ٹویٹ بڑا کہ شیر؟


پاکستان جیسے ملک میں أج تک یہ فیصلہ نہیٖں ہوسکا کہ یہ یہاں کس کا سکہ چلنا ہے؟ عوام کے چنے ہوئے وزیر اعظموں کا یا بیس بائیس گریڈ والے ایک سول یا غیرسول افسر کا! عملی طور پر کون کس کا ماتحت ہے؟ اسی لیے ہر ایراغیرا سول اور سیاسی حکومتوں کو مفت مشورے دیتا دکھائی دیتا ہے یا پھر تڑیاں دیتا ہوا کہ خبردار،ہوشیار اوس گلی نہ جاویں۔ لیکن اس بلی کے گلے میں گھنٹی وزیر اعظم بھی نہیں باندہ سکتا جو شیر کی بھی خالہ لگتی ہے۔ اب شیر سے کون کہے شیر رے شیر تیرے منہ کو خون!

کتنے بیگنہوں کے گلے میں روز کمندیں پڑتی ہیں

بوڑھے بچے گھروں سےغائب بیبیاں جیل میں سڑتی ہیں۔ (احمد فراز)

اب جس ملک کے ٹرکوں پر ڈکٹیٹروں کی تصویریں اور ساتھ میں اس کے تحریر ہو ” تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی” وہاں بقول شخصے کچھ بھی ہو کر گذرسکتا ہے یا پھر کچھ بھی نہیں ھوسکتا۔ جہاں سپاہ سالاروں کی قد أدم تصویریں ایسے لگی ہوں جیسے کسی زمانے میٖں دودھ کی دکانوں پر گجرانوالہ میں لگی ھوتی تھیٖں۔ شاید اب بھی لگی ہوں۔ اب بار بار یہ کہنا عبث ٹھہرا کہ انقلاب گجرانوالہ سے أگے کیوں نہیں جاتا؟ ٹن پاٹ ڈکٹیٹر اصل میں رستم زمان پاکستان ٹھہرے ہیٖں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بیشک اپ بھولو پہلوان کے کچھ بھی لگتے ہوں۔

تو میں تم سے یہ کہہ رہا تھا کہ جب وطن عزیز کی ستر سالہ عمر عزیز کا بڑا حصہ جنگل کے قانون یعنی مارشل لائوں کے تحت گذرا ہو پھر اس ملک میں کیسے سوچا جائے کہ مارشل لا ختم ہو گیا۔

 ایک ایسا ملک جہاں جرنیلی سڑک پر وزیر اعظموں کا چالان ایک بائیسویں گریڈ کا افسر کرتا ہو۔

امریکہ میں بھی شاہراہ دستور یا کانسٹیٹیوشنل ایوینیو ہے ہر چار سال بعد جشن جمہور برپا ہوتا ہے کیونکہ منتخب ہونیوالا صدر امریکہ صدارتی عہدے کا حلف اٹھاتا ہے یا پھر دوبارہ منتخب ہوتا ہے اور کئی بار ہوا ہے۔ جبکہ ایک شاہراہ دستور اسلام ٓباد میں بھی ہے جو اکثر “شاہراہ عام” نہیں ہے ۔یہاں زمانہ ما قبل سوشل میڈیا کئی بار ملک کے ساتھ استنبول ہوا تھا۔ اب تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اب تو ترکی سے بھی استنبول یا انقرہ نہیں کھیلا جا تا۔ پھر أپ نے دیکھا کہ ترک بھائیوں نے کیسے ٹینکوں سے کشتی کھیلی تھی۔ بلوانوں کو کیسی پھینٹی لگاںی تھی۔ کسی زمانے میں پاکستان میں بھی بھائی لوگ ترکی کی مثالیں دینے کے شوقین ہوا کرتے تھے۔ یہ بات ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ میں کہی تھی۔ اسی حوالے سے فوجی آمر اور اپنے محسن کش جنرل ضیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ “جنرل ضیا! سیاست سے فٹ بال کھیلنا چھوڑ دو۔” وہ بھی اک منتخب لیکن پاپولر وزیر اعظم تھا۔ پاپولر وزیر اعظم مملکت خداداد کو وارا نہیں کھاتے۔ شاید۔ شاید اس جنگل میں اژدہوں نے اپنا جبڑا جمہور اور جمہوریت سے بالا بالا رکھا ہو۔ کہ یہاں فقط یہ فیصلہ بھی اژدہوں کو کرنا ہو کہ کس نے منہ کھولنا ہے اور کس کو خاموش کردینا ہے۔ جیسے فراز نے کہا تھا نہ:

جو أواز جہاں سے اٹھی اس پر تیر تبر برسے

ایسے ہونٹ سلے لوگوں کے أوازوں کو بھی ترسے۔

 مڈل اور ہائی اسکول کے بچوں کی نسلیں مباحثے کرتی رہیں کہ اس معزز ایوان کی رائے ہے کہ قلم بندوق سے بڑا ہے۔” لیکن اصل ایوان بے توقیر ہونے تو نہیں چاہیے مگر ہوتے رہے۔ قلم بندوق کے آگے بے بس ہی رہا۔

اپنی بود و باش نہ پوچھو ہم سب بے توقیر ہوئے

کس کی ہے دستار سلامت ہم ہوئے تم ہوئے میر۔ (فراز)

اہل سیاست کو گندا اور سب سے گندا بتایا گیا، گناہگار ٹھہرایا گیا۔ حالانکہ ملک جنہوں نے بھی بنایا وہ سیاسی لوگ ہئ۔ تھے سیاستدان تھے۔ بوٹ اور بندوق والے نہیں تھے۔ تحریک پاکستان میں جنرل ضیا نے اپنا کارنامہ یہ گنوانا تھا کہ انہون نے انگریزی اخبار “ڈان” کے اجرا کے وقت اسکے شمارے دلی میں بیچے تھے۔ اب اس اخبار کے ساتھ جناح کے پاکستان میں جو بھی ہو رہا ہے کہ ضیا کے پاکستان میں! عقل بڑی کہ بھینس؟ بندوق بڑی کہ قلم؟

پیارے لوگو! تم کتنے بھی ووٹ ڈال کر وزیراعظم اسلام أباد بھیجتے رہو لیکن یہ سوال اب بھی خلا میں معلق نہیں دھرتی میں ہی زندہ گڑا رہے گا ووٹ بڑا کہ ٹویئٹ؟ نانا پاٹِیکر ہوتا وہاں کہتا سالا ایک ٹویٹ أدمی کو۔۔۔۔

حکومتوں اور ملکوں میں خبریں لیک ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہوتیں۔ امریکہ میں کہتے ہیں کہ وہائیٹ ہائوس میں سے اتنی خبریں لیک ہونے لگیں کہ ضرب المثل بن گئی کہ وھائیٹ ہائوس کے ہر عملدار کی جیب میں رکھا ہوا قلم “لیک” ہو رہا ہوتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔