امریکی فوج نے افغانستان میں داعش خراسان کا سربراہ ہلاک کردیا


امریکی فوجی ترجمان کے مطابق 26 اپریل کو پاکستان سے ملحقہ افغان صوبے ننگر ہار کے ضلع اچین میں غاروں اور سرنگوں پر مشتمل داعش کے کمپلیکس کے خلاف افغان اور امریکی فورسز کی جانب سے کارروائی کی گئی، جس میں داعش کے 355 جنگجو مارے گئے جن میں داعش خراسان کا سربراہ شیخ عبدالحسیب بھی شامل ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ داعش کے افغانستان میں سربراہ عبد الحسیب ہلاک ہو گئے ہیں۔ داعش کے سربراہ کی ہلاکت 10 روز قبل افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ہونے والے اسپیشل فورسز کے ایک آپریشن کے دوران ہوئی۔

داعش نے دو سال قبل افغانستان، پاکستان اور دوسرے پڑوسی ممالک میں اپنا اثر و نفوذ بڑھانے کےلیے ’’داعش خراسان‘‘ کے نام سے ایک ذیلی تنظیم قائم کی تھی جو اپنے قیام سے لے کر اب تک پاکستان اور افغانستان میں خودکش حملوں سمیت دہشت گردی کی کئی وارداتیں کرچکی ہے۔ اس دہشتگرد تنظیم کے پہلے امیر حافظ سعید تھے، جن کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد  عبدالحسیب کو نیا امیر مقرر کیا گیا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں