پاک افغان سرحد پر تنازع


پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ جمعرات کو افغانستان کی طرف سے پاکستانی دیہات پر گولہ باری اور فائرنگ کا بدلہ لینے کے لئے پاکستانی فوج نے افغان فورسز پر حملہ کیا ہے اور 50 افغان فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ اس کے علاوہ ایک سو سے زائد افغان فوجی زخمی ہوئے ہیں جبکہ پاکستانی گولہ باری سے افغانستان کی چار فوجی چوکیاں بھی تباہ ہوگئیں۔ افغان فورسز نے جمعرات کو مردم شماری کرنے والی ایک ٹیم پر گولہ باری اور فائرنگ کرکے گیارہ افراد کو ہلاک کردیا تھا جن میں ایک بچہ، خواتین اور فوجی بھی شامل تھے۔ اس سانحہ کے بعد افغانستان کی سرحد پر واقعہ دو دیہات کے 2000 سے زائد افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے اور اب وہ عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ انسپکٹر جنرل ایف سی میجر جنرل ندیم احمد نے بتایا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سرحد کے معاملہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر قیمت پر پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی جائے گی۔ پاکستان اور افغانستان اب چمن کے علاقے میں سرحد کا ازسرنو تعین کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ چمن کے سرحدی دیہات کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں مردم شماری کے بارے میں افغان فوج کو قبل از وقت مطلع کردیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اس وقت پاکستان کے شہریوں اور فوجیوں پر گولہ باری کی گئی جب مردم شماری ٹیم کے ساتھ حفاظتی فوجی دستہ ان دو دیہات میں موجود تھا۔ افغانستان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فوجی افغان علاقے میں گھس آئے تھے جس کی وجہ سے حملہ کیا گیا۔ تاہم اس دعویٰ کو مسترد کردیا گیا اور بعد میں افغان فوجی لیڈروں نے اپنی غلطی تسلیم بھی کرلی تھی۔ البتہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دونوں ملکوں کی فوج کے درمیان مسلسل رابطہ اور معاملات طے کرنے کی خواہش ظاہر کرنے کے باوجود پاکستانی فوج نے کیوں افغان فورسز پر حملہ کیا۔ اس دوران کسی نئی سرحدی خلاف ورزی کی اطلاع بھی موصول نہیں ہوئی۔ اس لئے اگر یہ کارروائی صرف افغان فوجوں پر پاکستان کی برتری ثابت کرنے اور انہیں نیچا دکھانے کے لئے کی گئی تھی تو یہ ناموزوں رویہ ہے۔ ایف سی کے سربراہ کی اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک خود مختار ملک کے طور پر پاکستان سرحدں پر اس قسم کی اشتعال انگیزی اور سرحد پر مقررہ حدود کے بارے میں سودے بازی نہیں کر سکتا۔ افغانستان کو پاکستان کی سرحدوں کا احترام کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔

گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہؤا ہے۔ افغانستان کی طرف سے پاکستان کے ساتھ معاملات بات چیت اور مفاہمت کے ساتھ طے کرنے کی بجائے الزام تراشی اور جارحانہ بیان بازی کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے میڈیا میں سامنے آنے والی اشتعال انگیز خبریں بھی صورت حال کو خراب کرنے کا باعث بنی ہیں۔ گزشتہ دنوں یہ خبر گشت کرتی رہی ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت مسترد کردی ہے۔ افغانستان جانے والے پاکستانی پارلیمانی وفد کی طرف سے انہیں پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس خبر کے مطابق اشرف غنی نے کہا تھا کہ جب تک پاکستان افغانستان میں حملے کرنے والے دہشت گردوں کو افغانستان کے حوالے نہیں کرے گا، اس وقت تک وہ پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے۔ اب قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار نہیں کیا۔

افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اس کی ایجنسیوں کی طرف سے افغانستان میں موجود پاکستان دشمن عسکری گروہوں کی مدد اور تربیت کی صورت حال نے بھی پاکستان اور ہمسایہ ملک افغانستان کے درمیان خلیج کو وسیع کیا ہے۔ کابل حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات اور دوستی کے زعم میں پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب کرکے اپنے ملک کی خدمت نہیں کرسکتا۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے اہمیت رکھتا ہے اور افغانستان اپنی تجارت اور دیگر معاملات میں پاکستان کا محتاج ہے۔ افغانستان کے تیس لاکھ شہری بھی پاکستان میں مقیم ہیں جن کی واپسی کے سوال پر افغان حکمران برہم ہو جاتے ہیں۔

امید کی جانی چاہئے کی چمن میں رونما ہونے والی اشتعال انگیزی کو ختم کیا جائے گا اور دونوں ملک کے حکمران سرحدوں کے معاملہ میں ایک دوسرے کی پوزیشن اور مؤقف کا احترام کریں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 649 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali