آٹوگراف


آپ کسی لکھنے پڑھنے والے سے پہلی بار ملتے ہیں تو کیا بات کرتے ہیں؟

ظاہر ہے کہ لکھنے والے سے اُس کی تحریروں ہی پر بات ہوسکتی ہے۔

میں جب کسی بڑے آدمی سے ملنے جاتا ہوں، اور میں سوائے لکھنے پڑھنے والوں کے کسی کو بڑا نہیں مانتا، تو میرے پاس کم از کم دو کتابیں ہوتی ہیں۔ ایک میری، جو میں اپنے تعارف کے لیے پیش کرتا ہوں، اور دوسری اُن کی، جس پر میں آٹوگراف دینے کی درخواست کرتا ہوں۔

دوستوں کو یاد ہوگا کہ میں نے سال کے پہلے دن کیا عزم ظاہر کیا تھا۔ یہ کہ میں اِس سال کم از کم بارہ بڑی شخصیات سے پہلی بار ملاقات کروں گا۔ سال کے پہلے بارہ دنوں میں یہ خواہش پوری ہوگئی۔

اُن بڑے آدمیوں میں سے ایک کا نام وجاہت مسعود ہے۔ انھیں میں لاہور جانے سے کئی دن پہلے سے فون کررہا تھا۔ میں اُن کی تحریروں کا عاشق ہوں لیکن مجھے کئی دوستوں نے بتایا تھا کہ وجاہت صاحب کی گفتگو بھی بہت دلچسپ ہوتی ہے۔ ٹی وی پر سنجیدہ گفتگو کرنے والا تجزیہ کار بھول جائیں، نجی محفلوں میں آپ کو ایک بذلہ سنج اور حاضر جواب شخصیت ملے گی۔

تین جنوری کو لاہور میں یو ایم ٹی پریس کی تقریب کے بعد دنیا ٹی وی کے اجمل جامی مجھے وجاہت صاحب کے ہاں لے گئے۔ جامی، جنھیں اُن کے دوست ملنگ کہتے ہیں، صبح سویرے ہی مجھے لینے آواری آگئے تھے۔ اندازہ لگائیں، جامی کتنی محبت کرنے والا آدمی ہے کہ ابھی ہماری پہلی ملاقات نہیں ہوئی تھی لیکن وہ علی الصباح اپنی بڑی سی گاڑی میں مجھے یونیورسٹی لے جانے کے لیے آگیا۔

وجاہت صاحب سے اُن کے خوب صورت گھر میں ملاقات ہوئی۔ مجھے پتا چلا کہ جامی اُن کے ہاں اکثر آتا رہتا ہے۔ ہمارے ساتھ سما ٹی وی کے کنٹرولر احمد ولید بھائی بھی تھے۔ اتفاق سے وجاہت صاحب کے ایک دوست بھی آگئے، جو مولی کے پراٹھے ساتھ لائے تھے۔ وجاہت صاحب کو بھوک نہیں لگ رہی تھی لیکن جامی اور ولید بھائی نے پراٹھے گرم کروالیے۔ میٹھی لسّی بھی آگئی۔ ہم نے بے تکلف ہوکر کھانا شروع کردیا اور وجاہت صاحب سے کہا کہ ہمیں جوائن کریں۔ وہ انکار کرتے رہے۔ جامی کا اصرار بڑھا تو پیار بھرے غصے میں کہا، ’’تم تو اِس طرح مجھے کھانے کے لیے کہہ رہے ہو جیسے میں نے جنگِ ستمبر کے بعد سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘

وجاہت صاحب نے کسی اور جنگ کا ذکر کیا تھا لیکن میں نقصِ امن کے خدشے سے اس کا نام نہیں لکھ سکتا۔

میں کراچی سے اُن کی کتاب محاصرے کا روزنامچہ ساتھ لایا تھا۔ وجاہت صاحب سے اُس پر دستخط کرنے کو کہا تو وہ ہچکچائے۔ کہنے لگے، یہ تو آپ خرید کر لائے ہیں۔ میں خود پیش کرتا تو دستخط کرتا۔ میں نے کہا کہ اتنی دور سے آیا ہوں، خالی ہاتھ مت بھیجیں۔ انھوں نے مزے کی بات بتائی کہ اُن کی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں لیکن کوئی کتاب اُن کے پاس نہیں۔ سب ختم۔ میں نے کہا کہ نئے ایڈیشن چھپوائیں۔ انھوں نے کہا، قصہ یہ ہے کہ ہماری کتاب ہی ختم نہیں ہوتی، پبلشر کا کاروبار بھی ختم ہوجاتا ہے۔

پھر انھیں یاد آیا کہ گھر کی شفٹنگ کے دوران ایک کتاب کی چند کاپیاں کسی ڈبے سے نکل آئی تھیں۔ وہ گئے اور ’’طالبان یا جمہوریت، پاکستان دو راہے پر‘‘ کی تین چار کاپیاں اٹھا آئے۔ اُن سب پر دستخط کرکے وہیں مستحقین میں تقسیم کردیں۔ بہت عنایت کی کہ محاصرے کا روزنامچہ پر بھی دستخط کردیے۔

اُسی شام آمنہ مفتی صاحبہ نے بانو قدسیہ سے ملاقات کا اہتمام کردیا۔ میں لبرٹی بکس کی تقریب سے نکلا تو عائشہ بخش اور اُن کے شوہر عدنان نے مجھے وہاں ڈراپ کردیا۔ میرے ساتھ یو ایم ٹی پریس کے احمد سہیل بھی تھے۔

داستان سرائے، کہ یہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے گھر کا نام ہے، پہنچے تو ہمیں ڈرائنگ روم میں نہیں بٹھایا گیا۔ استقبال کرنے والے ہمیں بانو قدسیہ کے پاس لے گئے۔ انتہائی سادہ سا کمرا۔ ایک بیڈ جس کے سرہانے نسخے رکھے تھے۔ افسانوں کے نسخے نہیں، دواؤں کے نسخے۔ بیڈ کے اوپر اشفاق صاحب کی تصویر۔ یکایک احساس ہوا کہ وہ مجھے ہی گھور رہے ہیں۔

جب میں کسی خوب صورت خاتون سے ملتا ہوں، اور مجھے احساس ہوتا ہے کہ اُن کے شوہر مجھے مشکوک نظر سے گھور رہے ہیں، تو میں جان بوجھ کر انھیں جلانے کے لیے خاتون سے بے تکلف ہوجاتا ہوں، انھیں لطیفے سناتا ہوں، اُن کی تعریف کرتا ہوں۔ خاتون اگر شرارت کے موڈ میں ہوں تو سرگوشیاں بھی کرتا ہوں اور موقع ملے تو ہاتھ تھام لیتا ہوں۔

بانو قدسیہ سے ملاقات ہوئی اور اشفاق صاحب نے مجھے گھورا تو میرے اندر کا بدمعاش جاگ اٹھا۔ میں بانو کے ساتھ بیٹھ گیا اور بے تکلفی سے گفتگو شروع کردی۔ انھیں لطیفے سنائے، خوب تعریف کی، سرگوشیاں بھی کیں اور محبت سے اُن کا ہاتھ تھام لیا۔ احمد سہیل نے وہ منظر کیمرے میں قید کرلیا۔

اشفاق صاحب کو بہت برا لگا۔ انھوں نے مجھے نظرانداز کرکے احمد سہیل کو گھورنا شروع کردیا۔ میں نے بانو کو اپنی کتاب پیش کی اور اُن کا ناول ’’شہر لازوال، آباد ویرانے‘‘ سامنے رکھا۔ انھوں نے اُس پر دستخط کردیے لیکن تاریخ یکم جنوری کی لکھی۔ میں نے تصحیح نہیں کی۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ سے جنم جنم کی ملاقاتیں ہیں۔ تاریخ سے کیا فرق پڑتا ہے؟

نومبر کے دوران کراچی میں انٹرنیشنل بک فیئر میں میری ملاقات امر جلیل سے ہوئی تھی۔ میں نے اس ُکا حال اُسی دن لکھا تھا۔ میں نے اپنا نام بتایا تھا تو وہ بہت خوش ہوئے تھے۔ ہم دونوں کے نام ایک ہی اخبار میں ساتھ ساتھ چھپتے ہیں۔ می نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انھوں نے اپنا فون نمبر دے دیا تھا۔

بدقسمتی سے میں امر جلیل کا فون نمبر کہیں رکھ کر بھول گیا۔ ایک مہینے بعد یاد آیا اور انھیں فون کیا تو گھنٹی بجتی رہی۔ میسج بھیجے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ گزشتہ ہفتے میں نے ایک اور کوشش کی۔ اتفاق سے اِس بار امر جلیل صاحب نے فون اٹھالیا اور اتوار کا وقت دے دیا۔ میں نے سندھی اور اردو کے ادیب مسرور پیرزادو کو بتایا تو وہ بھی اُس ملاقات میں شریک ہوگئے۔ مسرور پیرزادو میری کئی کہانیوں کا سندھی میں ترجمہ کرچکے ہیں۔

ہم سہہ پہر کو امر جلیل صاحب کے گھر پہنچے۔ انھوں نے خود دروازے پر آکر استقبال کیا۔ وہ بڑے عالم ہیں، بڑے تاریخ داں۔ سندھی ادب میں ان جتنے بڑے نام کم ہیں لیکن ان میں بلا کی انکساری اور سادگی ہے۔

انھوں نے مہربانی کی اور ہمیں اپنی اسٹڈی میں لے گئے۔ اُس میں اردو اور انگریزی کی بھی بے شمار کتابیں تھیں لیکن سندھی کتب کا ذخیرہ قابل رشک تھا۔ مسرور پیرزادو نے ہماری ایک ساتھ تصویریں بھی بنائیں لیکن مجھے ان کے دستخطوں میں دلچسپی تھی۔ میں نے تین کتابیں انھیں پیش کیں۔ ایک اُن کی آپ بیتی آتم کتھا، دوسری اُن کے سندھی افسانوں کا مجموعہ امر جلیل جا کتاب اور تیسری اُن کی انگریزی کہانیوں کی کتاب لو، لونگنگ اینڈ ڈیتھ۔ امر جلیل نے تینوں پر دستخط کردیے تو میں نے چوتھی کتاب سامنے رکھی۔ امر جلیل نے اُسے الٹ پلٹ کر دیکھا اور کہا، یہ میری کتاب نہیں۔ میں اِس پر کیوں دستخط کروں؟ میں نے کہا، یہ شاہ بھٹائی کا کلام ہے اور شیخ ایاز کا ترجمہ۔ دونوں کا سندھی ادب میں بہت بڑا مقام ہے۔ آپ دستخط کردیں گے تو میں سمجھوں گا کہ محمد بن قاسم کی طرح پورا سندھ فتح کرلیا۔ وہ ہنسے اور دستخط کرکے کہا، اُس نے تلوار سے فتح کیا تھا، آُپ محبت سے کررہے ہیں۔

جس گھر میں چار پانچ بھائی ہوں، اور اُن میں سے ایک کچھ بن جائے تو باقی سب بھائی اُس پر فخر کرتے ہیں۔ میں ایسے چار بھائیوں کو جانتا ہوں کہ ہر بھائی کو باقی تینوں بھائیوں پر ایک جیسا فخر ہوگا۔ میجر جنرل اطہر عباس آئی ایس پی آر کے سربراہ رہے ہیں۔ ظفر عباس ڈان اخبار کے ایڈیٹر ہیں۔ مظہر عباس کئی میڈیا اداروں میں ٹاپ پوزیشن پر رہے ہیں اور صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پی ایف یو جے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ اظہر عباس جیونیوز کے ایم ڈی ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ اُن کے پانچویں بھائی امریکا میں کسی آئی ٹی کمپنی میں اعلیٰ پوزیشن پر ہیں۔

کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک گھر میں اتنے بڑے لوگ کیسے پیدا ہوگئے؟ عباس برادران کے والد امیر آدمی نہیں تھے، اُن کے پاس بینک بیلنس، بزنس یا کوئی پراپرٹی نہیں تھی۔ لیکن وہ ایک استاد تھے۔ انھوں نے اپنے بچوں کو تعلیم کی اہمیت بتادی۔ بس!

مجھے فخر ہے کہ اظہر صاحب کی ٹیم میں شامل ہوں۔ مظہر صاحب کے ساتھ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی ہے اور ان سے دفتر میں بھی ملاقات ہوجاتی ہے۔ لیکن ظفر عباس صاحب سے کبھی نہیں ملا تھا۔ بہت بار، سچ کہ بہت بار اُن کے پی اے کو فون کیا لیکن وہ ہر بار معذرت کرتے کہ باس مصروف ہیں، باس میٹنگ میں ہیں، باس شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔

جمعہ کو میں ڈان کے دفتر جا پہنچا۔ پی اے صاحب کو بتایا کہ میں آ گیا ہوں اور باس سے مل کر ہی جاؤں گا۔ انھوں نے کہا، وہ سامنے دروازہ کھول کر دیکھیں۔ میں نے دروازہ کھولا، کمرا خالی تھا۔ میں نے کہا، اچھا! یہ دو کتابیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ایک میری کتاب ہے، دوسری پر اُن کا آٹوگراف چاہیے۔ دو گھنٹے بعد، دو دن بعد، دو ہفتے بعد، دو مہینے بعد، دو سال بعد، جب بھی کام ہوجائے، مجھے فون کردیجیے گا۔ پی اے صاحب الجھن میں پڑگئے۔ کہا کہ ہماری لائبریری میں جاکر بیٹھ جائیں۔ باس کہیں گئے ہیں۔ واپس آتے ہیں تو آپ کو بلاتا ہوں۔

بس دو منٹ گزرے تھے کہ بلاوا آ گیا۔ ظفر عباس صاحب نے ہاتھ ملایا۔ میں نے اپنی کتاب اُن کی خدمت میں پیش کی۔ ظفر عباس صاحب نے کہا کہ ہاں، جنگ میں آپ کی کہانی دیکھتا ہوں۔ میں نے ڈان کے سابق ایڈیٹر احمد علی خان کی بایوگرافی اور اردشیر کاوس جی کے کالموں کا مجموعہ سامنے رکھا اور اُن پر دستخط کرنے کی فرمائش کی۔

ظفر عباس صاحب نے انکار کردیا۔ کہا کہ یہ میری کتابیں نہیں، میں کیوں دستخط کروں؟ میں نے کہا کہ ڈان سے تعلق تو ہے نا۔ میں لوگوں کو صرف اپنی نہیں، دوسروں کی کتابوں کا تحفہ بھی دیتا ہوں۔ اسے تحفہ سمجھ کر، آٹوگراف کے ساتھ مجھے دے دیں۔ ظفر عباس صاحب شاید قائل نہیں ہوئے لیکن انھوں نے دستخط کردیے۔

میں کیوں بڑے لوگوں کے پیچھے بھاگتا ہوں۔ میں کیوں اُن سے ہاتھ ملانے کو بے قرار رہتا ہوں۔ میں کیوں اُن سے دستخط کرواتا پھرتا ہوں۔

جب میں کسی لکھنے پڑھنے والے سے ہاتھ ملاتا ہوں تو ایک مدت تک مجھے اپنے ہاتھوں سے خوشبو آتی ہے، قلم میں جادو بھر جاتا ہے، تحریر میں تاثیر آجاتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 74 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi