ڈان لیکس پر دو بڑوں کی ملاقات


چند روز تک بیانات اور مباحث کے بعد جمعرات کی شام وزیر اعظم نواز شریف اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ملاقات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ تاہم حکومت یا وزیر اعظم ہاؤس کے ایک اعلامیہ کو نخوت سے ٹھکرانے والے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اس بارے میں تردید یا تصدیق کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ البتہ ملک کے باخبر صحافیوں کی اطلاعات کے مطابق حکومت اور فوج کے سربراہوں کی ملاقات خوش گوار ماحول میں ہوئی ۔ وزیر اعظم نے آرمی چیف کو یقین دلایا کہ ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اقدام کئے جائیں گے اور حکومت فوج کی تمام شکایات دور کردے گی۔ جبکہ جنرل باجوہ نے ’ خوشگوار موڈ ‘ کے باوجود وزیر اعظم پر واضح کیا کہ گزشتہ ہفتہ کے روز فوج کے تعلقات عامہ کے جس ٹویٹ نے ملک میں تہلکہ مچا دیا تھا ، وہ صرف میجر جنرل آصف غفور کی رائے نہیں تھی بلکہ فوج بطور ادارہ اس ٹویٹ پیغام کی حمایت کرتی ہے۔
اس طرح میاں نواز شریف کے سیاسی حریفوں کے ہاں جلنے والے امیدوں کے چراغ تو ضرور گل ہو جائیں گے جو پانامہ کیس کے سخت فیصلہ کے بعد ڈان لیکس کے سوال پر فوج کے دہشت زدہ کرنے والے ٹویٹ پیغام پر خوشیوں کے شادیانے بجا رہے تھے کہ اب تو فوج نے بھی نواز شریف کے جانے کی سیٹی بجا دی ہے۔ اب لگتا ہے کہ منت سماجت اور بہلا پھسلا کر فوج کو اس بات پر راضی کرلیا گیا ہے کہ جو غلطی ہوئی سو ہوئی آئیندہ سے توبہ کرتے ہیں اور اب وزارت داخلہ ڈان لیکس تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر من و عن عمل کرتے ہوئے جلد ہی اعلامیہ یعنی نوٹیفیکیشن جاری کردے گی۔ ایک ایسا نوٹیفیکیشن جس پر فوج برافروختہ ہونے کی بجائے مطمئن ہو جائے گی اور نوازشریف کے اقتدار کی گاڑی لشٹم پشٹم چلتی رہے گی۔
ان حالات میں میاں صاحب سے یہ تو پوچھا ہی جا سکتا ہے کہ اگر فوج کی شرائط پر ہی وزیر اعظم بننا ہے اور لوگوں کے ووٹ کی بس اتنی ہی قدر و قیمت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے لیڈر اس کا ذکر کرکے مخالفین کو للکارتے اور ڈراتے رہیں تو غیر ضروری فساد کھڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ان شرائط پر حکومت کرنے کے لئے ماضی میں درجنوں مثالیں بکھری پڑی ہیں جن سے عبرت حاصل کی جا سکتی تھی۔ لیکن نواز شریف ایسے انوکھے لیڈر ہیں کہ ہر بار نیا تجربہ کرنے ، نئے سرے سے سبق پڑھنے اور یہ باور کروانے کے بعد ہی ’راہ راست‘ پر آتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ ’سچ ہے اصل سرکار تو جی ایچ کیو والوں ہی کی ہے ۔ سیاسی منتخب وزیر اعظم تو بس ان کی چشم کرم کا محتاج رہتا ہے۔‘ نواز شریف نے ایک بار پھر یہ اعتراف کیا ہے کہ انہیں سبق اچھی طرح یاد ہو گیا ہے۔ لیکن یہ طے نہیں ہے کہ وہ کب اسے بھول جائیں اور از سر نو یادہانی کی ضرورت محسوس ہو۔
یہ عجیب جمہوریت اور نرالا با اختیار وزیر اعظم ہے کہ مقبولیت کا دعوے دار بھی ہے لیکن اس عوامی تائد سے ملنے والے حق اور اختیار کو استعمال کرنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ فوج جو وزارت دفاع کے زیر انتظام کام کرنے والا ایک ادارہ ہے، نہایت درشتگی سے وزیر اعظم کے احکامات مسترد کر سکتی ہے اور حکومت یہ پوچھنے کا حوصلہ نہیں رکھتی کہ میاں تیرے منہ میں کے دانت ہیں۔ کیوں کہ فوج بات بنانے کے ساتھ دانت دکھانے کا اہتمام بھی کرتی ہے جو کاٹ بھی سکتے ہیں اور جس کے کاٹے کا پانی بھی نہیں مانگتا۔ اوراس کے ہرکارے زندگی کے ہر شعبہ میں یہ ڈھول پیٹنے کے لئے ہمہ وقت تیار بھی رہتے ہیں کہ ملک کی بدعنوان حکومت نے قومی مفاد کا سودا کرلیا۔ اگر فوج چوکنا نہ ہو تو یہ تو ملک کو بیچ ہی کھائیں۔ ایسا جمہوری تماشہ اور آزادی اظہار کا انوکھا استعمال صرف پاکستان جیسے ملک میں ہی ممکن ہے۔
فوج تو ایک اخباری خبر کو قوم و ملک کے مفاد اور سلامتی کے خلاف قرار دے کر چھ ماہ سے حکومت کو انگلیوں پر نچا رہی ہے لیکن وزیر اعظم ہے کہ منتخب بھی ہے، قومی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی کا سربراہ بھی ہے اور 2018 کا انتخاب جیتنے کے خواب بھی دیکھتا ہے لیکن اتنا حوصلہ جمع نہیں کر پاتا کہ خفیہ ہی سہی ، لیکن آرمی چیف سے ملاقات میں اس خفگی کا اظہار کرسکے کہ فوج کے ترجمان کو اختلاف کا ایسا مظاہرہ زیب نہیں دیتا جس سے دنیا بھر میں ملک و قوم کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ قوم ان مباحث میں الجھی ہے کہ یہ وزیر اعظم اپنی بد عنوانی اور مکاری کی وجہ سے اس قابل ہی نہیں کہ فوج اس کی عزت کرے۔ لیکن یہ سبق عام کرنے والے اس بات کا جواب دینا بھول جاتے ہیں کہ صرف ہمیشہ سول وزیر اعظم ہی غلطی پر کیوں ہوتا ہے اور ہر فوجی سربراہ ہمیشہ ہی درست رائے کیوں رکھتا ہے۔
جس روز سدا بہار مبصر اور تجزیہ نگار اس سوال کا جواب دیں گے ، تب ہی یہ اصول طے کیا جا سکے گا کہ ملک پر حکومت کرنے کا حق صرف عوام کے منتخب نمائیندوں کو ہے ۔ تب ہی فوج کو یہ بتایا جا سکے گا کہ قومی سلامتی کے امور جی ایچ کیو میں نہیں پارلیمنٹ میں طے ہوں گے۔ فوجی جرنیلوں کو تو صرف ان ہدایات پر عمل کرنا ہے جو انہیں فراہم کی جائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 647 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali