قائد اعظم کے نام رتی جناح کے نایاب رومانی خطوط


یہ 1916ء کے موسم گرما کی بات ہے، بمبئی کے کروڑ پتی پارسی صنعت کار، ڈنشا مانک جی پیٹٹ نے شہر کے مشہور نوجوان وکیل اور اپنے واقف کار، محمد علی جناح کو دار جلنگ (مغربی بنگال) چلنے کی دعوت دی۔ مقصد یہ تھا کہ بمبئی کی گرمی اور تیز رفتار زندگی پیچھے چھوڑ کر ایک صحت افزا مقام پر چند ہفتے گزارے جاسکیں۔ جناح صاحب نے دعوت قبول کرلی۔

اس سفر میں پارسی مانک جی کا خاندان بھی ساتھ گیا جو بیگم اور سولہ سالہ بیٹی، رتن بائی المعروف بہ رتی پر مشتمل تھا۔ رتی ایک آزاد روح تھی جسے اپنی مرضی سے زندگی گزارنا پسند تھا۔ وہ لگی لپٹی رکھے بغیر باتیں کرتی اور جو قدم اٹھانا ہوتا، بے دھڑک اٹھا دیتی۔ ایک بار وہ اپنے والدین کے ساتھ شملہ گئی۔ وہاں ایک تقریب میں انگریز وائسرائے ہند آ نکلا۔ تقریب میں رتن بائی واحد ہندوستانی تھی جو اپنی نشست پر بیٹھی رہی اور اٹھ کر مہمان کا استقبال نہیں کیا۔ وہ انگریز حاکموں کو ناپسند کرتی تھی۔

اس تفریحی دورے میں رتی مہذب و سنجیدہ مزاج مسٹر جناح سے بہت متاثر ہوئی۔اُدھر رتی کی بے باک طبیعت اور دلیری مسٹر جناح کو بہت بھائی۔ گویا یہ تقریباً پہلی نگاہ میں پسند والا معاملہ ہوگیا۔ بمبئی واپس آنے کے بعد دونوں کے مابین خط کتابت جاری رہی اور جلد ہی ساتھ زندگی گزارنے کے عہدو پیمان باندھ لیے گئے۔ جب سرڈنشا مانک جی کو اس رومان کا علم ہوا، تو وہ سخت طیش میں آگئے۔ انہوں نے مسٹر جناح کے خلاف مقدمہ کھڑا کردیا اور الزام لگایا کہ وہ ان کی نابالغ بیٹی کو ورغلا رہے ہیں۔

بعض مورخین بانی پاکستان، قائداعظم محمد علی جناح کو نہایت سردمہر، خشک مزاج اور جذبات سے عاری شخصیت قرار دیتے ہیں۔ ان کے  نزدیک غرور کے باعث قائد کی شخصیت میں یہ خامیاں پیدا ہوئیں۔ یہ اندازہ غلط ہے۔ قائداعظم فضول باتوں اور کاموں کو وقت کا ضیاع سمجھتے تھے اور تقریبات میں جانے سے پرہیز کرتے۔ مزید براں ایک وکیل اور سیاست داں ہونے کے ناتے وہ انتہائی مصروف شخص بھی تھے۔ مصروفیت کے باعث جب وہ کسی سے صرف کام کی بات کرتے اور اِدھر اُدھر کی باتوں سے دور رہتے، تو اس طرز عمل کو ان کا غرور فرض کرلیا گیا۔

پھر ایک پارسی لڑکی…رتن بائی سے ان کی داستانِ عشق یہ سچائی اجاگر کرتی ہے کہ عام انسانوں کی طرح ان کے سینے میں بھی ایک دل دھڑکتا تھا جو سورج کی کرن، کلی کے چٹکنے، بچے کے مسکرانے اور حسین لڑکی کی طرح دار اداؤں سے یونہی متاثر ہوتا جیسے سبھی دل ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے دوسری دہائی میں قائداعظم اور رتن بائی کا عشق ایسا ہیجان انگیز واقعہ تھا جس نے پورے بمبئی کو ہلا کر رکھ دیا۔ تب تک پارسی صنعت کار ہندوستان میں بہت بڑی معاشی و سیاسی قوت بن چکے تھے۔

مزید براں اب تک کسی مسلمان نوجوان نے یہ جرأت نہیں کی تھی کہ ایک پارسی لڑکی کا رشتہ مانگ سکے، وہ بھی ایسی دوشیزہ سے جو کروڑ پتی خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ قائداعظم کو یقین تھا کہ رتی انہیں پسند کرتی ہے لہٰذا انہوں نے روایتی دلیری سے محبت کا جواب قبولیت سے دیا۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ قائداعظم اپنے نجی معاملات پر بات کرنا ناپسند کرتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے نجی معاملات کے متعلق کبھی ڈائری نہیں لکھی۔ وہ ہر خط کا جواب دینا ضروری سمجھتے تھے، مگر ان خطوط میں بھی نجی معاملوں کے بارے میں بہت کم معلومات ملتی ہیں۔ خاص طور پر رتن بائی سے عشق اور شادی کے متعلق مواد تو بہت ہی کم دستیاب ہے۔ حیات قائد کے اس اہم جذبات انگیز دور پر چند کتب ہی روشنی ڈالتی ہیں۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ حال ہی میں اس مختصر فہرست میں ایک اور اہم کتاب کا اضافہ ہوچکا۔ تاہم یہ کسی پاکستانی مورخ یا لکھاری کی تصنیف نہیں بلکہ کتاب کی خالق ایک بھارتی صحافی، شیلا ریڈی ہے۔

دہلی میں مقیم شیلا ریڈی کہنہ مشق لکھاری ہیں۔ پچھلے پینتیس برس کے دوران بھارت کے ممتاز اخبارات و رسائل میں تاریخ، سیاسیات، تہذیب و ثقافت، ادب وغیرہ پر سینکڑوں تحقیقی مضامین قلمبند کرچکیں۔ چند سال قبل وہ ایک تحقیق کے سلسلے میں نہرو میموریل میوزیم و لائبریری،نئی دہلی گئیں۔ وہیں دوران تحقیق ایک ریک پر رکھا دستاویزی خزانہ ان کے ہاتھ لگ گیا۔یہ خزانہ ان سینکڑوں خطوط پر مشتمل ہے جو ’’بلبل ہند‘‘ کہلائی جانے والی شاعرہ سروجنی نائیڈو‘ ان کی بیٹیوں پدمجا اور لیلامنی اور رتن بائی نے ایک دوسرے کو تحریر کیے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  سرحد کے اُس پار اور اِس پار

رتن بائی کے شادی سے قبل بھی اس گھرانے سے قریبی تعلقات تھے۔ انہی خطوط میں وہ خط بھی موجود ہیں جو نائیڈو خاندان نے جناح جوڑے کے متعلق ایک دوسرے کو لکھے۔ یاد رہے، سروجنی نائیڈو قائداعظم کے بہت قریب تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ قائداعظم سے عشق کرتی تھیں۔ انہوں نے ہی قائد کو ’’ہندو مسلم اتحاد کا سفیر‘‘ قرار دیا تھا۔

یہ خطوط 1915ء سے لے کر 1928ء کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ شیلا ریڈی نے ان قیمتی خطوط کو بنیاد بناکر دیگر کتب سے مدد ملی اور یوں ایک کتاب ’’Mr and Mrs Jinnah: The Marriage that Shook India‘‘ تصنیف کر ڈالی جو مارچ 2017ء میں منظر عام پر آئی۔بھارتی اور غیر مسلم ہونے کے باوجود شیلا ریڈی نے اس منفرد کتاب میں غیر جانبدار محققہ ہونے کا ثبوت پیش کیا اور کوشش کی کہ تاریخ ساز جناح جوڑے کی رومانی و نجی زندگی اسی طرح سامنے لائی جائے جیسی وہ نو دریافت خطوط سے جھلکتی ہے۔ یہ زندگی آشکارا کرتی ہے کہ محمد علی جناح اور رتی جناح (مسلم نام:مریم جناح) منفرد و یکتا شخصیت کے مالک تھے۔ ان میں خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں مگر انسان ہونے کے ناتے وہ بشری کمزوریوں سے بھی مبرا نہ تھے۔ حیات قائد کے جذباتی دور پر روشنی ڈالنے والی کتاب کے اہم اور سبق آموز حصے درج ذیل ہیں۔

1916ء میں مسٹر جناح نے دو ماہ دارجلنگ میں واقع سرڈنشا پیٹٹ کی رہائش گاہ میں گزارے۔ وہیں رتن بائی بھی مقیم تھیں۔ وہ گڑیوں سے کھیلنے والی روایتی لڑکی نہ تھیں بلکہ مختلف موضوعات پر کتابیں پڑھتی اور ادبی و سیاسی شخصیات سے پر مغز گفتگو کرتیں ۔ ذہین، باعلم اور نفیس طبع ہونے کے ساتھ ساتھ وہ حسین و جمیل بھی تھیں۔ انہی دو ماہ کے دوران سٹر جناح اور رتن بائی ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔قطعیت سے یہ کہنا مشکل ہے کہ مسٹر جناح رتی کی جانب کیوں مائل ہوئے۔شاید حسن، ذہانت اور دلکشی کے امتزاج نے جناح کو مسحور کردیا۔ یا ممکن ہے کہ اب وہ گھر بسانے کی تمنا رکھتے ہوں۔ اُدھر رتی مسٹر جناح کی پُروقار شخصیت اور شہرت سے بہت متاثرہوئیں۔

رتی آزاد مشرب اور غیر روایتی لڑکی تھیں۔ یہی وجہ ہے، انہوں نے جناح کو شادی کی پیش کش کی۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جواب دیا ’’یہ ایک معقول تجویز معلوم ہوتی ہے۔‘‘ ((“It sounds like a good proposition” )۔18 اپریل 1918ء کو رتی اپنے والدین کے محل سے باہر نکل آئیں۔ ہاتھ میں چھتری تھی، پہلو میں پالتو کتا اور بس! اسی حالت میں وہ جناح کے ساتھ جامع مسجد پہنچیں جہاں انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔

اگلے دن رسم نکاح منعقد ہوئی جس میں دولہا صاحب دلہن کے لیے انگوٹھی لانا بھول گئے۔ اگلے دن سر ڈنشا نے بیٹی کے نکاح کی خبر اخبار میں پڑھی، تو غش کھا کر گرگئے۔ایک مسلمان نوجوان اور پارسی لڑکی کی شادی نے بمبئی میں ہلچل مچادی۔ اسی دن سرڈنشا نے جناح پر یہ مقدمہ کھڑا کردیا کہ انہوں نے ان کی بیٹی کو اغواء کیا ہے۔ مگر نئی دلہن، مریم جناح المعروف بہ رتی بہادری سے عدالت میں پیش ہوئیں اور بہ بانگ دہل کہا ’’مسٹر جناح نے مجھے اغوا نہیں کیا… حقیقت میں، میں نے ان کو اغوا کیا ہے۔‘‘

پارسی کمیونٹی کو رتی کی جسارت ایک آنکھ نہ بھائی چناں چہ اس کی پنچایت نے انہیں اپنے حلقے سے نکال باہر کیا۔ اُدھر باپ نے بھی رتی کو جائیداد سے عاق کردیا۔ مگر یہ آفتیں رتی کا کچھ نہ بگاڑ سکیں اور وہ اپنے دولہے کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارنے لگیں۔مسٹر جناح نے شام کوکلب جانا چھوڑ دیا۔ وہ سہ پہر کو گھر آتے اور بقیہ وقت اپنی محبوبہ کے ساتھ گزارتے۔ مسٹر جناح خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتا دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ عورتوں پر بے جا پابندیاں لگانے کے حق میں نہیں تھے اور اپنی بیگم کی آزادی کا دل سے احترام کرتے۔رتی اپنے شوہر کی طرح قوم پرست ہندوستانی تھیں۔ ایک تقریب میں حسب روایت رتی نے وائسرائے ہند، لارڈ چیمس فورڈ کے سامنے سرتسلیم ختم نہیں کیا بلکہ ہاتھ جوڑ کر آداب کر ڈالا۔ یہ دیکھ کر وائسرائے ہند کو غصہ آگیا۔ وہ بولا ’’خاتون! اگر تم اپنے شوہر کا بھلا چاہتی ہو تو وہی کرو جیسے رومی روم میں کرتے ہیں۔‘‘

رتی نے اطمینان سے جواب دیا ’’ میں نے ایسا ہی کیا ہے جناب! ہندوستان میں رہتے ہوئے آپ کو ہندوستانی طریقے ہی سے آداب کیا ۔‘‘

اس واقعے کے بعد لارڈ چیمس فورڈ نے کسی اور سرکاری تقریب میں رتی جناح کو نہیں بلایا مگر انہیں اس امر کی کوئی پروا نہیں تھی۔ وہ تو ایسی آزاد روح تھیں کہ شملہ سیر کرنے گئیں، تو وہاں اکثر سڑک کنارے کھڑے ٹھیلے سے چاٹ کھانے لگتیں۔ جاننے والے سبھی لوگ انہیں حیرت سے گھورتے رہ جاتے۔ایک بار رتی نے وائسرائے ہند، لارڈ ریڈنگ کو بھی ایسا ٹکا سا جواب دیا کہ وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ وہ ایک تقریب میں خواتین کی ٹولی سے کہنے لگا:’’ میں جرمنی جانے کے لیے تڑپتا رہتا ہوں مگر نہیں جاسکتا کیونکہ جرمن ہم برطانویوں کو پسند نہیں کرتے۔‘‘

اسی بارے میں: ۔  لبرل افراد اور خوشی کی تلاش

اس ٹولی میں رتی بھی کھڑی تھیں۔ کہنے لگیں۔ ’’آپ پھر ہندوستان کیوں آگئے؟‘‘

بمبئی کے سوشل و سیاسی حلقوں میں اپنی دلکشی، ذہانت، نفاست اور خوبصورتی کے باعث جناح جوڑا بہت مقبول ہوا۔ مگر رفتہ رفتہ جوڑے کے تعلقات میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ رتی جناح چاہتی تھیں کہ شوہر انہیں زیادہ سے زیادہ وقت دیں۔جبکہ مسٹر جناح کی سیاسی اور اور عدالتی مصروفیات بڑھ رہی تھیں اور وہ ان سے علیحدہ نہیں رہ سکتے تھے۔ یہی معاملہ ان کے مابین پہلی وجہ نزاع بن گیا۔خاندان اور اپنی کمیونٹی سے کٹ کر رہنا بھی رتی کے لیے بوجھ ثابت ہوا۔ اب وہ مسڑ جناح سے بچکانہ خواہشیں کرنے لگیں۔کبھی کہتیں کہ فلم دکھانے لے چلو، کبھی پارک میں گھومنے کی فرمائش کرتیں۔وہ موقع محل بھی نہ دیکھتیں اور بچیوں کی طرح مچل جاتیں کہ ابھی ان کی تمنا پوری کی جائے۔ انہی دنوں جناح نے اپنے ایک دوست کو بتایا ’’وہ (رتی) مجھے پاگل کردیتی ہے۔ وہ تو ایک بچی ہے اور مجھے اس سے شادی نہیں کرنا چاہیے تھی۔‘‘

14 اگست 1919ء کی رات رتی جناح نے ایک بیٹی (دینا) کو جنم دیا۔ بچے کی پیدائش کے بعد عموماً اختلافات کا شکار جوڑوں کی زندگی میں ٹھہراؤ آجاتا ہے۔مگر جناح جوڑے کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آسکی۔ شوہر کی مصروفیت کو رتی نے بے اعتنائی سمجھا اور ان سے ناراض رہنے لگیں۔ ممکن ہے کہ انہیں یہ خیال بھی آیا کہ یہ شادی کرکے انہوں نے غلطی کی ہے۔ وجہ یہ کہ رتی غصّے میں آکر بیوی اور ماں کے فرائض کو ایک قسم کی غلامی سمجھنے لگیں۔وہ بچپن سے روحانیت میں دلچسپی رکھتی تھیں۔

اب وہ شوہر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے لیے پیروں، سنیاسیوں اور باباؤں کے پاس جانے لگیں۔ وہ ارواح بلانے والی محفلوں میں بھی شریک ہوتیں۔ ان روحانی سرگرمیوں میں پھنس جانے کا نتیجہ یہ نکلا کر وہ نوزائیدہ بچی کی پرورش سے لاتعلق ہوگئیں۔ اس کی پرورش ایک دایہ کو سونپ دی گئی۔رتی جناح کی سہیلی، پدمجا اپنی بہن لیلامنی کولکھتی ہے: ’’مجھے رتی کا رویّہ بالکل سمجھ نہیں آرہا۔ وہ اپنی بچی پر بالکل توجہ نہیں دیتی۔ جب مجھے اس (دینا) کا خیال آئے، تو مجھے رتی سے تقریباً نفرت ہونے لگتی ہے۔ وہ بچی ماں کے بغیر نہ جانے کس طرح پل رہی ہے۔‘‘دینا کی پرورش سے بے توجہی برتنے پر سروجنی نائیڈو کو بھی خاصا غصّہ آیا۔ وہ اپنی بیٹی، پدمجا کے نام ایک خط میں لکھتی ہیں ’’جب بھی مجھے اس معصوم بچی کا خیال آئے، تو میرا جی چاہتا ہے کہ رتی کی پٹائی کر ڈالوں۔‘‘

اس زمانے میں کوئی عورت اپنے شوہر اور بچوں پر توجہ نہ دیتی تو اسے گناہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے رتی جناح کے جان پہچان والے انھیں ’’پاگل‘‘ کہنے لگے۔ اس رویے نے رتی جناح کا ڈپریشن بڑھا دیا اور شاید وہ نفسیاتی امراض کا بھی شکار ہوگئیں۔بے پناہ مصروفیات کے باوجود مسٹر جناح مسلسل کوشش کرتے رہے کہ اپنی بیگم کوعملی زندگی کے حقائق سے آگاہ کراسکیں۔ ان کی آخر تک یہی کوشش رہی کہ رتی جناح ایک نارمل بیوی اور ماں کا روپ دھار لیں مگر انہیں کامیابی نہ ہوئی۔ آخر غیر روایتی، آزاد اور بے چین روح کی مالک، رتی جناح 20 فروری 1929ء کو وفات پاگئیں۔

شیلا ریڈی کی کتاب میں رتی جناح کے رومان و شادی کے وہ پہلو بیان ہوئے ہیں جنھیں ان کے خطوط نے عیاں کیا۔ بھارتی مورخین کا دعوی ہے کہ قائداعظم نے رتی جناح کے نام جو خطوط لکھے تھے،وہ پیٹٹ خاندان کے پاس محفوظ ہیں۔ اگر وہ منظر عام پر آ جائیں تو جناح جوڑے کی نجی و رومانی زندگی پر مزید روشنی پڑ سکتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔