پاناما کیس، وزیراعظم اور وکیلوں میں انتشار


پاکستان میں وکلا تنظیموں میں وزیراعظم نواز شریف کے استعفیٰ کے سوال پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ جمعہ کو پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والے کنونشن میں فی الوقت وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنے یا احتجاج کا اہتمام کرنے کو ملک میں جمہوریت کےلئے خطرہ قرار دیا گیا۔ تاہم کنونشن میں موجود ملک بھر کی وکلا تنظیموں کے ایک تہائی نمائندوں نے اکثریت سے اتفاق نہیں کیا۔ ان لوگوں میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین احسن بھون بھی شامل تھے۔ انہوں نے وزیراعظم سے استعفیٰ طلب کرنے کی قرارداد منظور نہ ہونے پر استعفیٰ دینے کی دھمکی بھی دی تاہم اپنے حامیوں کے کہنے پر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری آفتاب باجوہ نے اسلام آباد کنونشن اور اس میں منظور کی گئی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے 20 مئی کو اپنا کنونشن بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان بار کونسل کو وکلا کنونشن بلانے کا اختیار نہیں دیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری ذوالفقار علی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومت رشوت کے ذریعے وکیلوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وکیل ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ چوہدری ذوالفقار علی نے ہی 20 اپریل کو پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیراعظم سے ایک ہفتہ کے اندر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا بصورت دیگر 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک سے بھی بڑی تحریک چلانے کی دھمکی دی تھی۔ وکلا رہنماؤں اور تنظیموں کے درمیان اس معاملہ پر سامنے آنے والا انتشار دراصل پوری قوم کی پریشانی خیالی کا مظہر ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ملک کی وکلا تنظیمیں پیشہ وارانہ اداروں سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کے گڑھ بن چکی ہیں۔ مختلف گروہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی حمایت کرتے ہیں اور اپنی تنظیموں کے ذریعے اس خاص پارٹی ہی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس طرح وکیلوں کے اتحاد کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور ملک میں عدالتی نظام کی بہتری کےلئے یہ تنظیمیں کردار ادا کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ 2007 میں اس وقت کے فوجی آمر پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔ ان کے انکار پر سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے انہیں عہدے سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ چیف جسٹس کی بحالی کےلئے ملک بھر کی وکیل تنظیموں نے ملک گیر جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ تمام سیاسی پارٹیاں بھی اس تحریک کی حمایت کر رہی تھیں۔ ملک میں آٹھ سالہ فوجی حکمرانی سے مایوسی کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد نے بھی اس تحریک کا ساتھ دیا۔ اسی تحریک کے نتیجے میں 2008 کے غیر جانبدارانہ انتخابات منعقد ہو سکے تھے۔ پیپلز پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد معزول ججوں کو قید سے رہائی ملی اور بعد میں انہیں بحال بھی کیا۔ بلاشبہ اس تحریک نے ملک میں جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس کے نتیجے میں وکیلوں نے خود کو متبادل حکومت سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران وکیلوں کی طرف سے ایسی حرکتیں دیکھنے میں آئی ہیں جن کا وکیلوں کے ضابطہ اخلاق یا پیشہ وارانہ مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بعض صورتوں میں تو وکیل گروہ باقاعدہ غنڈہ گردی پر اتر آتے ہیں اور اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رویہ کی وجہ بھی یہ احساس بھی ہے کہ وکلا کی تنظیمیں بہت بڑی قوت ہیں اور وہ کسی بھی وقت احتجاج کرکے حکومت بدلنے یا اپنے مطالبات منوانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ تفہیم ماضی کے ایک تجربہ کی روشنی میں تو قابل فہم ہے لیکن موجودہ سیاسی حالات میں وکیلوں کے لئے شاید ویسی ہی تحریک چلانا ممکن نہیں ہوگا۔ اس لئے ملک کی کسی بھی وکلا تنظیم کی طرف سے اس قسم کے دعوے خالی نعرے بازی اور دھمکی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں متعدد سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں اور اپنے اپنے ایجنڈے پر لوگوں کو جمع کرنے، احتجاج کرنے اور سیاسی تبدیلی لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کوئی وکیل بلاشبہ کسی سیاسی پارٹی کے رکن یا رہنما کے طور پر ضرور کردار ادا کر سکتا ہے۔ ملک میں ایسی جہدوجہد کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے لیکن ملک کے سب وکیلوں اور ان کی تنظیموں کو سنجیدگی سے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کی تنظیموں کا بنیادی مقصد وکلا کے پیشہ وارانہ مفادات کا تحفظ اور عدالتی نظام کی اصلاح میں تعاون فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کےلئے ضروری ہے کہ وکیل تنظیموں کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنایا جائے۔ ایسی کسی بھی کوشش سے ان تنظیموں میں اختلاف و انتشار پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ صورتحال ملک کے وکیلوں اور عدالتی نظام کیلئے قابل تحسین نہیں ہوگی۔
اس نتیجہ تک پہنچنے کےلئے ملک کے وکلا اور ان کے رہنماؤں کو 2007 کی تحریک کی کامیابی کا جائزہ لے کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ملک میں سیاسی گھٹن کا ماحول تھا اور سیاسی کارکن سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کےلئے تیار نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ افتخار چوہدری کا استعفیٰ نہ صرف وکلا تنظیموں بلکہ سیاسی جماعتوں اور معاشرے کے مختلف حلقوں میں اتحاد کی وجہ بن گیا تھا۔ یہ تحریک ایک خاص ماحول میں خاص مقصد کےلئے چلائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو غیر قانونی طریقے سے اپنے عہدے سے علیحدہ کیا گیا تھا۔ اس لئے پیشہ وارانہ کردار کے حوالے سے بھی وکیلوں کی تحریک درست تھی اور سیاسی ماحول کی گھٹن کی وجہ سے اسے وسیع پذیرائی بھی حاصل ہوئی تھی۔ اب حالات مختلف ہیں۔ اس لئے جن وکیلوں کو سیاست کا شوق ہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ذریعے یہ شوق پورا کر سکتے ہیں۔ وکلا تنظیموں کو اپنے سیاسی مفادات کےلئے استعمال کرنے کی کوشش کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ لیکن وکیل ضرور ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہوں گے۔ اس کے آثار دکھائی بھی دینا شروع ہو گئے ہیں۔
وکیلوں میں نواز شریف کے استعفیٰ کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات البتہ ملک کے ہر طبقہ میں پیدا ہونے والے ہیجان اور ذہنی انتشار کا پتہ بھی دیتے ہیں۔ جس طرح ہر طبقہ فکر اور شعبہ زندگی کے لوگ نواز شریف کے خلاف الزامات اور سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اختلاف رائے رکھتے ہیں اور اس میں کسی حد تک شدت بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح وکلا تنظیموں کی طرف سے بھی اس کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ وکیلوں کا یہ طرز عمل اس لئے افسوسناک کہا جا سکتا ہے کہ پڑھے لکھے اور قانون شناس ہونے کی وجہ سے معاشرہ کے اس طبقہ سے رائے کا اظہار نعرے بازی اور دھمکیوں کے ذریعے کرنے کی توقع نہیں کی جاتی۔ بلکہ انہیں دیگر لوگوں کی رہنمائی کرنی چاہئے تاکہ معاشرہ میں سلیقہ سے اختلاف ظاہر کرنے اور جمہوری روایت کو مستحکم کرنے کا چلن عام ہو سکے۔
تاہم وکیل ہوں یا تاجر ، طالب علم ہوں یا زندگی کے کسی دوسرے شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ، انہیں سیاسی رائے رکھنے کا حق بھی حاصل ہے اور اس کے اظہار کا موقع بھی ملنا چاہئے۔ ملک کی سیاسی ثقافت میں بدعنوانی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ نواز شریف کے خلاف بدعنوانی کے شبہات و الزامات پر اسی لئے ملک کا ہر شخص متاثر ہو رہا ہے کیونکہ سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کی ذاتی بدعنوانی اور اندھیر نگری ہی کی وجہ سے ملک میں نہ تو جمہوریت پنپ سکی ہے اور نہ ہی کوئی نظام استوار ہو سکا ہے۔ اس کے نتیجے میں طاقتور خود کو دوسروں سے ارفع سمجھتا ہے اور من مانی کرتا ہے۔ یہ مزاج اور رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم عدالتی فیصلوں یا احتجاج کے ذریعے ایک حکومت گرانے سے بدعنوانی اور بدنظمی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بلکہ ایک کے بعد دوسرا جاہ پسند برسر اقتدار آ کر اسی قسم کے طرز حکومت کا مظاہرہ کرے گا۔ اس لئے ملک میں بدعنوانی کے خلاف تحریک کو کسی ایک شخص کے خلاف جہدوجہد بنانے کی بجائے نظام کی اصلاح کےلئے شعور بیدار کرنے کی مہم میں بدلنے کی ضرورت ہے۔
ملک کے وکلا، ان کے رہنما اور تنظیمیں اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کا مطالبہ بھی اصولی کی بجائے ایک فرد کے خلاف احتجاج اور تحریک کی صورت میں سامنے آئے گا تو وہ معاشرہ کو مزید انتشار اور بدنظمی کا شکار کرنے کا سبب ہی بنے گا۔

اسی بارے میں: ۔  کیا پاکستان میں فوج اور سیاست دان لڑ رہے ہیں؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 688 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali