعدہ ٹرائل کے بعد ہوگاجس کے لئے ثبوت درکار ہوں گے اور اس دوران ملزم کے اُن حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا جن کی آئین نے ضمانت دی ہے ۔ سپریم کورٹ احتساب عدالت کے اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لے کر آرٹیکل 184(3) کے تحت استعمال نہیں کرسکتی ۔ایسا کرنا آئینی نظام کو تہہ وبالا کرنے کے مترادف ہوگا۔ نیز ایسا طرز عمل آئین کے آرٹیکلز 4 اور 25 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گا۔ یہ آرٹیکل اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ہر شہری سے قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریق ِ کار اختیار کرنا ایک ایسی خراب مثال قائم کردے گاجو ایک آئینی عدالت کی طرف سے ایک غیر آئینی طریق ِ کارکرنے کے مترادف ہوگی، اور ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ‘‘
تاہم جسٹس اعجاز افضل بھی نااہل قرار دینے کا ایک امکان کھلا رکھتے ہیں،کہ آرٹیکل 184(3) کے تحت نااہل اُس وقت قرار دیا جاسکتا ہے جب ایسے ٹھوس حقائق موجود ہوں جن کی بنیاد پر نااہلی کی سزا سنائی جاسکتی ہو۔
حرف ِ آخر یہ ہے کہ جب تک جے آئی ٹی کوئی ٹھوس اور براہ ِراست ثبوت، جو قانون شہادت کے لئے قابل ِقبول ہو ، پیش نہیں کرتی اور یہ بات دوٹوک انداز میں ثابت نہیں کردیتی کہ نواز شریف لندن جائیداد کے فائدہ اٹھانے والے مالک ہیں، اُ س وقت تک سپریم کورٹ کی طرف سے نااہلی کے فیصلے کی توقع کرتے ہوئے کسی کواپنی سانس روکنے کی ضرورت نہیں۔ شریف فیملی جے آئی ٹی کے سامنے اپنے دل کے راز کھول کر نہیں رکھنے جارہی ۔ نیز جے آئی ٹی کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ بیرونی ممالک ، جیسا کہ سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور لندن ، کے شہریوں کو شریف فیملی کے اثاثوں کی بابت ریکارڈ شیئر کرنے پر مجبور کرسکے ۔ چنانچہ اگر جے آئی ٹی میں انتہائی صاف ستھرے اور ماہر افراد کیوں نہ شامل ہوں، وہ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کرسکتی کہ نیب کو احتساب ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کرے ۔
تاہم پاناما کیس اور جج صاحبان کی آرا نے کچھ ایسے مسائل ضرور کھڑے کردئیے جن پر سپریم کورٹ کو سوچنے کی ضرورت ہے ۔ پہلا یہ کہ کیا میڈیا ( روایتی اور سوشل ) کے ذریعے رائے عامہ کے اظہار اور دبائو کے ذریعے عدالتوں کے آئینی طریق ِ کار کو متاثر کیا جاسکتا ہے ؟یا اس کی اجازت دی جانے چاہئے؟دوسرا یہ کہ آرٹیکل 184(3) کا حقیقی دائرہ کار کیا ہے ؟اگر ایک بنچ میں شامل پانچ جج حضرات اس بات پر اتفاق نہیں رکھتے ہیں کہ آرٹیکل 184(3) کے تحت دراصل سپریم کورٹ کے اختیارات کیا ہیں تو کیا پھر اس کا استعمال جج حضرات کی ذاتی مرضی یا داخلی ترجیحات کے مطابق کیا جاتا ہے ؟کیا وقت نہیں آگیا جب اس آرٹیکل کے استعمال کو واضح کیا جائے ؟تیسری بات یہ کہ آرٹیکل 184(3) کس مقصد کے لئے ہے ؟کیا یہ ریاست کے غیر فعال اداروں کا نعم البدل ہے ؟کیا جسٹس افتخار چوہدری اس کا بے پناہ استعمال کرتے ہوئے ریاستی نظام میں دیرپا بہتری لانے میں کامیاب ہوگئے تھے ؟کیا ضروری ہے کہ کبھی ہم ایوان میں عوامی مقبولیت کا غلغلہ دیکھیں اورکبھی عوامی معاملات سے بے حسی کارونا روئیں؟ کیا ہم بامعانی جوڈیشل اصلاحات کی طرف نہیں بڑھ سکتے ؟
دراصل ہم شارٹ کٹ تلاش کرنے والا معاشرہ ہیں۔ ہمیں دولت، مقبولیت اور ذاتی پارسائی کی تشہیر کے لئے کوئی سرپرستی درکار ہوتی ہے ۔ ہمیں ایسی عدلیہ کی ضرورت نہیں ہے جو شورمچانے والے ہجوم سے خائف ہوکر فیصلہ سنادے ۔ جسٹس اعجاز افضل نے پاناما کیس میں بہت صائب رائے دی ہے ۔۔۔’’ان مسائل کا حل بائی پاس کرنے میں نہیں، بلکہ اداروںکو فعال کرنے میں ہے ، نیز سیاسی جذبات، سیاسی مہم جوئی اور حتیٰ کہ عوامی جذبات کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ کسی کو یا کئی ایک کو قانونی طریق ِ کار سے ہٹا دیں۔ ‘‘

اسی بارے میں: ۔  ہندوستانی مسلمان بھی کافر ہی نکلے

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بابر ستار

بشکریہ روز نامہ جنگ

babar-sattar has 14 posts and counting.See all posts by babar-sattar