اللہ والے !


بلاشبہ اللہ والے و ہی کہ جنہیں مل کر اللہ یاد آجائے اور بے شک یہ ہماری ہی تلاش ختم ہوچکی ورنہ اللہ والے تو آج بھی موجود۔

اِدھر گاڑی موٹروے پرچڑھی تو اُدھر میں نے ’’بابوں‘‘ میں بیٹھ بیٹھ کر خود بھی ’’آدھے بابے‘‘ ہو چکے کرنل زبیر سے پوچھا’’حافظ صاحب سے آپکی پہلی ملاقات کب اور کیسے ہوئی ‘‘، چند لمحے سوچنے کے بعد کرنل صاحب بولے’’ان سے پہلی ملاقات 2002میں ہوئی ،دراصل میرے ایک عزیز کے اپنی بیٹی کی وجہ سے گھریلو حالات بہت خراب ہو گئے تھے اور مختلف جگہوں سے دینی و دنیاوی علاج کرواتے ہوئے فیصل آباد کے ایک دوست کے بتانے پر میں اس عزیز کو لیکر جھنگ گیا ،ہم حافظ صاحب سے ملے ، انہیں مسئلہ بتایا، دعا کروائی اورحیرت انگیز طور پر دعا کا ایسا معجزاتی اثر ہوا کہ 3ماہ میں ہی میرے عزیز کے سب مسائل یوں سدھر ے کہ جیسے کبھی بگڑے ہی نہ ہوں ،لیکن دوستو! پہلے ذرا یہیں رُک کر بتادوں کہ کرنل زبیر اور میں اس لیئے حافظ صاحب سے ملنے جھنگ جارہے تھے کہ ڈیڑھ دو ماہ پہلے میں بھی یکے بعد دیگرے کچھ ایسی پریشانیوں میں گھر ا کہ لگنے لگا شائد اب یہ بُرا وقت کبھی ختم نہیں ہوگا، انہی مایوس لمحوں میں ایکدن کرنل زبیر نے فون پر میری حافظ صاحب سے بات کروائی اور مجھے اچھی طرح یاد کہ میری بات سن کر حافظ صاحب نے کہا تھا کہ ’’ویسے تو میں بھی آپ کیلئے اللہ تعالیٰ سے گریہ زاری کروں گا ، لیکن ایک تسبیح پڑھنے کیلئے دے رہا ہوں،فجر کی نماز کے بعد پڑھیں اور ہر تیسرے چوتھے روز صدقہ دیدیا کریں ،‘‘میں نے یہ تسبیح شروع کی اور جب حیرت انگیز طور پر8دس دنوں میں ہی سب الجھنیں سلجھ گئیں تو میں نے حافظ صاحب سے ملنے کا پروگرام بنایا اوریوں اس وقت میں اور کرنل زبیر حافظ صاحب سے ملنے جھنگ جارہے تھے ، یہیں لگتے ہاتھ مختصر سا تعارف حافظ صاحب کا بھی،بقول کرنل زبیر سر تاپاؤں اللہ لوک حافظ عبدالحق کا مقصدِ حیات خدا کی خوشنودی اور مخلوقِ خدا کی بھلائی ، روحانی طور پر خواتین سے نہ ملنے ،جھنگ شہر نہ چھوڑنے ،سفر ہمیشہ پیدل کرنے اور زیادہ وقت تنہائی میں رہ کر عبادت کرنے والے حافظ صاحب صرف وہ دن چھوڑ کر کہ جب شرعاً روزہ رکھنا جائز نہیں باقی سال بھر روزے رکھیں ، ان کا روزانہ کا یہ معمول کہ جھنگ شہر کی ایک مسجد میں عشاء کی نماز پڑھا کر اور چند گز کے فاصلے پر ایک گھر میں ملک بھر سے آئے لوگوں سے مل کر پھر8دس کلومیٹر پیدل چل کر دریا کے کنارے اپنے ’’روحانی ڈیرے‘‘ پر جاکر رات بھر عبادت کریں ، پھر وہاں سے ظہر کی نماز کے بعد 8دس کلومیٹر پیدل چل کر عصر تک اپنے گھر پہنچیں اور یہاں عصر کی نماز پڑھ کر گھنٹہ سوا گھنٹہ ٹیلی فون پر لوگوں کے مسائل سنیں اور انہیں روحانی علاج بتائیں اورپھر روزہ افطار کرنے اور مغرب پڑھنے کے بعد 5سات کلومیٹر پیدل چل کر شہر کی مسجد میں عشا ء کی نماز پڑھانے آئیں ۔

ہم وقت اور سفر کا اندازہ لگا کر کچھ ایسے اسلام آباد سے جھنگ کیلئے روانہ ہوئے کہ عشاء کی نماز حافظ صاحب کے پیچھے پڑھی جا سکے ،اس وقت گاڑی موٹروے پر دوڑ رہی تھی جبکہ گاڑی کے اندر حافظ صاحب کے بارے میں کرنل زبیر کی گفتگوکی نان سٹاپ ٹرین بھی دوڑے جارہی تھی ،کرنل صاحب بتا رہے تھے کہ ’’ایک مرتبہ حافظ صاحب سے مل کر میں رات کو جھنگ سے نکلاتومین ہائی وے پر ایسی ٹریفک جام کہ کئی کئی کلومیٹر تک گاڑیوں کی لائنیں ، میں ابھی یہ سوچ کر پریشان ہورہاتھا کہ آج تو ساری رات سڑک پر ہی گذار نا پڑے گی کہ اچانک کسی نے میری گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹایا ، میں نے شیشہ نیچے کر کے دیکھا تو ایک لڑکا نظر آیا ، اس سے پہلے کہ میں بولتا، لڑکا بولا ،آپ اپنی گاڑی آہستہ آہستہ رائٹ سائیڈ پر کرتے جائیں ، میں آپ کو اس ٹریفک سے نکالتاہوں ، میں نے اسکے کہنے پر گاڑی رائٹ سائیڈ کی طرف کھسکانا شروع کی اور جب میری گاڑی بالکل سڑک کے دائیں کنارے پر آئی تو اس لڑکے نے میر ی گاڑی کچے پر اتروا کراور ایک کچی پگڈنڈی پر ڈلوا کر کہا کہ بس اسی پر چلتے جائیں ،آپ سڑک پر پہنچ جائیں گے ،میں کھیتوں کے درمیان ویران وبیابان پگڈنڈی پر15بیس کلومیٹر کی ڈرائیو کے بعد دوبارہ جس جگہ سے مین ہائی وے پر چڑھا تو وہاں سے تھوڑا پیچھے سڑک کے عین درمیان مجھے وہ 2ٹرک گرے ہوئے دکھائی دیئے کہ جن کی وجہ سے ٹریفک جام تھی ،خیر اگلی شام جب میں نے حافظ صاحب کو فون کیا تو سلام دعا کے بعد کہنے لگے ’’کرنل صاحب پریشان نہ ہوا کریں ،آپکو خیریت سے گھر پہنچانا ہماری ذمہ داری ہوتی ہے ‘‘۔

اچانک کرنل زبیر کا موبائل بجا ،باتیں کرتے کرتے رُک کر فون سننے اور منرل واٹر کی بوتل سے پانی کے دوچار گھونٹ بھرنے کے بعد وہ دوبارہ سٹارٹ ہوگئے ’’ایک مرتبہ میں حافظ صاحب کو بتائے بغیر عمرے کیلئے چلا گیا ، ا سلام آباد سے مدینہ پہنچ کر اگلے دن مسجد نبوی ؐ میں بیٹھے بیٹھے مجھے حافظ صاحب کا خیال آیا اور میں نے گھڑی دیکھی تو نہ صرف وہ وقت حافظ صاحب سے ٹیلی فون پر بات کرنے کا تھا ،نہ صرف موبائل سے فون ملانے پر پہلی کوشش میں ہی انکا نمبر مل گیا بلکہ ابھی پہلی گھنٹی پوری طرح بجی بھی نہ ہوگی کہ حافظ صاحب کی آواز سنائی دی ’’ کرنل صاحب اتنی مقدس جگہ پر پہنچنے پر مبارک ہو ، لیکن یہاں اب آپ نے کسی کو فون کرنا اور نہ کسی کا فون سننا ہے ، کیونکہ یہاں گفتگو کرنا بے ادبی ہے ،سرکارؐ کی خدمت میں میرا سلام پیش کریں اور بس بیٹھ کر درود پڑھتے رہیں ‘‘ حافظ صاحب کی یہ بات سن کر میں نے کہا’’حافظ صاحب دلی طور پر حاضری کی کوئی کیفیت نہیں بن رہی ‘‘ حافظ صاحب نے دوبارہ اپنی بات دہرا کر کہ ’’بس درود پڑھتے رہیں ‘‘فون بندکردیا،کرنل صاحب کہنے لگے ’’ فون بند کر کے ابھی مجھے درود شریف پڑھتے ہوئے کچھ وقت ہی گذرا ہوگا کہ اچانک پہلے میرے آنسو بہنے لگے پھر مجھ پر رقت طاری ہوگئی اور آخر کار میں ایسے پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ چند منٹوں میں ہی میرا پورا جسم آنسوؤں اور پسینے سے بھیگ گیا اور پھر ا سی کیفیت میں جب میں روضہ رسول ؐ کے سامنے آیا توایسے لگا کہ جیسے مجھ گناہ گار کی واقعی سرکارؐ کے روضہ میں حاضری ہوگئی ، وہ لمحے یاد آنے پر آج بھی میری جو کیفیت ہوتی ہے وہ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔

چار سوا چار گھنٹے کے سفر کے دوران وقفے وقفے سے حافظ صاحب کی باتیں کرتے کرنل زبیر نے ان کی دعا سے اپنے بیٹے کا عین عالمِ شباب میں پنج وقتہ نمازی ہو جانے کا واقعہ بھی سنایا، اُنہوں نے اپنے گھر میں سرِعام چلتے پھرتے اور سب گھروالوں کو مسلسل تنگ کرتے جنوں سے چھٹکارے کا قصہ بھی بتایا،اُنہوں نے حافظ صاحب کی باکمال یاداشت کی درجنوں مثالیں بھی دیں اور اُنہوں نے حافظ صاحب کی دنیا سے بے غرضی کی بیسوؤں کہانیاں بھی سنائیں ، کرنل صاحب کی باتیں تو شائد کبھی ختم نہ ہوتیں مگر ہماراسفر ختم ہوا اور پھر دوستو! جب ہم بنا پلستر کے پکی اینٹوں والے کشادہ صحن اورخالصتاً دیہی سٹائل میں بنی مسجد کے برآمدے میں لوہے کے لمبے پائپ کے ساتھ لگی ٹوٹیوں سے وضو کر چکے ، جب ہم کہیں اندھیرے اور کہیں ہلکی ہلکی روشنی والی مسجد کے صحن میں بچھی صف پر نفل پڑھ چکے ،جب مسجد کے نسبتاً تاریک کونے میں کھڑے ہو کر ایک ادھیڑ عمر شخص خالصتاً دیہاتی انداز میں اذان دے چکا ، جب 5سات منٹوں کے بعد غیر محسوس طریقے سے آنے والے حافظ صاحب کی امامت میں عشاء کی نماز ہوچکی ، جب مسجد سے باہر آکر چند گز کے فاصلے پر ایک گھر میں حافظ صاحب سے ملنے آئے باقی لوگوں کے ساتھ میں اور کرنل زبیر دریوں والے فرش پر بیٹھ چکے ، جب کرنل صاحب کے بعد اپنی باری آنے پر میں اُٹھ کر ہلکے نیلے رنگ کے کپڑے پہنے او ر سر پر رومال باندھے زیرِلب مسکراتے حافظ صاحب کے سامنے بیٹھا اور جب اُنہوں نے کچھ کہے ،سنے بغیر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دم کرنا شروع کردیا تو پھر ان دوچار منٹوں میں نجانے اک عجیب سا سکون اور اطمینان کہاں سے آگیا ، نجانے ایسا کیوں لگا کہ جیسے سر سے منوں ٹنوں بوجھ اتر گیا اور نجانے ابھی تک یہ کیوں محسوس ہورہا کہ جیسے پھر سے زندہ ہوگیا یا جیسے زندگی پھر سے زیرو سے سٹارٹ ہوچکی ،دوستو! یقین جانیئے مجھے یہ سب کچھ تو بالکل سمجھ نہیں آرہا، ہاں البتہ چند منٹوں کی یہ ملاقات مجھے یہ ضرور سمجھا گئی کہ ایک تو اللہ والے وہی کہ جنہیں مل کر اللہ یاد آجائے اوردوسرا یہ ہماری ہی تلاش ختم ہوئی ورنہ اللہ والے تو آج بھی موجود۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔