ایک کمبل، دو لڑکیاں اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا ضابطہ اخلاق


انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی ھاسٹل انتظامیہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے ، جس کے مطابق ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیاں اگر کسی دوسری طالبہ سے اپنا بیڈ شیئر کریں گی تو سزا کے طور پر ان کو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

زیادہ وقت نہیں گذرا کہ شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور کے شکارپور کیمپس نے بھی ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالب علموں پر یہ پابندی لگائی گئی تھی کہ یونیورسٹی کی حدود میں لڑکا اور لڑکی آپس میں بات نہیں کر سکتے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس شاہی حکم نامہ کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کی آپس میں بات چیت اور میل جول سے علائقے میں قبائلی تصادم ہوتے ہیں اس لیئے انہوں نے یہ قدم قبائلی جھگڑوں کی روک تھام کے لیئے اٹھایا ہے۔ اس ضمن میں جرگوں کو رونق بخشنے والے بھوتار سائیوں از قسم مولا ڈینو ، گرگ باراں دیدہ فقیروں از قسم کبوتروں والا سائیں کو اعتماد میں لے گیا تھا۔

تاہم انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی ہاسٹل انتظامیہ کا حکم نامہ اپنی تقدس مآب اخلاقیات میں دیگر یونیورسٹیز کے حکم ناموں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔  یونیورسٹی کے پرووسٹ آفس کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی طرف سے بیس اپریل کو جاری ہونے والے حکم نامہ میں ہاسٹل میں رہنے والی سب طالبات کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا گیا ہے کہ،

ہاسٹل کی رہائشی سب طالبات کو مطلع کیا جاتا ہے کہ لڑکیوں کے ہاسٹل میں بیڈ شیئرنگ کی سختی سے ممانعت کی جاتی ہے۔

اگر کوئی طالبہ اپنی کسی دوست حتیٰ کہ بہن کے ساتھ بھی بیڈ شیئر کرتے ہوئے (ایک کمبل یا چادر میں سوتے ہوئے، بیٹھتے ہوئے پائی گئی تو بھاری جرمانہ بھرنا پڑے گا۔

ہاسٹل میں رہنے والیوں طالبات کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بستر کا دوسرے بستر سے صحیع اور مناسب فاصلہ رکھیں جو کو  کم از کم دو فٹ ہو۔ (فٹ ، گز۔ فرسنگ اور میل وغیرہ کی فاصلاتی اکائیاں چالیس برس قبل پاکستان میں متروک ہو چکیں۔ مناسب ہوتا کہ طالبات کے بستر میں فاصلہ ملی میٹر اور سینٹی میٹر کی اکائیوں میں بیان کیا جاتا۔ تاکہ دامن کے چاک اور گریبان کے چاک میں فاصلہ ختم ہونے کا امکان جاتا رہتا۔)

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی ہاسٹل انتظامیہ کو ایسا حکم نامہ جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ جاننے کے لیئے یونیورسٹی کی ڈپٹی ڈائیریکٹر ہاسٹلز کے آفیشل لینڈ لائین نمبر پر فون کیا تو فون اٹینڈ کرنے والی محترمہ نے اپنا تعارف کرانے سے گریز کرتے ہوئے اس حکم نامہ کے بارے میں پوچھے گئے میرے سوال پر فوری طور پر کہا کہ، ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے یہ سب کچھ لڑکیوں نے اشقلہ چھوڑا ہے۔

جب میں نے یہ کہا کہ اس حکم نامہ کی جو کاپی میرے پاس موجود ہے، کیا آپ اس کی نوعیت سے انکار کریں گی کہ یہ حقیقی ہے یا جعلی ہے ؟ اس پر ان محترمہ نے اعتراف تو نہیں کیا مگر انکار بھی نہیں کیا۔ جاننا چاہیے کہ پارسائی کے پتلے دنیا داری کے معاملات میں بے حد محتاط ہو تے یہیں۔ کسی مستند دارالافتا سے تصدیقی سرٹیفیکیٹ لئے بغیر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے حکم نامے کی تصدیق کرنا بےاحتیاطی قرار پاتا ۔ ایسی معمولی لغزشوں سے عمر بھر کے نیک اعمال ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

اس طرح کے حکم نامے کی ضرورت آخر کیوں پیش آتی ہے؟ میری ایک واقف کارمس نسیم کھپرانی کا کہنا تھا کہ، یہ پابندی نرسنگ اور ہیلتھ ایجوکیشن کے اداروں میں کافی برسوں سے عاید کی جا چکی ہے۔ اب ایک قدم آگے بڑھا کر اس کا دائرہ یونیورسٹیز تک وسیع کر دیا گیا ہے جو کہ ایک مستحسن قدم ہے۔ توقع کرنے چاہیے کہ عنقریب طالبات کے ہوسٹلوں میں پکنے والی سبزیوں کی ایک متشرع فہرست بھی جاری کر دی جائے گی۔ اس ضمن میں رہبر تہذیب لکھنو جوش ملیح آبادی کی تصنیف لطیف یادوں کی بارات، مولانا اشرف علی تھانوی کی تصنیف گراں قدر بہشتی زیور، صادق جائسی کی دربار دربار اور موت کا منظر سے بھی مدد لی جائے۔ حکومت کا فرض ہے کہ بامر مجبوری جدید اداروں میں تعلیم پانے والی طالبات کے خیالات، رجحانات، لباس اور ممکنہ افعال پر گہری نظر رکھی جائے۔ ضروری تربیت کے لئے ہر ہوسٹل وارڈن کو محترمہ عصمت چغتائی کی تعلیمی تصنیف لحاف کا ایک نسخہ سرکاری خرچ پر مہیا کرنا چاہیے۔ مورخ اسلام عبدالحلیم شرر کی تصنیف دربار حرام پور کے متعلقہ اقتباسات کے مفید ہونے میں بھی کلام نہیں۔ شیخ سعدی کی بوستان کا باب پنجم اور مولانا رومی کی مثنوی معنوی کے کچھ حصے بھی تزکیہ نفس کے لئے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ حضرت اقبال کے تلامذہ میں ایم اسلم کا مقام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی تصنیف گہر بار “گناہ کی راتیں” اخلاق نسوانی کی تطہیر میں آزمودہ ہے۔ حضرت فضل الرحمن خان اردو کے بلند پایہ مصنف تھے۔ بڑھوتری کی عمر میں ادب سے نفور اور اعمال صالحہ سے ایسا شغف پیدا کیا کہ توبتہ النصوح کے ڈپٹی نذیر حمد کو غبطہ ہوتا۔ فضل الرحمن کی تصنیف آفت کا ٹکڑا کے ضروری حصے پڑھوانا نوجون لڑکیوں کو ہمیشہ کے لئے حس لطیف سے متنفر کر دے گا۔

ایک پیچیدگی البتہ اس میں یہ ہے کہ ہاسٹلوں میں بلامبالغہ سینکڑوں کمرے ہوتے ہیں۔ ان کمروں میں مسلسل دن رات ماںیٹرنگ کرکے ایک بیڈ پر دو لڑکیوں کے سونے پر جرمانہ لگانے کے لیئے ثبوت جمع کرنے کا مکینزم کیا ہوگا؟  مناسب ہو گا طالبات کے ہوسٹل میں چادر، کمبل اور لحاف کے استعمال پر پابندی لگا دی جائے اور ہر کمرے میں کم از کم دو سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، فاطمہ جناح میڈیکل کالج، وومن یونیورسٹی اور دوسرے حساس مخلوط اداروں  کی عمارات سے کم از کم دو کلومیٹر تک میڈیکل سٹور مسمار کر دیے جائیں۔ اخلاقی طور پر محفوظ ادویات کا ذخیرہ ہوسٹل انتطامیہ کی تحویل میں ہو اور اسے ہوسٹل کی اخلاقی رضاکار کمیٹیوں کی منظوری سے جاری کیا جائے۔

یہ عہد ٹیکنالوجی کا ہے۔ عمدہ نصیحت والی کتابوں کی قرات اور ورد کے مفید ہونے میں دخل نہیں لیکن  اب کچھ دشمنان تقویٰ ہارمون، جبلت، اور اعضائے شنیع کی بلاارادی تحریک کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ یہ فتنہ دراصل وہی ہے جسے مجتہد العصر محمد حسن عسکری نے جدیدیت کی گمراہیوں کے عنوان سے منسوب کہا ہے۔ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے۔ کراچی شہر میں ایک مقام ہے چاکیواڑہ۔ وہاں کے ایک مرد کامل محمد خالد اختر نے میقاس الحرارت کے نام سے ایک ایک آلہ ایجاد کیا تھا۔ فرانس، ملایا اور پیراگوئے کے کچھ صاحبان روش ضمیر کا خیال ہئے کہ محمد خالد مدظلہ کے ایجاد کردہ میقاس حرارت کے بنیادی خد و خال کو برقرار رکھتے ہوئے کسی صاحب نظر سے اس کا وظیفہ منصبی اور جوف سلوک تبدیل کر لیا جائے تو نیک باکرہ بچیوں کے اخلاق کی ٹھیک ٹھیک نگہداشت ممکن ہے۔

ماننا چاہے کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا اقدام بارش کے پہلے قطرے کے مانند نہایت انقلابی نتائج رکھتا ہے۔ اس ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے نصاب خواندہ اور آلات بالقصد سے ہم آہنگ کر کے طالبات کے لئے ایک مربوط تعلیمی پالیسی مرتب کی جائے تاکہ لارڈ میکالے کے کلرکوں کی بجائے بطن گیتی سے وہ نسل جنم لے سکے جس کے خمیر میں کافور کی بو اور قبرستانی ہوا کی سسکی سنائی دے۔

(ترمیم و اضافہ: وجاہت مسعود )


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔