چین میں مسلمانوں پر کوئی مذہبی پابندی نہیں


پیارے بچو چین بہت ہی اچھا ملک ہے۔ وہ ہمارا سب سے اچھا ہمسایہ ہے۔ چین میں پہلے دو بچوں پر پابندی ہوتی تھی وہ اب ختم کر دی گئی ہے۔ اب صرف مسلمانوں پر معمولی سی مذہبی پابندیاں ہیں۔ مثال کے طور پر مسلمان گھرانوں کے لوگ اپنے بچے کا کوئی بھی نام رکھ سکتے ہیں۔ بس چند لفظوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اور حکومت نے مسلمانوں کو بتا دیا ہے کہ نام میں اگر ان لفظوں میں سے کوئی بھی شامل ہوا تو بچے کی پیدائش کا اندراج نہیں ہو سکے گا۔ اور جس بچے کی پیدائش کا اندراج نہ ہو اسے سکول میں داخلہ نہیں مل سکتا اور ساتھ ہی صحت کی جملہ سہولتوں سے بھی محروم رہتا ہے۔

سارے مسلمان لوگ مسجدوں میں جا سکتے ہیں بس ان کی عمر اٹھارہ سال سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ تمام مسلمان روزے رکھ سکتے ہیں بس صرف انہیں سرکاری نوکری سے استعفی دینا پڑتا ہے یا اگر وہ طالب علم ہیں تو انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا جاتا ہے۔ اسی طرح سے طلبہ اور سرکاری ملازمین کو کام یا پڑھائی کے دوران نماز سے پرہیز کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ (حکومت کے مطابق) ان کا وقت ضائع نہ ہو اور وہ کہیں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

مسلمان عورتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بھی اپنی مرضی کا لباس زیب تن کر سکتی ہیں صرف برقع اور حجاب وغیرہ سے پرہیز کریں۔ چین کی حکومت نے ساتھ ہی مردوں کے لیے داڑھی سے پرہیز کا فرمان جاری کر کے بات برابر کر دی۔ اس سے چین کے خلاف جنسی طور پر کسی امتیازی سلوک کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ان باتوں کے علاوہ صرف یہ ہے کہ بچوں یا مردوں کے ختنے کرانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مذہی رسومات چاہے وہ عید جیسے تہوار ہوں یا شادی بیاہ کی اسلامی رسومات ہوں ان کے متعلق چینی پولیس کو اطلاع کرنے کا کہا گیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  دینا جناح کون تھیں؟ دوسرا حصہ

چینی حکومت چونکہ بہت اچھی ہے اس لئے چینی مسلمانوں نے اپنے مذہب کے خلاف ان چھوٹی موٹی پابندیوں کا برا نہیں منایا اور اپنی حکومت کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ باوجود اس کے کہ چینی حکومت نے اپنی مسلمان آبادی سے کسی تعاون کی درخواست بھی نہیں کی تھی۔ حکومت کے خیال میں قانون بنا دینا ہی کافی ہے اور اس کی پابندی کرنا کوئی احسان نہیں ہے بلکہ فرض ہے۔

ویسے چینی حکومت نے پاکستان میں بسنے والے اسلام کے نامور سپاہیوں کو بھی بظاہر کسی قسم کے تعاون کی درخوست نہیں کی لیکن پھر بھی چین کے ساتھ ہمارے بھائی چارے کی وجہ سے پاکستانی میڈیا کے اسلامی مجاہدین بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ کتنی زبردست بات ہے کہ کوئی ٹی وی چینل، کوئی اخبار یا کسی میڈیائی مجاہد کا کوئی فیس بک پیج اس مسئلے پر ایک دوست ملک کو ذرا سی بھی پریشانی دینے کے لیے تیار نہیں پایا گیا۔

جناب اوریا مقبول جان صاحب نے کوئی ٹی وی پروگرام نہیں کیا جس میں وہ چین کو للکارتے اور اسے بتاتے کہ ہمارے ساتھ چھیڑ خانی نہ کرو ورنہ متوقع بڑی جنگ میں تمہیں بھی دشمنوں میں شامل کر لیں گے اور پھر شکست فاش تمہارا مقدر بنے گی۔ جناب انصار عباسی صاحب نے بھی ابھی تک کوئی کالم نہیں لکھا جس میں وہ چین کی طرف سے مسلمانوں پر عائد مذہبی پابندیوں کو مغرب (یا اس سلسلے میں شاید مشرق) کی سازش قرار دیتے اور پاکستان کے موم بتی مافیہ کو بھی مورد الزام ٹھہراتے۔ جناب ڈاکٹر عامر لیاقت صاحب نے بھی لگتا ہے کہ ایسا ہی چلنے دیا ہے اور ان کا ابھی تک کوئی جذباتی بیان سامنے نہیں آیا جس سے وہ پاکستانیوں کی غیرت کو جھنجھوڑتے اور چین میں مسلمانوں کی حالت زار پر آنسو بہاتے۔

ہمارے ہاں ایک ادارہ دفاع پاکستان کے نام سے بھی ہے۔ وہ تو کراچی سے خیبر تک سٹریٹ پاور کے مالک ہیں لیکن وہ پاکستان کے جگری دوست چین اور اس کی جانب سے اسلام پر لگائی ہوئی پابندیوں پر بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے سڑکوں پر بینر لگائے ہیں نہ ہی جلسے اور جلوسوں کی کال دی ہے۔ اور تو اور جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہوئے اسلام کے رکھوالے بھی دوسروں سے بڑہ کر پڑوسی اور دوست ملک چین کے ساتھ تعاون ہی کے خواہاں نکلے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  کیا ہم آہستہ آہستہ مر رہے ہیں؟

تعاون کی بات صرف میڈیا میں مذہب کے سپاہیوں یا مذہبی سیاسی پارٹیوں تک محدود نہیں ہے۔ ساری عوام کا تعاون بھی قابل دید ہے۔ لاکھوں مساجد کے لاؤڈسپیکرز بھی تعاون ہی پر بضد ہیں۔ کسی امام مسجد نے اس پر لب کشائی نہیں کی اور ہر طرف راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔

اور ہاں تعاون کی یہی فضا ہونی بھی چاہیے تھی۔ چین ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔ چین کی اور ہماری دوستی ہمالیہ سے اونچی ہے اور آزمائی ہوئی ہے۔ سی پیک تو کسی سے چھپا نہیں ہے۔ چین کی ہماری دوستی میں ایک خاص بات بھی ہے جو کسی بھی اور ملک کے ساتھ نہیں ہے۔ چین کی بھارت کے ساتھ 1962 میں ایک جنگ ہوئی تھی جس میں اس نے بھارت کو شکست فاش دی تھی۔ لہذا ہمارا یہ پکا ایمان ہے کہ چین ہمارے دشمن کا دشمن ہے۔ اگر اب نہیں بھی ہے تو پہلے رہا ضرور ہے۔

اس ملک گیر تعاون سے ہمیں خوشی کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان بھی ہوا ہے کہ ہمارا جذبہ ایمانی محفوظ ہاتھوں میں ہے اور انڈر کنٹرول ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 135 posts and counting.See all posts by salim-malik