دو مختصر کہانیاں: موسم اور درمیان


موسم

”کل کتنی گرمی تھی،
تپتی دھوپ، آگ برساتا سورج،
پسینے سے کپڑے جسم کے ساتھ چپک چپک جاتے تھے،
اور آج اچانک موسم کتنا خوشگوار ہو گیا ہے، بادلوں نے آسمان کا چہرہ ڈھک دیا ہے،
ہلکی ہلکی بوندا باندی، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے،
گرمی، سردی، خزاں، بہار دنیا میں کوئی موسم بھی مستقل رہنے کے لئے نہیں آتا۔ “
میں نے کھڑکی کے پار دیکھتے ہوئے بابا جی کو بتایا۔
”میری آ نکھوں میں تو اب ہمیشہ کے لئے ایک ہی موسم ٹھہر گیا ہے، برسات کا موسم۔ “
بابا جی نے دیوار پہ آویزاں خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے اپنے جواں سال بیٹے کی تصویر کو دیکھا، ان کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔

درمیان

وہ جنت میں داخل ہونے ہی لگا تھا کہ اسے فرشتوں نے جنت کے دروازے پر روک لیا،
”ٹھہرو پہلے اپنا اعمال نامہ چیک کرواؤ۔ “
فرشتے نے اسے غصیلی نظروں سے گھورا
اس کے نامۂ اعمال کا بغور جائزہ لینے کے بعدفرشتے نے کہا ”تمہاری نیکیاں اتنی نہیں ہیں کے تم جنت میں جا سکو۔ “
”تو پھر جہنم میں چلا جاؤں؟ “
اس نے بجھے سے لہجے میں پوچھا
فرشتے نے دوبارہ اعمال نامےپہ نظر ڈالی،
”تم تو جہنم میں بھی نہیں جا سکتے ادھر درمیان میں خیمہ لگا لو، نہ بجلی نہ گیس ن پانی جہنم کی سزاتو تم پاکستان میں ہی کاٹ آئے ہو۔ “

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں