مولانا فضل الرحمن ایم ایم کی حکومت اور انتہا پسند تنظیموں پر اظہار خیال کرتے ہیں  


وصی: مولانا صاحب ستمبر الیون کے بعد کے پی میں آپ کی حکومت آئی۔ پہلی بار پارلیمنٹ میں جتنی نمائندگی آپ کو ملی، اتنی اس سے پہلے نہیں ملی۔ تو کیا یہ آپ لوگوں کی ناکامی نہیں تھی کہ آپ کی حکومت کے دوران طالبان کی لہر بن رہی تھی اور آپ کی حکومت کے لوگ کافی حد تک بچ گئے ہیں، مولانا حسن جان کو شہید کیا گیا۔ لیکن اس کے بعد آنے والی حکومت کا بالکل حشر کر کے رکھ دیا ان انتہا پسندوں نے۔ تو آپ اس کو روکنے میں ناکامی مانتے ہیں۔ اور پھر تو یہ مذہبی قیادت بھی تقسیم ہوئی تھی۔

مولانا فضل الرحمن: کچھ بین الاقوامی عوامل ہوتے ہیں اور ایک پاکستان کے اندر حکومت کرتا ہے پالیسیاں ان کی ہوتی ہیں۔ حکومت وفاق کی حکومت کو کہا جاتا ہے۔ صوبے میں تو کسی کی بھِی حکومت ہوتی ہے، بلدیہ میں کسی کی بھی حکومت ہوتی ہے تو اس کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے۔ فلانے صوبے میں فلانے کی حکومت ہے۔ لیکن وفاق کی حکومت وفاق کی حکومت تصور کی جاتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر آپ انتہا پسندی کے عوام پیدا کرتے رہے ہیں۔ ملک کے اندر بھی آپ انتہا پسندی کے عوام پیدا کرتے رہے ہیں۔ اور ایم ایم اے کی ایک چھوٹی سی حکومت ہے یہ پہلی مرتبہ آئی اور اس میں تجربہ رکھنے والے لوگ بھی برائے نام تھے۔ ان سے آپ کہتے ہیں کہ آپ نے اس طوفان کو روکا کیوں نہیں؟

لیکن پھر بھی میں یہ کہتا ہوں کہ آپ ایم ایم کے دور میں ایک آدھ واقعات، کہیں نہ کہیں معمولی سا، بڑا لو پروفائل سا واقعہ ممکن ہے کہ کہیں ہوا ہو۔ لیکن مجموعی طور پر آپ کے صوبے میں اتنا امن تھا کہ چترال سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک ایک جگہ بھی کوئی ناکہ بندی نہیں تھی۔ ایک جگہ بھی پورے صوبے میں آپ بتا دیں کہ فلاں جگہ ناکہ بندی تھی کہ گاڑی والے کو روکا جا رہا ہے، کہاں سے آ رہے ہو کدھر جا رہے ہو، کون ہو اپنا ریکارڈ دکھاؤ، تو پھر میں مجرم ہوں۔ ایسا کبھی نہیں تھا۔ مکمل کنٹرول رکھا ہم نے۔ اور اپنے انہیں مسائل کو سامنے رکھا۔ بند باندھا ہے ہم نے جگہ جگہ پر۔ اوپر سے یہ اشتعال دلا رہے رہے تھے، ان کے خلاف لاوا پک رہا تھا، ادھر سے ہم ان کو کنٹرول کر رہے ہوتے تھے۔ سیاسی وسائل سے ہم کنٹرول کرتے تھے، طاقت کے وسائل سے ہم نے کنٹرول نہیں کیا۔ اگر ہم طاقت کے راستے پر جاتے تو شاید وفاق اور صوبے کے بیچ میں مسلح جنگ ہو جاتی۔

تو آپ یہ ریاست کے لئے مفید سمجھتے تھے؟ ہم نے ایسے ایسے بحران سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ایم ایم اے کی حکومت تھی اور اس نے اپنے نظریے کے حوالے سے کیا کچھ کیا، یہ نظریہ جو ہے وہ صرف اسمبلی میں قانون سازی کی حد تک نہیں ہوتا۔ آپ آئیں، ایجوکیشن میں ہماری اصلاحات کا مطالعہ کریں۔ کتنی بڑی کامیابیاں ہم نے حاصل کیں۔ آپ ہر محکمے میں جا کر پبلک کی سہولتوں کی بھی، جو ہمارے اقدامات ہیں، آنے والی حکومتوں نے اعتراف کیا ہے کہ جو کچھ ایم ایم اے کی حکومت میں پبلک کے لئے ہوا ہے وہ شاید ہم بھی نہیں کر سکے اور آئندہ بھی شاید کوئی  نہیں کر سکے گا۔ لیکن چونکہ بین الاقوامی طور پر مذہب کو یا کسی مذہب کے حوالے سے موجود ہو، اس کی کارکردگی کو اٹھانا یہ ان کی پالیسی نہیں تھی۔

لہذا میڈیا نے اور بین الاقوامی ماحول نے ہمیں ناکام دکھانے کی کوشش کی۔ ایک چھوٹا سا قانون، جو زیادہ تر انسانی حقوق سے متعلق تھا، یا وہ لوگوں کے مسائل کو لوکل سطح پر جلدی حل کرنے والے امور پر مشتمل تھا، حسبہ قانون کے حوالے سے۔ حسبہ قانون پاس ہوا، ایک جمہوری ادارے نے پاس کیا، وفاقی حکومت جو ہے، جنرل مشرف بنفس نفیس چلے گئے سپریم کورٹ میں۔ چار پوائنٹس پر انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ آئین کے خلاف ہیں۔ اس کو ٹھیک کرو۔ ہم نے کورٹ کے فیصلے کا احترام کیا۔ وہ چار پوائنٹ نکال دیے۔ اس کو دوبارہ اسمبلی سے پاس کیا۔ پاس کرنے کے بعد پھر وفاقی حکومت میں کورٹ میں اسی کے خلاف چلی گئی اور اسی جج نے اس کو پھر ختم کر دیا۔

آپ بتائیں کہ کیا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی قانون کو ایک دن سپریم کورٹ میں جائے، وہی جج کہے کہ اس میں چار کمزوریاں ہیں، اور پھر دوبارہ وہی قانون جائے اور کہے کہ اب ساری کمزوریاں ہیں۔ تو اس طریقے سے چاہے وہ اسٹیبلشمنٹ تھی جنرل مشرف کی صورت میں، چاہے اسٹیبلشمنٹ تھی افتخار چوہدری کی صورت میں، ایکا کر لیا تھا کہ ملک کے اندر سے اسلامی قانون سازی کے حوالے سے پیشرفت نہیں کرنی۔ تو اسمبلی نے پیشرفت کی اور وفاق کی سطح پر، یا سپریم کورٹ سے روک دیا گیا۔ ان حالات سے ہم گزرے ہیں۔ اور آج ظاہر ہے کہ جی تاریخ کے اوراق جب آپ الٹائیں گے، تو اس قسم کے سوالات آپ لائیں گے اور کہیں گے کہ آپ نے کیا کیا۔

اسی بارے میں: ۔  پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زماں کائرہ کی دو ٹوک باتیں (آخری حصہ)

یہ سوالات کرنا تو بہت آسان ہے لیکن فیلڈ میں ان حالات کے ساتھ لڑنا کہ جب ایک طرف افغانستان کی صورت حال تھی اور وہاں پر جنگ شروع ہو چکی تھی اور ایک طرف ہمارے قبائل میں یہ آگ اتر آئی تھی اور ایک طرف ہمارے پورے ماحول میں نئی نئی چیزیں ہوتی ہیں۔ نئے نئے جذبات کچھ اور ہوتے ہیں۔ ہر شخص نہیں دیکھتا کہ میں نے ناکامی سے ہمکنار ہونا ہے۔ ہر شخص کہتا ہے کہ میں نے کامیابی سے ہمکنار ہونا ہے۔ یہ تو اور بات ہے جب بعد میں آگ کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں اور بجھنے نہیں پاتے تو ہر ایک کو اس جنگ سے نفرت ہو جاتی ہے۔ لیکن ابتدا میں یہ فیصلہ کرنا کہ جنگ غلط چیز ہے، یہ جمعیت علما کا ویژن تھا۔ یہ تمام مذہبی جماعتوں کا ویژن تھا۔ یہ ایم ایم اے کا ویژن تھا۔  اور وہی ہوا کہ آج ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ جنگ تو صحیح چیز نہیں تھی۔ تو ہم ان راستوں پر گئے ہیں جن راستوں سے ہم نے مذہب کی بھی ترجمانی کی ہے، پاکستان کی بھی ترجمانی کی ہے اور پاکستان کو ہم نے ایک پر امن پاکستان کے طور پر قوم کو دینے کے لئے جدو جہد کی ہے۔

وصی بابا: مولانا یہ حسبہ بل صورت حال سنبھالنے میں مددگار ثابت ہوتا؟

مولانا: دیکھیے اس میں کوئی سیاسی امور نہیں تھے۔ اس میں آپ کے پرانے وہ رواجات جو جاہلیت کے زمانے کے تھے ان کا خاتمہ تھا۔ کچھ ہمارے ہاں جو رواجات ہوتے ہیں، حتی کہ حیوانات کے بارے میں ان کے حقوق کا مسئلہ تھا۔ تھانے کی سطح پر ایسے جرگے تشکیل دینا جن کو گورنمنٹ کی پروٹیکشن حاصل ہو اور ان کے فیصلوں کو سرکاری فیصلوں کی حیثیت حاصل ہو، لوکل چھوٹے چھوٹے مسائل پر وہ فوراً فیصلے دیتے رہیں، اور ہم نے اس وقت یہ حساب لگایا تھا کہ ہماری عدالتوں پر، سول عدالتوں پر، چھوٹی عدالتوں پر 70 فیصد بوجھ کم ہو رہا تھا۔ اب تو آپ پر کیس ہوتا ہے، آپ کے بچے جا کر اس کیس کو لڑ رہے ہوتے ہیں۔ ایک معمولی سا زمین پر تنازع ہو گیا اور پھر آپ کی اولاد جو ہے ان کے نام لکھے جاتے ہیں کہ یہ آپ کے وارث ہیں تاکہ شاید وہ بھی لڑیں کیس۔ لیکن ہم ان کو جلد از جلد انصاف مہیا کرنے کے متمنی تھے۔ ایک لوکل سطح پر۔ اب عدالتوں میں لوگ جھوٹ بول سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اپنے گاؤں میں اپنے لوگوں سے کیس لڑ رہے ہیں تو وہاں جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ورنہ حقیقت خود سامنے آ جاتی ہے۔ تو اس طرح کی سہولتیں پیدا کرنے کے لئے اور بھی بہت سے ایسے اقدامات ہوئے کہ شاید اگر اگلی حکومتیں اس پر سنجیدگی سے آگے بڑھتیں تو بہت فرق پیدا ہوتا۔ غریب لوگوں کو بہت فائدہ ہوتا اس میں۔

عدنان کاکڑ: آپ نے بتایا ہے کہ نائن الیون کے بعد آپ نے غصے کی لہر کیسے روکی تھی۔ اس وقت پاکستان میں القاعدہ بھی موجود ہے، تحریک طالبان پاکستان ہے۔ اور اب داعش آ رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمن: نہ داعش آ رہی ہے نہ طالبان آ رہے ہیں۔ داعش بھی لائی جا رہی ہے، طالبان کو ختم نہیں ہونے دیا جا رہا۔ اگلی نئی دنیا جو  دس پندرہ سال کے بعد آباد ہونی ہے، اس کے لئے ہر ایک غیر مرئی انداز کے ساتھ کہ وہ نظر نہ آئے اور دنیا میں چیزیں بنتی رہیں، آپ تو اس کو چھِیڑتے ہی نہیں ہیں۔ دنیا میں سارے کام تو وہی کرتے ہیں۔ آج کل دیکھیے نظر آنے والی جو دنیا ہے، جو آئینی ہے، جو قانونی ہے، دنیا کے حالات کو بدلنے میں اس کا کردار بہت کم رہ گیا ہے۔ جو نظر نہ آنے والی قوتیں ہیں، ان کا کردار بہت زیادہ ہے۔ چاہے وہ ریاستی ادارے ہیں یا غیر ریاستی ہیں۔ لیکن جتنے جتنے لوگ زیر زمین ہیں وہی دنیا میں تبدیلیاں لا رہے ہیں اور ہم لوگ ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے لئے ہیں بس۔

فرنود: مولانا صاحب دفاع پاکستان کونسل کے نام سے جو اتحاد بنتا ہے، اس میں آپ نہیں ہوتے۔ اس میں انتہا پسند جماعتوں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہ جب لاہور، ملتان اور کراچی میں جلسہ کرتے تھے، تو اس میں مدارس کے طلبہ اور علما بھی اتنی ہی تعداد میں ہوتے تھے جتنے کہ آپ کے جلسوں میں ہوتے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستان میں کوئی غیر جمہوری طاقت کے مراکز ان کو استعمال کر رہے ہیں، جن بنیادوں پر ان کو استعمال کر رہے ہیں وہاں سے انتہا پسندی تو جنم لے رہی ہے۔ لیکن اسی وجہ سے ان کے دلوں میں آپ کے لئے شکایت پیدا ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ غیر جمہوری طاقتوں کی تحریک پر جو لوگ سڑکوں پر باہر آ رہے ہیں ان کے پاس مذہبی حوالوں سے جو سوالات ہیں یا جو وہ قانون سازی چاہتے ہیں کیا وہ آپ کے لئے بھی قابل قبول ہے؟

مولانا: ہمارے خلاف کوئی نہیں کھڑا ہوا۔ اب یہ تو نہیں کہتا کہ سارے افراد بھی ایک پیج پر ہیں۔ میں تو طبقوں کی بات کر رہا ہوں کہ طبقے کے لحاظ سے تقریباً سب لوگ ایک رائے رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک الگ سی اور پالیٹکس ہے اور شاید میں اس کا جواب دوں گا تو بات اور طرف چلی جائے گی۔ شاید آپ کے سوال سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔  ہمارے ہاں بہت کام ہوتے ہیں۔ اور افراد کسی اور کے لئے کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ ان میں جماعتیں ہیں، طاقتیں ہیں، کچھ لوگ عادی ہیں ان چیزوں کے۔ موقع پرست ہوتے ہیں۔ اور پھر اپنی تنہائی کو ختم کرنے کے لئے اس قسم کے ایک ہجوم بنا لیتے ہیں۔ آپ کو میں صرف ایک مثال دیتا ہوں۔

اسی بارے میں: ۔  مدیر اعلٰی اردو لغت بورڈ، نامور محقق اور شاعر عقیل عباس جعفری سے مکالمہ (2)

2001 سے پہلے یہاں ملی یکجہتی کونسل بھی ہوا کرتی تھی۔ اس کا نام گرامی کسی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ جس وقت 2002 آیا، 2001 آیا، نائن الیون آیا، نئے حالات بنے، تو ہمارے سامنے ایک تجویز لائی گئی۔ مرحوم قاضی حسین احمد صاحب تھے، حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صاحب مرحوم تھے، تمام ہمارے ساتھ بیٹھے۔ اور انہوں نے ایک دینی اتحاد کی تجویز سامنے رکھی۔ ہم نے ان سے ہی کہا کہ ہم اس طرح کے ہجوم کے قائل نہیں ہیں۔ ہمیں کسی تنہا فرد کی تنہائی دور کرنا مقصود نہیں ہے۔ ہمیں سنجیدگی کے ساتھ قوم کو لے کر نکلنا ہے۔ الیکشن جیتنا ہے تو۔ چنانچہ سب وہی جماعتیں وہاں سے نکالی جائیں کہ جو انتخابی سیاست کرتی ہیں اور ملکی سیاست کا حصہ ہیں۔ پھر چھے جماعتیں وہاں سے نکالی گئیں۔ کہاں تیس پینتیس جماعتیں اور کہاں پانچ چھے جماعتیں اور انہوں نے وہ جگہ لی سب کی کہ کوئی ایک فرد بھی اس کے خلاف نہیں اٹھ سکا نہ کسی فرقے کا نہ کسی انتہا پسند تنظیم کا کوئی بھی نہیں آ سکا اس کے مقابلے میں۔ تو یہ چیزیں ہوتی ہیں جو آدمی سنجیدگی کے ساتھ لیتا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ ہر ماحول میں جو فیصلے کیے ہیں کبھی کبھِی آپ یوں سوچتے ہوں گے کہ اتنے بڑے ہجوم سے جمعیت کیوں الگ ہے۔

میرے خیال میں اس وقت طاقت ہم ہی ہوتے ہیں۔ وہ ہجوم قوت نہیں ہوتا جو لگا رہا۔ اور پاکستان کی آبادی اتنی بڑھ گئی ہے اور مذہبی لوگ اتنے زیادہ ہو گئے کہ ہجوم تو آ ہی جاتا ہے کسی نہ کسی شکل میں۔ جوان ہوتے ہیں، مدارس کے طلبہ ہوتے ہیں وہ ہر جلسے میں جاتے ہیں۔ دیکھنے کے لئے بھی جاتے ہیں۔ لیکن جلسہ وہ ہوتا ہے جب ساری دنیا جلسے کر رہی ہے اور آٹھ آٹھ نو نو جماعتیں پندرہ پندرہ جماعتیں مل کر جلسہ کرتی ہیں اور ادھر ایک جمعیت علما تنہا کراچی میں جلسہ کرتا ہے تو پھر اس کا منظر کچھ اور تھا نا جی۔ پھر ساری جماعتیں جلسے کرتی ہیں اور مل کر کرتی ہیں اور پھر جمعیت کا ایک جلسہ سکھر میں ہوتا ہے تو وہ کایا پلٹ دیتی ہے۔ ہمارا ایک جلسہ پشاور میں ہوتا ہے تو وہ کایا پلٹ دیتا ہے۔ تو آج بھی آپ دیکھیں ایک جماعت کا جلسہ ہوتا ہے، لیکن اس میں اور پیغام دنیا کو دیا۔ لہذا جمعیت علمائے اسلام کو اس کے حجم اور اس کے پیغام کے حوالے سے رکھنا چاہیے اور اس کے پیغام کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ آپ کو کچھ شکایتیں نظر آتی ہیں، یہ چلتی رہیں گی۔ اس سے ہم استفادہ کرتے ہیں۔

کون سی شکایت میں وزن ہے، کس طرف ہم متوجہ ہو جائیں، ہم اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ہم غیر سنجیدہ ماحول پر جانے کو تیار نہیں ہوتے۔ تو بعض اوقات بظاہر تنہائی نظر آتی ہے لیکن نیچے پبلک اور عوام کی تائید ہوتی ہے وہ ایک الگ چیز ہوتی ہے، اس کا الگ منظر ہوتا ہے۔ اور ہم اس حوالے سے مطمئن ہوتے ہیں۔ ورنہ تو تنہائی دور کرنے کے لئے تو لوگوں کو ۔۔۔ (قہقہہ)۔

(جاری ہے)

اگلا حصہ: مولانا فضل الرحمن: اسلامی حکومت کا ماڈل، جمہوریت اور بلاسفیمی قانون 

مکمل سیریز کے لنک

مولانا فضل الرحمن سے انتہا پسندی کے اسباب پر گفتگو  (پہلا حصہ)۔

مولانا فضل الرحمن ایم ایم کی حکومت اور انتہا پسند تنظیموں پر اظہار خیال کرتے ہیں   (دوسرا حصہ)۔

مولانا فضل الرحمن: اسلامی حکومت کا ماڈل، جمہوریت اور بلاسفیمی قانون (تیسرا حصہ)۔

مولانا فضل الرحمن: ایم ایم اے، کشمیر کمیٹی، صد سالہ تقریبات، مولانا سمیع الحق، عمران خان (چوتھا حصہ)۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “مولانا فضل الرحمن ایم ایم کی حکومت اور انتہا پسند تنظیموں پر اظہار خیال کرتے ہیں  

Comments are closed.