افغان امن مذاکرات : توقعات اور خدشات


 aimal khan افغان امن مذاکرات کے سلسلے میں چار فریقی رابطہ کمیٹی جس میں پاکستان اور افغانستان کے علاوہ امریکہ اور چین بھی شامل ہیں کا چوتھا اہم اجلاس گزشتہ دنوں افغان دارالحکومت کابل میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی خاص بات افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کے اسلام آباد میں عنقریب دوبارہ آغاز کا اعلان تھا اور پاک-افغان علما کی تشدد کے خلاف اور امن کے حق میں فتوی دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔

افغانستان میں قیام امن کی خاطر شروع ہونے والے چار فریقی پراسس کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے مگر اس پراسس کے شروع ہونے سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں پیدا شدہ تناﺅ اور کشیدگی میں کسی حد تک کمی ہوئی ہے۔ الفاظ کی جنگ اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات کا سلسلہ کسے حد تک کم ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے اعلی فوجی اور انٹیلی جنس کے افسران کے روابط میں اضافہ اور آناجانا بڑھ گیا ہے۔ جس سے سرحد کے آر پار جاری دھشت گردی کے خلاف آپریشنز اور دھشت گری کی روک تھام کے حوالے سے اشتراک عمل اور مشترکہ کاروائیوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

اگرچہ امریکہ اور چین کی مذاکراتی عمل میں موجودگی اور نگرانی سے افغان امن مذاکرات کی نتیجہ خیز ثابت ہونے کے بارے میں پر امیدی بڑھ گئی ہے۔

امریکہ اور چین جو بظاہر بہت سے عالمی امور پر آپس میں اختلاف نظر اور سیاسی اور اقتصادی رقابتیں رکھتے ہیں مگر افغانستان اور علاقے میں امن کے حوالے سے اب ان میں کافی ھم آہنگی پائی جاتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں امن کے قیام کے حوالے سے اب امریکہ کے ساتھ ساتھ چین کا دباؤ بھی موجود ہے۔ دونوں ممالک میں ان کے اہم مفادات ہیں۔ پاکستان اور افغانستان ان کے کئی علاقائی اور عالمی سٹرٹیجک منصوبوں کا اھم جزو ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے چین ایک اھم کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے اور وہ انتہائی خاموشی اور مستقل مزاجی سے کئی معاملات میں پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر اثر انداز ہو رھا ہے۔ دونوں ممالک کے لئے امریکہ اور چین کو ناراض کرنا آسان نہیں ہو گا۔ افغانستان میں بحالی امن کے حوالے سے علاقائی اور عالمی سطح پر پائی جانے والی عمومی اتفاق رائے بہت خوش آئند ہے۔ امریکہ کی افغانستان سے فوری اور مکمل انخلا کی خواہش، چین کی سیاسی اور اقتصادی مفادات، روس کی داعش کی علاقے میں موجودگی کے حوالے سے تشویش، ایران کی مشرق وسطی کی سیاست میں بڑھتا ہوا کردار اور عرب ممالک کی علاقائی رقابتیں، تنازعات اور داخلی مشکلات کی وجہ سے افغان امن عمل کے لئے سازگار ماحول میسر ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چار فریقی پراسس میں امریکہ اور چین کی شرکت سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاملات آگے بڑھنے میں آسانی رہے گی اور معاملات کو بگڑنے نہیں دیا جائے گا۔ مگر اس عمل کی کامیابی کے بارے میں افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے بعض تجزیہ نگاروں کی شکوک وشبہات ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

مذاکرات کے حوالے سے طالبان کو اعتماد میں لیا گیا ہے یا نہیںٍ؟ اور طالبان کی مذاکرات میں شرکت کا امکان ہے یا نہیں؟ کونسے طالبان گروپ مذاکرات کے حق اور کون مخالف ہے؟ اور آیا فریقین یعنی افغان حکومت اور طالبان مذاکرات میز پر مشروط طور پر بیٹہیں گے یا غیر مشروط طور پر؟ مذاکرات کے حوالے سے ایسے بہت سے سوالات ہیں جو عام ذہنوں میں ابھر رہے ہیں۔

طالبان کی جانب سے مبہم اشارے آرہے ہیں۔ طالبان مشروط مذاکرات کی حق میں ہیں مگر چار فریقی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں اور پراسس کے حوالے سے شکوک و شبھات کا اظہار کر رہے ہیں۔ 23فروری یعنی جس دن چار فریقی رابطہ کمیٹی کے کابل میں اجلاس کے موقع پر افغان حکومت اور مخالفین کے درمیان براہ راست مذاکرات کا اعلان کیا گیا تو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ مری میں افغان حکومت اور طالبان کی اولین اعلانیہ براہ راست مذاکرات کے بعد بھی طالبان نے مری مذاکرات سے نہ صرف لاعلمی بلکہ لاتعلقی کا بھی اظہار کیا تھا اور اس امر کا اعادہ کیا تھا کہ طالبان کی نمائندگی کا حق صرف طالبان کی قطر میں سیاسی دفتر کو حاصل ہے اور باقی کسی بھی فرد کی مذاکرات میں شرکت اس کا ذاتی فعل ہوگا۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کے وزیراعظم اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے بھی قطر کا دورہ کیا ہے اور خاص کر راحیل شریف صاحب کے دورے کو افغان امن مذاکرات سے جوڑا جا رہا ہے۔ طالبان کے حوالے سے اور خاص کر وہاں پر واحد کھلم کھلا طالبان سیاس دفتر کی موجودگی کی وجہ قطر نہایت اھمیت کا حامل ہے۔ اور طالبان پر قطری حکومت کی اثرورسوخ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان پر شک کیا جاتا ہے کہ اس نے طالبان تحریک کی سرکردہ راہنماوں کو پناہ دی رکھی ہے مگر پاکستان میں ان کا کوئی علانیہ دفتر موجود نہیں۔ اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کئی سینئر طالبان رہنما پاکستان سے گرفتار اور کئی ایک یہاں فوت ہو چکے ہیں۔ اور ملکی اور غیرملکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ملا عمر کی وفات کی رسمی اعلان کے بعد اس کی یاد میں افغانیوں اور پاکستانی علما نے بعض مدارس میں تعزیتی اجلاس منعقد کئے اس طرح ان کے جانشین ملا اختر منصور کی حمایت میں بڑے بڑے اجتماعات ہوئے اور شک کیا جارہا ہے کہ اس کی جانشینی کا فیصلہ بھی پاکستانی سرزمین پرہوا۔

دوسری طرف بعض طالبان حامی حلقے بھی براہ راست مذاکرات اور اس کی کامیابی کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں۔

ملا عبدالالسلام ضعیف نے ایک حالیہ انٹرویو میں چار فریقی مذاکراتی عمل سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اور اسے لاحاصل عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شریک تمام فریقوں کو اپنے اپنے مفاد کی پڑی ہے اور افغان عوام کی دکھ درد اور مشکلات سے ان کو کوئی سروکار نہیں۔

 مذاکرات سے مایوسی اور اسے بے نتیجہ قرار دینے والوں میں روس کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ضمیر قابلوف بھی شامل ہیں جنہوں نے افغان حکومت اور طالبان میں براہ راست رابطے کے امکان کو رد کرتے ہوئے افغانستان میں امن کی بجائے تشدد میں اضافے کا دعویٰ کیا۔


Comments

FB Login Required - comments