سندھ حکومت کا تھر کے بچوں سے سوال


ammar masoodتھر کے نوزائیدہ بچے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ مرنا ہے تو چپ چاپ مر جائیں لیکن حکومت کوکمزور کرنے کی سازشیں نہ کریں ورنہ ہم اس سارے نظام کی، اپنے ہی عوام کی، اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔یہ حکومت اسی ناشکری عوام کی فلاح کے منصبوں میں مصروف ہیں۔ ہمارا کئی دہائیوں سے یہ دعویٰ ہے کہ اس قومی خدمت میں نہ کوئی دقیقہ فروگزاشت رکھا جائے گا نہ کوئی رکاوٹ برداشت کی جائے گی۔قحط ، بھوک ، ننگ ، افلاس اور جہالت تو پرانی باتیں ہیں ۔ ہم نئے زمانے کے لوگ ہیں ہم نئے مسائل کا حل دریافت کریں گے۔ ممبران اسمبلی کے ہوسٹل میں بیوٹی پارلر ہونا چاہیے۔ ایم پی اے ہوسٹل میں شاپنگ پلازہ بھی بننا چاہیے۔ یہ وہ مسائل ہیں جنہیں حل کرنے کے لئے حکومت سوچ سوچ کر ہلکان ہو گئی ہے۔
عوام کو بھی ہمارے بارے میں سوچنا چاہیے کہ عوامی مسائل سن سن کر خواتین ممبران اسمبلی کے رنگ زرد ہو گئے ہیں۔ راتوں کو ان بدبختوں کی فلاح کے بارے میں سوچتے سوچتے آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ گئے ہیں۔ جلد کی رعنائی ماند پڑ رہی ہے۔ چکتے دمکتے چہرے سیاہی مائل ہو گئے ہیں۔ مرد اراکین اسمبلی کی فکر کی وجہ سے روز بہ روز آنکھیں مخمور ہوتی جارہی ہیں۔ عوامی خدمت کا نشہ ہے جو ہر وقت چڑھا رہتا ہے۔ بات بات پر جو قہقہے پھوٹتے اسمبلی کے فلور پر آپ کو نظر آتے ہیں یہ عوام کے غم کو چھپانے کا حیلہ ہے۔ یہ عظمت ہے ممبران اسمبلی کی کہ وہ کس بہادری، جرات اور شجاعت سے عوام کے غم کو جھیل رہے ہیں۔ روتے، بسورتے، گندے، غلیظ، لڑتے اور مرتے لوگوں کی تصویریں تو آپ روز دیکھتے ہیں ۔ آپ ہماری خوشیاں تقسیم کرنے کی سکیم کے خلاف سازش نہ کریں۔اس صوبے کے ناشکرے عوام کو اندازہ ہی نہیں کہ ہم کیا کیا کشٹ کاٹ رہے ہیں، ہم پر کیا گزر رہی ہے۔ یہ جو اسمبلی میں سیشن کے دوران جب بھوک اور افلاس کو مٹانے کو تحریک پیش ہوتی ہے تو ارکان اسمبلی اپنے اپنے موبائیل پر لطیفے، دلچسپ و عجیب وڈیوز اور کارٹون دیکھ رہے ہوتے ہیں، یہ بھی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے عام آدمی کی بحالی کے لئے استعمال کی اس کاوش پر بھی تنقید کی گئی۔ اس کے بھی ٹی وی چینل نے لطیفے بنا بنا کر خوب حظ اٹھایا۔ ہماری نیک نیتی کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا۔ اور تو اور اگر کوئی ممبر اسمبلی اپنی مخمور شبینہ مصروفیات کی بنا پر تکان سے اسمبلی میں چند لمحوں کے لئے سو بھی گیا تو اس پر بھی عوام الناس کو اعتراض ہونے لگا۔ لوگ طعنے دینے لگے۔ اخباروں میں سرخیاں لگنے لگیں۔ چینلوں پر بریکنگ نیوز آنے لگی۔ کسی نے دریافت کرنے کی ضرورت نہ سمجھی کہ کیا ناگزیر وجوہات تھیں جن کی وجہ سے نیند اسمبلی میں پوری کرنی پڑی۔ کن کن مرحلوں سے وزرا ¿ اور ممبران دشوار راتوں میں گزرتے ہیں ان کا بیان کیسے عوام کے سامنے لایا جائے۔ راز کی بات کو سرعام کیسے بتایا جائے۔
یہ جو ہمارے وزیر اعلی ہیں ان کے خلاف بھی سازشیں کم نہیں ہو رہیں۔ ایسی کون سی قیامت آ گئی اگر وزیر اعلیٰ نے صوبے میں گندے مندے عوام کی تعداد کبھی بیس لاکھ بتا دی اور کبھی ایک ہی ہلے میں اس تعداد کو بیس کروڑ تک پہنچا دیا۔ ایسے ناکارہ لوگ دس لاکھ ہوں یا بیس کروڑ، فرق ہی کیا پڑتا ہے۔ کون سا پہاڑ گر گیا اگر وزیر اعلیٰ یونیورسٹی میں ہونہار طلباءکو ڈگریاں دیتے کچھ لڑکھڑا گئے۔ کون سی مصیبت ٹوٹ پڑی اگر وزیر اعلیٰ نے دس دن بعد پانی کی قلت سے مرنے والوں کی تیمار داری کر لی۔ ایسا کون سا گناہ کر دیا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی بجٹ سیشن میں کچھ دیر کو آنکھ لگ گئی۔ ایسا کون سا گناہ ہو گیا کہ اگر وزیر اعلی سہ پہر کے وقت بیدار ہوتے ہیں اور اس دوران ہونے والے تمام واقعات سے پوری انتظامیہ بے خبر رہتی ہے۔ کار حکومت میں مشکل مقام آتے ہیں۔ یہ بچوں کا کھیل نہیں۔ اس میں انسان تھک بھی جاتا ہے، نیند بھی آ جاتی ہے، قدم ڈول بھی جاتے ہیں، زبان لڑکھڑا بھی جاتی ہے۔ ان سب باتوں میں اسمبلی کو نہ الجھائیں، انہیں کام کرنے دیں۔ سند ھ کے عوام کے لئے، جمہوریت کے لئے ….
ہماری حکومتوں کے خلاف بین الاقوامی سازشیں تو جانے کب سے ہو رہی ہیں۔وفاق بھی ہمارا حق مار رہا ہے۔ اپوزیشن بھی دھونس اور دھمکیوں پر اتر آئی ہے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا۔ اب تو دس ماہ کی بچی بسمہ تک نے ہمارے خلاف محاذ کھو ل دیا ہے۔ آپ خود سمجھدار لوگ ہیں۔ بیماری سے بچے مر تے ہی رہتے ہیں۔ علاج میںبھی دیر سویر بھی ہو جاتی ہے۔ ایمبولینس پولیس کے ناکے میں پھنس بھی سکتی ہے۔ رکشے میں ولادت بھی ہو سکتی ہے۔ چھوٹے سائیں کی زندگی کی حفاظت ہم سب کا فرض اولین ہے۔ وہ نہ رہے تو ہم نہیں رہیں گے اور ہم نہ رہے تو اسمبلی میں بیوٹی پارلر کیسے کھلے گا؟ اس ایوان کے باہر شاپنگ پلازے کی تعمیر کیسے ہو گی؟ ان سب ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے کا دماغ کس کے پاس ہو گا؟
تھر کے چھوٹے چھوٹے بچو! ہمارا پیغام بھی سن لو۔ ہم تمہارے گیدڑ بھبکیوں میں آنے والے نہیں۔ ہمارامقصد تمہاری بے فائدہ زندگیوں سے بہت عظیم ہے۔ تم ہماری عوامی حکومت کے خلاف سازشیں بند کر دو۔ موت برحق ہے۔ ایک دن معین ہے۔ چپ چاپ رضائے الٰہی کو قبول کر لو۔ خاموشی سے مر جاﺅ۔ بھوک سے موت آئے یا پیاس سے۔ غربت وجہ ہو یا جہالت۔ ظلم کی داستان زندگی ختم کرے یا کہانی افلاس کی ہو۔ ہمارے کاموں میں مخل نہ ہو۔ ہم پہلے ہی پر یشان ہیں۔ سازشوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہمارے خلاف نیا محاذ نہ کھڑا کرو۔ ورنہ دانہ پانی تو ہم نے لے ہی لیا، اب ہم سانسوں پر ٹیکس لگا دیں گے۔ اسمبلی میں ایک اور بیوٹی پارلر بنا دیں گے، سب سے پہلے تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ تم کو بھٹو کے نام پر مزید سزا دیں گے….


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 43 posts and counting.See all posts by ammar

One thought on “سندھ حکومت کا تھر کے بچوں سے سوال

  • 13-01-2016 at 8:34 am
    Permalink

    آپ 2000 میں زندہ تھے یا ابھی پیدا ھوۓ ہیں ؟
    نواز ، مشرف ،ارباب ،متحدہ دور کے قحط میں آپ سو رہے تھے ؟؟
    ہماری تکلیف تو ایسے بیان کر رہے ہیں جیسے کبھی ہمارے بچوں کے منہ میں دو قطرے پانی کے ڈال دیے ہوں ؟
    کبھی ایک لقمہ روٹی کا نصیب ہوا آپکو کہ تھرکے واسی تک پہنچائیں ؟؟
    نفرت اندھی ہوتی ہے مگر ایک شاعر اور استاد کے بیٹے کی اتنی بری تربیت کہ وہ نفرت کے اندھے پن کو اپنے اوپر سوار کر لے ؟
    حیرت انگیز ہے … کم از کم میرے لیے

Comments are closed.